مسلمانوں کے بنیادی عقائد
وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہونا چاہئے؟
سوال
۔ زید کہتا ہے کہ حکماء اور فلسفیوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ نہ عالم کے اندر ہے، نہ عالم کے باہر، اور صوفیاء کے نزدیک خود عالم کے اندر اور باہر ہر جگہ ہے۔ زید کہتا ہے کہ صوفیوں اور فلسفیوں دونوں کا کہنا غلط ہے، فلسفیوں کا اس لئے غلط ہے کہ جو چیز عالم کے اندر ہو نہ باہر، وہ عدم ہوتی ہے، عالم سے مبرّا نہیں ہوتی، کیونکہ مبرّا ہونے کے لئے وجود چاہئے، نیز عالم چونکہ حادث ہے، اس لئے عالم یا اس کے باہر کسی حادث کا اثبات یا نفی تو ممکن ہوسکتی ہے، مگر خود حادث نہیں، لہٰذا عالم یا اس سے باہر نہ خدا کا اثبات ہوسکتا ہے، نہ نفی، لہٰذا یہ دونوں باتیں غلط ہیں کہ خدا نہ عالم میں موجود ہے، نہ باہر۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ خدا عالم اور اس سے باہر ہر جگہ موجود ہے، بلکہ صرف یہ کہنا چاہئے کہ خدا حدوث اور عالم سے مبرّا ہے اور خدا کو ہر جگہ کہنا یا ہر جگہ سے نفی کرنا صحیح نہیں۔ بس خدا کو عالم سے مبرّا کہنا چاہئے۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ زید کے اس قول کے بارے میں یہ بتائیں کہ آیا یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق ہے یا نہیں؟ نیز اہلِ سنت کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے؟