مسلمانوں کے بنیادی عقائد ایمان کی حقیقت سوال ایمان کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب حدیث جبرائیل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔(۱)حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایم کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاؤ اچھی بری تقدیر پر۔‘‘(۲) ایمان ایک نور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آجاتا ہے، اور جب یہ نور دل میں آتا ہے تو کفر و عناد اور رسومِ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور آدمی ان تمام چیزوں کو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، نورِ بصیرت سے قطعی سچی سمجھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لے کر آیا ہوں(۳)۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں سب سے اہم تر یہ چھ باتیں ہیں جن کا ذکر اس حدیث پاک ۔۔۔حدیثِ جبریل۔۔۔ میں فرمایا ہے، ۔۔۔دیکھا جائے تو۔۔۔ پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آجاتا ہے: ۱:۔۔۔ اللہ تعالیٰ پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔(۱) ۲:۔۔۔ فرشتوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرّر کردیا ہے وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔(۲) ۳:۔۔۔ رسولوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کسی کو نبوّت نہیں ملے گی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا لایا ہوا دِین قیامت تک رہے گا۔(۳) ۴:۔۔۔ کتابوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطاکئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُتاری گئی، زَبور جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی، اِنجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے رُوگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔(۴) ۵:۔۔۔ قیامت پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دُنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زِندہ کرے گا اور اس دُنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو ’’جنت‘‘ کہتے ہیں، اور جس شخص کی بُرائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں، جس کا نام ’’جہنم‘‘ ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دُنیا میں جس شخص نے کسی دُوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رِشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام ’’قیامت‘‘ ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔(۱) ۶:۔۔۔ اچھی اور بُری تقدیر پر اِیمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانۂ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، ’’لوحِ محفوظ‘‘ میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علمِ ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام
کیا دُعا سے تقدیر کی تبدیلی ہوتی ہے؟
تقدیر کیا دُعا سے تقدیر کی تبدیلی ہوتی ہے؟ سوال ۔ آپ نے تقدیر اور اختیار کے بارے میں جواب اچھا دیا، اگر وہ سمجھ گیا۔ ان صاحب کی طرح بہت سے لوگوں کو وہم ہے کہ دُعا کا کوئی اثر نہیں ہے، اور ایسے سوال و جواب سے بہت سے لوگوں کا عقیدہ ختم ہوجاتا ہے، نماز اور نیکی کا کام چھوڑ کر تقدیر پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک بات لکھنا چاہتی ہوں، قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے کہ میں نے ہر اِنسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرّر کیا ہے، اس دن انسان کو مرنا ہے، ہاں! اگر میں چاہوں تو زندگی بخش دیتا ہوں، یعنی انسان کی عمر بڑھادیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہر سوال کا جواب دیا ہے، اللہ دُعا سے تقدیر بدل سکتا ہے، اس لئے دُعا کو اتنی اہمیت دی ہے، خدا سب کچھ کرسکتا ہے۔ اللہ کی ایک بات کے ہزار مطلب ہیں، اگر کوئی سمجھے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔ میرا تو اِیمان ہے کہ اللہ دُعا سے تقدیر بدل دیتا ہے، اللہ رحیم ہے۔ جواب ۔ آپ کا مضمون بڑی حد تک صحیح ہے۔ دُعا کے معنی ہیں: اللہ تعالیٰ سے مانگنا، اس کی بارگاہ میں گڑگڑانا اور اِلتجائیں کرنا۔ بندے کو بحیثیت بندہ ہونے کے اس وظیفۂ عبدیت سے غافل نہیں ہونا چاہئے، خصوصاً جبکہ اس رحیم و کریم آقا کی جانب سے قبولیت کا وعدہ بھی ہے۔(۱) (۱) وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ غافر ٦٠۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦ البقرة ١٨٦۔ ×
شوہر اور بیوی کی خوش بختی یا بدبختی آگے پیچھے مرنے میں نہیں ہے
تقدیر شوہر اور بیوی کی خوش بختی یا بدبختی آگے پیچھے مرنے میں نہیں ہے سوال ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی عورتیں جو اپنے خاوند کے انتقال کے بعد زندہ رہتی ہیں وہ بدبخت ہیں، اور جو عورتیں خاوند سے پہلے انتقال کرجاتی ہیں، وہ بہت خوش نصیب ہیں۔ جواب ۔ خوش بختی اور بدبختی تو آدمی کے اچھے اور بُرے اعمال پر منحصر ہوتی ہے،(۱) پہلے یا بعد میں مرنے پر نہیں۔ (۱) عن أبی بکرۃ أن رجلًا قال: یا رسول اللہ! أی الناس خیر؟ قال: من طال عمرہ وحسن عملہ۔ قال: فأی الناس شر؟ قال: من طال عمرہ وقصر عملہ۔ (مشکوٰۃ ص: ۴۵۰) وقال الطیبی رحمہ اللہ: وقد سبق ان الأوقات والساعات کرأس المال للتاجر فینبغی ان یتجر فیما یربح فیہ وکلما کان رأس مالہ کثیرًا کان الربح أکثر فمن مضی لطیبہ فاز وأفلح، ومن أضاع رأس مالہ لم یربح وخسر خُسرانًا مبینًا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۷۸)۔ ×
کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں موت کے سوا کچھ نہیں ہے؟
تقدیر کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں موت کے سوا کچھ نہیں ہے؟ سوال ۔ ایک صاحب تقدیر پر کوئی یقین نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ: قدرت نے موت کے سوا اپنے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رکھا۔ جواب ۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے، مذکورہ بالا خیال تو قرآنِ کریم کے صریح ارشاد کے خلاف ہے،(۱) ان صاحب کو اپنے خیالات سے توبہ کرنی چاہئے اور کسی عالمِ حقانی کی صحبت اختیار کرنی چاہئے۔ (۱) تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١ أی ھو المتصرف فی جمیع المخلوقات بما یشاء، لَا معقّب لحکمہ، ولَا یُسأل عما یَفعل، لقھرہ وحکمتہ وعدلہ، ولھٰذا قال تعالٰی: وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرُۢ ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۲۶۷)۔ ×
خودکشی کو حرام کیوں قرار دیا گیا جبکہ اس کی موت اسی طرح لکھی تھی؟
تقدیر خودکشی کو حرام کیوں قرار دیا گیا جبکہ اس کی موت اسی طرح لکھی تھی؟ سوال ۔ جب کسی کی موت خودکشی سے واقع ہونی ہے تو خودکشی کو حرام کیوں قرار دیا گیا، جبکہ اس کی موت ہی اس طرح لکھی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں اور تفصیل کے ساتھ جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ جواب ۔ موت تو اسی طرح لکھی تھی،(۱) مگر اس نے اپنے اختیار سے خودکشی کی، اس لئے اس کے فعل کو حرام قرار دیا گیا۔(۲) اور عقیدۂ تقدیر رکھنے کے باوجود آدمی کو دُوسرے کے بُرے افعالِ اختیاریہ پر غصہ آتا ہے، مثلاً: کوئی شخص کسی کو ماں بہن کی گالی دے تو اس پر ضرور غصہ آئے گا، حالانکہ یہ عقیدہ ہے کہ حکمِ الٰہی کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا! (۱) حوالہ بالا(ان المقتول۔۔الخ) (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تردّٰی من جبل فقتل نفسہ فھو فی نار جھنم یتردّٰی فیھا خالدًا مخلّدًا فیھا أبدًا، ومن تحسّٰی سمّا فقتل نفسہ فسمہ فی یدہ یتحسّاہ فی نار جھنم خالدًا مخلّدًا فیھا أبدًا۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۹۹ کتاب القصاص)۔ ×
جب مرنے کے اسباب مقرّر ہیں تو پھر مارنے والے کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟
تقدیر جب مرنے کے اسباب مقرّر ہیں تو پھر مارنے والے کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟ سوال ۔ کیا ہر بشر کی موت کا دن مقرّر ہے؟ اس میں تقدیر کا کہاں تک دخل ہے؟ سوال واضح کرنے کے لئے جب آدمی مرجاتا ہے تو سب کہتے ہیں کہ جو لکھا تھا وہ تو ہونا ہی تھا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی سڑک پر جارہا تھا، اس کو ایک کار والے آدمی نے ٹکر ماردی اور وہ مرگیا، اب بتائیں کہ اگر اس مرنے والے کی موت کار والے کے ہاتھ سے لکھی تھی تو اس میں کار والے کا کیا قصور ہے؟ اور وہ گناہگار کیسے ہوا؟ جو لکھا تھا وہ تو ہونا ہی تھا، اسے کون روک سکتا ہے؟ جواب ۔ موت کا وقت مقرّر ہے، اور جو حادثے سے موت ہو تو اس کی اسی طرح لکھی تھی، لیکن کار والے پر گرفت اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے کی جاتی ہے۔(۱) (۱) ان المقتول میّت بأجلہ ووقتہ المقدر بموتہ فقد قال اللہ تعالٰی: فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٤ ۔۔۔ ان وجود العقاب والضمان علی القاتل تعبدی لِارتکابہ المنھی عنہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۲، ۱۵۳)۔ ×
قاتل کو سزا کیوں جبکہ قتل اس کا نوشتۂ تقدیر تھا
تقدیر قاتل کو سزا کیوں جبکہ قتل اس کا نوشتۂ تقدیر تھا سوال ۔ ایک شخص نے ہم سے یہ سوال کیا ہے کہ ایک آدمی کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اس کے ہاتھوں فلاں شخص قتل ہوجائے گا، تو پھر اللہ پاک کیوں اس کو سزا دے گا؟ جبکہ اس کی تقدیر میں یہی لکھا تھا، اس کے بغیر کوئی چارہ ہو ہی نہیں سکتا، جبکہ ہمارا تقدیر پر ایمان ہے کہ جو تقدیر میں ہے وہی ہوگا تو پھر اللہ پاک نے سزا کیوں مقرّر کی ہوئی ہے؟ جواب ۔ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ فلاں شخص اپنے ارادہ و اختیار سے فلاں کو قتل کرکے سزا کا مستحق ہوگا، چونکہ اس نے اپنے ارادہ و اختیار کو غلط استعمال کیا، اس لئے سزا کا مستحق ہوا۔(۱) (۱) والمقتول میّت بأجلہ أی: الوقت المقدر لموتہ ۔۔۔ ان وجوب العقاب والضمان علی القاتل تعبدی، لِارتکابہ المنھی وکسبہ الفعل الذی یخلق اللہ تعالٰی عقبیہ الموت بطریق جری العادۃ، فإن القتل فعل القاتل کسبًا۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶ طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔ ×
نظر لگنے کی کیا حیثیت ہے؟
تقدیر نظر لگنے کی کیا حیثیت ہے؟ سوال ۔ ہمارے معاشرے میں یا یوں کہئے کہ ہمارے بڑے بوڑھے ’’نظر ہونے یا نظر لگنے‘‘ کے بہت قائل ہیں، خاص طور سے چھوٹے بچوں کے لئے بہت کہا جاتا ہے (اگر وہ دُودھ نہ پیئے یا کچھ طبیعت خراب ہو، وغیرہ) کہ: ’’بچے کو نظر لگ گئی ہے‘‘ پھر باقاعدہ نظر اُتاری جاتی ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کردیں کہ اسلامی معاشرے میں اس کی توجیہ کیا ہے؟ جواب ۔ نظر لگنا برحق ہے، اور اس کا اُتارنا جائز ہے، بشرطیکہ اُتارنے کا طریقہ خلافِ شریعت نہ ہو۔(۱) (۱) عن یحیٰی بن أبی کثیر قال: حدثنی حیۃ بن حابس التمیمی حدثنی أبی أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا شیء فی الھام، والعینُ حق۔ وعن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لو کان شیء سابق القدر لسبقتہ العین ۔۔۔ الخ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲۶، أبواب الطب، طبع قدیمی)۔ ×
کوئی آدمی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب حالانکہ محنت دونوں کرتے ہیں
تقدیر کوئی آدمی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب حالانکہ محنت دونوں کرتے ہیں سوال ۔ قسمت کیا ہے؟ کیا جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے؟ مثال کے طور پر دو اِنسانوں کو لے لیں، ان میں سے ایک تو بہت ہی امیر ہے اور دُوسرا بہت ہی غریب۔ امیر کے بچے تو سونے کے سکوں سے کھیلتے ہیں اور غریب کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، محنت دونوں اپنی اپنی جگہ پر کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس کے بچے بھوک سے مر ر ہے ہیں، اس نے کیا قصور کیا ہے؟ اس کی روزی میں کم کیوں لکھا ہے؟ جواب ۔ روزی کم یا زیادہ کرنا، اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ اور یہ ہر ایک کے لئے پیدائش سے پہلے مقدّر کردی گئی ہے، خواہ کوئی کتنی ہی محنت کرے، ملتا وہی ہے جو مقدّر میں لکھا ہے،(۱) اور اس کی حکمتوں کو وہی بہتر جانتا ہے، مگر مسلمانوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہ کرامؓ کا اُسوۂ حسنہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدّۃ العمر دو دن متواتر جو کی روٹی سے بھی سیر نہیں ہوئے،(۲) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کی گئی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنادیا جائے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول نہیں فرمایا، بلکہ یہ عرض کیا کہ: یا اللہ! میں چاہتا ہوں کہ ایک وقت کھانے کو ملے تاکہ شکر کروں، اور دُوسرے وقت نہ ملے تاکہ صبر کروں۔(۳)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زُہد و قناعت اور فقر و فاقہ کے بے شمار واقعات ہیں، اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بھی، مگر ان اکابر نے کبھی تنگی ترشی کی شکایت نہیں کی، بلکہ اس کو نعمت سمجھا، کیونکہ جتنا کم ہوگا، اتنا حساب بھی کم ہوگا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ مال دار لوگ اپنے مال کے حساب و کتاب میں پھنسے ہوں گے اور فقراء ان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہوں گے۔(۴)اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے: ایک حصہ دُنیا کی بہت ہی کم اور محدود سی زندگی ہے، اور ایک حصہ مرنے کے بعد برزخ کی طویل ترین زندگی ہے، اور ایک حصہ قیامت اور جنت و دوزخ کی لامحدود زندگی کا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اکابرِ اُمت کے سامنے زندگی کے یہ تینوں حصے تھے اور وہ ان تینوں حصوں کو سامنے رکھ کر نفع و نقصان اور فقر و غنی ا کا میزانیہ کرتے تھے۔ اس لئے دُنیا کی زندگی کے حقیر و قلیل سے وقفے کا فقر و فاقہ ان کی نظر میں برزخ کی طویل اور آخرت کی لامحدود زندگی کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ وہ روزے دار کے روزے کی طرح اس کو ایک معمولی مجاہدہ سمجھ کر برداشت کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے سامنے دُنیا ہی دُنیا کی زندگی ہے، برزخ اور آخرت کا یقین اس قدر مضمحل اور کمزور ہوچکا ہے کہ گویا سرے سے یقین ہی نہیں، اس لئے ہم صرف اور صرف دُنیا کی زندگی کو سامنے رکھ کر اپنی کامیابی و ناکامی اور فقر و غنی ا کا میزانیہ مرتب کرتے ہیں، اور جب اس میں کچھ کمی نظر آتی ہے تو شکایتوں کا دفتر کھول بیٹھتے ہیں۔ اے کاش! ہماری یقین کی آنکھیں روشن ہوجائیں تو ہمیں دُنیا کی زندگی سرابِ محض نظر آنے لگے۔(۵) (۱) عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ عزّ وجلّ فرغ الٰی کل عبد من خلقہ من خمس: من أجلہ، وعملہ، ومضجعہ، وأثرہ، ورزقہ۔ رواہ احمد، (مشکوٰۃ ص:۲۳، باب الْإیمان بالقدر، الفصل الثالث)۔ (۲) عن عائشۃ قالت: ما شبع آل محمدٍ من خبز الشعیر یومین متتابعین حتّٰی قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۶)۔ (۳) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: عرض علَیَّ ربّی لیعجل لی بطحاء مکۃ ذھبا، قلت: لَا یا رَبّ! ولٰـکن أشبع یومًا وأجوع یومًا۔ أو قال ثلاثًا، أو نحو ھٰذا، فإذا جعت تضرّعت إلیک وذکرتک، فإذا شبعت شکرتک وحمدتک۔ (ترمذی ج:۲ ص:۵۸، باب ما جاء فی الکفاف الصبر علیہ)۔ (۴) عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یدخل الفقراء الجنّۃ قبل الأغنیاء بخمس مأۃ عام نصف یوم۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۴۷ طبع قدیمی)۔ (۵) فالحاصل أن الدور ثلاث: دار الدنیا، ودار البرزخ، ودار القرار۔ وقد جعل اللہ لکل دار أحکامًا تخصھا ورکّب ھٰذا الْإنسان من بدن ونفس وجعل أحکام الدنیا علی الأبدان والأرواح تبع لھا، وجعل أحکام البرزخ علی الأرواح والأبدان تبع لھا، فإذا جاء یوم حشر الأجساد وقیام الناس من قبورھم صار الحکم والنعیم والعذاب علی الأرواح والأجساد جمیعًا۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۵۲)۔ ×
ہر چیز خدا کے حکم سے ہوتی ہے
تقدیر ہر چیز خدا کے حکم سے ہوتی ہے سوال ۔ میری ایک عزیزہ ہر بات میں خواہ اچھی ہو یا بُری ’’خدا کے حکم سے‘‘ کہنے کی عادی ہیں، یعنی اگر کوئی خوشی ملی تو بھی اور اگر لڑکا آوارہ نکل گیا، یا اسی قسم کی کوئی اور بات ہوئی تب بھی وہ یہی کہتی ہیں۔ بتائیے کیا ان کا اس طرح کہنا دُرست ہے؟ جواب ۔ تو کیا کوئی چیز خدا کے حکم کے بغیر بھی ہوتی ہے؟ نہیں! ہر چیز خدا کے حکم سے ہوتی ہے، مگر خیر کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہوتی ہے اور شر اور بُرائی میں یہ نہیں ہوتا۔(۱) (۱) وھی أی: أفعال العباد کلھا أی: جمیعھا من خیرھا وشرھا وان کانت مکاسبھم بمشیتہ أی: بإرادتہ وعلمہ ۔۔۔ أی: علٰی وفق حکمہ وطبق قدر تقدیرہ فھو مرید لما یسمیہ شرًّا من کفر ومعصیۃ کما ھو مرید للخیر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۷)۔ ×