تقدیر جب ہر کام کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں تو پھر شیطان کا کیا دخل ہے؟ سوال ۔ جب بھی انسان کوئی بُرا کرتا ہے یا اللہ کے اَحکام کی تحقیر و عدولی کرتا ہے، تو اِبلیس کو کوستے ہیں، ہماری مقدس کتاب قرآن شریف میں بھی اِبلیس کو کھلا دُشمن قرار دیا گیا ہے، بلکہ حدیث کی رُو سے اس کو اِنسان کا بھیڑیا کہا گیا ہے، لیکن جب کوئی انسان اچھا کام کرتا ہے، اسے اللہ کی توفیق قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے متعلق متفکر ہوئے تو یہ کہا کہ: کان میں ہی کلمہ پڑھ لیا جائے، تو اس پر حضور کے چچا نے کلمہ نہیں پڑھا۔ اس پر وحی نازل ہوئی کہ اور جس کو چاہے اللہ ہی ہدایت دیتے ہیں، آپ کا کام تو صرف پہنچادینا ہے۔ قرآن شریف میں اور بھی کئی بار نظر سے گزرا کہ جس کو چاہتے ہیں وہ ہدایت دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ فرمائیں کہ انسان کو گمراہ اللہ کرتے ہیں تو شیطان کو کیوں کھلا دُشمن قرار دیا گیا اور اسے کیوں کوستے ہیں؟ جواب ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت خالق کی حیثیت سے ہے، اور شیطان اس کا سبب اور ذریعہ بنتا ہے۔(۱) (۱) واللہ تعالٰی یضل من یشاء ویھدی من یشاء بمعنٰی: خلق الضلالۃ والْإھتداء، لأنہ الخالق وحدہ ۔۔۔ نعم قد تضاف الھدایۃ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مجازًا بطریق التسبیب کما یسند الی القرآن، وقد یسند الْإضلال الی الشیطان مجازًا کما یسند الی الأصنام۔۔۔الخ۔ (شرح العقائد ص:۹۵، ۹۶، طبع خیر کثیر)۔ ×
خیر اور شر سب خدا کی مخلوق ہے، لیکن شیطان شر کا سبب و ذریعہ ہے
تقدیر خیر اور شر سب خدا کی مخلوق ہے، لیکن شیطان شر کا سبب و ذریعہ ہے سوال ۔ اخبار جنگ کے ایک مضمون بعنوان ’’ایمان کی بنیادیں‘‘ میں صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ حضرت عمرؓ سے (ایک طویل حدیث میں) روایت ہے کہ: آنے والے شخص نے جو درحقیقت جبرائیل علیہ السلام تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور آخرت کو حق جانو، حق مانو، اور اس بات کو بھی مانو کہ دُنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، خدا کی طرف سے ہوتا ہے، چاہے وہ خیر ہو، چاہے شر ہو۔ (صحیح مسلم)۔ہم اب تک یہ سنتے آئے تھے کہ خیر خدا کی طرف سے اور شر شیطان کی طرف سے ہے۔ اب مذکورہ بالا حدیث پڑھ کر اِیمان ڈانواڈول ہو رہا ہے اور نہ جانے مجھ جیسے کتنے کمزور اِیمان والے بھی شش و پنج میں پڑگئے ہوں گے، کیونکہ جب شر بھی خدا کی طرف سے ہے تو پھر اِنسان مجرم کیوں؟ جواب ۔ ہر چیز کی تخلیق خدا تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے، خواہ خیر ہو یا شر، شیطان شر کا خالق نہیں، بلکہ ذریعہ اور سبب ہے، اس لئے اگر شر کی نسبت شیطان کی طرف سبب کی حیثیت سے کی جائے تو غلط نہیں، لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ خیر کا خالق ہے، اسی طرح شیطان کو شر کا خالق سمجھا جائے تو یہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے،(۱) مسلمانوں کے نزدیک ہر چیز کا ایک ہی خالق ہے۔(۲) (۱) القدریۃ مجوس ھٰذہ الاُمّۃ حیث ذھبوا الٰی ان للعالم فاعلین، أحدھما سبحانہ وتعالٰی، وھو فاعل الخیر، والثانی شیطان وھو فاعل الشر۔ (شرح فقہ اکبر ص: ۶۱)۔ وعنہ أی ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: القدریۃ مجوس ھٰذہ الاُمّۃ، أی اُمّۃ الْإجابۃ، لأن قولھم أفعال العباد مخلوقۃ بقدرھم یشبہ قول المجوس القائلین بأن للعالم اِلٰھین: خالق الخیر وھو یزدان وخالق الشر وھو اھرمن أی الشیطان ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۴۹، کتاب القدر، طبع بمبئی ودہلی)۔ (۲) ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ ٦٢ الزمر ٦٢۔ واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان لَا کما زعمت المعتزلۃ: ان العبد خالق لأفعالہ ۔۔۔الخ۔ (شرح عقائد ص:۷۵ طبع خیر کثیر)۔ ×
گناہ کی سزا کیوں دی جاتی ہے جبکہ یہ اس کے مقدّر میں لکھا تھا؟
تقدیر گناہ کی سزا کیوں دی جاتی ہے جبکہ یہ اس کے مقدّر میں لکھا تھا؟ سوال ۔ انسان جب دُنیا میں آتا ہے تو اس کی تقدیر میں لکھا جاتا ہے کہ یہ گناہ کرے گا، اور یہ ثواب کے کام۔ جب گناہ کرتا ہے تو اس کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟ جواب ۔ انسان کو نیک اور بدعمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، وہ اپنے اختیار سے گناہ کرتا ہے، اس لئے سزاد دی جائے گی۔(۱) (۱) واذا عرفت ذٰلک فللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ، لَا کما زعمت الجبریۃ: أنہ لَا فعل للعبد أصلًا۔ (شرح العقائد النسفی ص:۸۱ طبع خیر کثیر، روح المعانی ج:۱ ص:۱۳۳ سورۃ البقرۃ:۷)۔ ×
بُرا کام کرکے مقدر کو ذمہ دار ٹھہرانا صحیح نہیں
تقدیر بُرا کام کرکے مقدر کو ذمہ دار ٹھہرانا صحیح نہیں سوال ۔ ایک آدمی جب بُرا کام کرتا ہے، اس سے اگر پوچھا جائے تو کہتا ہے کہ یہ میرے مقدّر میں لکھا ہوا تھا۔ جب اللہ نے اس کے مقدّر میں لکھا تھا تو پھر اس کا کیا قصور؟ جواب ۔ بندے کا قصور تو ظاہر ہے کہ اس نے بُرا کام اپنے اختیار سے کیا تھا، اور مقدّر میں بھی یہی لکھا تھا کہ وہ اپنے اختیار سے بُرا کام کرکے قصوروار ہوگا اور سزا کا مستحق ہوگا۔(۱)تنبیہ:۔ بُرا کام کرکے مقدّر کا حوالہ دینا خلافِ ادب ہے، آدمی کو اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا چاہئے۔ (۱) وھی أی أفعال العباد کلھا أی جمیعھا من خیرھا وشرھا وان کانت مکاسبھم بمشیتہ أی بإرادتہ وعلمہ وقضائہ وقدرہ أی علٰی وفق حکمہ وطبق قدر تقدیرہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۷)۔ ×
جب ڈاکو بننا، ڈاکٹر بننا، چور بننا مقدّر ہے تو آدمی کا کیا قصور ہے؟
تقدیر جب ڈاکو بننا، ڈاکٹر بننا، چور بننا مقدّر ہے تو آدمی کا کیا قصور ہے؟ سوال ۔ ایک مریض اگر بیمار ہے اور اس کی موت لکھی ہوتی ہے تو وہ مرجاتا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اس کی زندگی کی دُعا کرتے ہیں تو وہ کس طرح قبول ہوگی؟ کیونکہ اس کی موت تو اس کے وقت پر آنی ہے، تو دُعا سے کیا اس کی موت میں دیر ہوسکتی ہے؟ اسی طرح ہر چیز اللہ ہی کے حکم میں جکڑی ہوئی ہے تو پھر اِنسان خطاوار کس طرح ہوا؟ کیونکہ اس نے تو وہی کیا جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوا تھا اور جو اللہ کو منظور تھا۔ یا اِنسان کا ذہن آزاد ہے یا اگر ایک انسان دُوسرے انسان کو گولی ماردیتا ہے تو وہ کس طرح قصوروار ہے؟ کیونکہ مقتول کی تو موت اسی طرح لکھی تھی اور اس کے ہاتھوں قتل ہونا لکھا تھا۔ تو کیا قاتل کا دِماغ اللہ نے آزاد کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ کرسکتا ہے؟ اور اگر نہیں کرسکتا تو وہ کس طرح خطاکار ہے؟اسی طرح ایک عیسائی امریکا میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے سامنے چاروں طرف عیسائی ماحول ہوتا ہے، تو وہ کس طرح مسلمان ہوسکتا ہے جبکہ اس کے سامنے حق کی کوئی راہ ہی نہیں تو وہ کس طرح گناہگار ہوگا؟ اسی طرح کسی آدمی کے اُوپر مشکل لکھی ہوئی ہے تو وہ دُعا سے کس طرح ٹل سکتی ہے؟ یا کہ دُعا سے تقدیر بدل سکتی ہے اور مقدّر کا لکھا ٹل سکتا ہے؟ اسی طرح کہتے ہیں کہ انسان اپنی بُرائی کا خود ذمہ دار ہے، تو وہ کس طرح ذمہ دار ہے؟ کیونکہ اس نے وہی کیا جو اس کے مقدّر میں لکھا تھا۔ اسی طرح کوئی ڈاکٹر بنتا ہے، کوئی ڈاکو، کوئی لٹیرا، کوئی چور، کوئی دہشت گرد، تو اس کا تو کوئی قصور نہیں، کیونکہ یہی کچھ بننا اس کے مقدّر میں لکھا تھا۔ جواب ۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، آپ نے جو سوال لکھے ہیں، ان کے بارے میں مختصراً لکھتا ہوں۔ ۱:۔ مریض کے لئے ہم دُعا بھی کرتے ہیں، اور دوا بھی۔ دوا اور علاج معالجے کے بارے میں کبھی کسی کے ذہن میں تقدیر کا مسئلہ نہیں آتا، یہ کیوں؟ بیمار شفایاب ہوجائے گا یا نہیں؟ اس کے بارے میں تقدیرِ اِلٰہی کیا ہے؟ اس کا ہمیں علم نہیں۔ اس لئے ہم دوا بھی کرتے ہیں اور دُعا بھی، تقدیر میں صحت ہوگی تو دوا اور دُعا مؤثر ہوگی، ورنہ نہیں۔(۱) ۲:۔ بلاشبہ ہر چیز تقدیرِ اِلٰہی کے مطابق ہوتی ہے، لیکن جو کام ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرتے ہیں، ان میں انسان کو مجبورِ محض نہیں سمجھتے، چنانچہ اگر کوئی طالبِ علم خوب محنت کرکے اچھے نمبروں میں کامیاب ہو، ہم اسے اِنعام اور شاباش دیتے ہیں، اور بدمحنت طالبِ علم فیل ہوجائے تو اسے ملامت کرتے ہیں، کیونکہ اِس کا محنت کرنا، اور اُس کا بدمحنتی سے کام لینا دونوں اختیاری ہیں، حالانکہ پاس اور فیل ہونا بھی تقدیر کے ماتحت تھا۔(۲) ۳:۔ ایک انسان دُوسرے کو قتل کردیتا ہے، یہاں ہم قاتل کو عدالت میں گھسیٹتے ہیں، کیونکہ اس نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایک شخص آپ کو گالی دیتا ہے، آپ اس کو کبھی تقدیر کے حوالے سے معذور نہیں جانتے، کیونکہ یہ اس کا اختیاری فعل ہے۔ ۴:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل کی روشنی عطا فرمائی ہے، جس کے ذریعے وہ صحیح اور غلط میں امتیاز کرتا ہے، اس لئے جو عاقل و بالغ ہونے کے باوجود غلط دِین اختیار کئے ہوئے ہے، آپ اس کو معذور قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ اس کا فرض تھا کہ وہ عقل کی روشنی میں صحیح اور غلط مذہب میں فرق کرتا، اپنے غلط ماحول کے باوجود آدمی عقل سے کام لے تو دِینِ حق کو تلاش کرسکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال سب کے سامنے ہے۔(۳) ۵:۔ جو مقدّر ہے، وہ تو ہوکر رہے گا۔ مگر ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہمارے لئے کیا مقدّر ہے؟ اس لئے ہمیں حکم ہے کہ تم ظاہر حال کے مطابق جائز اسباب اختیار کرو، دُعا بھی من جملہ اسباب کے ایک سبب ہے۔(۴) ۶:۔ کوئی ڈاکٹر بنے یا ڈاکو، سب کچھ تقدیر کے مطابق ہے، لیکن ڈاکٹر اور ڈاکو دونوں اپنے اختیار سے بنتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے، اسی اختیار پر وہ ثواب یا عذاب کا مستحق ہے۔(۵) گو ساری چیزیں تقدیر کے ماتحت ہیں، مگر تقدیر کا ہمیں علم نہیں۔ اس سے زیادہ اس مسئلے میں کھود کرید کرنا جائز بھی نہیں اور مفید بھی نہیں۔(۶) (۱) ان الدّعاء یردّ البلاء اذا کان علٰی وفق القضاء، والحاصل انّ القضاء المعلّق یتغیّر بخلاف المبرم۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۹)۔ (۲) وھی أی أفعال العباد کلھا أی جمیعھا من خیرھا وشرھا وان کانت مکاسبھم بمشیتہ أی بإرادتہ وعلمہ وقضائہ وقدرہ أی علٰی وفق حکمہ وطبق قدر تقدیرہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۷)۔ (۳) ان العقل آلۃ للمعرفۃ، والموجب ھو اللہ تعالٰی فی الحقیقۃ، ووجوب الْإیمان بالعقل مروی عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۶۸)۔ (۴) واعلم ان القدر لَا یزاحم سببیۃ الأسباب لمسبباتھا لأنہ إنما تعلق بالسلسلۃ المترتبۃ جملۃ مرۃ واحدۃ وھو قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الرقٰی والدواء والتقاۃ ھل ترد شیئًا من قدر اللہ؟ قال: ھی من قدر اللہ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۶۷ طبع إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ)۔ أیضًا عن أبی خزامۃ عن أبیہ قال: قلت: یا رسول اللہ! أرأیت رقًی نسترقیھا ودواء نتداویٰ بہ وتقاۃ نتقیھا ھل ترد من قدر اللہ شیئًا؟ قال: ھی من قدر اللہ۔ رواہ أحمد والترمذی وابن ماجۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲)۔ (۵) فللعباد أفعال إختیاریۃ یثابون بھا إن کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا إن کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)، فقال أھل السُّنَّۃ للخلق أفعال بھا صاروا مطیعین وعصاۃ ۔۔۔إلخ۔ (المسامرۃ شرح المسایرۃ ص:۹۷)۔ (۶) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمرّ وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت إلیکم؟ إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر،
سب کچھ پہلے لکھا جاچکا ہے یا انسان کو بھی نیک اعمال کا اختیار ہے؟
تقدیر سب کچھ پہلے لکھا جاچکا ہے یا انسان کو بھی نیک اعمال کا اختیار ہے؟ سوال ۔ تقدیر کے بارے میں فرمائیں کہ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جاچکا ہے یا نیک کام کرنے کے لئے آدمی کو بھی کچھ اختیار ہے؟ اور آدمی کا اختیار کہاں تک ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور میں نے قرآن پاک کی یہ آیت (ایف اے) کی تفسیر القرآن (مصنفہ غلام احمد فریدی) صفحہ نمبر:۳۰۹ میں پڑھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ جس کو چاہے مٹادے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھے اور اس کے پاس لوحِ محفوظ ہے‘‘ (الرعد:۳۹)۔ آپ مجھے قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ کے خیالات اور اپنی رائے سے مفصل طور پر آگاہ فرماویں، تاکہ میری پریشانی دُور ہوسکے۔ جواب ۔ ہر چیز پہلے سے لکھی جاچکی ہے، اور تمام اختیاری اُمور میں آدمی کو اِختیار بھی ہے۔ اختیار، تقدیر کے مقابل نہیں، بلکہ اس کے ماتحت ہے۔ یعنی تقدیر میں یوں لکھا ہے کہ آدمی اپنے قصد و اِرادے اور اِختیار سے فلاں فلاں وقت فلاں فلاں کام کرے گا۔ جنت و دوزخ کا فیصلہ واقعی ہوچکا ہے، مگر اس کا ظاہری سبب افعالِ اختیاریہ ہی کو بنایا گیا ہے۔ اور یہ جو فرمایا ’’اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھتا ہے‘‘ اس سے مراد تقدیرِ معلق ہے کہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، لیکن ’’اصل کتاب‘‘ میں تقدیرِ مبرم لکھی ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تقدیرِ معلق ہوئی۔ تقدیرِ مبرم یہ ہے کہ فلاں بیمار، فلاں دوا و علاج کرے گا تو بچ جائے گا، نہیں کرے گا تو مرجائے گا۔ لیکن وہ کرے گا یا نہیں؟ یہ بات ’’اصل کتاب‘‘ میں لکھی ہے، اور یہ تقدیرِ مبرم ہے۔(۱) ہمارے اکابر، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہی عقیدہ ہے جو میں نے لکھا اور یہی قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔ (۱) وعین مقادیرھم تعیینا بما لَا یتأتی خلافہ بالنسبۃ لما فی علمہ القدیم المعبر عنہ بأم الکتاب أو معلقًا کان یکتب فی اللوح المحفوظ فلان یعیش عشرین سنۃ، ان حج وخمسۃ عشر ان لم یحج، وھٰذا ھو الذی یقبل المحو والْإثبات المذکورین فی قولہ تعالٰی: يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩ أی التی لَا محو فیھا ولَا اثبات فلا یقع فیھا إلّا ما یوافق ما أبرم فیھا کذا ذکرہ ابن حجر۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲)۔ ×
انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، کیا وہ سب کچھ پہلے لکھا ہوتا ہے؟
تقدیر انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، کیا وہ سب کچھ پہلے لکھا ہوتا ہے؟ سوال ۔ انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، کیا وہ پہلے سے لکھا ہوتا ہے؟ یا انسان کے اعمال کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتا ہے؟ جواب ۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اس میں زیادہ کھود کرید تو جائز نہیں، بس اتنا ایمان ہے کہ دُنیا میں جو کچھ اب تک ہوا یا ہورہا ہے، یا آئندہ ہوگا، ان ساری چیزوں کا اللہ تعالیٰ کو دُنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی علم تھا۔ دُنیا کی کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے، نہ قدرت سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس علم کے مطابق کائنات کی ہر چیز اور ہر اِنسان کا ایک چارٹر لکھ دیا ہے، دُنیا کا سارا نظام اسی خدائی نوشتے کے مطابق چل رہا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہیں اور اس پر اِیمان لانا واجب ہے، جو شخص اس کا منکر ہو، وہ مسلمان نہیں۔(۱)یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِرادہ و اختیار اور عقل و تمیز کی دولت بخشی ہے،(۲) اور یہ طے کردیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق اور اپنے ارادہ و اختیار سے فلاں فلاں کام کرے گا۔(۳)یہ بھی ایمان ہے کہ انسان کے اچھے یا بُرے اعمال کا نتیجہ اسے ثواب یا عذاب کی شکل میں آخرت میں ملے گا، اور کچھ نہ کچھ دُنیا میں بھی مل جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں قرآنِ کریم اور حدیث شریف میں(۴) بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، ان پر اِیمان رکھنا چاہئے۔ اس سے زیادہ اس مسئلے پر غور نہیں کرنا چاہئے۔ اس میں بحث و مباحثے سے منع کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔(۵) (۱) خلق اللہ تعالٰی الأشیاء ۔۔۔ وکان اللہ عالمًا فی الأزل بالأشیاء قبل کونھا ۔۔۔ ومن زعم أن التقدیر الخیر والشر من عند غیراللہ کان کافرًا باللہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۷، ۴۸)۔ (۲) وھدایۃ اللہ تتنوع أنواعًا لَا یحصیھا ۔۔۔ الأوّل افاضۃ القویٰ التی بھا یتمکن المرء من الْإھتداء الٰی مصالحۃ کالقوۃ العقلیۃ والحواس الباطنۃ والمشاعر الظاھر ۔۔۔الخ۔ (تفسیر بیضاوی ص:۹) أن العقل آلۃ للمعرفۃ ۔۔۔ ووجوب الْإیمان بالعقل مروی عن أبی حنیفۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۶۸)۔ (۳) واللہ تعالٰی خالقھا أی موجد أفعال العباد وفق ما أراد لقولہ تعالٰی: ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ ۔۔۔ وفعل العبد شیء۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۰)۔ فللعباد أفعال اختیاریۃ ۔۔۔الخ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔ (۴) وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩ وَأَنَّ سَعۡيَهُۥ سَوۡفَ يُرَىٰ ٤٠ ثُمَّ يُجۡزَىٰهُ ٱلۡجَزَآءَ ٱلۡأَوۡفَىٰ ٤١ النجم ٣٩-٤١، لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ البقرة ٢٨٦، ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۚ لَا ظُلۡمَ ٱلۡيَوۡمَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٧ غافر ١٧، وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا يَخَافُ ظُلۡمٗا وَلَا هَضۡمٗا ١١٢ طه ١١٢، وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ (الشوري ٣٠)، وعن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ لَا یظلم مؤمنًا حسنۃ یعطٰی بھا فی الدنیا ویجزی بھا فی الآخرۃ، وأما الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا ﷲ فی الدنیا حتّٰی اذا افضٰی الی الآخرۃ لم یکن لہ حسنۃ یجزی بھا۔ رواہ مسلم (مشکوٰۃ ص:۴۳۹ کتاب الرقاق)، عن أبی موسی الأشعری ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یصیب عبدًا نکبۃ فما فوقھا أو دونھا إلّا بذنب، وما یعفو اللہ تعالٰی عنہ أکثر، وقرأ: وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۳۶، باب عیادۃ المریض)۔ (۵) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمر وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت إلیکم؟ إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر، عزمت علیکم، عزمت علیکم، أن لَا تنازعوا فیہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۲ باب الْإیمان بالقدر)۔ ×
انسان کے حالات کا سبب اس کے اعمال ہیں
تقدیر انسان کے حالات کا سبب اس کے اعمال ہیں سوال ۔ ایک انسان جس کو اپنی قسمت سے ہر موقع پر شکست ہو یعنی کوئی آدمی مفلس ونادار بھی ہو، غربت کی مار پڑی ہو، علم کا شوق ہو، لیکن علم اس کے نصیب میں نہ ہو، خوشی کم ہو، غم زیادہ، بیماریاں اس کا سایہ بن گئی ہوں، ماں باپ، بہن بھائی کی موجودگی میں محبت سے محروم ہو، رشتے دار بھی ملنا پسند نہ کرتے ہوں، محنت زیادہ کرے، پھل برائے نام ملے، ایسا انسان یہ کہنے پر مجبور ہو کہ یا اللہ! جیسا میں بدنصیب ہوں، ایسا تو کسی کو نہ بنا۔ اس کے یہ الفاظ اس کے حق میں کیسے ہیں؟ اگر وہ اپنی تقدیر پر صبر کرتا ہو اور صبر نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ جواب ۔ انسان کو جو ناگوار حالات پیش آتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اِنسان کی شامتِ اعمال کی وجہ سے آتے ہیں،(۱) ان میں اللہ تعالیٰ سے شکایت ظاہر ہے کہ بے جا ہے، آدمی کو اپنے اعمال کی دُرستی کرنی چاہئے۔ اور جو اُمور غیراختیاری طور پر پیش آتے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی تو ذاتی غرض ہوتی نہیں، بلکہ بندے ہی کی مصلحت ہوتی ہے، ان میں یہ سوچ کر صبر کرنا چاہئے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کو میری ہی کوئی بہتری اور بھلائی منظور ہے، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں، ان کو بھی سوچنا چاہئے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی كُلِّ حَالٍ ‘‘ کہنا چاہئے۔(۲) (۱) وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ الشوري ٣٠۔ وعن أبی موسی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یصیب عبدًا نکبۃ فما فوقھا أو دونھا إلّا بذنب، وما یعفو اللہ تعالٰی عنہ أکثر، وقرأ: وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص: ۱۳۶، باب عیادۃ المریض)۔ (۲) عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا أخذ مضجعہ من اللیل قال: الحمد ﷲ الذی کفانی وآوانی ۔۔۔ فاجزل، الحمد ﷲ علٰی کل حال ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۱۲، باب الدعوات فی الأوقات، ابوداوٗد ج:۲ ص:۳۳۳ کتاب الأدب، باب ما یقال عند النوم)۔ ×
کیا ظاہری اسباب تقدیر کے خلاف ہیں؟
تقدیر کیا ظاہری اسباب تقدیر کے خلاف ہیں؟ سوال ۔ تقدیر پر اِیمان لانا ہر مسلمان کا فرض ہے، یعنی اچھی اور بُری تقدیر پر اِیمان لانا، لیکن جب اسے نقصان پہنچے یا مصیبت میں گرفتار ہو تو وہ ظاہری اسباب کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، وہ کیوں ایسے کہتا ہے کہ: ’’اگر ایسا نہیں، ایسا کیا جاتا تو ایسا ہوتا اور یہ نقصان نہ ہوتا اور یہ مصیبت نہ آتی‘‘ تو کیا اس طرح کہنے سے گناہ تو نہیں ہوتا؟ اور تقدیر پر اِیمان رکھنے کے سلسلے میں اس طرح کہنے سے اس کی ایمانیت میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا؟ اور کیا اِنسان کو تقدیر کے بارے میں سوچنا نہیں چاہئے؟ جواب ۔ شرعی حکم یہ ہے کہ جو کام کرو خوب سوچ سمجھ کر بیدار مغزی کے ساتھ کرو، اس کے جتنے جائز اسباب مہیا کئے جاسکتے ہیں، ان میں بھی کوتاہی نہ کرو۔ جب اپنی ہمت و بساط اور قدرت و اختیار کی حد تک جو کچھ تم کرسکتے ہو، کرلیا۔ اس کے بعد نتیجہ خدا کے حوالے کردو۔ اگر خدانخواستہ کوئی نقصان وغیرہ کی صورت پیش آجائے تو یوں خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، وہ ہوا۔ اور اسی میں حکمت تھی۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ اگر یوں کرلیتے تو یوں ہوجاتا، اس سے طبیعت بلاوجہ بدمزہ اور پریشان ہوگی، جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا، اسے تو کسی صورت میں واپس نہیں لایا جاسکتا، تو اب ’’اگر، مگر‘‘ کا چکر سوائے بدمزگی و پریشانی کے اور کیا ہے؟ اس لئے حدیث میں اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے، اور اس کو ’’عملِ شیطان‘‘ کی کنجی فرمایا گیا ہے۔(۱) درحقیقت یہ ضعفِ اِیمان، ضعفِ ہمت، حق تعالیٰ شانہ‘ سے صحیح تعلق نہ ہونے کی علامت ہے۔ (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وفی کل خیر أحرض علٰی ما ینفعک واستعن باللہ ولَا تعجز وإن أصابک شیء فلا تقل لو أنی فعلت کان کذا وکذا، ولٰـکن قل قدر اللہ وما شاء فعل، فإن ’’لو‘‘ تفتح عمل الشیطان۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۳۸، باب الْإیمان بالقدر والْإذعان لہ، وأیضًا فی ابن ماجۃ ص:۳۰۷)، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ۔۔۔ فان علیک أمر فقل قدر اللہ وما شاء اللہ فعل، وایاک واللَّوَ فان اللَّو تفتح عمل الشیطان۔ (ابنِ ماجہ ص:۳۰۷)۔ ×
کیا حلال اور حرام کمانا قسمت میں لکھا ہوتا ہے؟
تقدیر کیا حلال اور حرام کمانا قسمت میں لکھا ہوتا ہے؟ سوال ۔ کئی دوستوں سے سنا ہے کہ دولت جتنی قسمت میں لکھی ہے، وہی ملے گی۔ چاہے بندہ جائز طریقے سے حاصل کرلے، چاہے ناجائز طریقے سے۔ میرے خیال میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا روپیہ قسمت میں نہیں لکھا ہوتا، بلکہ یہ ایک اضافی گناہ ہے۔ کون سا موقف دُرست ہے؟ جواب ۔ دوستوں کا کہنا صحیح ہے، کسی کی قسمت میں حلال لکھا ہے، کسی کی قسمت میں حرام۔(۱) اور حرام کمانے اور کھانے پر وہ گناہگار ہوگا، کیونکہ قسمت میں لکھا ہونے سے وہ مجبور نہیں ہوجاتا۔ یا یوں کہا جائے کہ قسمت میں لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے حرام کمائے گا۔(۲) (۱) ان الحرام رزق، لأنّ الرّزق اسم لما یسوقہ اللہ تعالٰی الی الحیوان فیتناولہ وینتفع بہ، وذٰلک قد یکون حلالًا وقد یکون حرامًا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۵)۔ (۲) وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔ ×