مسلمانوں کے بنیادی عقائد اللہ تعالیٰ کیلئے واحد وجمع کے صیغے کے اِطلاق کی حکمت؟ سوال ۔ اللہ پاک نے اپنے کلام میں اپنے لئے کبھی تو ’’أَنَا ‘‘ واحد کا صیغہ استعمال کیا ہے، جیسے: ’’إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ‘‘ اور کہیں ’’نَحْنُ‘‘ جمع کا صیغہ ہے، جیسے: ’’إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ‘‘ وغیرہ، اس تفریق کی کیا وجہ ہے؟ جواب ۔ اصل تو صیغۂ واحد ہے، لیکن کبھی اِظہارِ عظمت کے لئے صیغۂ جمع استعمال کیا جاتا ہے،’’إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ‘‘میں توحید ہے، اور توحید کے لئے واحد کا صیغہ موزوں تر ہے، اور’’إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ‘‘میں اس عظیم الشان کتاب کی تنزیل اور وعدۂ حفاظت کا ذکر ہے، اور یہ دونوں مُنَزِّل اور محافظ کی عظمتِ قدرت کو مقتضی ہیں، اس لئے یہاں جمع کے صیغوں کا لانا بلیغ تر ہوا، وَاللہُ اَعْلَمُ بِاَسْرَارِهِ !(۱) (۱) ’’(فاما قولہ: إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ) فھٰذہ الصیغۃ واِن کانت للجمع اِلّا أن ھٰذا من کلام الملوک عند اِظھار التعظیم فان الواحد منھم اذا فعل فعلًا أو قال قولًا، قال: اِنا فعلنا کذا وقلنا کذا، فکذا ھٰھنا۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۱۹ ص:۱۶۰، سورۃ الحجر)۔ ×
مسلمانوں کو ’’اہلِ کتاب‘‘ کہنا کیسا ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد مسلمانوں کو ’’اہلِ کتاب‘‘ کہنا کیسا ہے؟ سوال ۔ حالانکہ مسلمان کتابِ سماوی کے حامل ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، تو کیا اس وجہ سے ان کو اہلِ کتاب کہنا شرعاً یا لُغۃً کسی بھی نوع سے دُرست ہے یا نہیں؟ جواب ۔ ’’اہلِ کتاب‘‘ اصطلاحی لفظ ہے، جو قرآنِ کریم سے پہلے کی منسوخ شدہ کتابوں کے ماننے والوں پر بولا جاتا تھا، مسلمانوں پر نہیں۔(۱) (۱) قال تعالٰی: قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ آل عمران ٦٤ ھٰذا الخطاب یعمّ أھل الکتاب من الیھود والنصاریٰ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۵۰ طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔ ×
تحریف شدہ آسمانی کتب کے ماننے والے اہلِ کتاب کیوں؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد تحریف شدہ آسمانی کتب کے ماننے والے اہلِ کتاب کیوں؟ سوال ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ چاروں کتابوں میں سے کسی ایک کتاب میں بھی تبدیلی یا اس میں اپنی مرضی سے کچھ گھٹا یا بڑھاکر، اگر اس کی پیروی کی جائے تو کیا اس صورت میں پیروی کرنے والے اہل کتاب کہے جائیں گے؟ جواب ۔ قرآنِ کریم تو تحریفِ لفظی سے محفوظ ہے،(۱) اس لئے قرآنِ کریم کے بارے میں تو یہ سوال غیرمتعلق ہے، پہلی کتابوں میں تحریف ہوئی ہے،(۲)مگر چونکہ وہ لوگ اصل کتاب کو ماننے کے مدعی ہیں، اس لئے ان کو اہلِ کتاب تسلیم کیا گیا ہے۔(۳) (۱) قال تعالٰی: إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٩ الحجر ٩۔ وھو حافظہ فی کل وقت من الزیادۃ والنقصان والتحریف والتبدیل۔ (تفسیر نسفی ج:۲ ص:۱۸۴، طبع دار ابن کثیر، بیروت) (۲) قال تعالٰی: يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَنَسُواْ حَظّٗا المائدة ١٣۔ یفسرونہ علٰی غیر ما أنزل ۔۔۔ وتغییر وحیہ۔ (تفسیر نسفی ج:۱ ص:۴۳۴، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔ (۳) واعلم أن من اعتقد دینًا سماویًّا ولہ کتاب منزل کصحف إبراھیم وشیث وزبور داوٗد فھو من أھل الکتاب۔ (ردّ المحتار مطلب مہم فی وطی السراری ج:۳ ص:۴۵)۔ ×
زَبور، توراۃ، اِنجیل کا مطالعہ
مسلمانوں کے بنیادی عقائد زَبور، توراۃ، اِنجیل کا مطالعہ سوال ۔ میں عرصہ دراز سے ایک مسئلے میں اُلجھا ہوا ہوں اور وہ یہ کہ کیا اس نیت سے زَبور، تورات یا اِنجیل کا مطالعہ کرنا دُرست ہے کہ اس سے اسلام کی حقانیت معلوم ہوجائے۔ یا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ دُوسرے مذاہب اور اسلام میں کیا فرق ہے؟ ان کے پڑھنے سے یہ مقصود ہو کہ قرآن کسی قوم یا معاشرے کی کس طرح اور کن اُصولوں پر تشکیل کرنے کا حکم دیتا ہے اور دُوسری مقدس کتابیں کسی معاشرے کو تشکیل دینے میں کیا اُصول دیتی ہیں اور دونوں کے کیا فوائد ہیں؟میرے ایک دوست نے کہا کہ: ’’دیکھو بھائی! جب تک ہم زَبور، اِنجیل اور تورات وغیرہ کا مطالعہ نہیں کریں گے، ہم کس طرح یہ ثابت کرسکیں گے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے اور دُوسرے مذاہب میں فلاں فلاں کوتاہیاں ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے اسلام کا کچھ مطالعہ رکھتے ہوں، پھر ان کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ واقعی ان کتابوں میں رَدّ و بدل ہوچکا ہے۔‘‘ اگر میرے دوست کی بات صحیح مان لی جائے تو پھر وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب شاید تورات پڑھ رہے تھے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصّے سے لال ہوگیا کا واقعہ کس طرف جائے گا؟میں نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ تورات وغیرہ کا مطالعہ صرف علمائے کرام کو جائز ہے، کیونکہ ان کا اسلام کے بارے میں کافی مطالعہ ہوتا ہے، مگر آج کل کے علمائے کرام تو فرقہ پرستی کے اندھیرے گڑھے میں گرچکے ہیں، خدا سے دُعا ہے کہ تمام مسلمان علماء فرقہ پرستی سے باہر نکلیں اور آپس میں اتحاد و یگانگت پیدا کریں۔ جواب ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ آپ نے ذکر کیا ہے، مشکوٰۃ ص:۳۰ پر مسند احمد اور شعب الایمان بیہقی کے حوالے سے، اور ص:۳۲ پر دارمی کے حوالے سے مذکور ہے۔ مجمع الزوائد (ج:۱ ص:۱۷۳) میں اس واقعے کی متعدّد روایات موجود ہیں:’’عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ اَتَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: اِنَّا نَسْمَعُ اَحَادِيْثَ مِنْ يَهُوْدَ تُعْجِبُنَا اَفَتَرٰی اَنْ نَكْتُبَ بَعْضَهَا، فَقَالَ: اَمُتَهَوِّكُوْنَ اَنْتُمْ كَمَا تَهَوَّكَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، وَلَوْ كَانَ مُوْسٰی حَيًّا مَا وَسِعَهُ اِلَّا اتِّبَاعِي رَوَاهُ اَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْاِيْمَانِ ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۰) ۲:۔ اس حدیث کے پیشِ نظر مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت (جو کامل و مکمل ہے) کے بعد یہود و نصاریٰ کی کتابوں کے مطالعے اور ان سے استفادے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب اور ناراضی کی موجب ہے۔ ۳:۔ خط کے شروع میں ان کتابوں کے مطالعے کے جو مقاصد بیان کئے گئے ہیں، وہ معتدبہ نہیں، اور پھر ہر شخص اس کا اہل بھی نہیں، چونکہ مسائل کی علمی استعداد کے بارے میں ہمیں علم نہیں، اس لئے اس کو ان مقاصد کے لئے ان کتابوں کے مطالعے کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا۔ ۴:۔ اہلِ کتاب کو جواب و الزام کا جو مقصد ’’دوست‘‘ نے بیان کیا، وہ اپنی جگہ صحیح ہے، لیکن یہ عوام کا کام نہیں، بلکہ اہلِ علم میں سے بھی صرف ان حضرات کا کام ہے جو فنِ مباحثہ و مناظرہ میں ماہر ہوں، دُوسرے لوگوں کو یہ چاہئے کہ ایسے موقع پر ایسے اہلِ علم سے رُجوع کریں۔ ۵:۔ مولوی صاحب نے جو بات کہی وہ صحیح ہے، لیکن اس موقع پر فرقہ پرستی کا قصہ چھیڑنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عیسائیت کے موضوع پر ایسے ماہرین اہلِ علم موجود ہیں جو اس کام کو خوش اُسلوبی سے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے فرضِ کفایہ بجا لارہے ہیں۔ ۶:۔ جو اہلِ علم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ ان سے استفادے کے لئے نہیں کرتے، اس لئے حدیثِ مذکور کا اِطلاق ان پر نہیں ہوتا۔ ۷:۔ پی ایچ ڈی کرنے والے حضرات بھی اگر اسلام کے اُصول و فروع سے بخوبی واقف ہوں اور ان کا مقصد کتبِ سابقہ سے استفادہ نہ ہو تو ان کا بھی وہی حکم ہے جو جواب نمبر۶ میں لکھا گیا ہے۔ان نکات میں آپ کے تمام خدشات کا جواب آگیا۔ ۸:۔ آخر میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ اس موضوع پر بصیرت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ اصل کتاب عربی میں ہے اس کا اُردو ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے دارالعلوم کراچی کی طرف سے تین جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔ ×
کیا اُمتِ محمدیہ میں غیرمسلم بھی شامل ہیں؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا اُمتِ محمدیہ میں غیرمسلم بھی شامل ہیں؟ سوال ۔ کیا اُمتِ محمدیہ میں غیرمسلم بھی شامل ہیں؟ ایک صاحب نے بتایا کہ اُمتِ محمدیہ کی مغفرت کی دُعا نہیں کرنی چاہئے، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اُمتِ مسلمہ کی مغفرت کر، کیونکہ کافر بھی اُمتِ محمدیہ میں شامل ہیں۔ جواب ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت اس اعتبار سے تو کافر بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ان کے لئے بھی ہے۔ مگر جب ’’اُمتِ محمدیہ‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے تو مراد اس سے وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، اس لئے ’’اُمتِ محمدیہ‘‘ کے حق میں دُعائے خیر کرنا بالکل دُرست ہے اور ان صاحب کی بات صحیح نہیں۔(۱) (۱) ’’أصل الاُمّۃ ۔۔۔ فاُمّۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم ھم الجماعۃ الموصوفون بالْإیمان بہ والْإقرار بنبوّتہ، وقد یقال لکل من جمعتھم دعوتہ أنھم اُمّتہ اِلّا أنَّ لفظ الاُمّۃ اذا أطلقت وحدھا وقع علی الأوّل ۔۔۔ الخ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۸ ص:۱۷۹، سورۃ آل عمران، آیت:۱۱۱)۔ ×
صراطِ مستقیم کی کیا حقیقت ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد صراطِ مستقیم کی کیا حقیقت ہے؟ سوال ۔ آج کل مسلک کو بہت اہمیت دی جارہی ہے، مسلک کی حقیقت کیا ہے؟ کیا خدا اور رسول کا بھی کوئی مسلک ہے؟ مسجد کے دروازے پر اکثر مختلف مسلک لکھے ہوتے ہیں، کیا یہ لکھنا جائز ہے؟ کیونکہ مساجد خدا کے گھر ہیں، اور خدا کے گھر پر خدا کا مسلک ہی لکھنا چاہئے۔ کیا کسی ایک مسلک کو اِختیار کرنا ضروری ہے یا اُمتِ محمدیہ یا مسلمان کہلانا کافی ہے؟ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کا مسلک کیا تھا؟ اور کیا وہی مسلک تمام اُمتی اِختیار نہیں کرسکتے؟ جواب ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دِین پیش کیا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تو اس پر قائم رہے، بعد میں کچھ لوگوں نے کچھ نئی باتیں عقائد و اعمال میں نکالنی شروع کردیں، اور بہت سے حضرات صحیح دِین پر، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے چلا آتا تھا، قائم نہ رہے، اس سے فرقہ بندیوں کا آغاز ہوا۔ پس اس شناخت کے لئے کہ کون کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے؟ اور کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ الگ الگ لیبل تجویز کئے گئے، اب اگر یہ شناختی نام نہ ہو تو حق و باطل کے درمیان امتیاز کیسے کیا جائے۔۔۔؟پس دِین تو وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چلا آتا ہے، اور جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قائم تھے، اور جس کی تشریح اُمت کے مُسلَّمہ اَئمۂ دِین اور سلف صالحین نے کی ہے، اس کے لئے تو کسی نام اور عنوان کی ضرورت نہیں، لیکن باطل فرقوں کے درمیان امتیاز کے لئے نام اور عنوان کی ضرورت ہے، اور اگر تمام فرقے نئی نئی باتوں کو چھوڑ کر اس اصل دِین پر آجائیں تو شناختی ناموں کی بھی ضرورت نہ رہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے، کیونکہ: ’’وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ !‘‘ ۔۔۔اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے ۔۔۔اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ اپنے کو حق پر اور دُوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے، پس ایک عام آدمی کس طرح امتیاز کرے کہ فلاں حق پر ہے اور فلاں باطل پر؟ اس شبہ کا حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کا معیار مقرّر کردیا ہے اور وہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ۔ پس جو لوگ اس معیار پر قائم ہیں وہ حق پر ہیں، اور جن لوگوں نے اس معیار کو چھوڑ کر نئے نئے طریقے اور نئے نئے نظریات ایجاد کرلئے ہیں وہ حق سے منحرف ہیں۔(۱)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبا خط کھینچا اور اس کے دائیں بائیں کچھ خطوط کھینچے، جن کی شکل یہ تھی:||ـــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ــــــــ||پھر فرمایا کہ: ’’یہ لمبا خط تو اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جو سیدھا جارہا ہے، اور یہ دائیں بائیں کے خطوط وہ پگڈنڈیاں ہیں جو اس میں سے نکل کر الگ ہوگئی ہیں، ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان کھڑا لوگوں کو بلا رہا ہے۔‘‘ پس جو شخص اس راستے پر چلا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ، اَئمۂ دِین اور بزرگانِ دِین چلے، وہ ہدایت کے راستے پر ہے، اور جس نے اس راہ کو چھوڑ کر کوئی راستہ اپنالیا وہ راہِ راست سے ہٹا ہوا ہے۔(۲) اس مسئلے کی مزید تفصیل میری کتاب ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں دیکھ لی جائے۔(۳) (۱) عن عبداللہ بن عمرو ۔۔۔ وانّ بنی اسرائیل تفرّقت علٰی ثنتین وسبعین ملّۃ وتفترق أُمَّتی علٰی ثلٰث وسبعین ملّۃ کلّھم فی النّار، اِلّا ملّۃ واحدۃ! قالوا: من ھی یا رسول اللہ! قال: ما أنا علیہ وأصحابی۔ (مشکوٰۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)۔ (۲) عن عبداللہ بن مسعود ۔۔۔ قال: خطَّ لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطًّا ثم قال: ھٰذا سبیل اللہ، ثم خطَّ خطوطًا عن یمینہ وعن شمالہ وقال: ھٰذہ سبل علٰی کل سبیل منھا شیطان یدعو الیہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۰، باب الْإعتصام)۔ (۳) اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۱۷ تا ۲۰۔ ×
صراطِ مستقیم سے کیا مراد ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد صراطِ مستقیم سے کیا مراد ہے؟ سوال ۔ اکثر بزرگوں نے صراطِ مستقیم کو صرف مسجد تک محدود رکھا، نیک کام صرف روزہ، زکوٰۃ اور نماز کو قرار دیا، جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کو کافر کہنا کیا درست ہے؟ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا کیا صحیح ہے؟ نماز فرض ہے، فرض کریں اگر کوئی شخص دریا میں ڈوب رہا ہے اور چیخ چیخ کر بچاؤ بچاؤ پکار رہا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو بچالیں اور ایک فرض نماز ہے، اگر دو منٹ ہم نے صرف کر دئیے تو قضا ہوجائے گی، کیا ہم ایسے میں مصلیٰ بچھاکر دریا کے کنارے نماز ادا کریں گے؟ یا اس ڈوبتے ہوئے انسان کی زندگی بچائیں گے؟خداوند کریم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ، ترجمہ۔۔۔ دکھا ہم کو سیدھا راستہ، یہ سورۂ فاتحہ میں آیا ہے، جسے الحمد شریف کہا جاتا ہے، جو ہر ایک نماز میں پڑھی جاتی ہے، جس کے نہ پڑھنے سے نماز نامکمل ہوتی ہے جسے ہم ہر نماز میں پانچ وقت پڑھتے ہیں کہ دکھا ہم کو سیدھا راستہ، کیا ہم غلط راستے پر ہیں؟ اگر نہیں تو ہم کون سا صحیح راستہ مانگ رہے ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ صراطِ مستقیم کوئی اور ہے، سیدھی راہ کوئی اور ہے جو جنت کی طرف جاتی ہے؟ کیا ہم اس راہ پر چل رہے ہیں جو صرف مسجد تک جاتی ہے؟براہ کرم آپ ہمیں وہ طور اور طریقے بتائیں جن پر عمل کرکے ہم سیدھے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر چل سکتے ہیں۔ جواب ۔ قرآن کریم نے جہاں ہمیں یہ دعا سکھائی ہے: ’’دکھا ہمیں سیدھا راستہ‘‘، وہیں اس سیدھی راہ کی یہ کہہ کر وضاحت بھی کردی ہے: ’’راہ ان لوگوں کی کہ انعام فرمایا آپ نے ان پر، نہ ان پر غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔‘‘(۱)اس سے معلوم ہوا کہ صراطِ مستقیم نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کے راستہ کا، اسی صراطِ مستقیم کا مختصر عنوان اسلام ہے،(۲) اور قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات اسی کی تشریح کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے پاکر جتنے اعمال امت کو بتائے ہیں اور جس جس وقت کے لئے جو جو عمل بتایا، اپنے اپنے درجہ کے مطابق ان سب کا بجالانا ضروری ہے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی معمولی اور حقیر سمجھنا درست نہیں، اگر ایک ہی وقت میں کئی عمل جمع ہوجائیں تو ہمیں یہ اصول بھی بتادیا گیا ہے کہ کس کو مقدم کیا جائے گا اور کس کو مؤخر؟ مثلاً: آپ نے جو مثال لکھی ہے ایک شخص ڈوب رہا ہے تو اس وقت اس کو بچانا پہلا فرض ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے کوئی نابینا آدمی کنویں یا کسی گڑھے میں گرنے لگے تو نماز توڑ کر اس کی جان بچانا فرض ہے۔(۳)اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صراطِ مستقیم مسجد تک محدود نہیں اور وہ شخص احمق ہے جو اسلام کو مسجد تک محدود سمجھتا ہے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ مسجد والے اعمال ایک زائد اور فالتو چیز ہیں، بلاشبہ اسلام صرف نماز، روزے اور حج و زکوٰۃ کا نام نہیں، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ چیزیں غیرضروری ہیں، نہیں! بلکہ یہ اسلام کے اعلیٰ ترین شعائر اور اس کی سب سے نمایاں علامتیں ہیں، جو شخص دعویٔ مسلمانی کے ساتھ نماز اور روزے کا بوجھ نہیں اُٹھاتا، اس کے قدم ’’صراطِ مستقیم‘‘ کی ابتدائی سیڑھیوں پر بھی نہیں، کجا کہ اسے صراطِ مستقیم پر قرار و ثبات نصیب ہوتا۔رہی یہ بات کہ جب ہم صراطِ مستقیم پر قائم ہیں تو پھر اس کی دعا کیوں کی جاتی ہے کہ: ’’دکھا ہم کو سیدھی راہ‘‘، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ ایک ہے صراطِ مستقیم پر قائم ہوجانا اور دوسری چیز ہے صراطِ مستقیم پر قائم رہنا۔ یہ دونوں باتیں بالکل جدا جدا ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آج صراطِ مستقیم پر ہے لیکن خدانخواستہ کل اس کا قدم صراطِ مستقیم سے پھسل جاتا ہے اور وہ گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ قرآن کریم کی تلقین کردہ دعا ’’ ٱٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ‘‘ حال اور مستقبل دونوں کو جامع ہے اور مطلب یہ ہے کہ چونکہ آئندہ کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لئے آئندہ کے لئے صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کی دعا کی جاتی ہے کہ: ’’اے اللہ! جس طرح آپ نے محض اپنے لطف و کرم سے ہمیں اپنے مقبول بندوں کے راستہ صراطِ مستقیم پر ڈال دیا ہے، آئندہ بھی ہمیں مرتے دم تک اسی پر قائم رکھئے۔‘‘(۴)آپ نے دریافت کیا ہے کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کو کافر کہنا کیا درست ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا لیکن وہ نماز کی فرضیت کا قائل ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ میں اس اعلیٰ ترین فریضۂ خداوندی کو ترک کرکے بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہوں اور میں قصور وار اور مجرم ہوں، ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جائے گا اور نہ اسے کوئی کافر کہنے کی جرأت کرتا ہے۔(۵)لیکن یہ شخص اگر نماز کو فرض ہی نہ سمجھتا ہو اور نہ نماز کے چھوڑنے کو وہ کوئی گناہ اور جرم سمجھتا ہو، تو آپ ہی فرمائیے کہ اس کو مسلمان کون کہے گا؟ کیونکہ اس کو مسلمان سمجھنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں پر نماز فرض ہونا ذکر فرمایا ہے، وہ نعوذ باللہ! غلط ہے، کیا خدا اور رسول کی بات کو غلط کہہ کر بھی کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے۔۔۔؟(۶)آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ کیا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر کہنا صحیح ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرگز صحیح نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے،(۷) مگر یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ مسلمان کون ہوتا ہے؟حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے پاکر جو دین امت کو دیا ہے، اس پورے کے
دین اور مذہب میں کیا فرق ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد دین اور مذہب میں کیا فرق ہے؟ سوال ۔ مذہب اور دین میں کیا فرق ہے؟ نیز یہ کہ اسلام مذہب ہے یا دین؟ جواب ۔ دین اور مذہب کا ایک ہی مفہوم ہے، آج کل بعض لوگ یہ خیال پیش کر رہے ہیں کہ دین اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں، مگر ان کا خیال غلط ہے۔(۱) (۱) الدین بالکسر وضع التی یدعوا اصحاب النقول إلٰی قبول ما ھو عند الرسول علیہ السلام والدین والملۃ متحدان بالذات، مختلفان بالْإعتبار فإن الشریعۃ من حیث انھا تطاع تسمّٰی دِینًا، ومن حیث انھا تجمع تسمّٰی ملۃً ومن حٰث انھا یرجع إلیھا تسمّٰی مذھبًا۔ (قواعد الفقہ ص:۲۹۵، ۲۹۶، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔ ×
ہر مسلمان غیرمسلم کو مسلمان کرسکتا ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ہر مسلمان غیرمسلم کو مسلمان کرسکتا ہے؟ سوال ۔ کیا کوئی عام مسلمان (جو روزے نماز کا پابند ہو) کسی غیرمسلم کو مسلمان بناسکتا ہے؟ اور اگر بناسکتا ہے تو اس کا طریقۂ کار کیا ہے؟ جواب ۔ غیرمسلم کو کلمہ شہادت پڑھادیا جائے، اور جس کفر میں وہ گرفتار تھا اس سے توبہ کرادی جائے،(۱) بس وہ مسلمان ہوجائے گا! اس کے بعد اسے اسلام کی ضروری باتوں کی تعلیم دے دی جائے۔ اور یہ کام ہر مسلمان کرسکتا ہے۔ (۱) الدین بالکسر وضع التی یدعوا اصحاب النقول إلٰی قبول ما ھو عند الرسول علیہ السلام والدین والملۃ متحدان بالذات، مختلفان بالْإعتبار فإن الشریعۃ من حیث انھا تطاع تسمّٰی دِینًا، ومن حیث انھا تجمع تسمّٰی ملۃً ومن حٰث انھا یرجع إلیھا تسمّٰی مذھبًا۔ (قواعد الفقہ ص:۲۹۵، ۲۹۶، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔ ×
post 19
میں نے جناب مودودی صاحب کے بپھرے ہوئے دریائے تنقید سے یہ چند قطرے پیش کئے ہیں، اور یہ سب کچھ انہوں نے بزعم خود، خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد لکھا ہے، میں ان کے ایک ایک فقرے پر بحث کرنا نہیں چاہتا، تم خود سوچو کہ ان تنقیدات کے بعد اسلام کا کیا نقشہ ذہن میں آتا ہے؟ البتہ جی چاہتا ہے کہ تمہاری سہولت کے لئے چند اصولی باتیں پیش کروں۔ ۱:۔جناب مودودی صاحب کا ارشاد ہے کہ: ’’رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے۔‘‘ اس کے آثار و نتائج پر غور کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ ’’تنقید‘‘ کسے کہتے ہیں؟ تم جانتے ہو کہ یہ عربی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کو جانچنا، پرکھنا اور کھوٹا کھرا معلوم کرنا۔ اور اردو محاورے میں یہ لفظ نکتہ چینی، خردہ گیری اور اظہارِ نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی جانچنے، پرکھنے کے بعد جب کوئی چیز عیب دار ثابت ہوتی ہے، تو اس کے کمزور پہلوؤں کے اظہار کا نام ’’تنقید‘‘ ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں پر ’’تنقید‘‘ کی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کے کمزور پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس پر نکتہ چینی کی اور اس کے عیوب و نقائص بیان کئے۔ Volume 1 مسلمانوں کے بنیادی عقائد Question #19 سوال جواب ×