تقدیر کیا محنت کئے بغیر بھی قسمت اچھی ہوسکتی ہے؟ سوال ۔ میرا دوست کہتا ہے کہ آدمی کی قسمت اچھی ہو تو بغیر محنت کے بھی اچھا کمالیتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ کمائی اس کے نصیب میں تھی اور اس کی قسمت اچھی تھی۔ میرا کہنا ہے کہ آدمی محنت کرے اور قسمت ساتھ دے، صرف محنت کئے بغیر قسمت اچھی نہیں ہوسکتی۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ ایک آدمی مزدور پورا دن محنت کرتا ہے اور دُوسرا آدمی ایک گھنٹے میں اتنے پیسے کمالیتا ہے، براہِ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں کہ دونوں میں سے کس کا نقطئہ نظر ٹھیک ہے؟ جواب ۔ یہ تو صحیح ہے کہ جو قسمت میں لکھا ہو، وہی ملتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ملتا۔ لیکن حلال روزی کے لئے محنت ضرور کرنی چاہئے،(۱) قسمت کا حال کسی کو معلوم نہیں،(۲) اور حلال روزی کے لئے شرعی فرائض کی پابندی ضروری ہے۔(۳) (۱) قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا التوبة ٥١، إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ ٤٩ القمر ٤٩ وعن ابن مسعود قال: حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الصادق المصدوق أن خلق أحدکم یجمع فی بطن أُمّہ أربعین یومًا ۔۔۔ ثم یبعث اللہ الیہ مَلَکًا بأربع کلمات، فیکتب عملہ وأجلہ ورزقہ وشقی أو سعید ۔۔۔الخ۔ (ورزقہ) یعنی أنہ قلیل أو کثیر، وغیرھما مما ینتفع بہ حلالًا کان أو حرامًا، مأکولًا أو غیرہ فیعین لہ وینقش فیہ بعد أن کانت مکتوبۃ فی اللوح المحفوظ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۲۶ باب الْإیمان بالقدر، طبع بمبئی)۔ (۲) (قولہ) وأصل القدر سر اللہ تعالٰی فی خلقہ لم یطلع علٰی ذٰلک مَلَک مقرَّب ولَا نبیٌّ مرسَل ۔۔۔ أصل القدر: سر اللہ فی خلقہ وھو کونہ أوجد وأفنٰی، وأفقر وأغنٰی وأمات وأحیا وأضلّ وأھدیٰ قال علیٌّ کرّم اللہ وجہہ ورضی عنہ: القدر: سر اللہ فلا تکشفہ ۔۔۔الخ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۷۶، ۲۷۷)۔ (۳) وعن عبداللہ بن مسعود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یکسب عبد مال حرام ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۲ باب الکسب)۔ ×
کیا ایک شخص کی زندگی دُوسرے کو لگ سکتی ہے؟
تقدیر کیا ایک شخص کی زندگی دُوسرے کو لگ سکتی ہے؟ سوال ۔ ایک شخص کی زندگی دُوسرے شخص کو لگ سکتی ہے؟ جواب ۔ نہیں!(۱) (۱) (وضرب لھم آجالًا) ش: یعنی: ان اللہ سبحانہ وتعالٰی قدر آجال الخلائق بحیث إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ، قال تعالٰی: إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ وقال تعالٰی: وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِ كِتَٰبٗا مُّؤَجَّلٗاۗ آل عمران ١٤٥۔ وفی صحیح مسلم ۔۔۔ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: قد سألت اللہ لأجال مضروبۃ، وأیام معدودۃ، وأرزاق مقسومۃ لن یعجّل شیئًا قبل أجلہ ولن یؤخر شیئًا عن أجلہ ۔۔۔ فان قیل: ھل یلزم من تأثیر صلۃ الرحم فی زیادۃ العمر ونقصانہ تأثیر الدعاء فی ذٰلک أم لَا؟ فالجواب: أن ذٰلک غیر لَازم، لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لاُمّ حبیبۃ رضی اللہ عنھا، قد سألت اللہ تعالٰی لآجال مضروبۃ، الحدیث ۔۔۔ وکان الْإمام أحمد یکرہ ان یدعٰی لہ بطول العمر ویقول: ھٰذا أمر قد فرغ منہ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۱۴۹ تا ۱۵۱)۔ ×
تقدیر بنانا
تقدیر تقدیر بنانا سوال ۔ کیا انسان اپنا اچھا مستقبل خود بناتا ہے یا اللہ تعالیٰ اس کا مستقبل شاندار بناتا ہے؟ میرا نظریہ یہ ہے کہ انسان اپنی دِماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قسمت خود بناتا ہے، جبکہ میرے ایک دوست کا نظریہ مجھ سے مختلف ہے، اس کا کہنا ہے کہ انسان اپنا اچھا مستقبل خود نہیں بناسکتا، بلکہ ہر آدمی کی قسمت اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔ جواب ۔ انسان کو اچھائی بُرائی کا اختیار ضرور دیا گیا ہے،(۱) لیکن وہ اپنی قسمت کا مالک نہیں، قسمت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے، اس لئے یہ کہنا کہ انسان اپنی تقدیر کا خود خالق ہے یا یہ کہ اپنی تقدیر خود بناتا ہے، اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔(۲) (۱) واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔الخ۔ (شرح العقائد ص:۸۱)۔ (۲) عن ابن عمر ۔۔۔ کل شیء بقدر حتی العجز والکیس۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۱۹، باب الْإیمان بالقدر)۔ ×
انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور؟
تقدیر انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور؟ سوال ۔ میں نے پڑھا ہے کہ صوفیائے کرام کا ایک فلسفہ ہے: ’’فلسفہ جبر و قدر‘‘ جس کے مطابق انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ وہی ہوتا ہے جو کاتبِ تقدیر لکھ چکا ہوتا ہے، انسان کے اپنے بس میں کچھ نہیں ہوتا:ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیااس کے مطابق انسان آزاد ہوگیا کہ وہ غلط کام کرتا ہے اور یہ سمجھ لے کہ جو کر رہا ہے، وہ لکھا جاچکا ہے، اس کو کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کسی کام کا کرنا اور کسی سے بچنا اس کے بس میں نہیں۔ اور وہ آزمائش جن سے انسان بندھا ہوا ہے، اس سے آزاد ہوجائے۔ جواب ۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، یہ صوفیاء کا مسلک و عقیدہ نہیں، بلکہ اہلِ اسلام کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ انسان ایک حد تک بااختیار ہے اور ایک حد تک مجبور، لہٰذا نہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرح مختارِ مطلق ہے اور نہ اِینٹ پتھر کی طرح مجبورِ محض۔(۱)حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ: انسان مختار ہے یا مجبور؟ فرمایا: ایک پاؤں اُٹھاؤ! اس نے اُٹھایا، فرمایا: دُوسرا بھی اُٹھاؤ! اس نے کہا: حضرت! ایک پاؤں اُٹھا سکتا ہوں، بیک وقت دونوں تو نہیں اُٹھاسکتا۔ فرمایا: بس تم اتنے مختار ہو اور اتنے مجبور۔(۲)بعض لوگوں نے دیکھا کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد افعال کرتا ہے، انہوں نے اس کو قادرِ مطلق سمجھ لیا۔(۳) ایک دُوسری جماعت نے دیکھا کہ انسان بار بار اپنے ارادے و عزم پر شکست کھاتا ہے، انہوں نے سمجھا کہ انسان مجبورِ محض ہے۔(۴) مگر اہلِ سنت کے اکابر نے قرآن و سنت کی روشنی پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو فی الجملہ اختیار بھی دیا گیا اور ایک حد تک اس کو پابند بھی کیا گیا ہے۔ لہٰذا نہ یہ قادرِ مطلق ہے اور نہ مجبورِ محض۔ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے، لہٰذا اس پر وہ مکلف بھی ہے اور مدح و ستائش اور عذاب و ثواب کا مستحق بھی۔(۵) (۱) ومجمل الأمر أنّ القدر وھو ما یقع من العبد المقدر فی الأزل من خیرہ وشرہ وحلوہ ومرہ کائن عنہ سبحانہ وتعالٰی بخلقہٖ وارادتہ ما شاء کان وما لَا فلا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح العقائد ص:۷۵ تا۸۱ طبع خیر کثیر)۔ (۲) علم الکلام ص:۸۰ لمولَانا اِدریس کاندھلویؒ طبع مکتبہ عثمانیہ لَاہور۔ (۳) زعمت المعتزلۃ ان العبد خالق لأفعالہ۔ (شرح العقائد ص:۷۵)۔ (۴) زعمت الجبریۃ أنہ لَا فعل للعبد أصـلًا۔ (شرح العقائد ص:۸۱)۔ (۵) واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔ الخ۔ (شرح العقائد ص:۷۵،۸۱)۔ ×
کیا پیشانی پر تقدیر کی تحریر کا واقعہ دُرست ہے؟
تقدیر کیا پیشانی پر تقدیر کی تحریر کا واقعہ دُرست ہے؟ سوال ۔ آپ سے ایک واقعے کی تصدیق کے لئے یہ خط ارسال کر رہا ہوں، اُمید ہے جلد جواب سے مستفیض فرمائیں گے۔ یہ واقعہ مجھے میرے ایک دوست محمد طیب صاحب نے بتایا کہ وہ کافی عرصہ پہلے درسِ حدیث یا درسِ قرآن کی مجلس میں شریک تھے اور آپ نے اپنا یہ واقعہ کہ انڈیا میں جب آپ زیرِ تعلیم تھے، سڑک پر ایک نوجوان سائیکل پر جارہا تھا، کسی گاڑی کی ٹکر سے اس کا سر کھل گیا اور آپ نے اس نوجوان کی تقدیر لکھی ہوئی دیکھی۔ کیا یہ واقعہ دُرست ہے؟ اگر دُرست ہے تو تحریر کس زبان میں تھی؟ مختلف ہسپتالوں میں مسلمان ڈاکٹروں کے پاس حادثات کے بعد مردے لائے جاتے ہیں، جن کے سر بھی کھل چکے ہوتے ہیں اور کئی کے سر ڈاکٹر معائنے کے لئے کھولتے ہیں، کسی ڈاکٹر نے آج تک کوئی تحریر دِماغ پر لکھی ہوئی بیان نہیں کی۔ جواب ۔ یہ واقعہ میرا چشم دِید ہے، اس کی پیشانی پر تحریر میں نے خود دیکھی ہے، لیکن وہ کس زبان میں تھی؟ اس کا کسی کو علم نہیں۔ میری عمر اُس وقت قریباً پندرہ برس تھی، ممکن ہے، میرا وہم ہو، واللہ اعلم! ×
کیا تقدیر پر اِیمان لانا ضروری ہے؟
تقدیر کیا تقدیر پر اِیمان لانا ضروری ہے؟ سوال ۔ جن چیزوں پر اِیمان لائے بغیر بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا، ان میں تقدیر بھی شامل ہے۔ لیکن ہمیں یہ تو معلوم ہی نہیں کہ تقدیر میں کیا کیا ہوتا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تقدیر میں موت، رزق اور جس سے شادی ہونی ہوتی ہے وہ ہوتا ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ آخر جس تقدیر پر ہمارا اِیمان ہے، اس میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ اور کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے ہر چیز پہلے سے معین کردی ہے؟ جواب ۔ تقدیر پر اِیمان لانا فرض ہے۔ اور تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اور کائنات کی ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے، اور کائنات کی تخلیق سے پہلے ہر چیز کا علمِ الٰہی میں ایک اندازہ تھا، اسی کے مطابق تمام چیزیں وجود میں آتی ہیں، خواہ ان میں انسان کے اختیار و ارادہ کا دخل ہو یا نہ ہو، اور خواہ اسباب کے ذریعہ وجود میں آئیں یا بغیر ظاہری اسباب کے۔(۱)جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اسباب کے ماتحت رکھا ہے، ان کے جائز اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے، اور ناجائز اسباب سے پرہیز کرنا فرض ہے۔ (۱) قال فی شرح السُّنّۃ: الْإیمان بالقدر فرض لَازم وھو أن یعتقد ان اللہ تعالٰی خالق أعمال العباد خیرھا وشرّھا وکتبھا فی اللوح المحفوظ قبل ان خلقھم والکل بقضائہ وقدرہ وارادتہ ومشیتہ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲)۔ کتب اللہ مقادیر الخلائق ۔۔۔ ومعنی کتب اللہ أجری اللہ بالقلم علی اللوح المحفوظ بایجاد ما بینھما من التعلق، وأثبت فیہ مقادیر الخلق ما کان وما ھو کائن الی الأبد علٰی وفق ما تعلقت بہ ارادتہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲ ، باب الْإیمان بالقدر)۔ ×
تقدیر و تدبیر میں کیا فرق ہے؟
تقدیر تقدیر و تدبیر میں کیا فرق ہے؟ سوال ۔ جناب سے گزارش ہے کہ میرے اور میرے دوست کے درمیان اسلامی نوعیت کا ایک سوال مسئلہ بنا ہوا ہے، اگر ہم لوگ اس مسئلے پر خود ہی بحث کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ غلط بھی نکال سکتے ہیں، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرکے ہم سب لوگوں کو مطمئن کریں۔یہ حقیقت ہے کہ تقدیریں اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں، لیکن جب کوئی شخص کسی کام کو کئی بار کرنے کے باوجود ناکام رہتا ہے تو اسے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ: ’’میاں! تمہاری تقدیر خراب ہے، اس میں تمہارا کیا قصور؟‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں، جب تک کہ اس کی تقدیر میں اس کام کا کرنا لکھا نہ گیا ہو، لیکن جب کوئی شخص اپنی تدبیر اور کوشش کے بل بوتے پر کام کرتا ہے تو خدا کی بنائی ہوئی تقدیر آڑے آتی ہے۔ جواب ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم تقدیر کے مسئلے پر بحث کر رہے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہمیں بحث میں اُلجھے ہوئے دیکھ کر بہت غصّے ہوئے، یہاں تک کہ چہرۂ انور ایسا سرخ ہوگیا، گویا رُخسارِ مبارک میں اَنار نچوڑ دیا گیا ہو، اور بہت ہی تیز لہجے میں فرمایا:’’کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا میں یہی چیز دے کر بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے لوگ اسی وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے اس مسئلے میں جھگڑا کیا، میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس میں ہرگز نہ جھگڑنا۔‘‘(۱)(ترمذی، مشکوٰۃ ص:۲۲)حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ’’جو شخص تقدیر کے مسئلے میں ذرا بھی بحث کرے گا، قیامت کے دن اس کے بارے میں اس سے باز پُرس ہوگی۔ اور جس شخص نے اس مسئلے میں گفتگو نہ کی، اس سے سوال نہیں ہوگا۔‘‘(۲)(ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ ص:۲۳)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:’’کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک ان چار باتوں پر ایمان نہ لائے: ۱:۔ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۲:۔ اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے۔ ۳:۔ موت اور موت کے بعد والی زندگی پر اِیمان لائے۔ ۴:۔ اور تقدیر پر اِیمان لائے۔‘‘(۳)(ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ ص:۲۲)ان ارشاداتِ نبوی سے چند چیزیں معلوم ہوئیں: ۱:۔ تقدیر حق ہے اور اس پر اِیمان لانا فرض ہے۔ ۲:۔ تقدیر کا مسئلہ نازک ہے، اس میں بحث و گفتگو منع ہے اور اس پر قیامت کے دن باز پُرس کا اندیشہ ہے۔ ۳:۔ تدبیر، تقدیر کے خلاف نہیں، بلکہ تقدیر ہی کا ایک حصہ ہے۔ (۱) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمر وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان، فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت الیکم؟ انما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر، عزمت علیکم، عزمت علیکم، أن لَا تنازعوا فیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر)۔ (۲) عن عائشہ قالت: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من تکلم فی شیء من القدر سئل منہ یوم القیامۃ، ومن لم یتکلم فیہ لم یسئل عنہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۳، باب الْإیمان بالقدر)۔ (۳) عن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع: یشھد أن لَا إلٰہ إلّا اللہ وانِّی رسول اللہ بعثنی بالحق، ویؤمن بالموت، والبعث بعد الموت، ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر)۔ ×
تقدیر برحق ہے، اس کو ماننا شرطِ اِیمان ہے
تقدیر تقدیر برحق ہے، اس کو ماننا شرطِ اِیمان ہے سوال ۔ آدمی کے دُنیا میں تشریف لانے سے پہلے تقدیر لکھ دی جاتی ہے کہ یہ آدمی دُنیا میں یہ کام کرے گا، کیا تقدیر میں لکھا ہوتا ہے کہ جب دُنیا فانی سے رخصت ہوگا تو اس کی اتنی نیکیاں اور اتنی بدیاں ہوں گی؟ تو پھر نامۂ اَعمال اور تقدیر میں کیا فرق ہے؟ جواب ۔ تقدیر برحق ہے۔ اور اس کو ماننا شرطِ ایمان ہے۔(۱) لیکن تقدیر کا مسئلہ بے حد نازک اور باریک ہے، کیونکہ تقدیر اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اور آدمی صفاتِ اِلٰہیہ کا پورا اِحاطہ نہیں کرسکتا۔(۲) بس اتنا عقیدہ رکھا جائے کہ دُنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے سے اس کا علم تھا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے سے لوحِ محفوظ میں لکھ رکھا تھا۔(۳) پھر دُنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ بعض میں انسان کے ارادہ و اختیار کا بھی دخل ہے، اور بعض میں نہیں۔ جن کاموں میں انسان کے ارادہ و اختیار کو دخل ہے، ان میں سے کرنے کے کاموں کو کرنے کا حکم ہے، اگر انہیں اپنے ارادہ و اختیار سے ترک کرے گا تو اس پر مؤاخذہ ہوگا، اور جن کاموں کو چھوڑنے کا حکم ہے ان کو اپنے ارادہ و اختیار سے چھوڑنا ضروری ہے، نہیں چھوڑے گا تو مؤاخذہ ہوگا۔(۴) الغرض جو کچھ ہوتا ہے تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے لیکن اختیاری اُمور پر چونکہ انسان کے ارادہ و اختیار کو بھی دخل ہے، اس لئے نیک و بد اعمال پر جزا و سزا ہوگی، ہمارے لئے اس سے زیادہ اس مسئلے پر کھود کرید جائز نہیں، نہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔ (۱) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع ۔۔۔ ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۲)۔ نیز: قال الْإمام الأعظم: یجب أی یفرض ۔۔۔ أن یقول اٰمنت باللہ ۔۔۔ والقدر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۳ تا ۱۵)۔ (۲) والقدرۃ، وھی صفۃ ازلیۃ تؤثر فی المقدورات عند تعلقھا بھا۔ (شرح عقائد ص:۱۱۳ طبع ایچ ایم سعید)۔ (۳) ولَا یکون فی الدنیا ولَا فی الآخرۃ شیء ۔۔۔ اِلّا بمشیتہ وعلمہ وقدرہ أی بتقدیرہ بقدر قدرہ وکتبہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ (۴) فللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔ ×
مسئلۂ تقدیر کی مزید وضاحت
تقدیر مسئلۂ تقدیر کی مزید وضاحت سوال ۔ آپ نے اپنے جنگ کے کالم میں ایک خاتون کے سوال ’’تقدیرِ الٰہی کیا ہے؟‘‘ کا جواب تحریر فرمایا۔ آپ کے جواب نے ذہن میں پڑی ہوئی گرہ کو پھر سے اُجاگر کردیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ہر چیز تقدیرِ الٰہی کے تابع ہے، انسان کی زندگی سے متعلق تمام باتیں پہلے سے لکھ دی جاتی ہیں۔کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، یہ بات بالکل عیاں ہے، ذہن میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ انسان کی زندگی کے تمام معاملات پہلے سے معین اور مقرّر کردئیے گئے ہیں، مثلاً: رزق، شادی وغیرہ کے معاملات۔پھر انسان کی زندگی میں کرنے کے لئے رہ ہی کیا جاتا ہے! یہ ضرور ہے کہ انسان کے ہزاروں سال کے مشاہدے میں یہ ضرور آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ معاملات پہلے سے طے فرمادیتے ہیں، مثلاً: زندگی و موت، شادی جیسے معاملات (حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ تعجب نہیں جو پروردگارِ عالم جوشِ رحمت میں ان معاملات میں بھی ردّ و بدل فرمادیتے ہوں) لیکن اگر تمام معاملات میں یہی صورتِ حال ہے تو انسان خفیف ترین کوشش بھی آخر کس لئے کرے؟آپ نے زندگی کے تمام معاملات کے لئے جو جواب تحریر فرمایا ہے بلکہ آپ نے فیصلہ کن انداز میں تحریر فرمایا ہے، اس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ انسان کی ساری کوششیں لاحاصل ہیں، اس کی تمام کوششوں کا نتیجہ وہی نکلنا ہے جو اس کی کوشش شروع کرنے سے پہلے لکھا جاچکا ہے، پھر وہ کسی بھی کام کے لئے سعی و کوشش کیوں کرے؟ جبکہ اسے معلوم ہے کہ اس کی ہر ہر سعی کا نتیجہ محض صفر کی شکل میں آنا ہے، نہیں! مولانا صاحب نہیں۔۔۔! پروردگار اتنے کھٹور نہیں ہوسکتے، یہ محض شاعری نہیں:نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں!میں آپ کی توجہ ارشادِ باری تعالیٰ کے ان الفاظ کی طرف بھی مبذول کرانا چاہوں گی، جس کا ترجمہ ہے کہ:’’ہر شخص کو اتنا ہی ملے گا جتنی اس نے کوشش کی۔‘‘اب محترم یوسف صاحب! یہ دلیل نہ دیجئے گا کہ انسان کی کوشش کا فیصلہ بھی پہلے کیا جاچکا ہے، یعنی یہ کہ وہ کوشش کتنی کرے گا، یہ دلیل بحث برائے بحث ہوگی، کیونکہ اس کا مطلب وہی ہوجائے گا کہ ہر بات کا فیصلہ پہلے سے کیا جاچکا ہے، جبکہ مندرجہ بالا آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالا جاسکتا۔خدشہ ہے کہ لاکھوں افراد جو یہ کالم پڑھتے ہیں، آپ کے جواب سے زندگی کی ساری دلچسپیاں کھوچکے ہوں گے یا فکر میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔دُعا کا فلسفہ:آپ کے جواب سے مذہبِ اسلام میں دُعا کا جو فلسفہ اور تصوّر ہے، اور جو اِسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، کی نفی ہوتی ہے، جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کی زندگی کے سارے معاملات پہلے فیصل اور طے کردیتے ہیں، انسان کچھ بھی کرے، ہونا وہی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے، اب اللہ کا کوئی بندہ اپنی کسی مشکل یا مصیبت سے نجات کے لئے پروردگارِ عالم سے اِلتجا اور دُعا کرتا ہے تو آپ کے جواب کے موجب وہ گویا دیوار سے سر پھوڑتا ہے، کیونکہ اس کی زندگی میں ہونا تو وہی ہے جو پہلے سے اس کی تقدیر میں لکھا جاچکا ہے، پھر بھلا دُعا کے لئے کیا جگہ باقی رہ جاتی ہے، پھر اس کا مطلب کیا ہے؟:’’اللہ تعالیٰ دُعا سننے والے ہیں!‘‘اور خالق کائنات کے یہ پُرشفقت الفاظ کہ: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘ کیا معنی رکھتے ہیں؟یہ بھی یاد رکھئے Rigidity اور رحمت یکجا نہیں ہوسکتے، آپ نے اپنے جواب میں جو کچھ فرمایا ہے، اس کے مطابق تو اِنسان کو ہمدردی سے پُر ان الفاظ کے برخلاف بالکل مایوس ہوجانا چاہئے، کیونکہ بقول آپ کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی دُعائیں، اس کی اِلتجائیں اور اس کی ساری زندگی کی کوششیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔تیسری بات جو آپ کے جواب کی تردید کرتی ہے وہ اقوامِ عالم کی تاریخ ہے، آج امریکا اور پورا یورپ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے، کم از کم مادّی ترقی کے لحاظ سے (ویسے اخلاقی لحاظ سے بھی وہ مسلمانوں سے کہیں بہتر ہیں)، ان کی یہ ترقی صرف اور صرف ان کی اَنتھک محنتوں اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اب اگر آپ یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں پہلے سے ایسا لکھ دیا ہے تو آپ کو وہ تمام باتیں تسلیم کرنا ہوں گی۔ اوّل یہ کہ: اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تقدیر میں جن کو ہم کافر اور گمراہ قوم کہتے ہیں، کامیابیاں اور آسائشیں لکھی ہیں اور یہ کہ ان کی کوششوں کا ان کو اَجر دیتے ہیں۔ دوئم یہ کہ: انہوں نے اپنے پیروؤں اور نام لیوا قوموں کی تقدیر میں ناکامیاں اور ذِلت لکھی ہے، اور ان کی کوششوں کو محض ضائع کرنا لکھا ہے، اور یہ کہ آج دُنیا بھر میں جو مسلمان ذِلت اور رُسوائی اُٹھارہے ہیں اور کیڑوں مکوڑوں کی طرح مر رہے ہیں، تو ان سب تباہ کاریوں میں وہ بالکل بے قصور اور بری الذمہ ہیں، کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض تقدیر کا لکھا ہے۔محترم یوسف صاحب! یہ قوم پہلے ہی اپنی نااہلی اور Corruption میں انتہا کو پہنچ چکی ہے، اب اسے اور بے عملی کا Tranqulizer نہ دیجئے، یہ پہلے ہی خوابِ خرگوش میں بے خود ہے، اسے یہ بتائیے کہ:ستارہ کیا تری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خاک زبوں عطا ہو، رومی ہو، رازی کہ غزالی ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے بے آہ سحرگاہی! جواب ۔ آپ کے تینوں سوالوں کا جواب میری تحریر میں موجود تھا، مگر جناب نے غور نہیں فرمایا، بہرحال آپ کی رعایت کے لئے چند اُمور دوبارہ لکھتا ہوں۔اوّل:۔ تقدیر کا عقیدہ قرآن مجید(۱) اور احادیثِ شریفہ میں مذکور ہے،(۲) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام اہلِ حق کا متفق علیہ عقیدہ ہے،(۳) اس لئے اس عقیدے سے انکار کرنا یا اس کا مذاق اُڑانا اپنے دِین و اِیمان کا مذاق اُڑانا ہے۔دوم:۔
قسمت سے کیا مراد ہے؟
تقدیر قسمت سے کیا مراد ہے؟ سوال ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں قسمت کیا ہے؟ کیا انسان کی محنت اور کوشش سے قسمت کے فیصلے بدلے جاسکتے ہیں؟ کیا یہ اللہ تعالیٰ متعین کرتا ہے؟ کیا قسمت کو کسی وظیفے یا دُعا سے بدلا جاسکتا ہے؟ یا زندگی کو سنوارا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جواب ۔ قسمت اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے، اور جو کچھ جس کی قسمت میں لکھ دیا ہے، وہ اس کو ملے گا۔ جو قسمت میں لکھا ہو، وہ آدمی کے سامنے پیش آجاتا ہے، لیکن آدمی کو بھی اپنی غلطی کا اقرار کرنا چاہئے۔(۱) (۱) وَكَانَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قَدَرٗا مَّقۡدُورًا ٣٨ الأحزاب ٣٨۔ أی وکان أمرہ الذی یقدرہ کائنًا لَا محالۃ وواقعًا لَا محید عنہ ولَا معدل فما شاء کان، ومالم یشاء لم یکن۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۱۸۴)۔ ×