مسلمانوں کے بنیادی عقائد رزق کے اسبابِ عادیہ اختیار کرنا ضروری ہے سوال ۔’’وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا‘‘جب سب کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے تو ہر سال سیکڑوں لوگ بھوک سے کیوں مرجاتے ہیں؟ اور یہ اموات ساری غریب ملکوں ہی میں کیوں ہوتی ہیں؟ مثلاً ایتھوپیا، سوڈان اور دوسرے افریقہ کے غریب ممالک۔ برطانیہ، امریکا اور فرانس یا یورپ کے دوسرے مالدار ملکوں میں لوگ بھوک سے کیوں نہیں مرتے؟ قحط آسمانی بلا ہے مگر اس میں بھی غرباء کی جانیں جاتی ہیں، مالدار لوگ کسی نہ کسی صورت سے اپنا بچاؤ کرلیتے ہیں۔ ان مشاہدات سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اسباب معیشت سے مشروط ہے کہ جس نے اپنے حصول زرق کے مروّجۂ زمانہ اسباب اختیار کئے، اللہ اس کو رزق ضرور بھیجے گا۔ جواب ۔ آپ کی رائے صحیح ہے، رزق کے اسبابِ عادیہ کا اختیار کرنا بہرحال ضروری ہے، اِلَّا یہ کہ اعلیٰ درجہ کا توکل نصیب ہو۔ پرندے اور چرندے اسباب رزق اختیار کرتے ہیں، تاہم ان کو اختیار اسباب کے ساتھ فطری توکل بھی نصیب ہے۔ ×
اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا شرعی حکم
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا شرعی حکم سوال ۔ رزق کے بارے میں یہاں تک حکم ہے کہ جب تک یہ بندے کو مل نہیں جاتا، وہ مر نہیں سکتا۔ کیونکہ خدا نے اس کا مقدر کردیا ہے۔ خدا کی اتنی مہربانیوں کے باوجود جو لوگ انسانوں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ملازمت سے نہ نکال دئیے جائیں، تو اس وقت ڈر، خوف وغیرہ رکھنے والے کیا مسلمان ہیں؟ جن کا ایمان خدا پر کم اور انسانوں پر زیادہ کہ یہ خوش ہیں تو سب ٹھیک ہے، ورنہ زندگی اجیرن ہے۔ جواب ۔ ایسے لوگوں کی اسباب پر نظر ہوتی ہے، اور اسباب کا اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں، بشرطیکہ اسباب کے اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے، البتہ ناجائز اسباب کا اختیار کرنا کمالِ ایمان کے منافی ہے۔(۱)(فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۵ طبع کوئٹہ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بوادر النوادر ص:۲۶۷، ۲۶۸)۔ (۱) الأسباب المزیلۃ للضرر تنقسم إلٰی مقطوع بہ ۔۔۔ وإلٰی مظنون ۔۔۔ وإلی موہوم ۔۔۔ اما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ ۔۔۔ واما الدرجۃ المتوسطۃ وھی المظنونۃ ۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضًا للتوکل ۔۔۔ ×
اسباب کا اِختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اسباب کا اِختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں سوال ۔ کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر کوئی آدمی کوئی قدم اٹھائے اور بیماری کے حملہ آور ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اِختیار کرنا کیا توکل کے خلاف تو نہیں؟ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا صحیح مفہوم سمجھادیجئے۔ جواب ۔ توکل کے معنی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے ہیں،(۱) اور بھروسہ کا مطلب یہ ہے کہ کام اسباب سے بنتا ہوا نہ دیکھے بلکہ یوں سمجھے کہ اسباب کے اندر مشیتِ الٰہی کی روح کارفرما ہے، اس کے بغیر تمام اسباب بیکار ہیں:عقل در اسباب می دارد نظرعشق می گوید مسبّب رانگرمطلقاً ترکِ اسباب کا نام توکل نہیں، بلکہ اس بارے میں تفصیل ہے کہ جو اَسباب ناجائز اور غیرمشروع ہوں ان کو توکلاً علی اللہ بالکل ترک کردے، خواہ فوراً یا تدریجاً، اور جو اَسباب مشروع اور جائز ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ ہے:۱:۔ وہ اسباب جن پر مسبّب کا مرتب ہونا قطعی و یقینی ہے، جیسے کھانا کھانا، ان اسباب کا اختیار کرنا فرض ہے اور ان کا ترک کرنا حرام ہے۔ ۲:۔ ظنی اسباب: جیسے بیماریوں کی دوا دارو، اس کا حکم یہ ہے کہ ہم ایسے کمزوروں کو ان اسباب کا ترک کرنا بھی جائز نہیں، البتہ جو حضرات قوتِ ایمانی اور قوتِ توکل میں مضبوط ہوں، ان کے لئے اسباب ظنّیہ کا ترک جائز ہے۔ ۳:۔ تیسرے وہمی اور مشکوک اسباب: (یعنی جن کے اختیار کرنے میں شک ہو کہ مفید ہوں گے یا نہیں) ان کا اختیار کرنا سب کے لئے خلافِ توکل ہے، گو بعض صورتوں میں جائز ہے، جیسے جھاڑ پھونک وغیرہ۔(۲)(فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۵ طبع کوئٹہ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بوادر النوادر ص:۲۶۷، ۲۶۸)۔ (۱) التوکل: ھو الْإعتماد علی اللہ وعدم الْإلتفات الٰی ما عداہ، قال السید: ھو الثقۃ بما عند اللہ والیأس عما فی أیدی الناس۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۱)۔ (۲) الأسباب المزیلۃ للضرر تنقسم إلٰی مقطوع بہ ۔۔۔ وإلٰی مظنون ۔۔۔ وإلی موہوم ۔۔۔ اما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ ۔۔۔ واما الدرجۃ المتوسطۃ وھی المظنونۃ ۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضًا للتوکل ۔۔۔ ×
توکل اور صبر کی حقیقت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد توکل اور صبر کی حقیقت سوال ۔ توکل اور صبر کیا ہے؟ ان سوالات کے پوچھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ میں ایک یونیورسٹی (جامعہ کراچی) کا طالب علم ہوں، اللہ کے فضل و کرم سے میرے ہر امتحان میں اچھے نمبر آئے، لیکن اس دفعہ جب میں نے امتحان دینے کی تیاری کی تو ہر دفعہ کی طرح اس مرتبہ بھی بہت محنت کی، میری خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بنوں، محض اس لئے کہ آج کل یہ دستور قائم ہوچکا اور یہ خیال لوگوں کے ذہن میں زہر کی طرح رَچ بس گیا ہے کہ جو لڑکا دِین داری کی طرف مائل ہوتا ہے، اسے ’’مولوی‘‘ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے، اور یہ کہا جاتا ہے کہ: ’’یہ اب کچھ نہیں کرسکتا‘‘ لہٰذا میں اپنی انتہائی محنت کرکے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ دِین داری کبھی بھی پڑھائی میں دخل اندازی نہیں کرتی، بلکہ ایک لڑکا اگر چاہے تو وہ محنت کرکے دونوں میں سرخرو ہوسکتا ہے۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس عزم کے بعد میری قسمت میرا ساتھ نہیں دیتی۔ میں نے اپنی ہر طرح کوشش کرلی، صرف نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھتا تھا، باقی سارا وقت پڑھتا تھا، لیکن جب پیپر آیا تو دُوسرے سوالوں میں ذہن ایسا اُلجھا کہ ایک پیپر میں آئے ہوئے سوال وقت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر آنا پڑا۔ دُوسرا پیپر جب ہاتھ میں آیا ، وہ تمام سوالات جس کی میں اچھی طرح تیاری کرکے گیا تھا، نہیں آئے، اور جن سوالات کو میں سرسری طور پر پڑھ کر گیا تھا، وہی آئے، ایسا لگتا تھا جیسا میں ان سوالات کو کرتے وقت اندھا ہوگیا تھا کہ وہ گھر میں نظر ہی نہیں آئے۔اس واقعے نے مجھے بہت زیادہ رنجیدہ کردیا، میرے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے، میں نے کتنی محنت کی تھی، صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر جاتا، دُعا بھی بہت کی تھی، مگر زندگی بھر میں میرا کبھی ایسا امتحان نہیں ہوا جیسا اس دفعہ ہوا، اور یہ امتحان میرے لئے بہت اہم تھا۔ جواب ۔ ہر کام میں اعتدال ہونا چاہئے، پڑھائی میں اپنی ہمت کے مطابق محنت کرنی چاہئے، ہمت سے زیادہ نہیں۔ روزانہ کے کاموں کا نظام الاوقات بنایا جائے۔ توکل کے معنی: اللہ تعالیٰ پر اعتماد کے ہیں،(۱)یعنی آدمی اپنی ہمت کے مطابق کام کرکے نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے اور پھر مالک کی طرف سے جو معاملہ ہو اس پر راضی رہے۔ اگر آدمی یہ چاہے کہ معاملات میری مرضی کے مطابق ظاہر ہوں، تو یہ توکل نہیں، بلکہ انانیت ہے۔ (۱) التوکل: ھو الْإعتماد علی اللہ وعدم الْإلتفات الٰی ما عداہ، قال السید: ھو الثقۃ بما عند اللہ والیأس عما فی أیدی الناس۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۱، طبع صدف پبلشرز، کراچی)۔ ×
توفیق کی دُعا مانگنے کی حقیقت
مسلمانوں کے بنیادی عقائد توفیق کی دُعا مانگنے کی حقیقت سوال ۔ توفیق کی تشریح فرمادیجئے! دُعاؤں میں اکثر خدا سے دُعا کی جاتی ہے کہ اے اللہ! فلاں کام کرنے کی توفیق دے۔ مثال کے طور پر ایک شخص یہ دُعا کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے نماز پڑھنے کی توفیق دے، مگر وہ صرف دُعا ہی پر اکتفا کرتا ہے اور دُوسروں سے یہ کہتا ہے کہ: ’’جب توفیق ہوگی تب سے میں نماز شروع کروں گا‘‘ اس سلسلے میں وضاحت فرمادیجئے، تاکہ ہمارے بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا توفیق کا پردہ اُتر جائے۔ جواب ۔ توفیق کے معنی ہیں: کسی کارِخیر کے اسباب من جانب اللہ مہیا ہوجانا،(۱)جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تندرستی عطا فرما رکھی ہے اور نماز پڑھنے سے کوئی مانع اس کے لئے موجود نہیں، اس کے باوجود وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ صرف توفیق کی دُعا کرتا ہے، وہ درحقیقت سچے دِل سے دُعا نہیں کرتا، بلکہ نعوذ باللہ! دُعا کا مذاق اُڑاتا ہے، ورنہ اگر وہ واقعی اِخلاص سے دُعا کرتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ نماز سے محروم رہتا۔ (۱) قولہ: التوفیق، ھو توجیہ الأسباب نحو المطلوب الخیر۔ (کشاف اصطلاح الفنون ج:۲ ص:۱۵۰۱)۔ التوفیق: جعل اللہ فعل عبادہ موافقًا بما یحبّہ ویرضاہ۔ (التعریفات للجرجانی ص:۵۲)۔ ×
بحقِ فلاں دُعا کرنے کا شرعی حکم
مسلمانوں کے بنیادی عقائد بحقِ فلاں دُعا کرنے کا شرعی حکم سوال ۔ بحقِ فلاں اور بحرمتِ فلاں دُعا کرنا کیسا ہے؟ کیا قرآن و سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟ جواب ۔ بحقِ فلاں اور بحرمتِ فلاں کے ساتھ دُعا کرنا بھی توسل ہی کی ایک صورت ہے، اس لئے ان الفاظ سے دُعا کرنا جائز اور حضرات مشائخ کا معمول ہے۔ ’’حصن حصین‘‘ اور ’’الحزب الاعظم‘‘ ماثورہ دعاؤں کے مجموعے ہیں، ان میں بعض روایات میں ’’بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ عَلَيْكَ، فَاِنَّ لِلسَّائِلِ عَلَيْكَ حَقًّا ‘‘ وغیرہ الفاظ منقول ہیں، جن سے اس کے جواز و استحسان پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ہماری فقہی کتابوں میں اس کو مکروہ لکھا ہے، اس کی توجیہ بھی میں ’’اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں کرچکا ہوں۔(۱) (۱) تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب حصہ اوّل ص:۶۳ تا ۷۶۔ ×
اکابرِ دیوبند کا مسلک
مسلمانوں کے بنیادی عقائد اکابرِ دیوبند کا مسلک سوال ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ایسے شخص کے بارے میں جو ایک مسجد کا اِمام ہے اور درسِ قرآنِ کریم بھی دیتا ہے، مسجد علمائے دیوبند کے منتسبین کی تھی اور اس اِمام صاحب کو بھی ایک دیوبندی ہونے کی حیثیت سے رکھا گیا تھا، مگر ان کے خیالات یہ ہیں:۱:۔ سورۂ یوسف کے درس میں حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے نکاح کی بحث میں زلیخا کے متعلق کہا کہ: وہ زانیہ، بدکارہ اور کافرہ تھی۔ بعض شرکائے درس نے جب عرض کیا کہ فلاں فلاں تفسیر میں لکھا ہے کہ نکاح ہوا تھا، مثلاً: معارف القرآن میں۔ تو فرمانے لگے کہ: جنہوں نے لکھا ہے وہ بھی بے ایمان لعنتی ہیں!۲:۔ تبلیغی جماعت کی سخت مخالفت کرتا ہے، جماعت کو مسجد میں ٹھہرنے نہیں دیتا ہے اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے متعلق کہا کہ وہ مشرک مرگیا اور گالی دے کر کہا کہ: اس نے تبلیغی نصاب میں گند اور شرک بھردیا ہے۔ تبلیغی نصاب کی توہین کرتے ہوئے اس کو ’’کتابڑی‘‘، ’’شتابڑی‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔۳:۔ بعض اکابرین علمائے دیوبند مثلاً: حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے بارے میں کہا کہ یہ حضرات مشرک تھے اور حالتِ شرک ہی میں مرے ہیں۔۴:۔ وسیلہ بالذوات الفاضلہ (مثلاً: انبیائے کرام علیہم السلام اور صلحائے اُمت) کو شرک اور کفر کہتا ہے اور جو کوئی کسی بزرگ کے وسیلہ سے دعا مانگے اس کو مشرک کہتا ہے۔۵:۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ برزخی فی القبور کا انکار کرتا ہے اور قائلینِ حیات علمائے دیوبند کو مشرک کہتا ہے۔۶:۔ سماعِ موتیٰ کے قائلین کو بھی مشرک کہتا ہے۔۷:۔ اپنی رائے کے متعلق کہتا ہے کہ: وہ آخری اور حتمی ہے، میں کسی اور عالم حتیٰ کہ اپنے اساتذہ تک کو بھی نہیں مانتا ہوں۔اب اہلِ محلہ اِشتعال میں ہیں کہ ایسے آدمی کو ہم اِمام نہیں رکھیں گے، اب اس سلسلے میں آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:۱:۔ کیا ایسا آدمی اہلِ سنت والجماعت میں سے ہے؟۲:۔ کیا ایسا آدمی دیوبندی کہلائے گا؟۳:۔ کیا ایسے آدمی کو مستقل اِمام رکھنا اور اس کے پیچھے نمازیں ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟۴:۔ آیا وہ آدمی عامی کفر کے حکم کا مستحق ہوگا اور اس کی بیوی مطلقہ ہوگی؟ جواب ۔ سوال میں جن صاحب کے نظریات درج کئے گئے ہیں، اگر وہ واقعی ان نظریات کا حامل ہے تو یہ اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے، کیونکہ کسی مسلمان کو (خصوصاً کسی مسلّم الثبوت عالم اور بزرگ کو) بے ایمان، لعنتی اور مشرک جیسے الفاظ کے ساتھ یاد کرنا، عقیدۂ اہلِ سنت کے خلاف ہے۔(۱) وسیلہ بالوجہ المشروع کے اہلِ سنت قائل ہیں،(۲)اسی طرح اہلِ سنت والجماعت حضراتِ انبیاے کرامؑ کی حیات فی القبور کو مانتے ہیں،(۳) اور سماعِ موتیٰ صحابہؓ کے دور سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے، اس لئے سماعِ موتیٰ کے قائلین کو مشرک کہنا، گویا ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ صحابہؓ کو مشرک قرار دینا ہے،(۴) نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الزَّيْغِ وَالضَّلَالِ !الغرض اس شخص کے نظریات روافض و خوارج کا سرقہ ہیں، اس لئے اہلِ سنت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ ۲:۔ حضراتِ اکابرِ دیوبند بھی اہلِ سنت ہی کا ایک مکتبِ فکر ہے، جو کتاب و سنت پر عامل، حنفیّت کا شارح، سنت کا داعی، بدعت کا ماحی، ناموسِ صحابہؓ کا علم بردار، حضراتِ اولیاء اللہ کا کفش بردار ہے، لہٰذا جو شخص اہلِ سنت سے منحرف ہو، وہ دیوبندی نہیں ہوسکتا، اکابرِ دیوبند کے نظریات زیرِ بحث مسائل میں وہ ہیں جو ’’اَلْمُہَنَّدُ عَلَی الْمُفَنَّدِ‘‘ میں ہمارے شیخ المشائخ حضرتِ اقدس مولانا الحاج الحافظ الحجۃ الثقۃ الامین السیدی خلیل احمد سہارنپوری ثم مہاجر مدنی قدس سرہٗ نے قلم بند فرمائے ہیں، اور اس پر ہمارے تمام اکابر کے دستخط اور تصدیقات ہیں، جو شخص اس رسالے کے مندرجات سے متفق نہیں، وہ دیوبندی نہیں۔ ہمارے اکابرِ دیوبند واقعتا اس شعر کا مصداق تھے:در کف جامِ شریعت در کف سندانِ عشقہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن! ۳:۔ چونکہ یہ شخص طائفہ منصورہ اہلِ سنت سے منحرف ہے، اس لئے اس کی اِقتداء میں نماز جائز نہیں،(۵) اور یہ اس لائق نہیں کہ اس کو اِمام بنایا جائے، اہلِ محلہ کا فرض ہے کہ اس کو اِمامت کے منصب سے معزول کردیں۔ ۴:۔ تکفیر کے مسئلے میں یہ ناکارہ احتیاط کرتا ہے، اس لئے اس شخص کو توبہ واِنابت کا اور اہلِ حق سے وابستگی کا مشورہ دیتا ہے، اس شخص کا اصل مرض خودرائی ہے، جس کی طرف سوال کے جزو نمبر:۷ میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:’’اپنی رائے کے متعلق کہتے ہیں کہ: وہ آخری اور حتمی ہے، میں کسی اور عالم کو حتیٰ کہ اپنے اساتذہ تک کو نہیں مانتا۔‘‘یہی خودرائی اکثر اہلِ علم کے ضلال و اِنحراف کا سبب بنتی ہے، خوارج و روافض سے لے کر دورِ حاضر کے کجرو لوگوں کو اسی خودرائی نے ورطۂ حیرت میں ڈالا ہے، اس لئے جو شخص صراطِ مستقیم پر چلنے اور راہِ ہدایت پر مرنے کا متمنی ہو، اس کو لازم ہے کہ اپنی رائے پر اعتماد کرنے کے بجائے اکابر کے علم و تقویٰ پر اعتماد کرے کہ یہ حضرات علم و معرفت، فہم و بصیرت، صلاح و تقویٰ اور اتباعِ شریعت میں ہم سے بدرجہا فائق تھے، واﷲ اعلم!فقال عمر: یا رسول اللہ! کیف تکلم أجسادًا لَا أرواح فیھا؟ قال: ما أنتم بأسمع لما أقول منھم غیر أنھم لَا یستطیعون أن یردوا علیّ شیئًا ۔۔۔ اعلم رحمک اللہ أن عائشۃ رضی اللہ عنھا قد أنکرت ھٰذا المعنی واستدلت بقولہ تعالٰی: فإنک لَا تسمع الموتٰی۔ وقولہ: وما أنت بمسمع من فی القبور۔ ولَا تعارض بینھما لأنہ جائز أن یکونوا یسمعون فی وقت مّا أو فی حال مّا فإنّ تخصیص العموم ممکن وصحیح إذا وجد المخصّص۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ، علامہ قرطبیؒ ص:۱۶۴ طبع بیروت)۔ (۱) عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’سِبابُ المسلم فسوقٌ وقتالُہ کُفْرٌ‘‘۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۹۳)۔ (۲) ان التوسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم جاءز فی کل حال، قبل خلقہ وبعد خلقہ فی مدۃ حیاتہ فی الدنیا وبعد موتہ فی مدۃ البرزخ وبعد البعث
انبیاءؑ و اولیاءؒ وغیرہ کو دُعاؤں میں وسیلہ بنانا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد انبیاءؑ و اولیاءؒ وغیرہ کو دُعاؤں میں وسیلہ بنانا سوال ۔ ایک صاحب نے اپنی کتاب ’’وسیلے واسطے‘‘ میں لکھا ہے کہ: جو لوگ مردہ بزرگوں، انبیائے کرامؑ، اولیاءـ یا شہداء کو اپنی دُعاؤں میں وسیلہ بناتے ہیں، یہ شرک ہے۔ جواب ۔ ان صاحب کا یہ کہنا کہ بزرگوں کے وسیلے سے دُعا کرنا شرک ہے، بالکل غلط ہے۔ بزرگوں سے مانگا تو نہیں جاتا، مانگا تو جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے، پھر اللہ سے مانگنا شرک کیسے ہوا۔۔۔؟ ×
کیا توسل کے بغیر دُعا نہ مانگی جائے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا توسل کے بغیر دُعا نہ مانگی جائے؟ سوال ۔ اگر کسی بزرگ کے توسل سے کوئی شخص دُعا نہ مانگے تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ براہِ راست خود اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگے۔ قرآن شریف کی کسی آیت سے ثابت ہے یا نہیں؟ کئی علمائے کرام اس کو جائز نہیں سمجھتے، آپ کے کراچی شہر میں ایک ڈاکٹر صاحب بنام کیپٹن مسعودالدین عثمانی نے تو شرک تک پہنچایا ہے۔ جواب ۔ بغیر توسل کے بھی دُعا صحیح ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن توسل بھی صحیح ہے،(۱) ڈاکٹر عثمانی کی باتیں قابلِ اعتبار نہیں۔ (۱) ومن أدب الدعاء: تقدیم الثناء علی اللہ، والتوسل بنبی اللہ لیستجاب۔ (حجۃ اللہ البالغہ ج:۲ ص:۶، مطبوعہ مصر)۔ ×
بزرگوں کے طفیل دُعا مانگنا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد بزرگوں کے طفیل دُعا مانگنا سوال ۔ میں قرآن کے ذریعے سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ واحد اللہ سے دُعا طلب کرنی چاہئے یا اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دُعا مانگنا جائز ہے؟ اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے وسیلے سے بھی دُعا مانگ سکتا ہوں یا نہیں؟ اور پھر جتنے بزرگ گزرے ہیں، جیسے داتادربار اور خواجہ غریب نواز، اور بھی بہت ہیں، ان کے وسیلے سے دُعا مانگنا غلط ہے یا صحیح؟ میں اس طرح دُعا مانگتا ہوں: ’’اے اللہ! تو میرے گناہ کو معاف کردے اپنے حبیب کے صدقے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گزرے ہیں ان کے صدقے، اور بزرگانِ دِین کے صدقے میرے گناہ معاف کردے‘‘ یہ دُعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟ غلط ہے یا صحیح؟ جواب ۔ دُعا تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے طفیل دُعا کرنا صحیح ہے۔ جس طرح آپ نے دُعا لکھی ہے، یہ دُرست ہے۔(۱) (۱) ومن أدب الدعاء: تقدیم الثناء علی اللہ، والتوسل بنبی اللہ لیستجاب۔ (حجۃ اللہ البالغہ ج:۲ ص:۶، مطبوعہ مصر)۔ ×