تقدیر کیا تقدیر کا تعلق صرف چار چیزوں سے ہے؟ سوال ۔ میں عرصہ دراز سے امریکا میں مقیم ہوں، بعض اوقات عیسائی دوستوں یا غیرمسلموں سے مذہبی نوعیت کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دِینِ اسلام میں جن چیزوں کا ماننا ضروری ہے، ان میں ’’تقدیر‘‘ پر ایمان لانا بھی ازحد ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہمیں یہ ہی نہیں معلوم ہے کہ تقدیر کیا ہے؟ میں دِل سے مانتی ہوں کہ تقدیر کا مکمل طور پر نہ معلوم ہونا بھی ہمارے لئے بہتر ہے۔ لیکن چند موٹی موٹی باتیں تو معلوم ہوں، ہمیں تو یہ کچھ معلوم ہے کہ تقدیر معلق ہوتی ہے اور تقدیر مبرم ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص میرے ہاتھ پر مسلمان ہونا چاہے اور میں اسے کہوں کہ تقدیر پر اِیمان لانا ضروری ہے تو وہ لازماً پوچھے گا کہ: آخر تقدیر کیا ہے؟ اور اس میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ میرا خیال ہے کہ کم از کم موٹی موٹی باتیں ضرور معلوم ہونی چاہئیں۔ جیسے میں نے کچھ تحقیق کی تو مجھے معلوم ہوا کہ کم از کم یہ چیزیں ہماری تقدیر میں روزِ اوّل سے لکھی ہیں۔ ان میں پیدائش، یعنی جس ماں کے بطن سے پیدا ہونا ہے، جب ہونا ہے، یہ لکھا ہے۔ ’’موت‘‘ جس شخص کی جب، جہاں اور جس طرح موت واقع ہونی ہے، اس کا ایک وقت معین ہے۔ ’’رزق‘‘ جس کے بارے میں قرآنِ کریم میں ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے، یا کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو نپا تلا دیتا ہے، چنانچہ آدمی ذاتی سعی کرے یا اور کچھ، رزق ایک مقدار میں مقرّر ہے۔ چونکہ دورانِ سفر بھی انسان رزق پاتا ہے، سو یوں دِکھائی دیتا ہے کہ سفر میں ہمارے مقدّر کا حصہ ہے، لیکن بعض چیزیں مبہم ہیں۔ شادی، انسان کے دُکھ سُکھ، شہرت، بیماریاں، غرض اور بہت سی چیزوں کے بارے میں، میں تحقیق نہ تو کرسکی۔ اور نہ کرنا چاہتی ہوں، مگر علمائے کرام سے گزارش ہے کہ چار چھ موٹی موٹی باتیں تو بتائیں کہ یہ چیزیں تقدیر کا حصہ ہیں۔ کیا آپ میری مدد کریں گے؟ بڑی ممنون رہوں گی۔شادی کے متعلق پہلے سے لکھا ہوا ہے کہ فلاں لڑکے لڑکی کی آپس میں ہوگی، یا کچھ یوں ہے کہ کوشش کرکے کسی سے بھی کی جاسکتی ہے؟ میں نے اس طرح کی ایک حدیث پڑھی ہے کہ ایک صحابی نے کسی بیوہ سے شادی کی تو ہمارے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’تم نے کسی کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے‘‘ اس حدیث سے اندازہ ہوا کہ گویا یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ آدمی کوشش کرے تو کسی سے بھی کرسکتا ہے، مگر شاید بعض دُوسری احادیث بھی ہوں۔ جواب ۔ تقدیر کا تعلق صرف انہی چار چیزوں سے نہیں جو آپ نے ذکر کی ہیں۔ بلکہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی اور اچھی بُری چیز تقدیرِ اِلٰہی کے تابع ہے،(۱) چونکہ انسان کو یہ علم نہیں کہ فلاں چیز کے بارے میں علمِ اِلٰہی میں کیا مقدّر ہے؟ اس لئے اس کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اِختیار اور اپنے علم و فہم کے مطابق بہتر سے بہتر چیز کے حصول کی محنت و سعی کرے۔ مثلاً: رزق کو لیجئے! رزق مقدّر ہے اور مقدّر سے زیادہ ایک دانہ بھی کسی کو نہیں مل سکتا۔ مگر چونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے حق میں کتنا رزق مقرّر ہے؟ اس لئے وہ رزق حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سعی و محنت کرتا ہے، لیکن ملتا اتنا ہی ہے جتنا مقدّر میں لکھاہے۔ ٹھیک یہی صورت شادی کے مسئلے پر بھی پائی جاتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہتر رشتے کے خواہش مند ہوتے ہیں، اور اپنے علم و اِختیار کی حد تک اچھے سے اچھا رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہوتا وہی ہے جو مقدّر میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو جو فرمایا تھا کہ: ’’تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟‘‘ اس کا یہی مطلب ہے کہ تمہیں کنواری کا رشتہ ڈھونڈنا چاہئے تھا۔(۲) (۱) ولَا یکون فی الدنیا ولَا فی الآخرۃ شیء أی موجود حادث فی الأحوال جمیعھا اِلّا بمشیتہ أی مقرونًا بارادتہ وعلمہ وقضائہ أی حکمہ وأمرہ وقدرہ أی بتقدیرہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ أیضًا الْإیمان بالقدر فرض لَازم، وھو ان یعتقد ان اللہ تعالٰی خالق أعمال العباد خیرھا وشرھا، وکتبھا فی اللوح المحفوظ قبل ان خلقھم والکل بقضائہ وقدرہ وارادتہ ومشیتہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲، باب الْإیمان بالقدر، طبع بمبئی)۔ (۲) عن جابر ۔۔۔ قال: أبکر أم ثیب؟ قلت: بل ثیب! قال: فھلا بکر ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۶، کتاب النکاح، طبع قدیمی)۔ ×
تقدیر کیا ہے؟
تقدیر تقدیر کیا ہے؟ سوال ۔ میرے ذہن میں تقدیر یا قسمت کے متعلق بات اس وقت آئی جب ہمارے نویں یا دسویں کے استاد نے کلاس میں یہ ذکر چھیڑا، انہوں نے کہا کہ ہر اِنسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔ اگر خدا ہماری تقدیر بناتا تو پھر جنت و دوزخ چہ معنی دارد؟ مطلب یہ کہ ہم جو برے کام کرتے ہیں، اگر وہ خدا نے ہماری قسمت میں لکھ دئیے ہیں تو ہمارا ان سے بچنا محال ہے، پھر دوزخ اور جنت کا معاملہ کیوں اور کیسے؟ میرے خیال میں تو اِنسان خود اپنی تقدیر بناتا ہے۔میں نے اپنے ایک قریبی دوست سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے بتایا کہ: خدا نے بعض اہم فیصلے انسان کی قسمت میں لکھ دئیے ہیں، باقی چھوٹے چھوٹے فیصلے انسان خود کرتا ہے، اہم فیصلوں سے مراد بندہ بڑا ہوکر کیا کرے گا؟ کہاں کہاں پانی پیئے گا وغیرہ، لیکن انسان اپنی صلاحیت اور قوّتِ فیصلہ کی بنیاد پر ان فیصلوں کو تبدیل بھی کرسکتا ہے۔آپ نے کچھ احادیث وغیرہ کے حوالے دئیے ہیں، آپ نے اس کے ساتھ کوئی وضاحت نہیں دی، صرف یہ کہہ دینا کہ: ’’قسمت کے متعلق بات نہ کریں۔‘‘ میری رائے میں تو کوئی بھی اس بات سے مطمئن نہیں ہوگا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات کہی ہے تو انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ: ’’سابقہ قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ تقدیر کے مسئلے پر اُلجھے تھے۔‘‘ اب ذرا آپ اس بات کی وضاحت کردیں تو شاید دِل کی تشفی ہوجائے۔ جواب ۔ جانِ برادر۔ السلام علیکم! اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، اچھی بُری چیز صرف اللہ تعالیٰ کے ارادہ، قدرت، مشیت اور علم سے وجود میں آئی ہے،(۱) بس میں اتنی بات جانتا ہوں کہ ایمان بالقدر کے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتا،(۲) اس کے آگے یہ کیوں، وہ کیوں؟ اس سے میں معذور ہوں۔تقدیر اللہ تعالیٰ کی صفت ہے،(۳) اس کو انسانی عقل کے ترازو سے تولنا ایسا ہے کہ کوئی عقل مند سونا تولنے کے کانٹے سے ’’ہمالیہ‘‘ کا وزن کرنا شروع کردے، عمریں گزر جائیں گی، مگر یہ مدعا عنقا رہے گا۔ہمیں کرنے کے کام کرنے چاہئیں، تقدیر کا معما نہ کسی سے حل ہوا، نہ ہوگا، بس سیدھا سا ایمان رکھئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اور ہر چیز اس کی تخلیق سے وجود میں آئی ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار و ارادہ عطا کیا ہے مگر یہ اختیار مطلق نہیں۔(۴) حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے کسی نے دریافت کیا کہ انسان مختار ہے یا مجبور؟ فرمایا: ایک پاؤں اُٹھاؤ! اس نے اُٹھالیا، فرمایا: دُوسرا بھی اُٹھاؤ! بولا: حضور! جب تک پہلا قدم زمین پر نہ رکھوں دُوسرا نہیں اُٹھاسکتا۔ فرمایا: بس انسان اتنا مختار ہے، اور اتنا مجبور!(۵) بہرحال میں اس مسئلے میں زیادہ قیل و قال سے معذور ہوں اور اس کو بربادیٔ ایمان کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ (۱) ولَا یکون فی الدنیا ولَا فی الآخرۃ شیء أی: موجود حادث فی الأحوال جمیعھا الَّا بمشیتہ ای مقرونًا بارادتہ وعلمہ وقضائہ، أی: حکمہ وامرہ وقدرہ، ای: بتقدیرہ ۔۔۔الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ (۲) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع ۔۔۔ ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر، طبع قدیمی کتب خانہ)۔ (۳) والقدرۃ وھی صفۃ ازلیۃ تؤثر فی المقدورات عند تعلقھا بھا۔ (شرح عقائد ص:۱۱۳ طبع ایچ ایم سعید)۔ (۴) ومجمل الأمر أن القدر: وھو ما یقع من العبد المقدر فی الأزل من خیرہ وشرہ ۔۔۔ کائن عنہ سبحانہ وتعالٰی بخلقہ وارادتہ ماشاء کان وما لَا فلا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ (۵) علم الکلام ص:۸۰ از حضرت مولانا محمد اِدریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ، طبع مکتبہ عثمانیہ بیت الحمد لاہور۔ ×
کراماتِ اولیاء برحق ہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کراماتِ اولیاء برحق ہیں سوال ۔ اسی طرح ایک اور قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بزرگ تھے، وہ فرماتے ہیں کہ: جب میرے والد کا انتقال ہوا، ان کو نہلانے کے لئے تختہ پر رکھا تو وہ ہنسنے لگے، نہلانے والے چھوڑ کر چل دئیے، کسی کی ہمت ان کو نہلانے کی نہ پڑتی تھی، ایک اور بزرگ ان کے رفیق آئے انہوں نے غسل دیا۔ کیا یہ واقعہ صحیح ہے یا غلط؟ جو بزرگ اپنے مریدوں کو ایسی باتیں بتاتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟ برائے مہربانی! مجھے راہنمائی کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ کر ہم اپنا ایمان خراب کرلیں، کیونکہ ہمارے دیوبند عقیدے میں تو یہ چیزیں آج تک نہیں سنیں، اس لئے مجھے یہ نئی معلوم ہوتی ہیں، کہلاتے تو یہ لوگ بھی اہلسنّت والجماعت ہیں، لیکن عقیدے بہت زیادہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں۔ جواب ۔ بطورِ کرامت یہ واقعہ بھی صحیح ہوسکتا ہے، دیوبندی اہلِ سنت ہیں، اور اہلِ سنت کا عقیدہ تمام عقائد کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ’’اولیاء کی کرامات برحق ہیں‘‘(۱) اس لئے ایسے واقعات کا انکار اہلِ سنت اور دیوبندی مسلک کے خلاف ہے، اور ان واقعات میں عقیدہ کی خرابی کی کوئی بات نہیں، ورنہ اہلِ سنت کراماتِ اولیاء کے برحق ہونے کے قائل نہ ہوتے۔تقدیر (۱) والکرامات للأولیاء حق، ای ثابت بالکتاب والسنۃ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۹۵) ×
کشف کی حقیقت، غیر نبی کا کشف شرعی حجت نہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کشف کی حقیقت، غیر نبی کا کشف شرعی حجت نہیں سوال ۔ کشف کسے کہتے ہیں؟ اگر ایک شخص کشف بتائے اور کرامات دِکھائے تو کیا ہم اس پر یقین کرلیں؟ اور یہ جو جادُو کرتے ہیں، یہ لوگ کس طرح یہ حرام کرتے ہیں؟ وضاحت فرمائیے۔ اس کے علاوہ غیب کی خبریں بھی بتاتے ہیں اور اکثر صحیح بھی ہوجاتی ہیں۔ اولیاء اللہ کو تو خدا کی طرف سے ہی ان باتوں کا اِلہام ہوتا ہے، کیا انہیں بھی نعوذ باللہ! خدا بتاتا ہے؟ وضاحت کردیجئے۔ لوگ اولیاؤں کے مزاروں پر جاکر ان سے مدد طلب کرتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے؟ پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ: ’’وہ زندہ ہیں، اس لئے حاجت طلب کرتے ہیں‘‘ اور اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ: ’’حدیثوں سے ثابت ہے کہ اولیاء اللہ قبروں میں زندہ ہیں اور ہماری حاجت سنتے ہیں اور پوری کرتے ہیں‘‘ اور کئی بار ان کے کام پورے بھی ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا عقیدہ مضبوط ہوجاتا ہے، کیا ایسے فعل کرنا شرک ہے؟ وضاحت مفصل طریقے سے کیجئے۔ جواب ۔ بعض اوقات آدمی پر کسی چیز کی حقیقت کھول دی جاتی ہے اور پردے اُٹھادئیے جاتے ہیں، اس کو ’’کشف‘‘ کہتے ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا کشف و اِلہام تو یقینی ہے، دُوسروں کا یقینی نہیں۔ اس لئے غیرنبی کا کشف و اِلہام شرعی حجت نہیں۔(۱) اپنے کشف و کرامت کی ڈینگیں مارنا دُکان دار قسم کے لوگوں کا کام ہے، ایسے لوگوں کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔جادُو کس طرح کرتے ہیں؟ یہ تو مجھے معلوم نہیں! مگر یہ حرام ہے۔(۲)کسی کا غیب کی خبریں بتانا اور اس پر یقین کرنا گناہ ہے، ان کو شیاطین بتاتے ہیں، ان میں سے اَٹکل پچو باتیں بعض اوقات پوری بھی ہوجاتی ہیں۔(۳)جس طرح اولیاء اللہ کو رحمن کی طرف سے اِلہام ہوتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کو شیطان کی طرف سے اِلہام ہوتا ہے۔(۴) اولیاء اللہ کو مدد کے لئے پکارنا شرک ہے،(۵) اگر وہ قبروں میں زندہ ہیں تو ان کی زندگی ہمارے جہان کی نہیں۔(۶) (۱) والْإلھام ۔۔۔ لیس من أسباب المعرفۃ بصحۃ الشیء عند أھل الحق۔ (شرح عقائد ص:۲۲ طبع خیر کثیر)۔ فصل فی الوحی وھو ظاھر وباطن، أما الظاھر فثلاثۃ ۔۔۔ والثالث: ما تبدی لقلبہ بلا شبھۃ بإلھام اللہ تعالٰی بأن أراہ اللہ تعالٰی بنورہ من عندہ کما قال اللہ تعالٰی: لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُۚ ، وکل ذٰلک حجۃ مطلقًا بخلاف الْإلھام للأولیاء فإنہ لَا یکون حجۃ علٰی غیرہ۔ (التوضیح والتلویح ج:۲ ص:۴۹۱ طبع میر محمد کتب خانہ)۔ ومجال خطا درکشف بسیار است فلا اعتداد بہ مع کونہ مخالفا لاجماع المسلمین۔ (مکتوبات دفتر اوّل، حصہ چہارم، مکتوب:۲۶۶)۔ (۲) والسحر ھو علم یستفاد منہ حصول ملکۃ نفسانیۃ یقتدر بھا علٰی أفعال غریبۃ لأسباب خفیۃ، اھـ۔ وفی حاشیۃ الْإیضاح لبیری زادہ: قال الشمنی: تعلّمہ وتعلیمہ حرام۔ (شامی ج:۱ ص:۴۴، مقدمۃ، مطلب فی التنجیم والرمل)۔ (۳) ’’من أتٰی عرَّافًا أو کاھنًا أو ساحرًا فسألہ فصدق بما یقول فقد کفر بما اُنزل علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ الکاھن ھو الذی یخبر عن بعض المضمرات فیصیب بعضھا ویخطیٔ أکثرھا، ویزعم أن الجِنَّ تخبرہ بذٰلک ۔۔۔ الخ۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۲ ص:۱۰۹ طبع بیروت)۔ (۴) وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡالأنعام ١٢١ (۵) ومثل ھٰذا کثیر فی القرآن ینھٰی ان یدعی غیر اللہ لَا من الملائکۃ ولَا الأنبیاء ولَا غیرھم فان ھٰذا شرک أو ذریعۃ الشرک ۔۔۔الخ۔‘‘ (التوسل والوسیلہ لِابن تیمیہؒ ص:۳۳)۔ (۶) وعلم ان أھل الحق اتفقوا علٰی ان اللہ تعالٰی یخلق فی المیّت نوع حیٰوۃ فی القبر قدر ما یتألم أو یتلذّذ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۲۲، أیضًا: المہند ص:۱۳، ۱۴، وتسکین الصدور ص:۲۵۸)۔ ×
کشف یا اِلہام ہوسکتا ہے، لیکن وہ حجت نہیں
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کشف یا اِلہام ہوسکتا ہے، لیکن وہ حجت نہیں سوال ۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کشف کے ذریعہ خدا نے حکم دیا ہے کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ اور فلاں بات کہو، ایسے شخص کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ جواب ۔ غیر نبی کو کشف یا الہام ہوسکتا ہے، مگر وہ حجت نہیں، نہ اس کے ذریعہ کوئی حکم ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ اس کو شریعت کی کسوٹی پر جانچ کر دیکھا جائے گا، اگر صحیح ہو تو قبول کیا جائے گا، ورنہ ردّ کردیا جائے گا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ سنتِ نبوی کا متبع اور شریعت کا پابند ہو۔ اگر کوئی شخص سنتِ نبوی کے خلاف چلتا ہو تو اس کا کشف و الہام کا دعویٰ شیطانی مکر ہے۔(۱) (۱) أیضًا۔ ×
کشف و اِلہام اور بشارت کیا ہے؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کشف و اِلہام اور بشارت کیا ہے؟ سوال ۔ کشف، اِلہام اور بشارت میں کیا فرق ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو کشف، اِلہام یا بشارت ہونا ممکن ہے؟ قرآن واحادیث کے حوالے سے واضح کیجئے گا۔ جواب ۔ کشف کے معنی ہیں: کسی بات یا واقعہ کا کھل جانا۔(۱)اِلہام کے معنی ہیں: دِل میں کسی بات کا اِلقا ہوجانا۔(۲) اور بشارت کے معنی: خوشخبری کے ہیں،(۳) جیسے کوئی اچھا خواب دیکھنا۔ ۲:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کشف و الہام اور بشارت ممکن ہے، مگر وہ شرعاً حجت نہیں، اور نہ اس کے قطعی و یقینی ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے، نہ کسی کو اس کے ماننے کی دعوت دی جاسکتی ہے۔(۴)أیضًا حاشیۃ شرح عقائد ص:۲۲ حاشیہ نمبر:۴۔ ومجال خطا در کشف بیسار است فلا اعتداد بہ مع کونہ مخالفًا لِاجماع المسلمین۔ مکتوبات دفتر اول حصہ چہارم مکتوب:۲۶۶، غایت ما فی الباب ۔۔۔ چہ الہام وکشف بر غیر حجت نیست مکتوبات دفتر اوّل حصہ اوّل مکتوب:۳۱۔اعلم! ان الْإلھام: ھو الْإلقاء فی القلب من علم یدعو الی العمل بہ من غیر استدلَال بآیۃ ولَا نظر فی حجۃ وھو لیس بحجۃ ولَا یجوز العمل بہ عند الجمھور، لأن ما یقع فی قلبہ قد یکون من اللہ تعالٰی وقد یکون من الشیطان لقولہ تعالٰی:ﵟ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡ ﵞوقد یکون من النفس ۔۔۔ فما یکون من اللہ تعالٰی یکون حجۃ، وما یکون من الشیطان او النفس لَا یکون حجۃ، فلا یکون الْإلھام حجۃ مع الْإحتمال ولَا یمکن التمییز بین ھٰذہ الأنواع اِلّا بعد النظر والْإستدلَال باُصول الدِّین ۔‘‘ (تیسیر الاُصول الٰی علم الاُصول ص:۲۳۶ بحث فی الْإحتجاج بالْإلھام)۔ (۱) الکشف فی اللغۃ: رفع الحجاب۔ (قواعد الفقہ ص:۴۴۳)۔ (۲) الْإلھام: ما یلقی فی الروح بطریق الفیض۔ (قواعد الفقہ ص:۱۸۹)۔ (۳) البشارۃ: بالکسر، الخبر یؤثر فی البشرۃ تغیرًا ۔۔۔ الخ۔ (قواعد الفقہ ص:۲۰۷)۔ (۴) فالْإلھام لیس بحجۃ عند الجمھور الّا عند المتصوفۃ بخلاف الْإلھام الصادر من الرسول علیہ الصلٰوۃ والسلام فانہ حجۃ عند الکل۔ (رمضان آفندی، شرح شرح عقائد ص:۶۵، ۶۶)۔ ×
عقیدہ صحیح ہو اور عمل نہ ہو
مسلمانوں کے بنیادی عقائد عقیدہ صحیح ہو اور عمل نہ ہو سوال ۔ عید الفطر کے دن نماز عید کے موقع پر مقامی مولوی صاحب نے کچھ الفاظ کہے کہ کسی کے علم کو مت دیکھو، اس کے عمل کو مت دیکھو، عقیدہ درست ہو نا چاہئے۔ عقیدہ درست ہے تو عمل کے بغیر بھی جنت میں جائے گا۔ تو کیا ان کا کہنا درست ہے کہ عقیدہ درست ہونا چاہئے، علم پر عمل کی کوئی ضرورت نہیں؟ جواب ۔ مولوی صاحب کی یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر عقیدہ صحیح ہو اور عمل میں کوتاہی ہو تو کسی نہ کسی وقت نجات ہوجائے گی،(۱) اور اگر عقیدہ خراب ہو اور اس میں کفر و شرک کی ملاوٹ ہو تو بخشش نہیں ہوگی،(۲) لیکن علم اور عمل کو غیر ضروری کہنا خود عقیدے کی خرابی ہے اور یہ قطعاً غلط ہے،اس سے مولوی صاحب کو توبہ کرنی چاہئے۔(۳) (۱) وأما من کانت لہ معصیۃ کبیرۃ ومات من غیر توبۃ فھو فی مشیۃ اللہ تعالٰی فإن شاء عفا عنہ وأدخلہ الجنۃ أولًا وجعلہ کالقسم الأوّل وإن شاء عذبہ بالقدر الذی یرید سبحانہ ثم یدخلہ الجنۃ فلا یخلد فی النار من مات أحد علی التوحید ولو عمل من المعاصی ما عمل۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۱ ص:۴۱ طبع قدیمی کتب خانہ)۔ (۲) قال تعالٰی: إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ المائدة ٧٢۔ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ النساء ١١٦۔ (۳) ’’باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ وھو لَا یشعر‘‘ ھٰذا الباب معقود للرد علی المرجئۃ خاصۃ ۔۔۔ لأنھم أخروا الأعمال عن الْإیمان ۔۔۔ وقالوا لَا یضر مع الْإیمان ذنب أصلًا ۔۔۔ وقد ذم اللہ من أمر بالمعروف ونھٰی عن المنکر وقصر فی العمل فقال: كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٣ ، فخشی أن یکون مکذبا أی مشابھًا للمکذبین۔ (فتح الباری، کتاب الْإیمان ج:۱ ص:۱۱۰)۔ ×
کیا بغیر مشاہدے کے یقین معتبر نہیں؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا بغیر مشاہدے کے یقین معتبر نہیں؟ سوال ۔’’وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ۔۔۔ الٰی ۔۔۔ٱلۡمُوقِنِينَ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر مشاہدے کے یقین معتبر نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُولواالعزم پیغمبروں میں سے ہیں، ان پر صحیفے بھی نازل ہوئے ۔۔۔صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ۔۔۔ اور بہت سے عجائبات قدرت انہوں نے دیکھے، ہر وقت ان کا اللہ تعالیٰ سے قلبی رابطہ تھا، ان کو مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ کی سیر بھی کرائی گئی، اس کے باوجود ان کا قلب مطمئن نہیں ہوتا اور’’كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ ‘‘ کا سوال کرتے ہیں، تو پھر ایک عام سالک جو اللہ کے راستے پر چل رہا ہے اور اپنی لذات کی قربانی دے کر اپنی جان کھپا رہا ہے اور عالم قدس سے بشکل صوت و صورت اس پر کوئی فیضان نہیں ہو رہا پھر بھی اس کی طاعت میں کوئی کمی نہیں آتی، ایسی صورت میں وہ زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس کو ملکوت سے کچھ مشاہدہ کرادیا جائے، تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو اور استقامت نصیب ہو۔ انبیاء تو ویسے بھی ہر وقت ملکوت کی سیر کرتے رہتے ہیں۔ جواب ۔ یقین کے درجات مختلف ہیں: یقین کا ایک درجہ عین الیقین کا ہے جو آنکھ سے دیکھنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور ایک حق الیقین کا ہے جو تجربہ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح عامہ مؤمنین، اَبرار و صدیقین، انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے درجات میں بھی تفاوت ہے۔ ایمان کا درجہ تو عامہ مؤمنین کو بھی حاصل ہے اور اَبرار و صدیقین کو ان کے درجات کے مطابق یقین کی دولت سے نوازا جاتا ہے اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے مراتب کے مطابق ان کو درجات یقین عطا کئے جاتے ہیں، پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوال’’كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ ‘‘میں اس درجہ یقین اور اطمینان، جو بلا رُؤیت ہو، سوال سے پہلے بھی حاصل تھا۔ سالکین اور اولیاء اللہ کو بھی مشاہدات کی دولت سے نوازا جاتا ہے اور بغیر مشاہدات کے بھی ان کو یقین و اطمینان ’’ایمان بالغیب‘‘ کے طور پر حاصل ہوتا ہے، لیکن ان کے ایمان اور اطمینان کو انبیائے کرام علیہم السلام کے ایمان و اطمینان سے کوئی نسبت نہیں اور وہ ان کے اطمینان اور یقین کا تحمل بھی نہیں کرسکتے، ورنہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔(۱) (۱) وعلم الیقین بما اعطاہ الدلیل من ادراک الشیٔ علٰی ما ھو علیہ، وعین الیقین بما اعطاہ المشاھدۃ والکشف وجعل وراء ذٰلک حق الیقین۔ (روح المعانی ج:۲۹/۳۰ ص:۲۲۵)۔ ×
کیا آخرت میں دُنیا کی باتیں بھول جائیں گی؟
مسلمانوں کے بنیادی عقائد کیا آخرت میں دُنیا کی باتیں بھول جائیں گی؟ سوال ۔ ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ انسان کی چار دفعہ حالت بدلے گی۔ ۱:۔ دنیا میں آنے سے پہلے عالمِ اَرواح میں اللہ سے وعدہ۔ ۲:۔ عالمِ دُنیا میں قیام۔ ۳:۔ عالمِ قبر۔ ۴:۔ عالمِ آخرت جنت یا دوزخ۔ مولوی صاحب ہم کو عالمِ ارواح میں اپنی رُوح کی موجودگی کا علم اب ہوا ہے، اور جو رُوحوں نے اللہ سے بندگی کا وعدہ کیا، اس میں ہماری رُوح بھی شامل تھی، لیکن ہم کو تو پتا نہ چلا، ہمیں تو اس دُنیا میں بتایا گیا کہ تم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا تو جس طرح عالمِ اَرواح کا ہمیں احساس نہیں ہوا تو کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ جزا و سزا، قبر و آخرت کا ہمیں اسی طرح پتا نہ چلے، جس طرح عالمِ اَرواح میں ہمیں کچھ پتا نہ چلا؟ جواب ۔ عالمِ اَرواح کی بات تو آپ کو بھول گئی، لیکن دُنیا کی زندگی میں جو کچھ کیا وہ نہیں بھولے گا۔(۱) (۱) يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ٣٥ النازعات ٣٥۔ أی: إذا رأی أعمالہ مدوّنۃ فی کتابہ یتذکرھا وکان قد نسیھا۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۵۹۹)۔ ×
شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا
مسلمانوں کے بنیادی عقائد شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا سوال ۔’’وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ‘‘اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ’’آپ کی رائے صحیح ہے۔‘‘ کیا سلف نے بھی اس رائے کے بارے میں کچھ کہا ہے، کیونکہ میں نے پڑھا ہے کہ جس نے قرآن پاک کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا، اس نے۔۔۔۔۔۔ اس لئے جب کسی بزرگ سے اس رائے کی تصدیق ہوجائے گی تو پھر یہ اپنی رائے نہ رہے گی اور اس وعید کے دائرے سے باہر ہوجائیں گے۔ جواب ۔ صحیح بایں معنی ہے کہ شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا ہے، اگرچہ اسباب، اسباب ہیں، ارباب نہیں۔ رزق تو سب کا اللہ نے اپنے ذمہ رکھا ہے، لیکن ہماری نظر چونکہ اسباب سے بالاتر نہیں جاتی، اس لئے ہمیں رزق بذریعہ اسباب طلب کرنے کا حکم فرمایا ہے، اور رزق کو بظاہر مشروط بہ اسباب رکھا ہے، ورنہ اس کی مشیت کے بغیر نہ اسباب، اسباب ہیں اور نہ روزی کا حصول اسباب کا مرہونِ منّت ہے۔(۱) (۱) وما من حیوان یدب علی الأرض إلّا علی اللہ تعالٰی غذاؤہ ومعاشہ ۔۔۔ لما وعدہ سبحانہ وھو جل شأنہ لَا یخل بما وعد ۔۔۔ وحمل العباد علی التوکل فیہ ولَا یمنع المتوکل مباشرۃ الأسباب مع العلم بأنہ سبحانہ المسبب لھا۔ (رُوح المعانی ج:۱۲ ص:۲)۔ ×