مسلمانوں کے بنیادی عقائد رضا بالقضا سے کیا مراد ہے؟ اور کیا یہ سچا مؤمن ہونے کی علامت ہے؟ سوال ۔ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: حق تعالیٰ جب کسی بندے کو محبوب بناتا ہے تو اس کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے، پس اگر وہ صابر بنا رہتا ہے تو اس کو منتخب کرتاہے، اور اگر اس کی قضا پر راضی ہوتا ہے تو اس کو برگزیدہ کرلیتا ہے۔ مصیبت پر صابر بنا رہتا ہے، پھر قضا پر راضی رہنے سے کیا مراد ہے؟۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہؓ سے پوچھا: ’’تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مؤمنین مسلمین ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: مصیبت پر صبر کرتے ہیں اور راحت پر شکر کرتے ہیں اور قضا پر راضی رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بخدا! تم سچے مؤمن ہو۔‘‘ سوال ہے کہ اس حدیث مبارک میں ۱:۔ مصیبت پر صبر سے کیا مراد ہے؟ ۲:۔ راحت پر شکر سے کیا مراد ہے؟ ۳:۔ اور ’’قضا پر راضی رہتے ہیں‘‘ سے کیا مراد ہے؟ جواب ۔ یہ کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے فیصلے سے دِل میں تنگی محسوس نہ کرے، زبان سے شکوہ و شکایت نہ کرے، بلکہ یوں سمجھے کہ مالک نے جو کیا، ٹھیک کیا۔(۱) طبعی تکلیف اس کے منافی نہیں۔ اسی طرح اس مصیبت کو دُور کرنے کے لئے جائز اَسباب کو اِختیار کرنا اور اس کے اِزالے کی دُعائیں کرنا، رضا بالقضا کے خلاف نہیں،(۲) واﷲ اعلم! ۔ نمبر:۱ اور نمبر۳ اُوپر لکھ دیا، راحت و نعمت پر شکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نعمت کو محض حق تعالیٰ شانہ‘ کے لطف و احسان کا ثمرہ جانے، اپنا ذاتی ہنر اور کمال نہ سمجھے، زبان سے ’’الحمد ﷲ‘‘ کہے اور شکر بجا لائے، اور اس نعمت کو حق تعالیٰ شانہ‘ کی معصیت میں خرچ نہ کرے، اس نعمت پر اِترائے نہیں، واﷲ اعلم! (۱) قال الطیبی رحمہ اللہ أی الرضا بقضاء اللہ وھو ترک السخط علامۃ سعادتہ وإنما جعلہ علامۃ سعادۃ العبد لأمرین: أحدھما یتفرغ للعبادۃ، لأنہ إذا لم یرض بالقضاء یکون مھومًا أبدًا مشغول القلب بحدوث الحوادث ویقول کان کذا ولم لَا یکون کذا، والثانی لئلا یتعرض لغضب ﷲ تعالٰی بسخطہ وسخط لعبد أن یذکر غیر ما قضی اللہ لہ وقال انہ أصلح وأولٰی فیما لَا یستیقن فسادہ وصلاحہ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ، باب التوکل والصبر ج:۵ ص:۹۳)۔ (۲) وقد ذکرنا أن التمسک بالأسباب جریًا علٰی سنۃ اللہ تعالٰی لَا یناقض التوکل ۔۔۔ فھو أیضًا لَا یناقض الرضا۔ (إحیاء علوم الدین ج:۴ ص:۳۵۴، بیان أن الدعاء غیر مناقض للرضا، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ ×
تخلیقِ کائنات کتنے دِن میں ہوئی؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد تخلیقِ کائنات کتنے دِن میں ہوئی؟ سوال ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ۶ دن میں دُنیا بنائی، ساتویں دن آرام کیا، لیکن میں نہیں مانتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو آرام کی ضرورت نہیں۔ آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے دُنیا کتنی مدّت میں بنائی؟ جواب ۔ ۶ دن میں دُنیا کی تخلیق کرنا، یہ تو صحیح ہے، اور ’’ساتویں دن آرام کرنا‘‘ یہودیوں کی گپ ہے۔(۱) (۱) إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ (الأعراف ٥٤)۔ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٖ ٣٨ ق ٣٨ قال قتادۃ: قالت الیھود -علیھم لعائن اللہ-: خلق اللہ السموات والأرض فی ستۃ أیام ثم استراح فی یوم السابع۔ (ابن کثیر ج:۵ ص:۶۸۲ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔ وفی تفسیر النسفی تحت ھٰذہ الآیۃ قیل: نزلت فی الیھود، لعنت تکذیبًا لقولھم: خلق اللہ السماوات والأرض فی ستۃ أیام، أولھا الأحد، وآخرھا الجمعۃ، واستراح یوم السبت ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر النسفی ج:۳ ص:۳۶۹ سورۃ قٓ، طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔ ×
موجبِ تخلیقِ کائنات
مسلمانوں کے بنیادی عقائد موجبِ تخلیقِ کائنات سوال ۔ موجبِ تخلیقِ کائنات کیا ہے؟ جواب ۔ عنایتِ خداوندی ہی موجبِ تخلیق ہوسکتی ہے، یہ تو ظاہر ہے کہ انسان تمام مخلوقات میں اَشرف ہے، باقی کائنات گویا اُس کی خادم ہے، اور اِنسانوں میں انبیائے کرام علیہم السلام خصوصاً ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اَعلیٰ و اَشرف ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ ان اکابر کے کمالِ عبدیت کے اظہار کے لئے کائنات کی تخلیق ہوئی تو بجا ہے، مگر اصل علت وہی عنایتِ خداوندی ہے۔(۱) (۱) إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٣٠ ۔ أی: أعلم بالمصلحۃ الراجعۃ فی خلق ھٰذا الصنف علی المفاسد التی ذکرتموھا، مالَا تعلمون أنتم فانی سأجعل فیھم الأنبیاء، وأرسل فیھم الرسل ویوجد فیھم الصدیقون والشھداء والصالحون والعباد والزُّھاد والأولیاء والأبرار والمقربون والعلماء العاملون والخاشعون والمحبون لہ تبارک وتعالٰی المتبعون رسلہ صلوات اللہ وسلامہ علیھم (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۲۰۰، روح المعانی ج:۱ ص:۲۲۳)۔ ×
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا یا قلم؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا یا قلم؟ سوال ۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، پھر اس کو فرمایا: لکھ! سو جو کچھ آئندہ آخر تک ہونے والا تھا، وہ سب اس نے اللہ کے حکم سے لکھ دیا(ترمذی ج:۲ ص:۱۶۷)۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ: سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا۔ آپ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے قلم کو پیدا کیا، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو؟ جواب ۔ کتابیں دیکھنے کی تو فرصت نہیں، بظاہر ترمذی کی روایت راجح ہے، یعنی سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اور پھر اس کو تمام کائنات کے فیصلوں کے لکھنے کا حکم فرمایا، ان میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اوّل الخلق ہونا بھی ہے۔(۱) (۱) ۔۔۔ والحدیث علی الروایۃ الرّاجحۃ صریح فی ان القلم أوّل مخلوق ثم أمر بأن یکتب کل شیء یکون ۔۔۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۹۵ طبع مکتبہ سلفیہ لَاھور)۔ ×
لوحِ محفوظ پر جس کے لئے گناہ لکھا جاچکا ہے، اُسے سزا کیوں ملے گی؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد لوحِ محفوظ پر جس کے لئے گناہ لکھا جاچکا ہے، اُسے سزا کیوں ملے گی؟ سوال ۔ میں اور میرے جتنے نوجوان دوست ہیں اس مسئلے پر کچھ ذہنی اور دِلی طور پر پریشان اور غیرمطمئن ہیں کہ جیسا کہ ہر مسلمان کا بنیادی ایمانی عقیدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور جو کچھ لوحِ محفوظ پر اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوکر رہے گا، تو اللہ پاک نے جہنم اور جنت کو جزا و سزا کے لئے کیوں بنایا ہے؟ کیونکہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر نہ ہی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرسکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی چھوٹے سے چھوٹا گناہ کرسکتے ہیں، کرنے والی سب کچھ اللہ کی ذات ہے، تو اگر ہم گناہ کرتے ہیں تو وہ بھی اللہ کے حکم سے کرتے ہیں، تو ہمیں کیوں سزا دی جائے گی جبکہ ہماری قسمت میں اللہ نے لوحِ محفوظ میں گناہ لکھا ہے، تو ہم اس پر مجبور ہیں کہ ہم گناہ کرتے، کیونکہ گناہ بھی اللہ کے حکم سے ہوگا۔ جواب ۔ یہ تو صحیح ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے اِرادہ و مشیت سے ہو رہا ہے، اور یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہمارے کچھ افعال تو ایسے ہیں کہ ہم اپنے اِرادہ و اِختیار سے کرتے ہیں، اور کچھ چیزیں ہمارے اِرادہ و اِختیار کے بغیر سرزد ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کے اچھے افعال پر تمام عقلاء تعریف کرتے ہیں، اور بُرے افعال پر مذمت و بُرائی کرتے ہیں، گویا تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ نے اچھے بُرے کا ایک طرح کا اِختیار دیا ہے، اور اس کے اِختیار میں افعال اگر اچھے ہوں تو اِنعام کا مستحق ہے، اور اگر بُرے ہوں تو مذمت اور سزا کا مستحق ہے۔مثلاً: ایک شخص مخلوق کی خدمت کرتا ہے، اس کو ہر شخص اچھا کہتا ہے، اور ایک شخص چوری کرتا ہے، ڈاکا ڈالتا ہے، بدکاری کرتا ہے، اس کو ہر شخص بُرا کہتا ہے اور اسے سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ کبھی کسی چور کا یہ عذر نہیں سنا جاتا کہ: ’’جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت و اِرادے سے ہوتا ہے، میں نے جو چوری کی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے کی ہے، اس لئے میں کسی سزا کا مستحق نہیں‘‘ معلوم ہوا کہ تقدیر کا عقیدہ برحق ہے، مگر اِختیار میں اور اَفعال میں آدمی تقدیر کا حوالہ دے کر بَری نہیں ہوسکتا، ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے اپنے اِختیار و اِرادے سے یہ کام (مثلاً قتل) کیا ہے، لہٰذا یہ سزائے موت کا مستحق ہے، یہی صورتِ حال آخرت کے عذاب و ثواب کی ہے۔(۱) (۱) وللعباد أفعال اِختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔ والحسن منھا برضاء اللہ تعالٰی والقبیح منھا لیس برضائہ۔ (شرح عقائد ص:۸۱ تا ۸۵)۔ والمعاصی کلھا أی صغیرھا وکبیرھا بعلمہ وقضائہ وتقدیرہ ومشیّتہ إذ لو لم یردھا لما وقعت لَا بمحبّتہ أی لقولہ تعالٰی: فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ ، وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ولَا برضائہ أی لقولہ تعالٰی: وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ ، ولأن الکفر یوجب المقت الذی ھو أشدّ الغضب وھو ینافی رضی الرَّبّ المتعلق بالْإیمان وحسن الأدب ولَا بأمرہ أی لقولہ تعالٰی: إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ ، وقولہ تعالٰی: إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ ، فالنّھی ضدّ الأمر فلا یتصوّر أن یکون الکفر بالأمر وھٰذا القول ھو المعروف عن السلف۔ (شرح فقہ أکبر ص:۶۴)۔ وجمیع أفعال العباد من الحرکۃ والسکون أیْ علٰی أیّ وجہ یکون من الکفر والْإیمان والطّاعۃ والعصیان کسبھم علی الحقیقۃ أی لَا علٰی طریق المجاز فی النّسبۃ ولَا علٰی سبیل الْإکراہ والغلبۃ بل إختیارھم فی فعلھم بحسب إختلاف ھوائھم ومیل أنفسھم فلھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت۔ (شرح فقہ أکبر ص:۵۹)۔ ×
اُمّ الکتاب اور لوحِ محفوظ کی حقیقت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اُمّ الکتاب اور لوحِ محفوظ کی حقیقت سوال ۔ اُم الکتاب اور لوحِ محفوظ دو الگ الگ کتابیں ہیں یا ایک ہی کتاب کے دو نام ہیں؟ اگر الگ الگ ہیں تو دونوں میں فرق کیا ہے؟ یہ کس زبان میں لکھی گئیں اور کاتب کون تھا؟ جواب ۔ اُمّ الکتاب، لوحِ محفوظ ہی کو کہا جاتا ہے، زبان اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، اور کاتب باذنِ اِلٰہی قلم تھا۔(۱) (۱) وتوضیحہٗ ان وقت الکتابۃ لم تکن الأشیاء معھودۃ فکتب فی اللوح المحفوظ علی وجہ الوصف أنہ سیکون ۔۔۔ وقال الْإمام الأعظم فی کتابہ الوصیۃ: نقرّ بأنّ اللہ تعالٰی أمر القلم بأن یکتب۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۴۹، مطبوعہ دہلی)۔ ×
’’وحی کی برکات‘‘ سے کیا مراد ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ’’وحی کی برکات‘‘ سے کیا مراد ہے؟ سوال ۔ حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: اور جب ۔۔۔میری اُمت۔۔۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہوجائے گی۔ سوال یہ کرنا ہے کہ ’’وحی کی برکات‘‘ سے کیا مراد ہے؟ جواب ۔ وحی کی برکات: یقین اور اعمالِ صالحہ کی توفیق اور وحی کے انوار کی وجہ سے دِل میں خاص قسم کی سکینت کا پیدا ہونا۔(۱) (۱) ’’وبیانہ ان فی ترک الأمر بالمعروف ۔۔۔ خذلَانا للحق وجفوۃ للدین وفی خذلَان الحق ذھاب البصیرۃ وفی جفاء الدین فقد النور فیحجب القلب فیحرم برکتہ وحرمان برکتہ ان یقرأہ فلا یفھم اسرارہ ولَا یذوق حلاوتہ ۔۔۔ ‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین ج:۴ ص:۵۱۵، الباب الثالث فی أعمال الباطل فی تلاوۃ القرٓان، طبع دار الفکر، بیروت)۔ ×
ابتدائی وحی کے تین سال بعد عمومی دعوت و تبلیغ کا حکم ہوا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ابتدائی وحی کے تین سال بعد عمومی دعوت و تبلیغ کا حکم ہوا سوال ۔ زمانۂ فترۃ وحی میں تبلیغ اسلام کی دعوت جاری رہی یا نہیں؟ جبکہ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ جناب۔۔۔۔ صاحب کی رائے میں پہلی وحی کے بعد تین سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹریننگ دی جاتی رہی اور اس کے بعد تبلیغ کا حکم ہوا۔ امید ہے کہ آپ جواب سے نوازیں گے۔ جواب ۔ ابتدائی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا نزول بند رہا، یہ زمانہ ’’فترۃ وحی‘‘ کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس وقت تک دعوت و تبلیغ کا عمومی حکم نہیں ہوا تھا۔(۱) ’’زمانۂ فترت‘‘ کے بعد سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت و انذار کا حکم دیا گیا،(۲) اس ’’فترۃ وحی‘‘ میں بہت سی حکمتیں تھیں۔(۳) جناب۔۔۔۔۔۔ صاحب نے ’’ٹریننگ‘‘ کی جو بات کی، وہ ان کی اپنی فکری سطح کے مطابق ہے۔ (۱) وقع فی تاریخ أحمد بن حنبل عن الشعبی أن مدۃ فترۃ الوحی کانت ثلاث سنین ۔۔۔ ولیس المراد بفترۃ الوحی المقدرۃ بثلاث سنین وھی ما بین نزول إِقْرَأْ ویٰٓـاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ عدم مجیء جبریل إلیہ بل تأخر نزول القرآن فقط۔ (فتح الباری ج:۱ ص:۲۷، باب بدء الوحی، طبع دار نشر الکتب الْإسلامیۃ، لَاھور)۔ (۲) ’’ان المراد اولیۃ مخصوصۃ بالأمر بالْإنذار وعبر بعضھم عن ھٰذا بقولہ اوّل ما نزل للنبوۃ اقرأ باسم ربک، واوّل ما نزل بالرسالۃ یا ایھا المدثر‘‘ (الْإتقان فی علوم القرآن ج:۱ ص:۲۴)۔ واعلم أنہ اختلف یعنی أوّل ما نزل من القرآن فقیل وھو الصحیح أنہ إقرا باسم ربک وھو الظاھر من ھٰذا السیاق ولہ أدلۃ أُخریٰ مذکورہ فی موضعھا والقول الثانی: یٰـأیھا المدثر ویؤیدہ ما فی الصحیحین عن أبی سلمۃ عن جابر سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو یحدث عن فترۃ الوحی ۔۔۔ أن المراد منہ نزولھا بعد زمن الفترۃ کما یؤیدہ السیاق۔ (فیض الباری ج:۱ ص:۲۵ الکلام فی أول السور نزولًا)۔ (۳) وفتور الوحی عبارۃ عن تأخرہ مدۃ من الزمان، وکان ذٰلک لیذھب ما کان صلی اللہ علیہ وسلم وجدہ من الروع ولیحصل لہ التشوف إلی العود فقد روی المؤلف فی التعبیر من طریق معمر ما یدل علٰی ذٰلک۔ (فتح الباری ج:۱ ص:۲۷، باب بدء الوحی)۔ ×
اللہ کو اِنسان کی عبادت کی کیا ضرورت تھی؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اللہ کو اِنسان کی عبادت کی کیا ضرورت تھی؟ سوال ۔دردِ دِل کے واسطے پیدا کیا اِنسان کوورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاںاللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو عبادت کے لئے بنایا، جو کہ ہر وقت لاکھوں کی تعداد میں خدائے تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہیں، ایسی صورت میں انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخصوص عبادات: نماز، روزہ، اور حج وغیرہ کو کیوں ضروری قرار دیا؟ اور اپنے بھائی بندوں وغیرہ کی خدمت ہی کو عبادت کیوں نہ قرار دیا گیا؟ جواب ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا میں اپنا خلیفہ بناکر بھیجا،(۱) اور اس کے لئے اس دُنیا کو دارالامتحان قرار دیا،(۲) اور اس کو بعض اُمور کا مکلف بنایا،(۳) اور اس کے لئے ایک طریقۂ زندگی پیغمبروں کے عمل کی صورت میں پیش کردیا(۴) کہ جو اس طریقے کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریں گے تو کامیابی پائیں گے، ورنہ ناکام ہوں گے۔ دُوسری بات یہ کہ عبادت اللہ تعالیٰ اس لئے نہیں کراتے کہ اس کو بندے کی عبادت کی ضرورت ہے اور بندے کو عبادت میں دیکھ کر اس کا مقام کچھ بلند ہوتا ہے، بلکہ یہ عبادت بندے کے اپنے لئے ہی کارآمد ہے، اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔(۵) بس اس نے ایک نظام بنادیا ہے کہ اگر عبادت کرے گا تو کامیاب ہوگا اور آخرت میں سرخرو ہوگا، اور اگر عبادت نہیں کرے گا تو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔(۶) پھر شاعر نے جو اُوپر کا شعر کہا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں کہ انسان عبادت نہ کرے اور صرف ایک دُوسرے کے درد ہی کو محسوس کرے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کے لئے نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کے دِل میں ہمدردی اور اِیثار و اُخوَّت کا جذبہ پیدا ہو، اگر عبادت سے وہ ان چیزوں کو حاصل نہیں کرسکتا، بلکہ نرا ظالم کا ظالم رہتا ہے، تو اس کی عبادت کا اثر اس میں نہیں آرہا، اسی لئے تو اَحادیث میں جہاں عبادات پر زور دیا ہے وہاں مسلمانوں کے آپس کے حقوق ادا کرنے، اُخوَّت کو قائم کرنے اور ایک دُوسرے کے ساتھ ہمدردی پر زور دیا ہے۔(۷) (۱) قال تعالٰی: وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ البقرة ٣٠ (۲) قال تعالٰی: ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ الملك ٢۔ (۳) قال تعالٰی: لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ البقرة ٢٨٦۔ (۴) قال تعالٰی: لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ الأحزاب ٢١۔ (۵) ’’یا عبادی لو ان اوّلکم وآخرکم وانسکم وجِنّکم کانوا علٰی اتقٰی قلب رجل واحد منکم ما زاد ذٰلک فی ملکی شیئًا، یا عبادی لو ان اوّلکم وآخرکم واِنسکم وجِنّکم کانوا علٰی افجر قلب رجل واحد منکم ما نقص ذٰلک من ملکی شیئًا ۔۔۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۰۳، باب الْإستغفار، الفصل الأوّل)۔ (۶) قال تعالٰی: مَّنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ٤٦ السجدة ٤٦۔ (۷) عن النعمان بن بشیر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا تحاسدوا ولَا تقاطعوا ولَا تدابروا وکونوا عباد اللہ اِخوانًا‘‘ (مسند احمد ج:۳ ص:۱۶۵)۔ ×
اسلام کے بنیادی عقائد
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اسلام کے بنیادی عقائد سوال ۔ مذہبِ اسلام کے بنیادی عقائد کیا ہیں؟ قرآن وحدیث اور اَقوالِ فقہاء کے حوالہ جات متعلقہ تحریر فرمائیں؟ جواب ۔ اسلام اور کفر کے درمیان خطِ اِمتیاز کیا ہے؟ اور وہ کون سے اُمور ہیں جن کا ماننا شرطِ اسلام ہے؟ اس کے لئے چند نکات ملحوظ رکھنا ضروری ہے: ۱:۔ یہ بات تو ہر عام وخاص جانتا ہے، بلکہ غیرمسلموں تک کو معلوم ہے کہ: ’’مسلمان ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق تسلیم کرتے ہوئے آپ کے لائے ہوئے دِین کو قبول کرنے کا عہد کریں، گویا یہ طے شدہ امر ہے (جس میں کسی کا اِختلاف نہیں) کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو من وعن تسلیم کرنا اِسلام ہے اور دِینِ محمدی کی کسی بات کو قبول نہ کرنا کفر ہے، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔‘‘ ۲:۔ اب صرف یہ بات تنقیح طلب باقی رہ جاتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم قطعی دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دِینِ محمدی میں داخل ہیں، اور واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کی تعلیم فرمائی ہے؟اس سلسلے میں گزارش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دِین ہم تک پہنچا ہے، اس کا ایک حصہ ان حقائق پر مشتمل ہے، جو ہمیں ایسے قطعی ویقینی اور غیرمشکوک تواتر کے ذریعے سے پہنچا ہے کہ ان کے ثبوت میں کسی قسم کے ادنیٰ اِشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً جس درجے کے تواتر اور تسلسل سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیٔ برحق کی حیثیت سے لوگوں کو ایک دِین کی دعوت دی تھی، ٹھیک اسی درجے کے تواتر وتسلسل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت میں لوگوں کو ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ کی طرف بلایا، یعنی توحید کی دعوت دی، شرک وبت پرستی سے منع فرمایا، قرآنِ کریم کو کلامِ اِلٰہی کی حیثیت سے پیش کیا، قیامت کے حساب وکتاب، جزا وسزا اور جنت ودوزخ کو ذِکر فرمایا، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی، اس قسم کے وہ تمام حقائق جو ایسے قطعی ویقینی تواتر کے ذریعے ہمیں پہنچے ہیں، جن کو ہر دور میں مسلمان بالاتفاق مانتے چلے آئے ہیں، اور جن کا علم صرف خواص تک محدود نہیں رہا، بلکہ خواص کے حلقے سے نکل کر عوام تک میں مشہور ہوگیا۔ قرآنِ کریم میں بہت سی جگہ اس مضمون کو ذِکر کیا گیا ہے، ایک جگہ اِرشاد ہے: ﵟءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ﵞ (البقرة ٢٨٥)ترجمہ:۔ ’’اِعتقاد رکھتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز کا جو اُن کے پاس اُن کے رَبّ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور مؤمنین بھی، سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ، ہم اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے، اور ان سب نے یوں کہا: ہم نے (آپ کا اِرشاد) سنا اور خوشی سے مانا، ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور آپ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔‘‘(ترجمہ: حضرت تھانویؒ)دُوسری جگہ اِرشاد ہے: ﵟ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا ٦٥ ﵞ (النساء ٦٥)ترجمہ:۔ ’’پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ اِیمان دار نہ ہوں گے، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں، پھر اس آپ کے تصفیے سے اپنے دِلوں میں تنگی نہ پاویں، اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘تیسری جگہ اِرشاد ہے: ﵟ وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا ٣٦ ﵞ (الأحزاب ٣٦)ترجمہ:۔ ’’اور کسی اِیمان دار مرد اور کسی اِیمان دار عورت کو گنجائش نہیں ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں کہ پھر (ان مؤمنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اِختیار (باقی) رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔‘‘اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تبعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۳۰)ترجمہ:۔ ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دِین کے تابع نہ ہوجائے۔‘‘انہیں خالص علمی اِصطلاح میں ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی یہ ایسے اُمور ہیں کہ ان کا دِینِ محمدی میں داخل ہونا سوفیصد قطعی ویقینی اور ایسا بدیہی ہے کہ ان میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شک وشبہ اور تردّد کی گنجائش نہیں، کیونکہ خبرِ متواتر سے بھی اسی طرح کا یقین حاصل ہوتا ہے جس طرح کہ خود اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے سے کسی چیز کا علمِ یقین حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مکہ، مدینہ یا کراچی اور لاہور نہیں دیکھا، لیکن انہیں بھی ان شہروں کے وجود کا اسی طرح یقین ہے جس طرح کا یقین خود دیکھنے والوں کو ہے۔دِینِ محمدی کی پوری عمارت اسی تواتر کی بنیاد پر قائم ہے، جو شخص دِین کے متواترات کا اِنکار کرتا ہے، وہ دِین کی پوری عمارت ہی کو منہدم کردینا چاہتا ہے، کیونکہ اگر تواتر کو حجتِ قطعیہ تسلیم نہ کیا جائے تو دِین کی کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوسکتی، تمام فقہاء، متکلمین اور علمائے اُصول اس پر متفق ہیں کہ تواتر حجتِ قطعیہ ہے، اور متواتراتِ دینیہ کا منکر کافر ہے، (کتبِ اُصول میں تواتر کی بحث ملاحظہ کی جائے)۔ مناسب ہوگا کہ تواتر کے قطعی حجت ہونے پر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت پیش کردیں، اپنی کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے