مسلمانوں کے بنیادی عقائد شریعت کسے کہتے ہیں؟ سوال ۔ شریعتِ مطہرہ سے کیا مطلب ہے؟ کیا یہ کوئی کتاب ہے؟ اگر ہے تو کس کی تصنیف ہے؟ جواب ۔ اللہ تعالیٰ نے جو اَحکام بندوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل فرمائے، ان کو ’’شریعت‘‘ کہا جاتا ہے۔(۱) (۱) الشرع والشریعۃ: ما أظھرہ اللہ لعبادہ من الدِّین، وحاصلہ: الطریقۃ المعھودۃ الثابتۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فھو الشارع علیہ الصلٰوۃ والسلام من اللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی: ھو الذی شرع لنا من الدِّین ۔ (التعریفات الفقہیۃ من رسائل قواعد الفقہ لمفتی محمد عمیم الْإحسان، ص:۳۳۶ طبع صدف پبلشرز کراچی)۔ ×
پورے اسلامی قوانین نہ ماننے والوں کا شرعی حکم
مسلمانوں کے بنیادی عقائد پورے اسلامی قوانین نہ ماننے والوں کا شرعی حکم سوال ۔ مولانا صاحب! ایک شخص بظاہر نماز روزے کا پابند ہو اور اُٹھتے بیٹھتے قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرتا ہو، ہر وقت اور ہر آن ’’اسلام، اسلام‘‘ پکارتا ہو، لیکن یقین رکھتا ہو کہ اسلام خوبصورت نغمے سننے میں قطعاً مانع نہیں ہے، جس کو یقین ہو اور جس نے برملا کہا بھی ہو کہ: ’’کون کہتا ہے کہ مجسمہ سازی اسلام کے خلاف ہے‘‘ جو نہ صرف حرام کو حلال کہتا ہو بلکہ سودی بینکاری نظام کو اسلامی بینکنگ کے نام سے رائج کرنے اور کروانے والا ہو، جبکہ علمائے دِین مارک اَپ سسٹم کو سودی نظام کہتے رہے اور آج بھی کہتے ہیں۔ مولانا صاحب! ایسے شخص یا اَشخاص کا تعین کس زُمرے میں ہوگا؟ حرام کام کو حرام جان اور مان کر بکراہت کرنا کسی حد تک سنگین جرم کے زُمرے میں آتا ہے، قابلِ سزا جرم ہے، مگر حرام کو قصداً حلال کہنا بلکہ اسلامی کہنا، کہاں تک لے جاتا ہے؟میں آپ کی توجہ مئی ۱۹۹۱ء میں ہماری قومی اسمبلی کے منظور شدہ شریعت بل کی شق۳ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، اس میں کہا گیا ہے کہ شریعت یعنی اسلام کے اَحکامات جو قرآن اور سنت میں بیان کئے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون (سپریم لاء) ہوں گے، بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر نہ ہو۔ یعنی ملک کے سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر ہونے کی صورت میں قرآن اور حدیث شریف کو رَدّ کردیا جائے گا، نہیں مانا جائے گا، سیاسی نظام اور حکومتی شکل کے سلسلے میں سپریم لاء آئین ۱۹۷۳ء ہی ہوگا۔ مولانا صاحب! اس بل کا بنانے والا، اس کے منظور کرنے والے، اس کو ملک میں رائج کروانے والا اور ان تمام حضرات کی معاونت کرنے والے علمائے کرام بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے علماء کس زُمرے میں آئیں گے؟ بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ جس ملک میں کسی ایک بات پر قصداً قرآن اور سنت کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا گیا ہو وہ ملک، وہ قوم مسلمان کہلانے کی مستحق ہے یا نہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی یا قہر؟ جواب ۔ آپ کے سوال کے سلسلے میں چند اُمور لائقِ ذکر ہیں:اوّل:۔ نماز و روزہ اور تلاوتِ آیات بڑی نیکی کی بات ہے، لیکن یہ تمام اعمال ایمان کی شاخیں ہیں، اگر دِل میں ایمان ہو تو اعمال مقبول ہیں، اور ایمان نہ ہو تو اعمال کی کوئی قیمت نہیں۔(۱)دوم:۔ ایمان کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز و ناجائز اور حلال و حرام کا جو نظام مقرّر فرمایا ہے، آدمی دِل و جان سے اس نظام کو تسلیم کرتا ہو، اور زبان سے اس کا اقرار کرتا ہو،(۲)اگر کوئی شخص شریعت کے قطعی حلال کو حرام جانے یا شریعت کے قطعی حرام کو حلال سمجھے، شریعت نے جس چیز کو قطعی طور پر گناہ قرار دیا ہے، اس کو جائز سمجھے، تو ایسا شخص اللہ و رسول کی تکذیب کرتا ہے، اس لئے اس کا ایمان صحیح نہیں،(۳)بلکہ وہ قیامت کے دن بے ایمانوں کی صف میں کھڑا ہوگا۔سوم:۔ راگ اور گانے کو (خصوصاً آلاتِ موسیقی کے ساتھ اور بالخصوص پیشہ ور نامحرَم عورتوں کی آواز میں) حرام قرار دیا گیا ہے، اور ایسے راگ گانے کے حرام اور قطعی حرام ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔(۴) اس لئے جو شخص اس کو حلال کہتا ہے، وہ سراپا غلط فہمی اور جہلِ مرکب کا شکار ہے۔چہارم:۔ بت تراشی اور مجسمہ سازی بھی شرعاً حرام ہے،(۵) مسلمان بت تراش اور بت فروش نہیں ہوتا، بلکہ بت شکن ہوتا ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں اور مورتیاں بنانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔(۶)پنجم:۔ اسلام میں سود اور جوئے کا حرام ہونا اتنا واضح ہے کہ ہر مؤمن و کافر اس سے باخبر ہے،(۷) سود کا حرام ہونا نہ صرف قرآنِ کریم میں صراحۃً مذکور ہے، بلکہ سود نہ چھوڑنے والوں کے خلاف قرآنِ کریم نے اللہ ورسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہے(۸)! اس کو جائز کہنے والا قرآنِ کریم کا منکر ہے۔ششم:۔ بعض لوگوں نے اپنی خواہشات و توہمات اور نفسانی خیالات سے ایک نیا دِین تصنیف کرلیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دِین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جن صاحب یا صاحبوں کا آپ نے ذکر کیا ہے کہ وہ راگ گانے کو، مجسمہ سازی اور سود و جوئے کو بھی اسلام کے منافی نہیں سمجھتے، ان کے ذہن میں ان کا اپنا تصنیف کردہ دِین ہے جس کو وہ جہلِ مرکب کی وجہ سے اسلام سمجھتے ہیں۔ہفتم:۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ’’وزیر جتنا بادشاہ سے ڈرتا ہے، اگر اتنا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا تو فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے(۹)‘‘ہمارے اربابِ اقتدار جس قدر امریکا بہادر سے ڈرتے ہیں، اتنا اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ پاکستان کے عوام چونکہ مسلمان ہیں، اس لئے ہمارے حکمران بھی اللہ و رسول کا اور کتاب و سنت کا نام لینے پر مجبور ہیں، لیکن یہ حضرات کتاب و سنت کا نام لینے میں بھی یہ احتیاط ملحوظ رکھتے ہیں کہ امریکا بہادر ناراض نہ ہو، اور دانایانِ مغرب کی طرف سے ان کو ’’بنیادپرستی‘‘ کا طعنہ نہ دیا جائے۔ ’’شریعت بل‘‘ میں جو یہ شرط رکھی گئی ہے کہ: ’’قرآن و سنت پاکستان کا بالادست قانون ہوگا، بشرطیکہ ملک کا موجودہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر نہ ہو‘‘ یہ بھی ’’خدا سے زیادہ امریکا سے ڈرنے‘‘ کا مظہر ہے۔ہشتم:۔ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ بغیر شرط اور بغیر اِستثناء کے اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اَحکام کو دِل و جان سے تسلیم کرے۔ یہ کہنا کہ: ’’میں قرآن و سنت کو بالادست قانون مانتا ہوں، بشرطیکہ میری فلاں دُنیوی غرض متأثر نہ ہو‘‘ ایمان نہیں، بلکہ کٹر نفاق ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونے سے صریح انکار و اِنحراف ہے، غور
مسلمان کی تعریف قرآن وسنت کی رُو سے
مسلمانوں کے بنیادی عقائد مسلمان کی تعریف قرآن وسنت کی رُو سے سوال ۔ قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ یہ بات پھر عرض کروں گا کہ صرف قرآن شریف اور حدیث شریف کے حوالے سے بتائیں، دوسرا کوئی حوالہ نہ دیں، ورنہ لوگوں کو پھر موقع ملے گا کہ یہ ہمارے فرقے کے بزرگ کا حوالہ نہیں۔ جواب ۔ ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں’’مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ‘‘ کے ماننے کو ’’ایمان‘‘ اور ’’مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ‘‘ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو ’’کفر‘‘ فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً: صحیح مسلم (ج:۱ ص:۳۷) کی حدیث میں ہے: ’’اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر(۱)۔‘‘ اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہوجاتی ہے۔ یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اور جو شخص قطعیاتِ دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو، وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔(۲)مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن فرمایا ہے،(۳)اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔(۴) اور ملتِ اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کرکے نبوت کا دعویٰ کیا،(۵) اس وجہ سے قادیانی غیرمسلم اور کافر قرار پائے۔اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے،(۶)مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدے سے منحرف ہیں، اور وہ مرزا کے ’’عیسیٰ‘‘ ہونے کے مدعی ہیں،(۷) اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدارِ نجات ٹھہرایا گیا ہے، لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے، اس لئے اب میری وحی اور میری تعلیم مدارِ نجات ہے۔‘‘ (اربعین نمبر:۴ ص:۷، حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیاتِ اسلام کا انکار کیا ہے، اس لئے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔(۸)تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ختم نبوت کامل، تالیف مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ۔تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو: ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ لِامام العصر العلامۃ محمد أنور شاہ الکشمیری۔ (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’أُمرتُ أن أُقاتل الناس حتّٰی یشھدوا أن لَا اِلٰہ اِلّا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہٖ، فاذا فعلوا ذٰلک عصموا مِنِّی دِمائھم وأموالھم اِلّا بحقھا وحسابھم علی اللہ۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۳۷ طبع قدیمی کراچی)۔ (۲) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱ طبع پشاور)۔ (۳) مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ الأحزاب٤٠۔ (۴) عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: وأنا خاتم النبیّین لَا نبیّ بعدی۔‘‘ (ترمذی شریف ج:۲ ص:۴۵، کتاب الفتن)۔ (۵) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں ۔۔۔ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ (ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷)۔ (۶) وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ النساء ١٥٩ ۔ ایضًا ’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا ۔۔۔ الخ۔‘‘ (باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مشکوٰۃ ص:۴۷۹)۔ (۷) مرزا ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں قسم کھاکر کہتا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا۔‘‘ (آئینہ کمالات ص:۵۵۱، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۵۵۱)۔ (۸) تفصیل کے لئے فتاویٰ ختمِ نبوّت طبع ملتان ملاحظہ ۔ ×
مسلمان کی تعریف
مسلمانوں کے بنیادی عقائد مسلمان کی تعریف سوال ۔ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ جواب ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو ماننے والا مسلمان ہے،(۱) دینِ اسلام کے وہ امور جن کا دین میں داخل ہونا قطعی تواتر سے ثابت اور عام و خاص کو معلوم ہو، ان کو ’’ضروریاتِ دین‘‘ کہتے ہیں۔(۲) ان ’’ضروریاتِ دین‘‘ میں سے کسی ایک بات کا انکار یا تاویل کرنے والا کافر ہے۔(۳) (۱) الْإیمان وھو تصدیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی جمیع ما جاء بہ عن اللہ تعالٰی ممّا عُلم مجیئہ ضرورۃ۔ (در مختار ج:۴ ص:۲۲۱، باب المرتد، طبع ایچ ایم سعید)۔ (۲) والمراد بالضروریات علی ما اشتھر فی الکتب: ما علم کونہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالضرورۃ، بأن تواتر عنہ واستفاض وعلمتہ العامۃ کالوحدانیۃ والنبوۃ وختمھا بخاتم الأنبیاء وانقطاعھا بعدہ۔۔۔ وکالبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ والزکٰوۃ وحرمۃ الخمر ونحوھا، سمی ضروریا لأن کل أحد یعلم أن ھٰذا الأمر مثلًا من دین النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولَابد فکونھا من الدین ضروری وتدخل فی الْإیمان۔ (إکفار الملحدین ص:۲، ۳)۔ (۳) وایضًا قلت والضابط فی التکفیر ان من رد ما یعلم ضرورۃ من الدِّین فھو کافر۔ (اکفار الملحدین ص:۸۸ وایضًا ص:۲،۳)۔ أیضًا: ثم أثبتنا فی الفصول الآتیۃ إجماع أھل الحل والعقد علٰی أن: تأویل الضروریات وإخراجھا عن صورۃ ما تواتر علیہ وکما جاء وکما فھمہ وجری علیہ أھل التواتر أنہ کفر۔ (إکفار الملحدین ص:۷)۔ فمنکر الضروریات الدینیۃ کالأرکان الأربعۃ التی بنی الْإسلام علیھا: الصلٰوۃ والزکٰوۃ والصوم والحج، وحجیۃ القرآن ونحوھا کافر آثم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۱ طبع لکھنؤ)۔ ×
وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہونا چاہئے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہونا چاہئے؟ سوال ۔ زید کہتا ہے کہ حکماء اور فلسفیوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ نہ عالم کے اندر ہے، نہ عالم کے باہر، اور صوفیاء کے نزدیک خود عالم کے اندر اور باہر ہر جگہ ہے۔ زید کہتا ہے کہ صوفیوں اور فلسفیوں دونوں کا کہنا غلط ہے، فلسفیوں کا اس لئے غلط ہے کہ جو چیز عالم کے اندر ہو نہ باہر، وہ عدم ہوتی ہے، عالم سے مبرّا نہیں ہوتی، کیونکہ مبرّا ہونے کے لئے وجود چاہئے، نیز عالم چونکہ حادث ہے، اس لئے عالم یا اس کے باہر کسی حادث کا اثبات یا نفی تو ممکن ہوسکتی ہے، مگر خود حادث نہیں، لہٰذا عالم یا اس سے باہر نہ خدا کا اثبات ہوسکتا ہے، نہ نفی، لہٰذا یہ دونوں باتیں غلط ہیں کہ خدا نہ عالم میں موجود ہے، نہ باہر۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ خدا عالم اور اس سے باہر ہر جگہ موجود ہے، بلکہ صرف یہ کہنا چاہئے کہ خدا حدوث اور عالم سے مبرّا ہے اور خدا کو ہر جگہ کہنا یا ہر جگہ سے نفی کرنا صحیح نہیں۔ بس خدا کو عالم سے مبرّا کہنا چاہئے۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ زید کے اس قول کے بارے میں یہ بتائیں کہ آیا یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق ہے یا نہیں؟ نیز اہلِ سنت کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ جواب ۔ خدا کے بارے میں بغیر نص کے محض عقلی ڈھکوسلے جائز نہیں۔(۱) اہلِ سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ عوام ان لغو مباحث میں وقت ضائع نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کو کمیت و کیفیت، جہت و مکان سے پاک سمجھیں۔(۲) (۱) وَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ (الإسراء ٣٦)’’ان القول بالرأی والعقل المجرد فی الفقہ والشریعۃ بدعۃ وضلالۃ فأولٰی أن یکون ذٰلک فی علم التوحید والصفات بدعۃ وضلالۃ، فقد قال فخر الْإسلام علی البزدوی فی اُصول الفقہ انہ لم یرد فی الشرع دلیل علٰی أن العقل موجب ۔۔۔‘‘ (شرح فقہ أکبر ص:۷،۸)۔ (۲) والمحدث للعالم ھو اللہ تعالٰی ۔۔۔ ولَا محدود ولَا معدود ولَا متبعض ولَا متجزیٔ ولَا مترکب ولَا متناہ، ولَا یوصف بالماھیۃ ولَا بالکیفیۃ ولَا یتمکن فی مکان ولَا یجری علیہ زمان۔ (شرح العقائد النسفی ص:۳۱ تا ۴۰ طبع خیر کثیر کراچی)۔ ×
زبان سے اسلام کا اِقرار نہیں کیا اور مرگیا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد زبان سے اسلام کا اِقرار نہیں کیا اور مرگیا سوال ۔ ایک شخص گھر سے نکلا اس خیال پر کہ کسی عالمِ دِین کے پاس جاکر اسلام قبول کرے، دِل نے تو اِسلام قبول کرلیا اور زبان سے اقرار نہیں کیا، اور راستے میں اسے موت آگئی، اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ مسلمان ہے یا کافر؟ جواب ۔ دُنیوی اَحکام جاری ہونے کے لئے اِقرار شرط ہے، اگر کسی شخص کے سامنے اس نے اپنے اسلام لانے کا اقرار نہیں کیا تو دُنیوی اَحکام میں اس کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا، اور اگر کسی کے سامنے اسلام کا اقرار کرلیا تھا تو اس پر مسلمانوں کے اَحکام جاری ہوں گے۔(۱) (۱) وذھب جمھور المحققین الٰی أن الْإیمان ھو التصدیق بالقلب وانما الْإقرار شرط لِاجراء الأحکام فی الدُّنیا لما ان تصدیق القلب أمر باطنی لَا بد لہ من علامۃ فمن صدق بقلبہٖ ولم یقر بلسانہٖ فھو مؤمن عند اللہ تعالٰی ولم یکن مؤمنًا فی أحکام الدُّنیا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۰۴ طبع دہلی مجتبائی)۔ ×
نجات کے لئے ایمان شرط ہے
مسلمانوں کے بنیادی عقائد نجات کے لئے ایمان شرط ہے سوال ۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر میں دوزخ سے ہر اس آدمی کو نکال لے گا، جس کے دل میں رائی کے برابر اِیمان ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی موحد کو مشرک کے ساتھ رکھوں، تو کیا آج کل کے عیسائی اور یہودیوں کو بھی دوزخ سے نکال دے گا؟ کیونکہ وہ بھی اللہ کو مانتے ہیں، لیکن ہمارے رسول کو نہیں مانتے، اور حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت عزیرؑ کو خدا کا بیٹا تصوّر کرتے ہیں، تو کیا عیسائی اور یہودی ’’رائی برابر ایمان والوں‘‘ میں ہوں گے یا نہیں؟ جواب ۔ دائمی نجات کے لئے ایمان شرط ہے، کیونکہ کفر اور شرک کا گناہ کبھی معاف نہیں ہوگا(۱) اور اِیمان کے صحیح ہونے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ اس کے تمام رسولوں کا ماننا بھی ضروری ہے۔(۲) اور جو لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا آخری نبی نہیں مانتے، وہ خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے رسول اور خاتم النبییّن ہونے کی شہادت دی ہے،(۳) پس جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت اور ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کو جھٹلاتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بات کو جھوٹی کہے وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا نہیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو قبول کرنا شرطِ نجات ہے، غیرمسلم کی نجات نہیں ہوگی۔(۴) (۱) إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا ٤٨ النساء ٤٨ (۲) ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ البقرة ٢٨٥ (لَا نفرّق) بل نؤمن بالکلّ بین أحد من رسلہ أحد فی معنی الجمیع۔ (تفسیر نسفی ج:۱ ص:۲۳۳، طبع دار ابن کثیر بیروت)۔ (۳) قال اللہ تعالٰی: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ الأحزاب٤٠۔ (۴) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قـال: قـال رسـول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’والَّذی نفس محمدٍ بیدہٖ! لَا یسمع بی أحد من ھٰذہ الاُمَّۃ یھودی ولَا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی أُرسلتُ بہٖ اِلّا کان من أصحاب النّار۔‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۶، مشکوٰۃ ص:۱۲)۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من أحد یسمع بی من ھٰذہ الاُمّۃ ولَا یھودی ولَا نصرانی ولَا یؤمن بی إلّا دخل النار، فجعلت أقول أین تصدیقھا فی کتاب اللہ؟ حتّٰی وجدت ھٰذہ الآیۃ: وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥۚ، قال: الأحزاب الملل کلھا۔ (مستدرک حاکم، کتاب التفسیر ج:۲ ص:۳۴۲)۔
ایمان کیا ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ایمان کی حقیقت سوال ۔ ایمان کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب ۔ حدیث جبرائیل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔(۱) حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایمان کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاؤ اچھی بری تقدیر پر۔‘‘(۲)ایمان ایک نور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آجاتا ہے، اور جب یہ نور دل میں آتا ہے تو کفر و عناد اور رسومِ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور آدمی ان تمام چیزوں کو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، نورِ بصیرت سے قطعی سچی سمجھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لے کر آیا ہوں(۳)۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں سب سے اہم تر یہ چھ باتیں ہیں جن کا ذکر اس حدیث پاک۔۔۔حدیثِ جبریل۔۔۔میں فرمایاہے،۔۔۔ دیکھا جائے تو۔۔۔ پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آجاتا ہے: ۱:۔ اللہ تعالیٰ پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔(۴) ۲:۔ فرشتوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرّر کردیا ہے وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔(۵) ۳:۔ رسولوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کسی کو نبوّت نہیں ملے گی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا لایا ہوا دِین قیامت تک رہے گا۔(۶) ۴:۔ کتابوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطاکئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُتاری گئی، زَبور جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی، اِنجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے رُوگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔(۷) ۵:۔ قیامت پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دُنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زِندہ کرے گا اور اس دُنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو ’’جنت‘‘ کہتے ہیں، اور جس شخص کی بُرائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں، جس کا نام ’’جہنم‘‘ ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دُنیا میں جس شخص نے کسی دُوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رِشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام ’’قیامت‘‘ ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔(۸) ۶:۔ اچھی اور بُری تقدیر پر اِیمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانۂ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، ’’لوحِ محفوظ‘‘ میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علمِ ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام حق