مسلمانوں کے بنیادی عقائد مجذوم سے تعلق رکھنے کا حکم سوال ۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مجذوم سے بچو‘‘ فقہِ حنفی کا مسئلہ یہ ہے کہ: مجذوم کی بیوی کو اختیار ہے کہ وہ فسخِ نکاح کرے۔ اب عرض یہ ہے کہ: جذام جسے انگریزی میں ’’لپروسی‘‘ کہتے ہیں، پہلے ایک لاعلاج اور قابلِ نفرت بیماری تصوّر کی جاتی تھی، اب یہ مرض لاعلاج نہیں رہا، ایسے مریض میں نے دیکھے ہیں جو جذام سے صحت یابی کے بعد شادیاں کرچکے ہیں اور ان کے صحت مند بچے ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اب یہ بیماری عام بیماریوں کی طرح ایک عام مرض ہے، جس کا سو فیصد کامیاب علاج گارنٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ معاشرے میں مجذوم سے جو نفرت ہوتی تھی، اب وہ نہیں رہی۔ اس بیماری کے جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں ان کے حسنِ اخلاق کا کیا کہنا، وہ کہتے ہیں کہ جذام کے مریض، لوگوں کی توجہ کے مستحق ہیں، ان سے نفرت نہیں کرنی چاہئے، تاکہ یہ لوگ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ڈاکٹرز مجذومین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے ہیں، ان کے ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں، صحت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اب تک میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی مجذوم سے یہ مرض ڈاکٹر یا کسی عام آدمی کو لاحق ہوا ہو۔ اب آپ سے دو باتیں پوچھنی ہیں:۱:۔ حدیثِ مذکور کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری قابلِ نفرت ہے، اور اس بیماری کے معالجین کہتے ہیں کہ یہ بیماری قابلِ نفرت نہیں ہے، حدیث شریف کا صحیح مفہوم کیا ہے؟یہ اِشکال محض میری جہالت و کم فہمی و کم علمی پر مبنی ہے۔۲:۔ فقہِ حنفی کا جو مسئلہ میں نے تحریر کیا ہے، کیا آج کل کے حالاتِ مذکورہ کے موافق ایک ایسے آدمی کی بیوی کو بھی فسخِ نکاح کا اختیار ہوگا جو کہ جذام کی بیماری سے مکمل طور پر صحت یاب ہوچکا ہو؟ جواب ۔ نفیس سوال ہے، اس کا جواب سمجھنے کے لئے دو باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے:ایک یہ کہ بعض لوگ قوی المزاج ہوتے ہیں، ایسے مریضوں کو دیکھ کر یا ان کے ساتھ مل کر ان کے مزاج میں کوئی تغیر نہیں آتا، اور بعض کمزور طبیعت کے ہوتے ہیں (اور اکثریت اسی مزاج کے لوگوں کی ہے)، ان کی طبیعت ایسے موذی امراض کے مریضوں کو دیکھنے اور ان سے میل جول رکھنے کی متحمل نہیں ہوتی۔دوم:۔ یہ کہ شریعت کے اَحکام قوی و ضعیف سب کے لئے ہیں، بلکہ ان میں کمزوروں کی رعایت زیادہ کی جاتی ہے۔ چنانچہ اِمام کو حکم ہے کہ وہ نماز پڑھاتے ہوئے کمزوروں کے حال کی رعایت رکھے۔(۱)یہ دو باتیں معلوم ہوجانے کے بعد سمجھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بہ نفسِ نفیس مجذوم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ: ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنے سالن کے برتن میں داخل کیا اور فرمایا: کھا! اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہوئے(۲)۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۴)اِمام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی نوعیت کا واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی نقل کیا ہے،(۳)گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے واضح فرمایا کہ نہ مجذوم قابلِ نفرت ہے اور نہ وہ اَچھوت ہے، لیکن چونکہ ضعفاء کی ہمت و قوّت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لئے ان کے ضعفِ طبعی کی رعایت فرماتے ہوئے ان کو اس سے پرہیز کا حکم فرمایا۔ ۲:۔ حضراتِ فقہاء کا یہ فتویٰ بھی عورت کے ضعفِ طبعی کی رعایت پر محمول ہے، پس اگر مجذوم کا صحیح علاج ہوجائے تو عورت کو نکاح فسخ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ حضرات فقہاء کا یہ فتویٰ اس پر لاگو ہوگا۔(۴) (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اذا صلّٰی أحدکم للناس فلیخفف، فان فیھم السقیم والضعیف والکبیر واذا صلّٰی أحدکم لنفسہ فلیطوّل ما شاء‘‘ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۰۱، باب ما علی الْإمام)۔ (۲) عن جابر رضی اللہ عنہ: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أخذ بید مجزوم فأدخلہ معہ فی القصعۃ، ثم قال: ’’کل بسم اللہ، ثقۃً باللہ وتوکّـلًا علیہ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۴، طبع رشیدیہ دہلی)۔ (۳) عن ابن ابی بریدۃ ان عمر أخذ بید مجزوم۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴۰)۔ (۴) وفی الدر المختار: ولَا یتخیر أحد الزوجین بعیب فی الآخر فاحشًا کمجنون وجذام وبرص ۔۔۔ الخ۔ وفی الشامیۃ: لیس لواحد من الزوجین خیار فسخ النکاح بعیب فی الآخر عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف وھو قول عطاء والنخعی ۔۔۔ وخالف الأئمۃ الثلاثۃ فی الخمسۃ مطلقًا ومحمد فی الثلاثۃ الأول لو فی الزوج کما یفھم من البحر وغیرہ ۔۔۔ الخ۔ (شامی ج:۳ ص:۵۰۱)۔ ×
متعدی امراض اور اِسلام
مسلمانوں کے بنیادی عقائد متعدی امراض اور اِسلام سوال ۔ کیا جذام والے سے اسلام نے رشتہ ختم کردیا ہے؟ اگر نہیں تو اس کے مریض سے جینے کا حق کیوں چھینا جاتا ہے؟ اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ: ’’اس سے شیر کی طرح بھاگو اور اس کو لمبے بانس سے کھانا دو‘‘؟ جواب ۔ جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس سے لوگوں کو اَذیت ہوتی ہو، اگر لوگوں کو اس سے الگ رہنے کا مشورہ دیا جائے تو یہ تقاضائے عقل ہے، باقی بیماری کی وجہ سے اس کا رشتہ اسلام سے ختم نہیں ہوگا، اس بیماری پر اس کو اَجر ملے گا۔ اسلام تو مرض کے متعدی ہونے کا قائل نہیں، لیکن اگر جذامی سے اختلاط کے بعد خدانخواستہ کسی کو یہ مرض لاحق ہوگیا تو ضعیف الاعتقاد لوگوں کا عقیدہ بگڑے گا اور وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ مرض اس کو جذامی سے لگا ہے، اس فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ: اس سے شیر کی طرح بھاگو، ۔۔۔ باقی لمبے بانس سے کھانا دینے کا مسئلہ مجھے معلوم نہیں اور نہ کہیں یہ پڑھا ہے۔۔۔۔ الغرض جذام والے کی تحقیر مقصود نہیں بلکہ لوگوں کو اِیذائے جسمانی اور خرابیٔ عقیدہ سے بچانا مقصود ہے۔(۱) اگر کوئی شخص قوی الایمان اور قوی المزاج ہو وہ اگر جذامی کے ساتھ کھا،پی لے، تب بھی کوئی گناہ نہیں، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھایا ہے۔(۲) (۱) وعنہ (أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا عدوی ولَا طیرۃ ۔۔۔ وفر من المجذوم کما تفر من الأسد۔ (وفی حاشیتہٖ) وانما أراد بذٰلک نفی ما اعتقدوا من ان العلل المعدّیۃ مؤثرۃ لَا محالۃ، فأعلمھم ان لیس کذٰلک، بل ھو متعلق بالمشیۃ، إن شاء کان، وإن لم یشأ، لم یکن ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۱، باب الفال والطیرۃ، الفصل الأوّل)۔ (۲) عن جابر: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أخذ بید مجزوم فأدخلہ معہ فی القصعۃ ۔۔۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴، باب ما جاء فی الأکل معذ المجوم)۔ ×
’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘ کی تشریح
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘کی تشریح سوال ۔’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘حدیث کے متعلق محدثین کا کیا فیصلہ ہے؟ کیونکہ ہمارے ایک اُستاد نے اس بنا پر اس کو موضوع یا بالفاظِ دیگر دُرست قرار نہیں دیا کہ یہ دُوسری احادیث سے متعارض ہے۔ مثلاً: نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَأَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا ۔۔۔۔ الخ‘‘نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ:’’اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ‘‘تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم غریبی کو کفر قرار دیتے ہیں۔ ایک اور مولوی صاحب سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ: حدیث کو خواہ مخواہ دُرست قرار نہ دینا ٹھیک نہیں۔ اُن کے مطابق دونوں قسم کی احادیث میں یہ تطبیق ہونی چاہئے کہ کبھی کبھار غریبی کی وجہ سے انسان کفریہ طرزِ عمل کا ارتکاب کرگزرتا ہے، مثلاً: یوں کہتا ہے کہ: ’’اللہ نے بس غربت کے لئے مجھے ہی چنا تھا‘‘ وغیرہ وغیرہ کے الفاظ، یعنی غریبی کفر نہیں، احادیث کی رُو سے غریبی تو محمود ہی ہے، مذموم نہیں، جیسا کہ اُوپر مذکور ہے۔ آپ صرف اتنا فرمائیے کہ مولوی صاحب نے احادیث کا تعارض جو دُور کیا ہے وہ دُرست ہے یا نہیں؟ جواب ۔ ’’موسوعۃ الحدیث النبوی‘‘ جلد:۶ صفحہ:۸ میں’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘کے لئے مندرجہ ذیل حوالے دئیے گئے ہیں: کنز العمال حدیث نمبر: ۱۶۶۸۲، اتحاف السادۃ المتقین ج:۸ ص: ۱۵۰، تاریخ اصفہان ج:۱ ص:۲۹۰، درمنثور ج:۶ ص:۴۲، الضعفاء للعقیلی ج:۴ ص:۲۰۶، مشکوٰۃ حدیث نمبر:۵۰۵۱، المغنی عن حمل الْاسفار للعراقی ج:۳ ص:۱۸۴ و ۲۲۹، حلیۃالأولیاء ج:۳ ص:۵۳، ج:۸ ص:۲۵۳، تذکرۃ الموضوعات للمفتیص:۱۷۴، الدرر المنتثرۃ فی الاحادیث المشتھرۃ، للسیوطی ص: ۱۲۴، العلل المتناہیۃ لِابن الجوزی ج:۳ ص: ۳۲۰۔ اگرچہ یہ حدیث کمزور ہے لیکن ان حوالوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع نہیں۔اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بعض اوقات آدمی فقر کی وجہ سے کفر کا اِرتکاب کرلیتا ہے، جیسا کہ آج کل غریبوں کی غربت وافلاس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی اور عیسائی مرتد بنالیتے ہیں، بہرحال مولوی صاحب نے جو تطبیق دی ہے کسی حد تک دُرست ہے۔ ×
کلامِ اِلٰہی میں درج مخلوق کا کلام نفسی ہوگا؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کلامِ اِلٰہی میں درج مخلوق کا کلام نفسی ہوگا؟ سوال ۔ آپ نے فرمایا ’’جب غیراللہ کے اقوال اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں نقل کئے ہیں تو وہ بھی کلام الٰہی کا حصہ بن گئے۔‘‘ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اقوال کلام الٰہی کا حصہ بن گئے تب بھی یہ کلام نفسی تو نہ ہوئے، کیونکہ کلام نفسی تو قدیم ہے اور یہ قول کسی زمانے میں کسی انسان سے ادا ہوئے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دُہرادیا، تو یہ اقوال تو مخلوق ہوئے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن سارا غیرمخلوق ہے۔ جواب ۔ مخلوق کے کلام کا کلامِ الٰہی میں آنا بظاہر محلِ اِشکال ہے، لیکن اس پر نظر کی جائے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ماضی ومستقبل یکساں ہیں تو یہ اِشکال نہیں رہتا، یعنی مخلوق پیدا ہوئی، اس سے کوئی کلام صادر ہوا، اللہ تعالیٰ نے بعد اَز صدور اس کو نقل فرمایا تو واقعی اِشکال ہوگا، لیکن مخلوق پیدا ہونے اور اس سے کلام صادر ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا، اور اس علمِ قدیم کو کلامِ قدیم میں نقل فرمادیا۔(۱) (۱) والقراٰن کلام اللہ تعالٰی فھو قدیم ۔۔۔ وقد کان اللہ تعالٰی متکلمًا ای فی الأزل ولم یکن کلم موسیٰ ای والحال أنہ لم یکن کلم موسیٰ بل ولَا خُلِقَ أصل موسیٰ وعیسیٰ وقد کان اللہ تعالٰی خالقا فی الأزل ولم یخلق الخلق۔ (شرح فقہ الاکبر ص:۳۵ ×
قرآن میں درج دُوسروں کے اقوال قرآن ہیں؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد قرآن میں درج دُوسروں کے اقوال قرآن ہیں؟ سوال ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے دُوسروں کے اقوال بھی دُہرائے ہیں، جیسے عزیزِ مصر کا قول:’’إِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيمٞ‘‘یا بلقیس کا قول:’’إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ‘‘کیا ان اقوال کی بھی وہی اہمیت اور حقیقت ہے جو کلام اللہ کی ہے؟ بعض واعظین اس طرح بیان کرتے ہیں: دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’إِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيمٞ‘‘حالانکہ یہ غیراللہ کا قول ہے، اللہ تعالیٰ نے صرف اس کو نقل کیا ہے۔ جواب ۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان اقوال کو نقل فرمادیا تو یہ اقوال بھی کلامِ اِلٰہی کا حصہ بن گئے اور ان کی تلاوت پر بھی ثوابِ موعود ملے گا(یہ ناکارہ بطور لطیفہ کہا کرتا ہے کہ قرآنِ کریم میں فرعون، ہامان، قارون اور اِبلیس کے نام آتے ہیں اور ان کی تلاوت پر بھی پچاس، پچاس نیکیاں ملتی ہیں)۔ پھر قرآنِ کریم میں جو اَقوال نقل فرمائے گئے ہیں ان میں سے بعض پر رَدّ فرمایا ہے جیسے کفار کے بہت سے اقوال، اور بعض کو بلا تردید نقل فرمایا ہے۔ تو اقوالِ مردود تو ظاہر ہے کہ مردود ہیں، لیکن جن اقوال کو بلا نکیر نقل فرمایا ہے وہ ہمارے لئے حجت ہیں، پس عزیزِ مصر کا قول اور بلقیس کا قول اسی دُوسری قسم میں شامل ہیں اور ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔(۱) (۱) وما ذکرہ اللہ تعالٰی فی القراٰن ای المنزل والفرقان المکتمل عن موسٰی وغیرہ من الأنبیاء علیھم السلام ۔۔۔ وعن فرعون وابلیس ای ونحوھما من الأعداء والأغنیاء ۔۔۔ فان ذٰلک ای ما ذکر من النوعین کلہ کلام اللہ تعالٰی ای القدیم اخبارًا عنھم۔ (شرح فقہ الأکبر لمُـلّا علی القاری ص:۳۳) ×
فیض الباری اور رافضی پروپیگنڈا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد فیض الباری اور رافضی پروپیگنڈا سوال ۔ ازراہ کرم یہ بتائیں کہ حدیث کی مشہور کتاب بخاری شریف کی علمائے دیوبند نے اب تک کتنی شروح لکھی ہیں؟ اور ان میں سب سے مستند اور بہتر شرح کون سی ہے جسے اعتماد کے ساتھ پیش کیا جاسکے۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ محمد انور شاہ کشمیری صاحبؒ نے کوئی شرح لکھی ہے، کیا وہ اپنے صحیح اور مستند متن کے ساتھ مطبوعہ صورت میں مل سکتی ہے؟ اور کیا اس مطبوعہ شرح بخاری کو اعتماد و یقین کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے؟۔ ایک شخص جو خود کو عالم دین کہلاتا ہو، اور خود کو اہل سنت و جماعت ثابت کرتا ہو، وہ قرآن شریف میں تحریفِ لفظی کا قائل ہو، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ یہی سنا گیا ہے کہ قرآن شریف میں کسی طرح کوئی تحریف ممکن نہیں کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے، امید ہے کہ تحقیقی اور قطعی جواب سے نوازیں گے۔۔ آپ کی خدمت میں ایک سوال قرآن مجید میں تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں شرعی حکم کے جاننے کے لئے پیش کیا تھا۔ آپ نے جواب کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ: ’’میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی‘‘ اس جملے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ آپ سے مزید اطمینان کروں تاکہ تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں مجھے یقین رہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ اس لئے آپ کی خدمت میں اس عالم دین کے اصل الفاظ پیش کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں:’’میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ قرآن میں محققانہ طور پر (معنوی ہی نہیں) تحریفِ لفظی بھی ہے، یا تو لوگوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا کسی مغالطے کی وجہ سے کی ہے۔‘‘ان الفاظ میں وہ یہی فرما رہے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریفِ لفظی ہے، جبکہ ہم نے یہی سنا ہے کہ قرآن کریم اپنے نزول سے آج تک ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے۔ قرآن میں سامنے سے یا پیچھے سے باطل راہ نہیں پاسکتا اور قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے، اور یہی سنا ہے کہ قرآن میں کسی طرح تحریف کا قائل کوئی مسلمان نہیں، اگر کوئی مسلمان کہلانے والا ایسا کہے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے۔ اب تک شیعہ فرقہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں، لیکن ایک اہل سنت و جماعت کہلانے والے عالم نے تحقیقی طور پر ایسا کیا ہے، اس لئے مجھے بہت تشویش ہوئی کہ قرآن کی ہر طرح حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، اس کے باوجود قرآن میں تحریف مانی جارہی ہے، اس لئے میں نے حقیقت جاننے کے لئے آپ سے رہنمائی چاہی ہے۔ یہ بھی بتائیے کہ ماضی میں بھی کبھی کوئی سنی عالم قرآن میں تحریفِ معنوی یا تحریفِ لفظی کا قائل رہا ہے؟ امید ہے کہ آپ قطعی شرعی احکام سے آگاہ فرمائیں گے، شکریہ! جواب ۔ صحیح بخاری کی کوئی مستقل شرح تو اس وقت ذہن میں نہیں، جو اکابرِ دیوبند میں سے کسی نے لکھی ہو، البتہ اکابر مشائخ دیوبند کے درسی افادات ان کے تلامذہ نے اپنی عبارت میں قلم بند کرکے شائع کئے، ان میں ’’لامع الدراری‘‘ حضرت گنگوہیؒ کی تقریر ہے، جو ان کے تلمیذ حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندہلویؒ نے جمع کی تھی، اور وہ ہمارے شیخ حضرت مولانا محمد زکریاؒ ابن مولانا محمد یحییٰ کے حواشی کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح امام العصر حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے درسی افادات ان کے تلمیذ حضرت مولانا سیّد بدرعالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ’’فیض الباری‘‘ کے نام سے شائع کئے، حضرت شاہ صاحبؒ اردو میں تقریر فرماتے تھے، مولانا سیّد بدرعالمؒ نے ان کو عربی میں منتقل کرکے قلم بند کیا، ۔۔۔اسی طرح حضرت گنگوہیؒ کی مندرجہ بالا تقریر کو بھی حضرت مولانا محمد یحییٰ ؒنے عربی میں قلم بند کیا تھا۔۔۔۔اس کے بعد سے ہر سال دورۂ حدیث کے طلبہ اپنے اکابر کی تقریریں قلم بند کرتے ہیں، ان میں سے بعض شائع بھی ہوچکی ہیں۔ جن میں شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا فخر الدین (نوّر اللہ مراقدہم) کی تقریریں زیادہ معروف ہیں اور یہ سب اردو میں ہیں۔ ۔ اہلِ سنت میں کوئی شخص قرآن کریم میں تحریفِ لفظی کا قائل نہیں، بلکہ اہل سنت کے نزدیک ایسا شخص اسلام سے خارج ہے۔ اس مسئلہ کو میری کتاب ’’شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم‘‘ میں دیکھ لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ ۔ میں پہلے خط میں عرض کرچکا ہوں کہ اہل سنت میں کوئی شخص تحریف فی القرآن کا قائل نہیں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ: ’’آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی‘‘ میرا یہ خیال صحیح نکلا، چنانچہ آپ نے جو عبارت ان صاحب سے منسوب کی ہے، وہ ان کی عبارت نہیں۔ بلکہ غلط فہمی سے آپ نے منسوب کردی ہے۔اس کی شرح یہ ہے کہ فیض الباری (ج:۳ ص:۳۹۵) میں حضرت ابن عباسؓ کے قول کی ۔۔۔جو صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۶۹ میں منقول ہے۔۔۔ کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ۔۔۔مسلمانوں کو۔۔۔ بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کے نوشتہ کو بدل ڈالا، اور کتاب میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی پیدا کردی ہے۔‘‘ اس کی شرح میں حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:’’جاننا چاہئے کہ تحریف (فی الکتب السابقہ) میں تین مذہب ہیں۔ ۱:ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریف ہر طرح کی ہوئی ہے، لفظی بھی اور معنوی بھی۔ ابن حزمؒ اسی کی طرف مائل ہیں۔ ۲:ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ تحریف قلیل ہے، شاید حافظ ابن تیمیہؒ کا رجحان اسی طرف ہے۔ ۳:اور ایک جماعت تحریفِ لفظی کی سرے سے منکر ہے، پس تحریف ان کے نزدیک سب کی سب معنوی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس (مؤخر الذکر) مذہب پر لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) قرآن بھی محرف ہو، کیونکہ تحریفِ معنوی اس میں
نسخِ قرآن کے بارے میں جمہور اہلِ سنت کا مسلک
مسلمانوں کے بنیادی عقائد نسخِ قرآن کے بارے میں جمہور اہلِ سنت کا مسلک سوال ۔ مسئلہ یہ ہے کہ مولانا محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہٗ ’’علوم القرآن‘‘ ص:۱۶۴ پر رقم طراز ہیں کہ: ’’جمہور اہلِ سنت کا مسلک یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں ایسی آیات موجود ہیں جن کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ لیکن معتزلہ میں سے ابومسلم اصفہانی کا کہنا یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ تمام آیات اب بھی واجب العمل ہیں۔ ابومسلم کی اتباع میں بعض دُوسرے حضرات نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے۔ اور ہمارے زمانے کے اکثر تجدّد پسند حضرات اسی کے قائل ہیں۔ چنانچہ جن آیتوں میں نسخ معلوم ہوتا ہے، یہ حضرات ان کی ایسی تشریح کرتے ہیں جن سے نسخ تسلیم نہ کرنا پڑے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف دلائل کے لحاظ سے کمزور ہے اور اسے اختیار کرنے کے بعد بعض قرآنی آیات کی تفسیر میں ایسی کھینچ تان کرنی پڑتی ہے، جو اُصولِ تفسیر کے بالکل خلاف ہے۔‘‘ یہ تو تھا تقی صاحب کا بیان۔ ادھر حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ ’’فیض الباری‘‘ ج:۳ ص:۱۴۷ پر فرماتے ہیں:’’اَنْكَرْتَ النَّسْخَ رَأْسًا وَادَّعَيْتَ اَنَّ النَّسْخَ لَمْ يَرِدْ فِي الْقُرْاٰنِ رَأْسًا ۔‘‘آگے اس کی تشریح فرماتے ہیں:’’اَعْنِيْ بِالنَّسْخِ كَوْنَ الْاٰيَةِ مَنْسُوْخَةً فِيْ جَمِيْعِ مَا حَوَتْهُ بِحَيْثُ لَا تَبْقٰی مَعْمُوْلَةً فِيْ جُزْئِيٍّ مِنْ جُزْئِيَّاتِهَا، فَذٰلِكَ عِنْدِيْ غَيْرُ وَاقِعٍ، وَمَا مِنْ اٰيَةٍ مَنْسُوْخَةٍ اِلَّا وَهِيَ مَعْمُوْلَةٌ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوْهِ، وَجِهَةٍ مِنَ الْجِهَاتِ ۔‘‘(فیض الباری ج:۳ ص:۱۴۷)برائے کرم یہ بتائیں کہ مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ کے بارے میں کیا تاویل کریں گے؟ کیا یہ صریح نسخ کا انکار نہیں ہے؟ واللہ! میرا ان کے بارے میں حسن ظن ہی ہے، صرف اپنے ناقص ذہن کی تشفی چاہتی ہوں۔ نیز ناچیز لڑکیوں کو پڑھاتی ہے تو اس قسم کے مسائل میں توجیہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ برائے کرم یہ بتائیں کہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے نزدیک مندرجہ ذیل آیت کی کون سی جزئی پر عمل باقی ہے: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٢ ﵞ (المجادلة ١٢)میرے کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اِدھر مولانا محمد تقی صاحب کا فرمان ہے کہ بجز معتزلہ یا ان کے ہم مشرب کے کسی نے نسخ کا انکار نہیں کیا، اور اُدھر دیوبند کے جلیل القدر اور چوٹی کے بزرگ یہ فرمائیں:’’اِنَّ النَّسْخَ لَمْ يَرِدْ فِي الْقُرْاٰنِ رَأْسًا ۔‘‘تو توجیہ مجھ جیسی ناقص العقل والدّین کے لئے بہت مشکل ہے، اس اُلجھن کو حل فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ جواب ۔ معتزلہ کے مذہب اور حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے مسلک کے درمیان فرق یہ ہے کہ معتزلہ تو نسخ فی القرآن کے سرے سے منکر ہیں، جیسا کہ آج کل کے قادیانی اور نیچری بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآنِ کریم میں جو حکم ایک بار نازل کردیا گیا، اس کی جگہ پھر کبھی دُوسرا حکم نازل نہیں ہوا، حضرت شاہ صاحبؒ دیگر اہلِ حق کی طرح نسخ فی القرآن کے قائل ہیں، مگر وہ یہ فرماتے ہیں کہ آیاتِ منسوخہ کو جو قرآنِ کریم میں باقی رکھا گیا اس میں حکمت یہ ہے کہ ان آیات کے مشمولات میں کسی نہ کسی وقت کوئی نہ کوئی جزئی معمول بہٖ ہوتی ہے، یہ نہیں ہوا کہ کسی آیت کو اس طرح منسوخ کردیا جائے کہ اس کے مشمولات و جزئیات میں سے کوئی فرد کسی حال میں بھی معمول بہٖ نہ رہے، مثلاً: آیتِ فدیۂ صوم کا حکم ان لوگوں کے حق میں تو منسوخ ہے جو روزے کی طاقت رکھتے ہوں، خواہ ان کو روزے میں تکلیف و مشقت ہی برداشت کرنا پڑتی ہو۔ مگر شیخ فانی وغیرہ کے حق میں روزے کا فدیہ اب بھی جائز ہے اور وہ اسی آیت کے تحت مندرج ہے۔اس لئے یہ آیت اپنے بعض مشمولات کے اعتبار سے تو منسوخ ہے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح موجود ہے، لیکن اس کے بعض جزئیات اب بھی زیر عمل ہیں۔ اس لئے یہ بالکلیہ منسوخ نہیں، بلکہ بعض اعتبارات و جزئیات کے اعتبار سے منسوخ ہے۔ اس کی دوسری مثال آیاتِ مناجات ہے: ’’يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ ۔۔۔الخ۔‘‘ جو آپ نے نقل کی ہے، آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ پہلے واجب تھا، جسے منسوخ کردیا گیا اور اس کے نسخ کی تصریح اس کے مابعد کی آیت میں موجود ہے۔ مگر اس کا استحباب بعد میں بھی باقی رہا، اس لئے اس آیت میں بھی ’’نسخ بالکلیہ‘‘ نہیں ہوا، بلکہ اپنے بعض مشمولات و جزئیات کے اعتبار سے یہ آیت بعد میں بھی معمول بہا رہی۔الغرض حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے ارشاد:’’اِنَّ النَّسْخَ لَمْ يَرِدْ فِي الْقُرْاٰنِ رَأْسًا‘‘کا یہ مطلب نہیں کہ قرآنِ کریم میں نازل ہونے کے بعد کبھی کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی جو آیات منسوخ ہوئیں ان میں ’’نسخ من کل الوجوہ‘‘ یا ’’نسخ بالکلیہ‘‘ نہیں ہوا کہ ان آیات کے مشمولات و جزئیات میں سے کوئی جزئیہ کسی حال اور کسی صورت میں بھی معمول بہا نہ رہے، بلکہ ایسی آیات میں ’’نسخ فی الجملہ‘‘ ہوا ہے، یعنی یہ آیات اپنے بعض محتویات و مشمولات کے اعتبار سے اگرچہ منسوخ ہیں، مگر ان کے بعض جزئیات و مشمولات بدستور معمول بہا ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے ارشاد کی یہ تشریح خود ان کی اس عبارت سے واضح ہے جو آپ نے نقل کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:’’اِنَّ النَّسْخَ لَمْ يَرِدْ فِي الْقُرْاٰنِ رَأْسًا، اَعْنِيْ بِالنَّسْخِ كَوْنَ الْاٰيَةِ مَنْسُوْخَةً فِيْ جَمِيْعِ مَا حَوَتْهُ بِحَيْثُ لَا تَبْقٰی مَعْمُوْلَةً فِيْ جُزْئِيٍّ مِنْ جُزْئِيَّاتِهَا، فَذٰلِكَ عِنْدِيْ غَيْرُ وَاقِعٍ، وَمَا مِنْ اٰيَةٍ مَنْسُوْخَةٍ اِلَّا وَهِيَ مَعْمُوْلَةٌ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوْهِ، وَجِهَةٍ مِنَ الْجِهَاتِ ۔‘‘ترجمہ:۔ ’’بے شک قرآن کریم میں نسخ بالکلیہ واقع نہیں ہوا اور اس نسخ بالکلیہ سے میری مراد یہ ہے کہ کوئی آیت اپنے تمام مشمولات کے اعتبار سے منسوخ ہوجائے کہ اس کی جزئیات میں سے کوئی جزئی بھی معمول بہٖ نہ رہے، ایسا نسخ میرے نزدیک واقع نہیں، بلکہ جو آیت بھی منسوخ ہے وہ کسی نہ کسی وجہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے ایمان پر بحث کرنا جائز نہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے ایمان پر بحث کرنا جائز نہیں سوال ۔ مولانا صاحب! ایک بہت اہم مسئلہ ہے جو تین چار روز سے مجھے بے حد پریشان کئے ہوئے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک صاحبہ ہیں تین چار روز پہلے وہ ہمارے گھر بیٹھی فرما رہی تھیں کہ رسولِ خدا کی والدہ (نعوذ باللہ!) کافر تھیں، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اسلام نہیں تھا۔ جواب ۔ یہ مسئلہ بہت نازک اور حساس ہے۔ محققین نے اس میں گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔(۱) امام سیوطیؒ نے تین رسائل اس مسئلہ پر لکھے ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کا ایمان ثابت کیا ہے، اگر کسی کو ان کی تحقیق پر اطمینان نہ ہو تب بھی خاموشی بہتر ہے۔ ان محترمہ سے کہئے کہ ان سے قبر میں اور حشر میں یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا تھا؟ اس لئے وہ اس غلط بحث میں پڑ کر اپنا ایمان خراب نہ کریں اور نہ اہلِ ایمان کے جذبات کو بے ضرورت مجروح کریں۔(۲)شامی ج:۴ ص:۲۳۱ (بحث فی احیاء ابوی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتھما، وایضًا شامی ج:۳ ص:۱۸۵، باب نکاح الکافر، والحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۲۰۲ تا ۲۳۴)۔ (۱) ’’وبالجملۃ کما قال بعض المحققین: اِنّہ لَا ینبغی ذکر ھٰذہ المسئلۃ اِلّا مع مزید الأدب، ولیست من المسائل التی یضرّ جھلھا أو یسأل عنھا فی القبر أو فی الموقف، فحفظ اللسان عن التکلم فیھا اِلّا بخیر أولٰی وأسلم۔‘‘ (شامی ج:۳ ص:۱۸۵، باب نکاح الکافر، طبع ایچ ایم سعید)۔ (۲) تفصیل کے لئے دیکھئے: ×
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام دُنیا کے لئے بعثت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام دُنیا کے لئے بعثت سوال ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں صدی عیسوی میں ساری دُنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے، ’’ساری دُنیا میں‘‘ براعظم امریکا بھی شامل ہے مگر وہاں تک اسلام کی دعوت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلکہ تابعینؒ، تبع تابعینؒ، اور اس کے بہت عرصہ بعد تک صوفیائے کرامؒ کے ذریعہ بھی نہیں پہنچی، تا آنکہ پندرہویں صدی میں امریکا دریافت ہوا، ساتویں صدی عیسوی سے پندرہویں صدی عیسوی تک -آٹھ سو سال- امریکا مکمل جہالت کی تاریکی میں ڈوبا رہا۔امریکا کے قدیم باشندے، جنہیں ریڈ انڈین کا نام دیا گیا، وہ مظاہر پرست ہی رہے، وہ حضرت نوح علیہ السلام کے کسی بیٹے کی اولاد ہیں؟ جیسا کہ ایشیائی اقوام کو سام کی، افریقی اقوام کو حام کی اور یورپی اقوام کو یافث کی اولاد تسلیم کیا گیا ہے۔حضرت عقبہ بن نافع ؓ نے جس وقت ’’بحرِ ظلمات‘‘ میں گھوڑا ڈال دیا اور زمین ختم ہوجانے پر حسرت کا اظہار کیا تھا، اس وقت بھی وہاں سے بہت دور امریکا کی سرزمین موجود تھی۔ سوال یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اور صحابہ کرامؓ اور صوفیائے عظامؒ کی بصیرت سے امریکا کیسے بچا رہا؟ جواب ۔ جب معلوم دُنیا میں امریکا کا وجود ہی کسی کو معلوم نہ تھا تو وہاں دعوت پہنچانے کا بھی کوئی مکلف نہیں تھا، اور جب امریکا دریافت ہوا تو وہاں دعوت بھی پہنچ گئی، جن اُمور کا آدمی مکلف ہے اور جس پر اس سے قیامت کے دن باز پرس ہوگی، آدمی کو ان اُمور میں غور کرنا چاہئے، اور جن اُمور کا وہ مکلف ہی نہیں ان میں غور و فکر لایعنی اور بے مقصد ہے، جس کا کوئی نتیجہ نہیں، واللہ اعلم! ×
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت سوال ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی طرف سے سچا پیغمبر ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ جواب ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مخلوق کی طرف سے کوئی بات نقل کرتے ہوئے بھی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ ساری زندگی جو بات کہی، سچ کہی۔ بھلا ایسا شخص خدا کا نام لے کر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔۔۔؟(۱) (۱) ’’وسألتک ھل کنتم تتھمونہ بالکذب قبل ان یقول ما قال، فزعمت ان لَا، فعرفت انہ لم یکن لیدع الکذب علی الناس ثم یذھبُ فیکذب علی اللہ ۔۔۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۵۳، باب قل یا أھل الکتاب تعالوا ۔۔۔إلخ)، وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤ النجم ٣و ٤۔ ×