مسلمانوں کے بنیادی عقائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کا وسیلہ سوال ۔ دُعا کے وقت اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء اللہ کا واسطہ دینا جائز ہے؟ بحوالہ حدیث جواب سے نوازیں۔ جواب ۔ صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۳ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دُعا منقول ہے:’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ۔‘‘(۱)ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے، اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباس) کے ذریعے توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔‘‘اس حدیث سے ’’توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’توسل باولیاء اللہ‘‘ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے اسے بطورِ شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، اس مسئلے کی کچھ تفصیل میں اپنے مقالے ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں لکھ چکا ہوں، ملاحظہ فرمالیا جائے۔(۲) (۱) صحیح البخاری، أبواب الْإستسقاء، باب سؤال الناس الْإمام الْإستسقاء إذا قحطوا۔ (۱) اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۶۳ تا ۷۶ (طبع مکتبہ لدھیانوی کراچی)۔ ×
کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا کیسا ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا کیسا ہے؟ سوال ۔ قرآن شریف میں صاف صاف آیا ہے کہ جو کچھ مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن پھر بھی یہ وسیلہ بنانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ جواب ۔ وسیلہ کی پوری تفصیل اور اس کی صورتیں میری کتاب ’’اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم‘‘ حصہ اول میں ملاحظہ فرمالیں۔(۱)بزرگوں کو مخاطب کرکے ان سے مانگنا تو شرک ہے، مگر خدا سے مانگنا اور یہ کہنا کہ: ’’یا اللہ! بطفیل اپنے نیک اور مقبول بندوں کے میری فلاں مراد پوری کردیجئے‘‘، یہ شرک نہیں۔صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۷ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دعا منقول ہے:’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ۔‘‘ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے۔ اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباسؓ) کے ذریعہ توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔‘‘اس حدیث سے توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور توسل باولیاء اللہ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے، اسے بطور شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ (۱) دیکھئے: اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۶۳ تا ۷۶۔ ×
کیا گوتم بدھ کو پیغمبروں میں شمار کرسکتے ہیں؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا گوتم بدھ کو پیغمبروں میں شمار کرسکتے ہیں؟ سوال ۔ تعلیم یافتہ جدید ذہن کے لوگ ’’گوتم بدھ‘‘ کو بھی پیغمبروں میں شمار کرتے ہیں، یہ کہاں تک دُرست ہے؟ جواب ۔ قرآن و حدیث میں کہیں اس کا ذکر نہیں آیا، اس لئے ہم قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ شرعی حکم یہ ہے کہ جن انبیائے کرام علیہم السلام کے اسمائے گرامی قرآنِ کریم میں ذکر کئے گئے ہیں، ان پر تو تفصیلاً قطعی ایمان رکھنا ضروری ہے، اور باقی حضرات پر اِجمالاً ایمان رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے بندوں کی ہدایت کے لئے جتنے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، خواہ ان کا تعلق کسی خطۂ اَرضی سے ہو، اور خواہ وہ کسی زمانے میں ہوئے ہوں، ہم سب پر اِیمان رکھتے ہیں۔(۱) (۱) (ورسلہ) بأن تعرف انھم بلغوا ما انزل اللہ إلیھم وانھم معصومون وتؤمن بوجودھم فیمن علم بنص أو تواتر تفصیلًا وفی غیرھم إجمالًا۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۱ ص:۵۰)۔ ×
غوث، قطب، اَبدال کی شرعی حیثیت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد غوث، قطب، اَبدال کی شرعی حیثیت سوال ۔ اسلامی لٹریچر میں غوث، قطب، اَبدال کے الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں، کیا اولیاء کے یہ مراتب احادیث کی رُو سے مقرّر ہیں؟ اگر نہیں، تو کس نے مقرّر کئے ہیں اور ان الفاظ کی حیثیت کیا ہے؟ جواب ۔ یہ اصطلاحات بزرگانِ دِین کے کلام سے منتقل ہوئی ہیں، حدیث میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔(۱) چونکہ یہ اصطلاحات عوام کے موضوع کی چیز نہیں، نہ ان اصطلاحات پر کسی عقیدے و عمل کا مدار ہے، اس لئے ان کی تشریح کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔ (۱) الباب الثانی فیما ورد فیھم من الآثار النبویۃ الدالۃ علٰی وجودھم وفضلھم ۔۔۔ فمنھا ما روی عن الْإمام علی کرّم اللہ وجھہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تسبوا أھل الشام فإن فیھم الأبدال، رواہ الطبرانی وغیرہ۔ وفی روایۃ عنہ مرفوعًا کما فی رسالۃ اجابۃ الغوث ببیان حال النقباء والنجیاء والأبدال والأوتاد والغوث۔ (ملحق رسائل ابن عابدین ج:۲ ص:۲۷۰)۔ ×
کیا ولایت پیدائشی ہوتی ہے یا محنت سے ملتی ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا ولایت پیدائشی ہوتی ہے یا محنت سے ملتی ہے؟ سوال ۔ کیا ولی اللہ پیدائشی ولی ہوتے ہیں یا ان کو یہ مرتبہ وقت کے ساتھ ساتھ ملتا ہے؟ جواب ۔ بعض ولی اللہ پیدائشی ولی ہوتے ہیں، اور بعض کو محنت و ریاضت سے یہ مرتبہ ملتا ہے۔ ×
کوئی ولی، غوث، قطب، مجدّد، کسی نبیؑ یا صحابیؓ کے برابر نہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کوئی ولی، غوث، قطب، مجدّد، کسی نبیؑ یا صحابیؓ کے برابر نہیں سوال ۔ ولی، قطب، غوث، کوئی بڑا صاحبِ تقویٰ، عالمِ دِین، اِمام وغیرہ ان سب میں سے کس کے درجے کو پیغمبروں کے درجے کے برابر کہا جاسکتا ہے؟ جواب ۔ کوئی ولی، غوث، قطب، اِمام، مجدّد، کسی ادنیٰ صحابیؓ کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا، نبیوں کی تو بڑی شان ہے، علیہم الصلوٰۃ والسلام۔(۱)ایضًا: وآنکہ گفتیم کہ اصحاب کرام بہترین بنی آدم اند ۔۔۔ چہ میچ ولی بمرتبۂ صحابی نرسد۔ (مکتوبات اِمامِ ربانی مکتوب:۹۶ دفتر دوم)۔ (۱) والحاصل ان التابعین أفضل الاُمّۃ بعد الصحابۃ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۴۶)، الولی لَا یبلغ درجۃ النبی۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۴۸)۔ ×
ولی اور نبی میں کیا فرق ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد ولی اور نبی میں کیا فرق ہے؟ سوال ۔ اولیاء اور انبیاء میں فرق کس طرح واضح کیا جائے؟ جواب ۔ نبی براہ راست خدا تعالیٰ سے احکام لیتا ہے، اور ’’ولی‘‘ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تابع ہوتا ہے۔(۱) (۱) وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤ النجم ٣ و ٤، ’’وعلامۃ صحۃ الولی متابعۃ النبی فی الظاھر، لأنھما یأخذان التصرف من مأخذ واحد، اذ الولی ھو مظھر تصرف النبی ۔۔۔‘‘۔ (کشاف اصطلاحات الفنون ج:۲ ص:۱۵۲۹ طبع سہیل اکیڈمی)۔ ×
کیا قبرِ اَطہر کی مٹی عرش و کعبہ سے افضل ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا قبرِ اَطہر کی مٹی عرش و کعبہ سے افضل ہے؟ سوال ۔ میرے پاس ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ’’تاریخ المدینۃ المنورۃ‘‘ جس کے مؤلف جناب محمد عبدالمعبود ہیں، اور اس پر تقریظ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب مدظلہ مہتمم دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی والوں کی ہے، تقریظ کی تاریخ یکم فروری ۱۹۷۸ء ہے، مولانا غلام اللہ خان صاحب نے بڑی تعریف فرمائی ہے، اور ایران سے آغا محمد حسین تسبیحی مدظلہم نے کتاب کو اس قدر پسند فرمایا کہ اس کا فارسی ترجمہ کرنے کی پیش کش فرمائی، مزید یہ کہ ولی زماں مفسر قرآن حضرت لاہوریؒ کے خلف الرشید حضرت مولانا عبیداللہ انور دامت مجدہم کی تقریظات نے اس کی افادیت پر مہر تصدیق ثبت فرما کر اسے اور بھی چار چاند لگادئیے ہیں۔ اس کتاب کی فہرست مضامین میں یہ ہے: نمبر۱: مکہ معظمہ افضل ہے یا مدینہ طیبہ؟ نمبر۲: مدینہ طیبہ کی مکہ معظمہ پر فضیلت۔ نمبر۳: مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے افضل ہے، اب اس کے متعلق تفصیل بڑی طویل ہے، میں کوشش کروں گا کہ مختصر بیان کروں، لکھا ہے کہ:’’امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ تمام رُوئے زمین پر افضل مقامات اور بزرگ ترین شہروں میں مکہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ ہے زَادَهُمَا اللہُ تَشْرِيْفًا وَتَعْظِيْمًا۔ اب ان دو شہروں میں سے کس کو دُوسرے پر فضیلت اور ترجیح دی جائے؟ تو اس میں علمائے کرام کے عقول و اذہان بھی متحیر ہیں، بایں ہمہ علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ زمین کا وہ خطہ اور متبرک حصہ جو رحمۃ للعالمین فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر اور اعضائے شریفہ سے مس کئے ہوئے ہے، وہ نہ صرف مکہ مکرّمہ بلکہ کعبۃ اللہ سے بھی افضل ہے، سمواتِ سبع تو کجا، عرشِ عظیم سے بھی اس کی شان، بالا، اعلیٰ، برتر، اَرفع اور انتہائی بلند ہے۔‘‘آگے ایک حوالہ یہ بھی تحریر ہے کہ:’’امیر المؤمنین سیّدنا عمر فاروق اور سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابۂ کرام کی ایک جماعت اور حضرت مالک بن انسؓ اور اکثر علمائے مدینہ، مکہ مکرمہ پر مدینہ منوّرہ کو فضیلت دیتے ہیں، اسی طرح بعض علمائے کرام بھی مدینہ طیبہ کی فضیلت کے قائل ہیں، مگر وہ شہر مدینہ طیبہ کو مکہ مکرمہ کے شہر پر تو فضیلت دیتے ہیں، البتہ کعبۃ اللہ کو مستثنیٰ کرتے ہیں اور کعبہ معظمہ کو سب سے افضل قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بات طے شدہ ہے اور اسی پر علمائے متقدین و متأخرین کا اتفاق ہے کہ قبرِ اَطہر سیّدِ کائنات رحمتِ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم مطلقاً اور بالعموم افضل و اکرم، اَنصب و اَرفع ہے، خواہ شہر مکہ مکرمہ ہو یا کعبۃ اللہ ہو یا عرش مجید ہو، اس کتاب میں ہے کہ حضرت علامۃ العصر الشیخ محمد یوسف بنوری مدظلہ نے معارف السنن جلد:۳ ص:۳۲۳ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ اس موضوع پر بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبرِ اَطہر، سات آسمانوں، عرش مجید اور کعبۃ اللہ سے افضل ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔‘‘میرے محترم بزرگ! میں اس پر مکمل اتفاق کرتا ہوں اور یہ میرا اِیمان ہے کہ اوّل ذات اللہ کی ہے، اس کے بعد کوئی افضل ذات ہے تو اللہ کے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جو افضل و اعلیٰ ہے، باقی ساری چیزیں افضلیت میں کم ہیں، یہ سچ ہے کہ کعبۃ اللہ شریف کی بڑی عظمت و افضلیت ہے اور عرش عظیم، لوح و قلم وغیرہ کی اپنی اپنی عظمت اور افضلیت ہے، اس کا کوئی بھی مسلمان انکار کرنہیں سکتا، اگر انکار کرے تو وہ مسلمان نہیں، لیکن پہلے اللہ اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میرے محترم بزرگ! میرے دوستوں اور احبابوں میں سے بعض حضرات اس کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ روضۂ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ اور عرش اعظم سے افضل ہو نہیں سکتا اور ایسی باتیں کہنا نہیں چاہئے، اور وہ قرآن کی ٹھوس دلیل چاہتے ہیں، تو لہٰذا میں بہت پریشان ہوں، کس کو سچ مانوں اور کس کو غلط، میں حضرتِ والا سے نہایت ادب و احترام سے گزارش کرتا ہوں کہ قرآن کی دلیل اور احادیث کی روشنی میں تحریری جواب سے نوازیں کہ درست کیا ہے؟ جواب ۔ جو مسئلہ اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے وہ قریب قریب اہلِ علم کا اجماعی مسئلہ ہے، وجہ اس کی بالکل ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلق ہیں، کوئی مخلوق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل نہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ: آدمی جس مٹی سے پیدا ہوتا ہے، اسی میں دفن کیا جاتا ہے،(۱) لہٰذا جس پاک مٹی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اَطہر کی تدفین ہوئی، اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق ہوئی، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلق ہوئے تو وہ پاک مٹی بھی تمام مخلوق سے افضل ہوئی۔علاوہ ازیںزمین کے جن اجزاء کو افضل الرسل، افضل البشر، افضل الخلق صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اَطہر سے مس ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ باقی تمام مخلوقات سے اس لئے بھی افضل ہیں کہ یہ شرفِ عظیم ان کے سوا کسی مخلوق کو حاصل نہیں۔آپ کا یہ ارشاد بالکل بجا اور برحق ہے کہ ’’پہلے اللہ اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘‘ مگر زیرِ بحث مسئلے میں خدانخواستہ! اللہ تعالیٰ کے درمیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تقابل نہیں کیا جارہا، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور دُوسری مخلوقات کے درمیان تقابل ہے، کعبہ ہو، عرش ہو، کرسی ہو، یہ سب مخلوق ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق سے افضل ہیں، اور قبرِ مبارک کی جسدِ اَطہر سے لگی ہوئی مٹی اس اعتبار سے اشرف و افضل ہے کہ جسدِ اَطہر سے ہم آغوش ہونے کی جو سعادت اسے حاصل، ہے وہ نہ کعبہ کو حاصل ہے، نہ عرش و کرسی کو۔اور اگر یہ خیال ہو کہ ان چیزوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور روضۂ
اللہ، رسول کی اطاعت سے انبیاء کی معیت نصیب ہوگی، ان کا درجہ نہیں!
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اللہ، رسول کی اطاعت سے انبیاء کی معیت نصیب ہوگی، ان کا درجہ نہیں! سوال ۔ کیا آپ مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ کی پوری تشریح بیان فرمائیں گے؟:ﵟ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَٰٓئِكَ رَفِيقٗا ﵞ (النساء ٦٩)بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں، اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔‘‘ اور اس کی تشریح یہ بتلاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبی، صدیق، شہید اور صالح کا درجہ مل سکتا ہے۔ جواب ۔ یہ تشریح دو وجہ سے غلط ہے: ایک تویہ کہ نبوّت ایسی چیز نہیں جو اِنسان کو کسب و محنت اور اطاعت و عبادت سے مل جائے، دُوسرے اس لئے کہ اس سے لازم آئے گا کہ اسلام کی چودہ صدیوں میں کسی کو بھی اطاعتِ کاملہ کی توفیق نہ ہوئی۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کوشاں رہیں گے، گو ان کے اعمال کم درجے کے ہوں، ان کو قیامت کے دن انبیاء کرامؑ، صدیقین، شہداء اور مقبولانِ الٰہی کی معیت نصیب ہوگی۔(۱) (۱) أی من عمل بما أمرہ اللہ بہ ورسولہ، وترک ما نہاہ اللہ عنہ ورسولہ، فان اللہ عزّ وجلّ یسکنہ دار کرامتہ ویجعلہ مرافقًا للأنبیاء ثم لمن بعدھم فی الرتبۃ وھم الصدیقون، ثم الشھداء ثم عموم المؤمنین وھم الصالحون ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۳۱۹)۔ ×
مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں نہ کہ دوائی
مسلمانوں کے بنیادی عقائد مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں نہ کہ دوائی سوال ۔ میرے ایک سوال کا جواب آپ نے دیا ہے جس سے میری ذہنی پریشانی ابھی تک ختم نہیں ہوسکی، میں دوبارہ آپ کو تکلیف دے رہی ہوں، اُمید ہے آپ مجھے معاف کردیں گے۔ میرا سوال یہ تھا کہ:’’کیا دوائی کھانے سے بیٹا پیدا ہوسکتا ہے جس کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ: ’’بیٹا، بیٹی خدا ہی کے حکم سے ہوتے ہیں، اور دوائی بھی اسی کے حکم سے مؤثر ہوتی ہے، اس لئے اگر یہ عقیدہ صحیح ہے تو دوائی کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔‘‘گستاخی معاف! مولانا صاحب میں چاہتی ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب ذرا وضاحت سے دیں، کیونکہ میرا دِل ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا کہ اگر دوائی کھانے سے بھی بیٹا پیدا ہوسکتا ہے تو پھر ہر عورت ہی دوائی کھانی شروع کردے اور دُنیا میں بیٹے ہی بیٹے نظر آئیں، بیٹیاں تو ختم ہوجائیں، کیونکہ ہمارے ملک میں تو پہلے ہی بہت جہالت ہے، پہلے تو لوگ داتا صاحب کے مزار پر اور دُوسرے مزارات پر جاکر بیٹا مانگتے ہیں اور اب دوائی سے اگر بیٹا ملنے لگا تو عورتوں کا ہجوم ان کے گھر لگ جائے گا جو دوائی بیچ رہے ہیں اور دوائی بھی ہزاروں میں بیچ رہے ہیں، کیا یہ شرک نہیں ہوگا؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: میں جس کو چاہتا ہوں بیٹا دیتا ہوں، جس کو چاہتا ہوں بیٹی دیتا ہوں، جب اللہ نے دینا اپنی مرضی سے ہے تو دوائی کیا اثر کر سکتی ہے؟ جواب ۔ میری بہن! دوائوں کا تعلق تجربہ سے ہے، پس اگر تجربہ سے ثابت ہوجائے (محض فراڈ نہ ہو) کہ فلاں دوائی سے بیٹا ہوسکتا ہے تو اس کا جواب میں نے لکھا تھا کہ دوائی کا مؤثر ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ جیسے بیماری سے شفا دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، لیکن دوا دارو بھی کیا جاتا ہے، اور اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے، تو یوں کہا جائے گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ بغیر دوائوں کے شفا دے سکتے ہیں اور دیتے ہیں، اسی طرح کبھی دوائی کے ذریعے شفا عطا فرماتے ہیں، دوائی شفا نہیں دیتی، بلکہ اس کا وسیلہ اور ذریعہ بن جاتی ہے، اور جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں دوائی کے باوجود بھی فائدہ نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر کوئی دوائی واقعی ایسی ہے جس سے بیٹا ہوجاتا ہے تو اس کی حیثیت بھی یہی ہوگی کہ کبھی اللہ تعالیٰ دوائی کے بغیر بیٹا دے دیتے ہیں، کبھی دوائی کو ذریعہ بنا کر دیتے ہیں، اور کبھی دوائی کے باوجود بھی نہیں دیتے، جب مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے اور دوائی کی تاثیر کو بھی اسی کے حکم و ارادہ کی پابند سمجھا جائے تو یہ شرک نہیں، اور ایسی دوائی کا استعمال گناہ نہیں۔(۱)نوٹ: مجھے اس سے بحث نہیں کہ کوئی دوائی ایسی ہے بھی یا نہیں۔ (۱) الْإشتغال بالتداوی لَا بأس بہ إذا اعتقد ان الشافی ھو اللہ تعالٰی، وانہ جعل الدواء سببًا، اما إذا اعتقد ان الشافی ھو الدواء فلا۔ (ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۴ طبع کوئٹہ)۔ ×