حضرت شہید ِ اسلام رحمه الله
کا مختصر تعارف
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَ جْمَعِیْنَ اَمَّابَعْدُ:
اللہ تعالیٰ اس جہان کے خالق ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی مبارک ذات کی طاقت وقوّت ظاہر کرنے کے لئے مخلوقات پیدا فرمائیں، ان مخلوقات میں سے کچھ عقل و ادراک کی حامل ہیں، بقیہ بظاہر غیرمدرک وغیرعاقل ہیں، لیکن درحقیقت وہ بھی اپنے خالق و مالک کی تسبیح و تہلیل کرنے میں عقل و شعور کا ایک درجے تک اِدراک رکھتی ہیں۔
ان مخلوقات ِمدرکہ وعاقلہ کی مشہورومعروف تین اَقسام ہیں:
- 1:ناری،
- 2:نوری
- اور
- 3:خاکی۔
ناری یعنی شیاطین، ان میں خیرکاکوئی ذرّہ نہیں ہے، ان کی سرشت اور طبیعتوں میں شرہی شر ہے، تااَبد راندۂ درگاہ ہیں، اللہ تعالیٰ کاان پر غضب ہے۔نوری یعنی فرشتے وملائک، یہ اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں، جن میں خیرہی خیرہے، یہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی کرہی نہیں سکتے، یہ اِطاعت وفرماںبرداری کے پیکرہیں۔خاکی یعنی بنی نوعِ انسان، ان میں خیربھی ہے اورشربھی ہے، یہ اِطاعت ومعصیت دونوں کے متحمل ہیں، اگر یہ شرکی طرف مائل ہوجائیں، توشیطان سے بھی بدتر ہوجاتے ہیں، اور اگر خیر کی طرف ان کا میلان ہوجائے، تو فرشتوں سے بھی فضیلت وجلالتِ شان میں سبقت لے جاتے ہیں۔ اس لئے مشرکین ومنافقین جہنّم کے نچلے درجے میںہوں گے، اورانبیاء ومرسلینB جنّت کے اعلیٰ مراتب اور نعمتوں میں ہوں گے، جناب محمدرسول اللہ J کامنصب ومرتبہ اسی لئے خدائے بزرگ وبرترکے بعدسب سے اعلیٰ وارفع ہے۔باری تعالیٰ کی یہ مخلوق خیروشر دونوں ہی کی راہوں کو اِختیارکرسکتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم k کو سجدہ نہ کرنے کی بنا پر شیطان کو مردود قرار دِیا، شیطان نے حضرت آدم k کی اولاد کو گمراہ کرنے، ورغلانے اور زیغ وضلال کی راہوں پر ڈالنے کااعلان کردیا، رَبِّ حکیم وعلیم نے اس کے اس نارسا چیلنج پرنوعِ انسانی میں اپنے قاصدین اورپیغام رساؤں کابندوبست فرمایا، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علمِ اَزلی یعنی تقدیر وحکمت کا تقاضا تھا۔حضرت آدم k سے لے کرجنابِ محمد رسول اللہ J تک سب ہی رسول اور نبی فرشتوں کے توسط اور اِلہامات واِلقاءاتِ الٰہیہ کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی مرضیات کاپتا دیتے رہے، خیر کا پیغام پہنچاتے رہے، اِنسانیت ومخلوق کی بھلائی اور مالک کی اِطاعت وفرماںبرداری کی تعلیم دیتے رہے، شیاطین اپنا کام کرتے رہے، وہ انسانوں کو خالق سے برگشتہ کرنے اور اِرتکابِ معاصی پرلگاتے رہے۔ علامہ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبیچنانچہ سیّدنا آدم k سے لے کر جناب خاتم النّبیین J تک اِنسانی تعلیمات کے یہ کورسز ومراحل یادرجات، تکمیل پذیرہوئے، اور ختمِ نبوّت یعنی تعلیماتِ اِلٰہیہ کے اِختتام کاتاجِ اقدس سروَرِ کائنات فخرِ موجودات حضرت محمدرسول اللہ J کے سرمبارک پر سجا دیا گیا۔ آپ J کو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے ماڈل، نمونہ، قدوہ اور اُسوۂ حسنہ بنایا گیا، دِین کا اِکمال ہوگیا، خالق کی نعمتوں کا اِتمام ہوا، اور ’’اسلام‘‘ کو بطور دِین ومذہب کے تاقیامت چُنا اور منتخب کیا گیا۔ اب اس باڈی اور ڈھانچے میں کوئی کمی بیشی کسی طور پر قبول نہیں کی جاسکتی، نہ ہی یہ آخری ایڈیشن اس کا متحمل ہے، اورنہ ہی اس کی کسی کو اِجازت، یااس میں چشم پوشی ہوسکتی ہے۔ اس سب کے باوجود اگر کوئی دجل، کذب، اِفترا اور فریب کاری کی کوشش کرے گا تو اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ عالم درہم برہم ہوجائے گا، جس کی تعبیر ’’قیامت‘‘ سے کی گئی ہے۔لیکن شیاطین اور اس کے حواری تو اس قسم کے حربوں سے تاقیامت باز نہیں آئیں گے، وہ اپنے تئیں ضلالت وگمراہی کی ترغیب دیتے رہیں گے، اورپہاڑوں جیسی سازشیں اور چیرہ دستیاں کرکے اِنسانیت کو بے راہ روی، باطل، زَندقہ، اِلحاد اورکفر ونفاق کی طرف بلاتے رہیں گے۔ ادھر نبوّت کا سلسلۃ الذہب اِختتام پذیر ہوگیا، اب اِنسانیت کو صحیح اور حق کی نشاندہی کون کرے گا، چنانچہ علمائے اسلام کی صورت میں وارثانِ انبیاء کی ذمہ داری لگائی گئی کہ اب یہ حضرات گرامی قدر تجدید واِحیائے دِین کافریضہ انجام دیتے رہیں گے، اور شیاطین، دجاجلہ اور کذّابین ومفترین کا اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر، سر پر کفن باندھ کر ہر میدان میں مقابلہ ومقاومت کریں گے۔ ان مجدّدِین و مجاہدین اور اہلِ حق و علمبردارانِ تعلیماتِ نبوی کے اوصاف واِمتیازات بھی اللہ ورسول نے قرآن وسنّت میں بتلادیئے۔ چنانچہ:قرآنِ کریم ان کے کچھ خواص اس طرح بیان کرتاہے:
1: خشیتِ اِلٰہی اور خوفِ خدا:
إِنَّمَا يَخْشَى ٱللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ٱلْعُلَمَـٰٓؤُا ۗ(فاطر:۲۸)ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرتے وہی ہیں، اس کے بندوں میں جن کو سمجھ ہے۔‘‘2: نافہمیدہ مسائل میں لوگ ان ہی ذاکرین کی طرف رُجوع کریں گے:فَسْـَٔلُوٓا أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٤٣(النحل)ترجمہ: ’’سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں۔‘‘3: ان کی پڑھائی اِعلائے کلمۃاللہ کے لئے ہوگی، اور ان کوتعلیم قلم کے ذریعے دی گئی ہوگی:ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ ١ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ٢ ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ ٣ ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ ٤ عَلَّمَ ٱلْإِنسَـٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ٥ (العلق)ترجمہ: ’’پڑھ اپنے رَبّ کے نام سے جو سب کا بنانے والا، بنایا آدمی کو جمے ہوئے لہو سے، پڑھ اور تیرا رَبّ بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔‘‘4: یہ ذاکرین وشاغلین طالبانِ آخرت اُسوۂ نبوی کے مکمل پابندہوں گے:لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا ٢١ (الاحزاب)ترجمہ: ’’تمہارے لئے بھلی تھی سیکھنی رسول اللہ کی چال، اس کے لئے جو کوئی اُمید رکھتا ہے اللہ کی اور پچھلے دن کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت سا۔‘‘5: تفقّہ فی الدِّین اور اِنذارِ اَقوام ان کاخاصہ ہوگا:فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍۢ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ١٢٢ (التوبۃ)ترجمہ: ’’سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ان کا ایک حصہ تاکہ سمجھ پیدا کریں دِین میں اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جبکہ لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ بچتے رہیں۔‘‘6: اِرتدادی فتنوں کے سامنے اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل میں انہیں کبھی خوف لاحق نہ ہوگا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائدۃ)ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جو کوئی تم میں پھرے گا اپنے دِین سے تو اللہ عنقریب لاوے گا ایسی قوم کو کہ اللہ ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتی ہیں، نرم دِل ہیں مسلمانوں پر، زبردست ہیں کافروں پر، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں، اور ڈرتے نہیں کسی کے اِلزام سے، یہ فضل ہے اللہ کا، دے گا جس کو چاہے اور اللہ کشائش والا ہے خبردار۔‘‘7: یہ حضرات وسطیت اور اِعتدال کے مالک ہوں گے:﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَـٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ (البقرۃ:۱۴۳)ترجمہ: ’’اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو اُمّتِ معتدل۔‘‘احادیثِ نبوی میں اُمّت کو اِن کی نشاندہی یوں کی گئی ہے:
1: سنّتِ نبوی کی تعلیم وترویج ان کی زندگی کا نچوڑ ہوگا:
۱:…’’ان اللہ یقیض للناس فی کل رأس مأۃ سنۃمن یعلّمھم السنن وینفی عن رسول اللہ الکذب۔‘‘ (رواہ الترمذی و الخطیب والعسقلانی۴۹؍۸۴۹)ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ ہر صدی میں لوگوں کے لئے کچھ حضرات کو پابند کریں گے جو انہیں سنتوں کی تعلیم دیں گے اور حضور کی طرف منسوب جھوٹ اور من گھڑت باتوں کی نفی کریں گے۔‘‘۲:…’’ان الدین بدأ غریباً وسیعود غریباًکما بدأ، فطوبی للغرباء، قیل: یارسول اللہ من الغرباء؟ قال: الذین یحیون سنتی ویعلمونھا عباداللہ۔‘‘ (رواہ البیہیقی ۲؍۱۱۷)ترجمہ: ’’دِینِ اسلام شروع میں اجنبی تھا اور پھر سے اپنی ابتداء کی طرح اجنبی ہوجائے گا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کے لئے، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ اجنبی کون ہوںگے؟ فرمایا: جو میری سنتوں سے محبّت کرتے ہوئے انہیں زندہ کریں گے، اور اللہ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیں گے۔‘‘2: وہ اہلِ باطل، جہالت اور غلوّ کرنے والوں کا تعاقب کرتے رہیں گے:’’یحمل ہذالعلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین، وانتحال المبطلین، وتأویل الجاھلین۔‘‘(وقد روی ہذاالحدیث من طرق کثیرۃ، مشکل الآثار للطحاوی۔ ۳۲۸۷)ترجمہ: ’’اس علم کو یکے بعد دیگرے ایک ایک عادل جماعت حاصل کرتی رہے گی، جو اس سے غلوّ کرنے والوں کی کمی بیشی، اہلِ باطل کی جھوٹی باتوں اور جاہلوں کی غلط سلط تاویلات کو مٹا تے رہیں گے۔‘‘3: وہ تجدید واِحیائے دِین کافریضہ انجام دیں گے:’’ان اللہ عزوجل یبعث لہذہ الأمۃعلی رأس کل مأۃسنۃمن یجددلھادینھا۔‘‘(رواہ ابوداود، والحاکم والطبرانی۶؍۲۳۰)ترجمہ: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ اس اُمّت کے لئے ہر نئی صدی میں ایسے لوگ مبعوث فرمائیں گے جو اُن کے سامنے دِینِ اسلام کی تجدید و اِحیاء کا فریضہ انجام دیں گے۔‘‘4: انبیاء کے بعد وہ (مجدّدین) تنِ تنہااوروقتاًفوقتاًجماعتوں کی شکل میں قرآن وسنّت کی تعلیمات کواپنی اصلی شکل میں بیان کرتے ہوئے مبتدعین، ضالین، زَنادقہ اور ملحدین کا مقابلہ کریں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس دِین میں نئے پودے ہوں گے، ان کے مشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا، یہ طائفۂ منصورہ ہوگا، ان کا تسلسل قیامت تک جاری رہے گا:’’من تعلم علماًیحیی بہ الاسلام لم یکن بینہ وبین الانبیاء الا درجۃ۔‘‘ (رواہ ابن عبد البر ۱؍۶۴)ترجمہ: ’’جو آدمی علم سیکھے اِحیائے اسلام کے لئے اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا جوکہ نبوّت ہے۔‘‘’’لایزال اللہ یغرس فی ھٰذا الدین غرساًیستعملھم فی طاعتہ۔‘‘ (مسند احمد:۱۷۴۴۱)ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ اس دِین میں (مجدّدین کے) پودے لگاتے رہیں گے، جنہیںوہ اپنی طاعت کے لئے استعمال فرمائیں گے۔‘‘’’لایزال من أمتی أمۃقائمۃبأمراللہ، لایضرھم من خذلھم، ولامن خالفھم، حتی یأتی أمراللہ وھم علی ذلک۔‘‘ (البخاری، ۳۶۴۱)ترجمہ: ’’میری اُمّت میںایک جماعت ہمیشہ حکمِ خاوندی پر قائم ہوگی، انہیں کسی کی تائید یا مخالفت سے آخر دَم تک کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘5: وہ اتنے سیدھے سادے ہوں گے کہ ہرکسی کوان کے ربّانی اورمجدّدہونے کاپتا بھی نہ چلے گا:’’ان ادنی الرباء شرک، واحب العبید الی اللہ تبارک و تعالیٰ الاتقیاء الاخفیاء، الذین اذا غابو الم یفتقدوا، واذا شھدوا لم یعرفوا، اولئک أئمۃ الھدی، ومصابیح العلم۔‘‘ (رواہ الحاکم فی المستدرک:۳؍۳۰۳)ترجمہ: ’’کم سے کم سود بھی شرک کے برابر ہے، اور اللہ کے نیک بندے وہ چھپے ہوئے تقویٰ دار ہیں، کہ کہیں وہ غائب ہوجائیں تو کوئی تلاش نہ کرے، اوراگر کہیں مجمع میںموجود بھی ہوں تو ان کا پتا نہ چلے، وہی ہدایت و رہنمائی کے سر چشمے اورعلم کے چراغ ہیں۔‘‘6: منکراورناجائزکی تردیدمیں یہ حضرات ہچکچائیں گے نہیں:’’من رأی منکم منکراًفلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ، وذلک اضعف الایمان۔‘‘ (مسلم: ۴۹)ترجمہ: ’’تم میں سے جو بھی کوئی برائی (خلافِ شریعت) دیکھے تو اس کو بزورِبازو روکے، ورنہ زبان سے روکے، ورنہ کم ازکم دِل میں اسے بُرا سمجھے، اور یہ آخری درجہ ایمان کا کمزور ترین حصہ ہے۔‘‘7: یہ مجدّد اپنے مقام و مرتبے کے لحا ظ سے ہزاروں عابدوں کے برابر ہوں گے:’’فقیہ واحد اشدّ علی الشیطان من الف عابد۔‘‘ (البخاری فی التاریخ۳۰۸ـ۳)ترجمہ: ’’تفقُّہ فی الدین کاایک ماہر عالم ہزاروں عام عبادت گزاروں سے شیطان پر بھاری ہوتا ہے۔‘‘8: اللہ تعالیٰ خود ان کا اِنتخاب فرماکر انہیں تفقُّہ فی الدین کی نعمت سے نوازیں گے:’’من یرد اللہ بہ خیراً یفقھہ فی الدین۔‘‘ (متفق علیہ)ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتے ہیں اسے دِین کی سمجھ (فقہ) نصیب کرتے ہیں۔‘‘مذکورہ قرآنی آیات اور اَحادیثِ نبویّہ سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیاکہ حضرات انبیائے کرام B کے تشریف لے جانے، بالخصوص حضور سروَرِ کائنات J کے بعد اُمّت میں انسایت کی رہبری ورہنمائی کے لئے ایسے نائبین اورجانشینوں کا اِنتخاب کیا جائے گا، جو نبوّت کے مرتبے و درجے سے کم لیکن نبوّت والا کام پوری تندہی سے انجام دیں گے۔ان نصوص سے یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوا کہ یہ حضرات بنی نوع بشری میں قیامت تک موجود رہیں گے اور جب بھی اسلامی تعلیمات میں ابتداع یاغلوّ، کمی بیشی یا جوڑ توڑ کاعمل ہوگا، یہ ان تعلیمات کی حقیقی رُوح اور اصلی شکل پیش کرتے رہیں گے، اس طرح یہ اِحیاء وتجدیدِ دِین کے فریضے سے عہدہ برآ ہوں گے۔یہ مجدّدین علماء، حکام، مفکرین اور اُمّت کے دیگرمختلف طبقات میں سے ہوں گے، بعض ان میں کلی اورجامع ہوں گے، یعنی زمان ومکان اورمیدانِ کارکے اعتبارسے، بعض امکنہ، ازمنہ اورماحول کے اعتبارسے جزئی ہوں گے۔
جناب رسالت مآب حضرت محمدرسول اللہ J کے بعدباجماعِ اُمّت خلفائے راشدین حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمرفاروق، حضرت عثمان غنی اورحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین مجدّدیت کے مقام پرفائزہیں، ان کے بعدمختلف محققین نے مختلف فہرستیںمرتب کی ہیں، جن میں حضرت حسین q، عمر بن عبدالعزیز، اِمام احمدبن حنبل، اِمام شافعی، اِمام ابوالحسن اشعری، اِمام غزالی، اِبنِ حزم الظاہری، علّامہ ابنِ رُشد، حافظ ابنِ تیمیہ، حافظ ابن القیم، صلاح الدین ایوبی، سلطان محمودغزنوی، مجدّدالف ثانی، اِمام الہند شاہ ولی اللہ، شیخ محمدبن عبدالوہاب نجدی، سیّد جمال الدین افغانی، شیخ محمدعبدہ، قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی، شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا محمد اِلیاس بانیٔ تبلیغی جماعت، مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، حکیم الاُمّت مولانا اشرف علی تھانوی، ترکی کے شیخ بیرم اور سعودی عرب کے شیخ ابن باز …w… شامل ہیں۔
آخرالذکر چند اَسماء میں بعض دیگر کا اضافہ اور موجودہ پربعض حضرات کاانتقاد ممکن ہے، البتہ شاہ ولی اللہ اورجمال الدین افغانی کاتذکرہ مجدّدیت کے عنوان پر سب لکھنے والوں نے کیا ہے، گویا یہ عرب وعجم اورتمام فِرَق ومکاتب کے یہاں بالاتفاق اس مقام پرفائزتھے۔
تجدید واِحیائے دِین کے اس زُمرے میں عصرِ حاضر کی بھی بعض نامور شخصیات خاص میادین اور بعض علیٰ طریق الکلیہ اس فہرست میں شامل ہونے کے لائق ہیں۔
بہر حال چونکہ شہیدِ اسلام حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی v کی شخصیت و کردار ہمارے پیشِ نظر ہے، لہٰذاہم ان کی چیدہ چیدہ صفات اور کارنامے ذکر کرکے یہ ثابت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی تجدید واِحیائے دِین کاکام لیاہے، ان کی حیات ِمبارکہ، کارنامے اور بچپن سے پیرانہ سالی اور شہادت تک جدوجہد بعد میں آنے والوں کے لئے صحیح معنوں میں ایک نمونہ، اُسوہ، ماڈل اورسنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کی طالب علمی کا دور، تدریس، اِمامت خطابت، تحریروتقریر، قیادت ومشیخیت، فتنوں کاتعاقب، جرح وتعدیل، تصوّف وسلوک، فکرونظر، تصنیف و تالیف، جہاد وقتال، اِتباعِ سنّت وشریعت، گھریلو اور عوامی تگ وتاز، غرض ہر میدان میںبنظرِ عمیق جائزہ لینے والوں کو ان کی ایک ایک اَدا قابلِ دید اور قابلِ تقلید نظر آئے گی۔زمانۂ طالب علمی:اپنی انتہائی مختصر خود نوِشت میں فرماتے ہیں:’’مشرقی پنجاب کے ضلع لدھیانہ اور ضلع جالندھر کے درمیان دریائے ستلج حد فاصل کا کام دیتا تھا، ضلع لدھیانہ کے شمال مشرقی کونے میں دریائے ستلج کے درمیان ایک چھوٹی سی جزیرہ نما بستی ’’عیسیٰ پور‘‘ کے نام سے آباد تھی، جو ہر برسات میں گرنے اور بننے کی خوگر تھی، یہ مصنّف کا آبائی وطن تھا۔ تاریخِ ولادت محفوظ نہیں، اندازہ یہ ہے کہ سنِ ولادت ۱۳۵۱ھ، ۱۹۳۲ء ہوگا، والدہ ماجدہ کا اِنتقال شیرخوارگی کے زمانے میں ہوگیا تھا، والد ماجد چوہدری اللہ بخش مرحوم ومغفور حضرتِ اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرّہٗ سے بیعت، ذاکر وشاغل اور زیرک و عاقل بزرگ تھے، دیہات میں پنچایتی فیصلے نمٹانے میں ان کا شہرہ تھا۔ قریب کی بستی موضع جسووال میںان کے پیربھائی حضرت قاری ولی محمد صاحب ایک خضر صفت بزرگ تھے، قرآنِ کریم کی تعلیم انہی سے ہوئی، پرائمری کے بعد ۱۳ برس کی عمر ہوگی کہ لدھیانہ کے مدرسہ محمودیہ اللہ والا میں داخل ہوئے، یہاں حضرت مولانا اِمداد اللہ حصاروی صاحب سے فارسی پڑھی، اگلے سال مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے مدرسہ انوریہ میں داخلہ لیا، دوسال یہاں مولانا انیس الرحمٰن، مولانا لطف اللہ اور دیگر اساتذہ سے ابتدائی عربی کی کتابیں پڑھیں، ۲۷ ؍رمضان ۱۳۶۶ھ کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا، اور مشرقی پنجاب سے مسلم آبادی کے اِنخلا کا ہنگامۂ رستاخیز پیش آیا، مہینوں کی خانہ بدوشی کے بعد چک ۳۳۵ ڈبلیوبی ضلع ملتان میں قیام ہوا، وہاں سے قریب منڈی جہانیاں میں چوہدری اللہ دادخان مرحوم کی تعمیر کردہ جامع مسجدمیں مدر سہ رحمانیہ تھا، وہاں حضرت مولانا غلام محمد لدھیانوی اور دیگر اساتذہ سے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، ایک سال مدرسہ قاسم العلوم فقیروالی ضلع بہاولنگر میں حضرت مولاناعبداللہ رائے پوری، ان کے برادرِ خورد حضرت مولانالطف اللہ رائے پوری شہید اور حضرت مولانا عبداللطیف صاحب مد ظلہ العالی سے متوسطات کی تعلیم ہوئی، اس کے بعد چار سال جامعہ خیرالمدارس ملتان میں تعلیم ہوئی، ۷۲-۱۳۷۳ھ میں مشکوۃ شریف ہوئی، ۷۳-۱۳۷۴ھ میں دورۂ حدیث، اور ۷۴-۱۳۷۵ھ میں تکمیل کی، خیرالمدارس میں درج ذیل اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے: حضرت اقدس اُستاذُالعلماء مولانا خیر محمد جالندھری قدس سرہ، بانیٔ خیر المدارس وخلیفۂ مجاز حضرتِ اقدس حکیم الاُمّت مولانا اشرف علی تھانوی v، حضرت مولانا عبدالشکور کامل پوری v، حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ ڈیروی v، حضرت مولانا محمد نور صاحب v، حضرت مولانا غلام حسین صاحب v، حضرت مولانا جمال الدین صاحب v، حضرت مولانا علّامہ محمد شریف کشمیری v۔ دورۂ حدیث کے سال حضرتِ اقدس مولانا خیر محمد جالندھری v سے سلسلۂ اشرفیہ اِمدادیہ صابریہ میں بیعت کی، اور علومِ ظاہری کے ساتھ تعمیرِ باطن میںان کے انوار وخیرات سے استفادہ کیا۔‘‘ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۱، ص:۱۲)دورانِ تعلیم درجہ سابعہ کے سال شہرۂ آفاق اور کلیدی حیثیت کی حامل حدیث کی کتاب مشکوٰۃالمصابیح کی شرح لکھی ’’التقریرالنجیح‘‘ کے نام سے، کمال کی بات یہ ہے کہ یہ شرح کسی اُستاذ کی آمالی نہیں بلکہ طبع زادتھی، میرے ناقص مطالعے کے مطابق شایدہی آج تک کسی طالبِ علم نے دورانِ تعلیم اتنی بڑی عظیم الشان اور مہتم بالشان کتاب کی اس طرح شرح لکھنے کی ہمت کی ہو۔ آپ کے ہم سبق نیز مولانا عبدالرشید ارشد v (بانی و مدیر ماہنامہ ’’الرشید‘‘ لاہور) نے یہ بھی لکھاہے کہ شہیدِ اسلام v نے دورے کے سال بخاری وترمذی کے تمام دُروس بھی لکھے، اورسالانہ امتحان میں پہلی پوزیشن بھی لی۔ راولپنڈی کے مولاناقاری سعیدالرحمٰن صاحب مرحوم حضرت شہیدِ اسلام vکے ہم سبق تھے۔ انہوںنے بہت سی باتوں کے علاوہ خود حضرت کی اپنی ایک بات نقل کی ہے : ’’رفیقِ درس ہونے کی وجہ سے بڑی بے تکلفی کا سلوک رہا، افغانستان کے سفرمیں فرمایا’’وہ واقعہ یادہے کہ ایک بارہم دونوں خیرالمدارس میں امتحان دے رہے تھے کہ کسی نے امتحان گاہ میں پرچی پھینکی اورہم دونوں نے اس کوہاتھ بھی نہ لگایا، اورفرمایاکہ میں نے توان کوکہا: یہ خیانت اوربددیانتی ہے‘‘ (ماہنامہ ’’بینات‘‘ شہیدِ اسلام نمبر، ص:۱۸۵)۔
مثالِ زیست سرِ راہ جلا دی ہم نے
ایسی دُنیا تو نہ تھی جیسی بنا دی ہم نے
چنانچہ یہی امانت و دیانت اور زُہد و تقویٰ انہیں حضرتِ اقدس اُستاذُالعلماء مولانا خیر محمد جالندھری نوّراللہ مرقدہٗ کے دست مبارک پر بیعت کے لئے آمادہ کرتا ہے۔
درس و تدریس کا انداز:تعلیم سے فراغت پر حضرت مرشد v کے حکم سے روشن والا ضلع لائلپورکے مدرسے میںتدریس کے لئے تقرر ہوا، اور دو سال میں وہاں ابتدائی عربی کتب سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک تمام کتابیںپڑھانے کی نوبت آئی، دو سال بعد حضرت مرشدنے ماموںکانجن بھیج دیا، وہاں حضرت مولانا محمد شفیع ہوشیارپوری کی معیت میںقریباًدس سال قیام رہا۔ ماموںکانجن کے بعد۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۴ءتک جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں بھرپور تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد دفترختمِ نبوّت ملتان کے رُوحِ رواں رہے۔ ۱۹۷۷ء میں جامعہ علومِ اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے منسلک ہوئے اور تادَمِ شہادت یہاں اکناف واَطرافِ عالم سے آئے ہوئے تشنگانِ علومِ نبوّت کی آبیاری فرماتے رہے۔اِبتدائی دو سالوں میں مشکوٰۃ تک تدریس، اور شاید وہاں دورہ نہ ہوتاہو، ورنہ اس تک رسائی، درسِ نظامی کے میدان میں تدریس سے وابستہ حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس سے حضر ت شہیدِ اسلام v کی مدرّسانہ عبقریت اظہرمن الشمس ہے۔ ان کی تدریس کتنی جامع مانع اور تیر بہدف تھی، اس کا اندازہ آپ ان کے حدیث کے متعلق درسی مجموعے ’’معارفِ نبوی‘‘ سے بخوبی لگاسکتے ہیں، متعلقاتِ درس کاکس قدر اِحاطہ اور حشو وزوائد سے کتنا اِجتناب وکنارہ کشی، اہلِ علم اس کتاب کو پڑھ کر بڑی آسانی سے حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ تقریرِ درس میں تأثیر وافادیت کا اندازہ چہاردانگِ عالم میں پھیلے ہوئے ان کے تلامذہ سے لگاسکتے ہیں، جوہمہ وقت صرف آپ کی تدریس کے حوالے سے مدح سرائی میں رطب اللسان رہتے ہیں۔۱۹۸۸ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن میں یکے بعد دیگر ے ایسے حادثات پیش آئے کہ آپ کو ایک دفعہ پھر تدریس کے میدان میں آنا پڑا۔ اس لئے کہ حضرت مولانا مفتی و لی حسن ٹو نکی مفتیٔ اعظم پا کستان فا لج کی وجہ سے پڑھا نے سے معذو ر ہو گئے۔ حضرت مولانا محمد اِدریس میر ٹھی صا حب رحلت فرماگئے۔ حضرت مولانا فضل محمد صاحب سوا تی، حضرت مولانا بنوری v کے زمانے ہی میں بیماری کی وجہ سے سوات تشریف لے گئے اور وہیں تد ریس میں مشغول تھے۔ اسی طرح حضرت مولانابدیع الزمان بھی بیمار اور معذور ہوگئے، ان نازک لمحات میں جانشینِ بنوری اِمامِ اہلِ سنّت مولانا مفتی احمدالرحمٰن v نے آپ سے فر مایا، اور وہ عجیب دور تھا، کیونکہ حضرت مولانامفتی احمد الرحمٰن v اور حضرت شہیدرحمہ اللہ کے در میان بے تکلفی تھی۔ مفتی صاحب v اکثر تشریف لا تے اور آپ کے دست مبارک سے قلم چھین کر فرماتے، کبھی ہم سے بھی باتیں کیا کریں۔ حضرتؒ اپنی نشست سے باہر تشریف لاتے اور پھر ایک عجیب رُو حانی محفل کا آغاز ہوجاتا۔ حضرت شہید v مفتی صاحب v کے بارے میں اکثر فرمایا کر تے تھے کہ :’’یہ شخص ولی ہے، مگر اس نے اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے۔‘‘ بہر حال مفتی احمدالرحمٰن v نے بے تکلفی سے فرمایا : ’’آپ نے ابو داؤد شریف پڑھا نی ہے!‘‘ حضرت نے فرمایا : ’’مجھ سے اب محنت کا کام نہیں ہوتا، میں پڑھانا چھوڑ چکا ہوں۔‘‘ حضرت مفتی صاحب نے فر مایا: ’’نہیں جی ہم نے فیصلہ کر لیا ہے آپ نے ضرور پڑھا نا ہے، ہمیں اور طلبہ کو اس کی ضرورت ہے۔‘‘ معمولی سی ردّو قدح کے بعد حضرت شہید v نے فرمایا: ’’آپ کے حکم کو کون ٹال سکتاہے، جیسا آپ کا حکم!‘‘اسی طرح کافی عرصے بعد حضرت شہید vاپنے مر شد اور مر بی محدّث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یو سف بنوری v کی مسندِ حدیث پر تشریف فرما ہوئے تو اس مسند کی رونق دوبالا ہو گئی۔ ایسا محسوس ہو نے لگا کہ حضرت اقدس مولانا سیّد محمد یو سف بنوری v کا درس دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ حضرت v نے مسندِ بنوری کو جو زینت بخشی تو شہا دت سے ایک دن قبل تک آپ اس منصب کا حق نبھاتے رہے اور اگر شہادت پر فائز نہ ہو تے تو یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہو تا۔ مفتی محمد جمیل خان شہید v رقم طراز ہیں:’’حضر ت شہید v کی تدریس کو دو مر حلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اِبتدائی تدریس ! یہ دور آپ کی جوانی بلکہ نوجوانی کا دور تھا۔ اس میں آپ نے جو تدریس کی اس میں تر بیت اور طلبہ میں علم کو راسخ کر نے کا جذبہ کا ر فرماتھا۔ اس لئے حضرت نہ صرف خود بہت زیادہ محنت فر ماتے بلکہ طلبہ پر بھی تعلیم کے سلسلے میں بہت زیادہ سختی فر ماتے۔ اس دور کے شاگرد مولانا محمد اسلم گوجرہ، مولانا ضیاءالدین آزاد ماموںکانجن، مولانا محمد حسین حسین پوری، مولاناعبدالشکور مرحوم، مولانامحمد شفیع وغیرہ حضرت v کی تد ریس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت شہید v سبق پر بہت زیادہ گرفت فرماتے، اگر سبق یاد نہ ہوتا توبعض او قات سخت سزائیں بھی دیتے، بعض دفعہ پٹا ئی بھی کر تے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ سے ابتدائی دور میں پڑھنے والے طلبہ باوجود بڑے بڑے عالمِ دِین اور بڑے منصب پر پہنچنے کے آپ سے بہت زیادہ رُعب میں رہتے اور آخری وقت تک آپ سے کھل کر گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ اکثر یہ حضرات کہتے کہ تم لوگ تو حضرت کے سا تھ اس طرح گفتگو کر لیتے ہو، ہم لوگ تو نظر اُٹھاکر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ بارہا یہ حضرات اپنے مافی الضمیر سے حضرت کوآگاہ کر نے کے لئے آج کل کے شاگرد وں کی مدد لیتے۔ اس دور میں آپ نے ایک دن میں کئی کئی کتابیں پڑھائیں۔ بہت تحقیق کے سا تھ کتا ب کے پورے مفہوم سے طلبہ کو آگاہ کر تے، ان کو کتاب ذہن نشین کراتے اور دُوسرے دن سنتے۔ طلبہ کو مطا لعے کے ذوق و شو ق کی رغبت دلا تے۔ کام کرنے کی طرف متوجہ کر تے۔ جو طلبہ درس سے بے ر غبتی کر تے آپ کو اس پر بہت زیادہ افسوس ہوتا۔ آپ فر مایا کر تے تھے کہ: ’’طالبِ علم کو تعلیم کا شوق نہ ہو ؟ اس کا تصوّر نہیں کیا جاسکتا!‘‘ طلبہ کو پڑھنے کے سا تھ لکھنے کی بھی ترغیب دیتے، فارغ ہونے والے حضرات کو تدریس پر لگاتے۔حضرت شہید v کی تد ریس کا دُوسرا دور بڑی کتب کی تدریس کا تھا جس کا زیادہ حصہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال یا جامعہ علوم ِ اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن میں گزرا۔ یہ دور حضرت v کی تصنیف و تالیف کا تھا۔ آپ فجر کے بعد سے لے کر رات بارہ بجے تک تصنیف میں لگے رہتے۔ اس دوران آپ احادیث شریف کے دو یا تین سبق پڑھاتے۔ جامعہ بنوری ٹا ؤن میں حدیث کی صرف ایک کتاب ابو داؤد شریف یا طحاوی شریف کا آپؒ درس دیا کر تے تھے۔ اکثر رات بارہ بجے تک آپ v کتا ب کا مطا لعہ فرماتے۔ سبق کے گھنٹے سے پانچ یا دس منٹ بعد درس گاہ میں تشریف فرما ہو جاتے۔ طلبہ میں سے کسی کو عبارت پڑھواتے، پھر بہت ہی دھیمے انداز میں عقیدت ومحبّت میں ڈُوب کر آپ احادیث شریف کا تر جمہ اور تشریح فرماتے۔ وقفے وقفے سے آپ طلبہ کی طرف نگاہ اُٹھاکر ایک خاص اِلتفات سے مسکراہٹ بکھیرتے تو پوری درسگاہ رُوحانیت سے منوّر ہو جاتی۔ آپ کی نگاہ میں ایسی تاثیر ہو تی کہ ہر طالبِ علم آپ کی محبّت کا اسیر ہو کر رہ جاتا۔ اطمینان سے روزانہ اتنا سبق پڑھاتے کہ وقتِ مقرر پر کتاب ختم فرما دیتے۔ اعمال والی احادیث پر عمل کر نے کی تلقین فرماتے۔ طلبہ کو مسنون ہیئت کے سا تھ رہنے کی تر غیب دیتے۔ آخری دنوں میں طلبہ میں ایک ایک پگڑی تقسیم کر تے، اس طرح عمامہ کی متروک سنّت آپ عملی طور پر جاری فر ماتے۔ احادیث کی تطبیق اس انداز میں فرماتے کہ سننے والے کو آسا نی سے ذہن نشین ہو جا تی۔اکابر علمائے کرام کے مسلک کی وضاحت فرماتے ہوئے اکابر کی تشریح پر اِعتماد کر نے کا حکم دیتے۔ ہمیشہ فرماتے کہ :اکابر علماء کے مقابلے میں اپنی تحقیق کو ایک طرف پھینک دو۔ مثالوں سے واضح فر ماتے کہ اکابر کے طریق سے ہٹنے والے اکثر گمراہ ہو گئے۔ اکثر طلبہ آپ سے بیعت بھی فرماتے۔ ایسے طلبہ کو اَذکار واعمال کی تلقین بھی فرماتے۔ طلبہ کو مولو ی فاضل یا عصری علوم پڑھنے سے بہت سختی کے سا تھ منع فرماتے اور طلبہ میں مولویت کوٹ کوٹ کر بھر نے کی کو شش کرتے۔ آپ کا تدریسی دور بلاشبہ اکابر اسلاف کے طرز کے مطابق مثالی تھا، جس میں ہزاروں طلبہ نے آپؒ سے فیض حاصل کیا اور اس وقت پوری دُنیا میں علومِ دِینیہ کی اِشاعت میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور بیرونِ پاکستان یہ طلبہ حضرت شہید v کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں، بلا شبہ یہ حضرت شہید v کے لئے صد قہ جاریہ ہیں۔‘‘ (شہید ِ اسلام نمبر، ص:۷۳۸)اِمامت وخطابت:ایسے ائمہ وخطباء پر نکیر وارِد ہوئی ہے جن سے ان کے مقتدی نالاں ہوں، حدیث کے اس مفہوم کے تناظر میں اگر حضرت شہیدِ اسلام v کے اس گوشے پرنگاہ ڈالی جائے، تو حیرت واِستعجاب کی اِنتہا نہیں رہے گی، دُور دراز سے عوام الناس، محبین ومعتقدین ان کے دُروس، بیانات اور جمعہ و عیدین کی خطابت سننے کے لئے کتنے بے تابانہ حاضر ہوتے تھے، ’’فلاح مسجد‘‘ فیڈرل بی ایریا کو ایک عظیم اِصلاحی، دِینی راہنمائی اور رُشد و ہدایت کی وہ مرکزیت حاصل ہوگئی تھی، جو شہر بھر میں خال خال مساجد کو حاصل ہوتی ہے۔حضرت شہیدِ اسلام نوّراللہ مرقدہٗ نے مسجد، منبرو محراب، اِمامت وخطابت اورمحلے میں ایک مصلح کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ چنانچہ ’’فلاح مسجد‘‘ میں ان کے زمانے میں حاضری دینے والوں اور محلے پر حضرت ؒکی شخصیت کے گہرے اور اَنمٹ نقوش ہیں۔ پانچوں نمازوں بشمول نمازِ فجرمیں مسجد کھچاکھچ بھری رہتی، جمعہ، عیدین اور اَیامِ اِعتکاف میں تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی، سینکڑوں معتکفین حضرت v کے پاس ملک بھرسے آتے اور صرف دس روز کے اِعتکاف یا جمعہ بہ جمعہ حضرت v کا ’’از دل خیزد بردل ریزد‘‘ خطاب سن کر لوگوں کی کایا پلٹ جاتی، اس کی ایسی کیا وجوہات تھیں کہ ہزاروں اَئمہ مساجد بھی اس رُشد و صلاح کے چشمے سے فیضیاب ہوتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ’’شابٌّ نشأ فی عبادۃ اللہ‘‘ تھے، صغرسنی سے لے کر بڑھاپے تک اپنے معمولات، بزرگو ں سے مصاحبت وارادت اور قرآن وسنّت کے متبحر عالم وعاشق تھے، خد ا و رسول سے انہیں بہت عشق تھا، ماہنامہ ’’بینات‘‘ کے ’’شہیدِ اسلام نمبر‘‘ میں مفتی محمدنعیم حیدرآبادی اور صاحبزادہ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے تہجد، صلوٰۃالتسبیح، ذِکرواَذکار، تلاوت، تکبیرِ اُولیٰ اور دورانِ نماز ان کی انابت اِلی اللہ، خشیت اور دھیان فی الصلوٰۃ کے جو خاکے کھینچے ہیں، وہ پڑھنے اور عمل کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اِمامت وخطابت کو اُسوۂ رسول J سمجھ کر اس نمونے کی مکمّل پاسداری کی، تو خود بھی ایک نمونہ بن گئے۔ حضرت شہید v لکھتے ہیں:’’تہجد میں جب اُٹھتا ہوں، تو روزانہ صلوۃ التسبیح اسی وقت پڑھ لیتا ہوں، پھر ذِکر کا معمول پورا کرتا ہوں، پھر اگر وقت ہوتا ہے تو مناجاتِ مقبول اور ذریعۃ الوصول کی منزل بھی پڑھ لیتاہوں، اتنی دیر میں اَذانِ فجر ہوجاتی ہے، تو دو رکعت فجر کی سنّت پڑھ کر مسجد میں آجاتا ہوں اور جماعت ہونے تک تلاوت کرتا رہتا ہوں۔‘‘(ماہنامہ ’’بینات‘‘ شہیدِ اسلام نمبر، ص:۳۳۰)
خطبات میں حضرت v کی زبان و بیان کا اندازہ ان کے اِصلاحی مواعظ سے لگایا جاسکتا ہے، مولانا سعید احمد جلال پوری شہید vکا بیان ہے:’’جس طرح آپ کی تحریر میں بلاکی روانی، شائستگی، شستگی اور حد درجہ خیرخواہی اور دِل سوزی کا جذبہ ہے، اسی طرح آپ کے وعظ وبیان میں اس سے کہیں زیادہ خلقِ خدا کی نفع رسانی کا عنصر ہے، اس لئے آپ کے مواعظ حد درجہ مفید، نافع اور اِصلاحی ہوتے ہیں۔‘‘ ( ماہنامہ ’’بینات‘‘ شہیدِ اسلام نمبر، ص:۲۶۵)آٹھ جلدوں میں اِصلاحی مواعظ شہیدِ اسلام ہمارے آج کے اَئمۂ کرام کے لئے ایک عظیم اور گرانقدر سوغات ہے۔
تصوّف وسلوک:زمانۂ طالب علمی ہی میں درجہ تکمیل کے ساتھ حضرت اقدس مولانا خیر محمد جالندھری v سے سلسلۂ اشرفیہ امدادیہ صابریہ میں بیعت کی، اور علومِ ظاہری کے ساتھ تعمیرِ باطن میں ان کے انوار وخیرات سے اِستفادہ کیا۔ حضرت جالندھری نوّر اللہ مرقدہٗ کی وفات کے بعد برکۃالعصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی نوّراللہ مرقدہٗ سے رُجوع کیا، حضرت شیخ الحدیث v نے خلافت واِجازت کی خلعت سے سرفراز فرمایا، ساتھ ساتھ حضرت اقدس ڈاکٹرعبدالحی عارفی قدس سرّہٗ نے بھی اَزخود خلافت واِجازت کی سندِ عالی عطا فرمائی۔ آپ کی مشیخیت کس قدر کامیاب رہی جناب نثار احمد خان فتحی کو ذرا پڑھئے:’’ایک کامل شیخِ طریقت میں جن اوصاف کا ہونا ضروری ہے، اس کی فہر ست تو بہت طویل ہے، لیکن جن چند بنیادی اوصاف کا ہو نا لا زمی شرائط میں سے ہے، ان میں سب سے پہلا وصف یہ ہے کہ وہ کسی صا حبِ سلسلہ بزرگ کی صحبت میں رہ کر اِجازتِ بیعت حاصل کر چکا ہو۔ دُوسری بنیادی بات یہ کہ شریعت وطریقت کے علم کا جامع ہو۔ اور تیسری بنیادی بات یہ کہ اللہ اور اس کے رسول J کے عشق کی چنگاری اس کے دِل میں سلگ چکی ہو۔مخلوق کی ہدایت اور رہنما ئی کے لئے یہ کا فی ہے، کیو نکہ اصل فیضِ ہدایت تو خدا کی طرف سے آتا ہے، شیخ تو صرف وسیلہ ہوتا ہے، اللہ تعا لیٰ مرید کی عقیدت وخدمت اور شیخ کی اِتباع کی بدولت ہدایت اور اپنی معرفت کے دروازے کھول دیتا ہے، حضرت مولانا v بچپن ہی سے اکابرین مشائخ کی صحبت میں رہے اور بہت تھو ڑے عر صے میں اپنی ثقاہت، للہیت، اِخلاص اور تفقُّہ فی الدین کی وجہ سے ان کے منظورِ نظر ہو گئے، اور شیخ الحدیث قطب الا قطاب حضرت مولا نا محمد زکریا v صاحب اور ڈاکٹر عبد الحی عار فی صاحب v سے مجا ز بیعت ہو گئے۔زندگی کے آخری پانچ بر سوں میں ایک خلقتِ کثیر کا آپ کی طرف رُجوع ہوا، کیا عوام اور کیا خواص ! سب کے قلوب آپ کی طرف اس طرح کھنچے گئے جیسے لو ہا مقنا طیس کی طرف کھنچتا ہے، یہا ں تک کہ آپ کی شہا دت سے کچھ عر صے پہلے اکابر علماء آ پ سے بیعت کا شرف حاصل کر چکے تھے، اور کسی عالم کا کسی بزرگ سے بیعت کرنا، اس کے شیخِ طریقت ہونے کی بیّن دلیل ہے۔طریقت کے را ستے میں سب سے بڑی چیز اپنی ذات، اپنے اوصاف اور اپنے کمالات کی نفی ہو تی ہے، تواضع، کسر نفسی اور اپنے کچھ نہ ہو نے کا احساس، سلوک کے بڑے بڑے مقامات طے کر ادیتاہے: ’’من تواضع للّٰہ رفعہ اللہ‘‘ حضرت مولانا شہید v میں یہ وصف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۵۰۰)تصنیف وتألیف اور صحافتی زندگی:’’التقریرالنجیح فی شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ آپ v کی پہلی کاوش ہے، جو درجہ سابعہ کے سال طبع زاد تحریر فرمائی تھی، صحیح بخاری اور جامع ترمذی پر اساتذہ کرام کی آمالی بھی زیبِ قرطاس کیں۔ فراغت کے بعد وہ میدانِ قلم میں کس شان سے اُترے ان کا بقلمِ خود اِظہار ملاحظہ ہو:’’سب سے پہلا مضمون مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے ردّ میں لکھا، موصوف نے ’’صدقِ جدید‘‘ میں ایک شذرہ قادیانیوں کی حمایت میں لکھا تھا، اس کے جواب میں ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، لیکن اس سے تشفی نہیں ہو ئی، اس لئے برادرم مستری ذکراللہ کے ایما ء پر مرحوم کی تر دید میں مضمون لکھا جو ’’دارالعلوم‘‘ ہی کی دو قسطوں میں شا ئع ہوا۔ ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ کے ایڈ یٹر مولانا ازہرشاہ قیصر کی فرما ئش پر ’’فتنۂ اِنکا رِ حدیث‘‘ پر ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیو بند کے علا و ہ ہفت روزہ ’’ترجمانِ اسلام‘‘ میں بھی شا ئع ہوا، جمعیت علماء اسلام سرگودھا کے احباب نے اس کو کتاب کی شکل میں بھی شائع کیا۔فیلڈ ما رشل ایوب خان ۱۹۶۲ء میں بی ڈی نظام کے تحت ملک کے صدر بنے تو پاکستان کے ’’اکبرِاعظم‘‘ بننے کے خواب دیکھنے لگے، ڈاکٹر فضل الرحمٰن اور اس کے رُفقاء کو ابوالفضل اور فیضی کا کر دار ادا کر نے کے لئے بلا یا گیا، ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی اسلام پر تابڑتوڑ حملے شروع کر دئیے، ان کے مضامین اخبارات کے علاوہ ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ کے ماہنامہ ’’فکرونظر‘‘ میں شائع ہورہے تھے۔ حضرت اقدس شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہٗ کی تمام تر توجہ ’’فضل الرحمانی فتنہ‘‘ کے کچلنے میں لگی ہوئی تھی، اور ماہنا مہ ’’بینات‘‘ کراچی میں اس فتنے کے خلاف جنگ کا بگل بجا یا جا چکا تھا۔ ’’بینات‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کے جو اِقتباسات شائع ہورہے تھے ان کی روشنی میں ایک مفصل مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا : ’’ڈ اکٹر فضل الرحمٰن کا تحقیقاتی فلسفہ اور اس کے بنیادی اُصول‘‘ یہ مضمون ’’بینات‘‘ کو تصحیح کے لئے بھیجا تو حضرتِ اقدس بنوری v نے کراچی طلب فرمایا اور حکم فرمایا کہ : ماموںکانجن سے ایک سال کی رُخصت لے کر کراچی آجاؤ۔ یہ ۱۹۶۶ء کا واقعہ ہے، چنانچہ حکم کی تعمیل کی، سال ختم ہوا تو حکم فرمایا کہ: یہاں مستقل قیام کرو۔ بعض وجوہ سے ان دنوں کراچی میں مستقل قیام مشکل تھا، جب معذرت پیش کی تو فرما یا کہ کم سے کم ہر مہینے دس دن ’’بینات‘‘ کے لئے دیا کرو۔ ہر مہینے دس دن کا نا غہ ماموںکا نجن کے حضرات نے قبول نہ کیا، اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا حبیب اللہ رشیدی مرحوم ومغفور نے اس کو قبول فرمالیا۔ چنانچہ تدریس کے لئے ماموںکانجن سے سا ہیوال جا معہ رشیدیہ میں تقرر ہوگیا، یہ سلسلہ ۱۹۷۴ء تک رہا، ۱۹۷۴ء میںحضرت اقدس بنوریv نے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی اِمارت و صدارت کی ذمہ داری قبول فرما ئی تو جا معہ رشیدیہ کے بزرگوں سے فرمایا کہ :اس کو جامعہ رشیدیہ سے ختمِ نبوّت کے مرکزی دفتر ملتان آنے کی اجازت دی جا ئے۔ ان حضرات نے بادِلِ نخواستہ اس کی اجازت دے دی، اس طرح جامعہ رشیدیہ سے تدریسی تعلق ختم ہوا۔ بیس دن مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں اور دس دن کراچی میں گزارنے کا سلسلہ حضرت v کی وفات …۳؍ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ، ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء… تک جاری رہا۔ حضرت بنوری v کا ہمیشہ اِصرار رہا کہ مستقل قیام کراچی میں رکھیں، ان کی وفات کے بعد ان کی خواہش کی تکمیل ہوئی۔ اس طرح ۱۹۶۶ء سے آ ج تک ’’بینات‘‘ کی خدمت جاری ہے اور رَبِّ کریم کے فضل واِحسان سے توقع ہے کہ مرتے دَم تک جاری رہے گی۔مئی ۱۹۷۸ء میں جناب میرشکیل الرحمٰن صاحب نے ’’جنگ‘‘ کا اسلامی صفحہ ’’اقرأ‘‘ جاری فرمایا تو ان کے اِصرار اور مولانا مفتی احمد الرحمٰن کی تاکید و فرمائش پر اس سے منسلک ہوئے اور دیگر مضامین کے علاوہ ’’آ پ کے مسا ئل اور اُن کا حل‘‘ کا مستقل سلسلہ شروع کیا۔ جس کے ذریعے بلا مبا لغہ لا کھوں مسا ئل کے جوابات، کچھ اخبارات کے ذریعے اور کچھ نجی طور پر لکھنے کی نوبت آئی، الحمد للہ ! یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔‘‘(آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۱، ص:۱۳)ماہنامہ ’’بینات‘‘ترجمان جامعہ علوم اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن، ہفت روزہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ ترجمان عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّۃ، ماہنامہ ’’اقرأ ڈائجسٹ‘‘کے علاوہ ملک کے مشہورعلمی رسائل وجرائدمیں شائع شدہ سیکڑوں مضامین ومقالات آپ کی قلمی کاوشوں اور اعلیٰ صحافتی معیارکے شاہدِ عدل ہیں، یہ مضامین و مقالات مختلف ناموں سے خوبصورت اور دیدہ زیب کتابوں کی صور ت میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔حضرت شہیدِ اسلامؒ کی تصنیفات وتألیفات پر ان کے خادمِ خاص، علمی جانشین اور دست راست مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدv نے جو تعارف کروایا ہے، ہم اسے مختصراً ذکر کرتے ہیں:۱:… تحفۂ قادیانیت (مکمّل چھ جلد):’’مرزاقادیادنی کے دجل وتلبیس کونمایاں کرنے کے لئے جہاں بہت سے اکابرینِ اُمّت نے کتب، رسائل ومقالات تحریر فرمائے، وہاں حکیم العصرحضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی قدس سرہ کے قلمِ حق رقم نے تردیدِ قادیانیت میں نہایت تجدیدی کارنامہ انجام دیا، چنانچہ مرزائے قادیان کے دجل وفریب کو آشکارا کرنے کے لئے آپ نے جہاں بے شمار مناظرے اور مباحثے فرمائے، وہاں آپ نے اِتمامِ حجت کے لئے مختلف اوقات اور ضرورتوں کے پیشِ نظربیسیوں مقالات ومضامین اور رسائل وکتب بھی تصنیف فرمائیں۔حضرت اقدس حکیم العصر v کا اندازِ بیان اور طرزِ اِستدلال اس قدر مؤثّر ومسکت ہوتاکہ کٹر سے کٹر قادیانی مانے بغیرنہیں رہ سکتاتھا۔ دلوں کاپھیرناتواللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر وقتی طور پر بڑے سے بڑا قادیانی مربی بھی قادیانی مذہب کی تغلیط وتکذیب کے سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا، حضرت اقدس حکیم العصرؒ کے اس عنوان پر لکھے گئے تمام رسائل وکتب کو یکجا کرکے انہیں ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کے نام سے شائع کرنے کا عزم کرلیا گیا، چنانچہ اس سلسلہ کی چھ جلدیں منظرِ عام پرآچکی ہیں، جبکہ اس سلسلے کی پہلی جلد کا انگریزی ترجمہ ’’گفٹ فار قادیانیز‘‘ کے نام سے شائع ہوچکاہے۔۲:… اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم (حصہ اوّل):مختلف فرقوں کے عقائدونظریات پر لکھی گئی یہ کتاب ابتدائی طور پر ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی کی اشاعتِ خاص کی شکل میں شائع ہوئی تھی، جسے بارگاہِ الٰہی سے اس قدر مقبولیت سے نوازا گیا کہ اسے معاصر واکابر کے علاوہ عام انصاف پسند حلقوں میںبھی بے حد پسند کیاگیا۔۳:… اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم (حصہ دوم):اس حصے میں فروعی مسائل میں مسلکِ اِعتدال کی نشاندہی کرتے ہوئے مشہور فروعی مسائل ’’فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، رفع یدین، اَذان، اِفراد ِاِقامت، تکبیراتِ عیدین، سجدہ سہو، مسائلِ وتر، نمازِ جنازہ، جمعہ فی القریٰ‘‘ وغیرہ مسائل کو نہایت شاندار اَندازسے بیان کیاگیاہے۔۴:… دُنیا کی حقیقت(جلد اوّل):حضرت اقدس محدّث العصر حضرت بنوری قدس سرہٗ کی خواہش اور چاہت تھی کہ ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں چار مستقل سلسلے شروع کئے جائیں: ایک قرآنِ کریم کی تفسیر کا، اور دُوسرا حدیثِ پاک کے ترجمہ وتشریح کا، اور تیسرا فقہی مسائل کا، اور چوتھا سلف صالحین کے حالات وواقعات کا۔ پیشِ نظر کتاب اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے جس کے مضامین کا ’’بینات‘‘ کی فائلوں سے جمع کرکے کتابی شکل میں مرتّب کیاگیاہے، یہ جلد ترمذی شریف کے چار اَبواب: اَبوابُ الزہد، اَبواب احوال القیامۃ، اَبواب صفۃالجنۃ اور اَبواب صفۃ جہنّم، یعنی دُنیاکی حقیقت، قیامت کے احوال اورجنّت وجہنّم کے مناظرکے ترجمہ وتشریح پرمشتمل ہے۔اِمام ترمذی کا اِرشادہے کہ:’’جس شخص کے گھر میں میری کتاب ترمذی شریف ہو وہ یوں سمجھے جیسے حضورJ اس گھر میں موجود ہیں اور میں براہِ راست آپ J سے اِستفادہ کر رہا ہوں۔‘‘ٹھیک یہی تصوّر یہاں بھی ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہو، وہ مندرجہ مسائل میں جب چاہے براہِ راست ارشاداتِ نبوّت سے راہِ نمائی حاصل کرسکتاہے۔ کتاب ۵۴۸صفحات پرمشتمل ہے۔۵:… دُنیاکی حقیقت( جلد دوم):پیشِ نظر کتاب ترمذی شریف کے ترجمہ وتشریح کے سلسلے کی دُوسری جلد ہے، جس میں کھانے پینے، صلہ رحمی اور علاج ومعالجہ کے آداب واَحکام کونہایت عمدہ طریقے سے بیان کیاگیاہے۔ یہ حصہ ۴۱۳صفحات پر مشتمل ہے، یہ سلسلہ ابھی جاری تھاکہ حضرتِ اقدس جامِ شہادت نوش فرماکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے رُخصت ہوگئے اور ہمیں یتیم کرگئے۔ (اب یہ دونوں جلدیں ’’معارفِ نبوی‘‘ میں ضم کردی گئی ہیں …ناقل)۔۶:… آپ کے مسائل اور اُن کاحل :۵؍مئی ۱۹۷۸ ء کو وحی کے پہلے لفظ ’’اقرأ‘‘ کے نام سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں اسلامی صفحہ اقرأ کا آغاز کیا گیا تو روزِ اوّل سے ہی اس کی سرپرستی حکیم العصر مرشد العلماء حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی قدس سرہ نے قبول فرمائی، اور اس میں دُوسرے سلسلوں کے ساتھ ساتھ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے عنوان سے عوام کے دِینی مسائل میں رہنمائی کا مبارک سلسلہ بھی شروع کیا۔حضرت اقدس کے خلوص واِخلاص، تقویٰ وطہارت، علم وفضل، فقاہت وحذاقت اور جذبہ نصح وخیرخواہی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدونصرت نے خوب رنگ دکھلایا، اور یہ سلسلہ بہت جلدی مقبول ومحبوب ِخلائق قرار پایا، بلامبالغہ ’’جنگ‘‘ کے اسلامی صفحہ اورخصوصاً ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کی وجہ سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے جمعہ کے دن کی اشاعت میں خوب اضافہ ہوا اوراس کے ذریعے ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح ہوئی، بدعت ورُسومات سے جان چھوٹی اوراس سے کہیں زیادہ لوگوں میں دِینی انقلاب آیا، بے پردگی، بے دِینی، بے غیرتی، ٹی وی، وی سی آرسے توبہ کی توفیق نصیب ہوئی، عوام کو اپنی دہلیز پر دِین مہیا ہونے لگا، وہ لوگ جو روایتی شرم وحیاء کی وجہ سے کسی دارالافتاء کا رُخ نہیں کرسکتے تھے یا ایسی بے سہارا خواتین اور مظلوم اَفراد جو ظلم وستم کی چکی میں پس رہے تھے اور دِینی حکم معلوم کرکے ظالم کوظلم سے روکنے کا یارا نہیں رکھتے تھے، وہ اس صفحے کے ذریعے اپنی مظلومیت کی داستان سنانے کی پوزیشن میں آگئے اور انہیں ظالم کے ظلم کو طشت ازبام کرنے کاموقع میسّر آگیا۔قارئین کا شدید اِصرار تھاکہ اس علمی اور فقہی ذخیرے کو جو نہایت سہل اور عام فہم زبان میں ہے، جس سے ہزاروں اور لاکھوں زندگیوں میں انقلاب برپا ہواہے، مستقبل میں آنے والی نسلوںکے لئے محفوظ کردیا جائے تاکہ اس خزانۂ عامرہ سے رہتی دُنیا تک کے مسلمان مستفید ہوسکیں۔ چنانچہ رفتہ رفتہ قارئین کے ساتھ ساتھ معاصرین واکابرین نے بھی اس پر زور دیا اور توجہ دلائی، بلکہ تقاضا کیا کہ اس انوکھے اور نئے انداز کے فقہی ذخیرے کو کتابی شکل میں مدوّن کیا جائے، بحمداللہ اب تک اس سلسلے کی نو جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور دسویں جلد زیرِ ترتیب ہے، جبکہ ان جلدوں کی اشاعت کے بعدشائع ہونے والے مسائل اس سے علاوہ ہیں۔ مزید وہ مسائل جو ان شائع شدہ نو جلدوں میں سے کسی ایک جلدکے ابواب کی مناسبت سے اس میں درج ہونے کے منتظرہیں وہ اس کے سوا ہیں، (الحمدللہ! اب دس جلدوں کی تخریج واِضافے کے بعد فتاویٰ سائز میں آٹھ جلدوں میں یہ سیٹ شائع ہوچکا ہے …ناقل) چار ہزار صفحات پرمشتمل اس فقہی انسائیکلوپیڈیا میں مہد سے لے کر لحد تک پیش آنے والے انسانی زندگی کے ہر مسئلے کاشرعی حل موجود ہے۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ جتنامسئلہ معلوم کیا گیا ہے، جچے تلے الفا ظ میں اس کا شافی جواب دیا گیا ہے، اگر کہیں ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ سائل کو صرف مسئلہ بتانے سے اس کی اُلجھن دُورنہیں ہوگی تو اسے نہایت مفیدمشورے سے بھی نوازا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کاحل‘‘ حضرت حکیم العصر v کے دیگر کارناموں کی طرح ایک عظیم تجدیدی کارنامہ ہے۔۷:… سیرتِ عمر بن عبدالعزیز v:مصنّف اِمام ابن عبدالحکم v نے وہ تمام حالات، جو انہوں نے اپنے قابلِ اِعتماد اساتذہ سے سنے تھے ان کو ’’سیرتِ عمربن عبدالعزیز v‘‘ کے نام سے مرتّب کیا۔ اس کتاب کی جلالتِ قدر کا اَندازہ اِمام نووی v کے ان الفاظ سے کیاجاسکتاہے:’’ابن عبدالحکم نے حضرت عمربن عبدالعزیز v کے مناقب میں ایک کتاب لکھی ہے، جوآپ کی سیرتِ جمیلہ اور حسن طریقت پر مشتمل ہے، اور اس کتاب میں وہ نفائس ہیں جن کے علم وعمل سے کوئی آدمی مستغنی نہیں ہوسکتا۔‘‘(تہذیب الاسماء واللغات ص۲۱۷ج۲)الغرض ابن عبدالحکم کی یہ جلیل القدر کتاب نادر مخطوطوں کی شکل میں دُنیاکے خال خال کتب خانوں کی زینت تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کے محقق شیخ احمد عبید v کی عرق ریزی اور جانفشانی سے پہلی بار ۱۳۴۶ھ میں شائع ہوئی۔ متعدّد اکابر اور معاصر علماء نے حکیم العصر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی نوّراللہ مرقدہٗ سے فرمائش کی کہ یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کو اُردو کے قالب میں ڈھالا جائے، تاکہ عوا م وخواص اس سے استفادہ کرکے حضرت امیرالمؤمنین خلیفۂ راشد عمر بن عبدالعزیزq کی سوانح حیات کے آئینۂ صافی کو سامنے رکھ کراپنے کاکل وگیسو کو سنوار سکیں۔ اور حکام کومعلوم ہوجائے کہ ایک خلیفہ اورحاکمِ وقت کی کیا خصوصیات ہونی چاہئیں ؟حضرت اقدس v نے اس کا ترجمہ کیا اور اس شان سے کیاکہ ترجمے کا حق اَدا کردیا۔عربی سے اُردو میں منتقل کی گئی اس کتاب کو پڑھنے سے ذرّہ برابربھی یہ شبہ نہیں ہوتاکہ یہ کسی کتاب کا ترجمہ ہے یا مستقل تصنیف ہے۔ حضرت v کے اندازِ بیان اور تحریر کی سلاست وشستگی نے اس میں ایسا رس گھولا ہے کہ قاری اسے پڑھتا ہے تو پڑھتا چلا جاتا ہے۔ اسے شروع کرتاہے توختم کئے بغیر چھوڑنے کوجی نہیں کرتا۔ ایک سو بانوے صفحات کی اس کتاب میں خلیفۂ راشد حضرت عمربن عبد العزیزq کی حیات کے ہزاروں کمالات ایک سوبانوے عنوانات پرتقسیم کرکے بیان کئے گئے ہیں۔۸:… رسائلِ یوسفی:اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس حکیم العصرمولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید v کو تکوینی طور پر علمائے دیوبند اور مسلکِ حق کا ترجمان اور مناد، نامزد فرمایا تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ ہر فتنے کے مقابلے میں سینہ سپر نظر آتے ہیں، فتنۂ قادیانیت ہویا اِنکارِ حدیث، تجدّدپسندی کافتنہ ہو یا اِلحادکا، آپ ہر ایک کے دانت کھٹے کرتے نظر آتے ہیں۔ زیرِ نظرمجموعہ بھی تردیدِ باطل کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔۹:… ترجمہ فرمان علی پرایک نظر:اس رسالہ میں شیعہ مصنّف حافظ فرمان علی کے ترجمۂ قرآن میں کی گئی تحریف کاجائزہ لیا گیا ہے اور نشاندہی کی گئی ہے کہ شیعہ موجودہ قرآن کوتحریف شدہ سمجھتے ہیں اور ان کی تحریفات کی مثالیں دے کر اُمّت کو اس منکرِ قرآن فرقے کی حیثیت سے آگاہ کیاگیاہے۔۱۰:… اِنکارِ حدیث کیوں؟غلام احمدپرویزکے فلسفۂ اِنکارِ حدیث کے خلاف قرآن وحدیث اور اِجماعِ اُمّت کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ اِنکارِ حدیث دراصل اِنکارِ قرآن ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ اِنکارِ حدیث کرتے ہیں، ان کا دِین واِیمان سے کوئی واسطہ نہیں، اس لئے کہ اِنکارِ حدیث درحقیقت اِنکارِ دِین ہے، اگر حدیث ناقابلِ اِعتمادہے توقرآن کیونکر قابلِ اِعتماد ہوسکتا ہے؟۱۱:… اِنتباہ المؤمنین (ایک شیعی مغالطے کا حل):’’اِنتباہ المؤمنین‘‘حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی قدس سرہ کافارسی رسالہ ہے، جس میں ایک شیعہ نے مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث کے حوالے سے جناب مولانا اِلٰہی بخش صاحب پر اِعترض کیا، اور اس حدیث کا مصداق معلوم کرنا چاہا، غالباً اِعتراض یہ تھا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت J حضرت علی q کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، مگرصحابہ کرام i سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ان کو خلیفہ بنائیں گے، مولانا اِلٰہی بخش صاحب نے یہ سوال حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پیشِ نظر رسالہ حضرت نانوتوی v کی جانب سے ا س سوال کا جواب ہے، جس میں حضرت نانوتوی v نے نہایت مسکت وشافی دندان شکن جواب دے کرحدیث کی وضاحت فرمائی۔ حضرت شہید v نے اس عجیب وغریب علمی رسالے کافارسی سے اُردو میں ترجمہ کیا، اور اس کا نام رکھا ’’ایک شیعی مغالطے کا حل‘‘ یہ رسالہ حسنِ ظاہری کے ساتھ حسنِ معنوی سے معمورہے، اور عوام و خواص دونوں کے لئے یکساں مفیدہے۔۱۲:… عورت کی سربراہی:بے نظیر کے دورمیں جناب کوثرنیازی صاحب نے عورت کی حکمرانی کے جواز اور پارٹی سربراہ کی نمک خواری کے بدلے میں اپنی تما م ’’علمی‘‘ توانائیاں صَرف کیں تو حضرت شہید ـ v نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا بھرپور تعاقب کیا، اور ثابت کیا کہ عورت کی حکمرانی ناجائزہے۔ اس کے ضمیمے کے طورپر عورت ومرد کا رُتبہ کے عنوان سے حضرت ہی کا ایک نفیس مقالہ بھی شامل ہے۔۱۳:… کیا ذِکری مسلمان ہیں؟ذکری فرقہ جس کے افراد بلوچستان اور کراچی میں پائے جاتے ہیں اور مُلاّ محمد اٹکی کو نبی مانتے ہیں، مگر بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مسلما ن باور کراتے ہیں۔ چونکہ سیدھے سادے مسلمانوںکو ان کے عقائد کے بارے میں کوئی خاص آگاہی نہیں تھی اور انہیں مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت شہید v نے اس رسالے میں اس فرقے کے عقائد کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ رسالہ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے بہترین راہ نما اور نفیس ہتھیار ہے۔۱۴:… تنقید اور حقِّ تنقید:مودودی صاحب اپنے علاوہ کسی کو تنقید سے بالا ترنہیں سمجھتے تھے، اس رسالے میں حضرت حکیم العصر شہید v نے ’’تنقید اور حق تنقید‘‘ کے عنوان سے ان کے اس غلط عقیدے کی دلائل سے تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تنقید کی کیا حدود ہیں؟ یہ رسالہ ۲۸ صفحات پر مشتمل ہے۔۱۵:… شیعہ سنی اِختلافات اور صراطِ مستقیم (بولتے حقائق):حضرت اقدسؒ نے ’’اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم‘‘ تصنیف فرمائی تو اس میں شیعہ سُنّی اختلاف کے عنوان کے تحت بعض شیعہ عقائد کی نشاندہی فرمائی، جو غالباً شیعہ برادری کے لئے خفت کا باعث ہو سکتے تھے، اس لئے وہ نہیں چا ہتے تھے کہ ان کو منظرِ عام پر لایا جائے، اس کتاب کے مندر جات سے اِختلاف کرتے ہوئے ایک شیعہ عالم جناب سیّد محمد محسن اِجتہادی صا حب نے حضرت حکیم العصر v کو ایک طویل ترین مکتوب لکھ کر اس پر اِحتجاج کیا کہ آپ نے اپنی کتاب میں جو جو عقائد ہماری طرف منسوب کئے ہیں، وہ آپ کے خودسا ختہ ہیں، شیعہ مکتبۂ فکر کے یہ عقا ئد نہیں ۔حضرت شہید v نے نہا یت متانت و سنجید گی سے جناب سیّد اِجتہادی کا خط پڑھا، اور اس کا جواب لکھا کہ : ’’آنجناب تو ان عقا ئد سے اِنکا ر فرما تے ہیں، مگر یہ عقا ئد آپ کے اکا بر کی کتا بوں میں موجود ہیں، آپ خود ہی یہ فیصلہ فرما ویں کہ آپ سچ فر ما تے ہیں یا آپ کے اکا بر کی تصنیفات کو سچا سمجھا جائے ؟‘‘اس کے بعد اِجتہادی صاحب کے اُٹھائے گئے نکات کا تفصیلی جواب دیا جو کتاب کی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔۱۶:… اِصلاحی مواعظ (آٹھ جلدوںمیں):حضرت شہیدv کے مقبولِ عام سلسلہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے فقہی ترتیب پر مدوّن ہو جا نے کے بعد عوام کا مطا لبہ تھا کہ آپ کے مواعظ و خطبات کو بھی کتا بی شکل میں مرتّب کیا جا ئے، کیونکہ جس طرح آپ کی تحریر میں بلا کی روانی، شا ئستگی، شستگی اور حددرجہ خیرخواہی اور دِل سوزی کا جذبہ ہے، اسی طرح آپ کے وعظ وبیان میں اس سے کہیں زیادہ خلقِ خدا کی نفع رسانی کا عنصر ہے، اس لئے آپ کے مواعظ حد درجہ مفید، نافع اور اِصلاحی ہوتے ہیں، انہیں ضرور شائع ہونا چاہئے، لہٰذا ان خطبات کے جمع وترتیب کا کام ہوا، جوکہ اب آٹھ جلدوں میں منظر ِعام پر ہے۔۱۷:… شخصیات وتأثرات (جلداوّل):ماہنامہ ’’بینات‘‘ حضرت اقدس شیخ الاسلام مولانا سیّد محمدیوسف بنوری قدس سرہٗ کا جاری فرمودہ ہے، اس کا اِدار یہ ’’بصائروعبر‘‘ کے عنوان سے تاحیات محدّث العصر حضرت بنوری v کے قلم فیض رساں سے نکلتا رہا، حضرت بنوری قدس سرہٗ کی وفات کے بعد یہ بھاری ذمہ داری حکیم العصر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیا نوی v پر ڈالی گئی، بلکہ خود حضرت بنوریv نے اپنی حیات کے آخری سفر پر جاتے ہوئے یہ کہہ کر کہ ’’آ ئندہ آپ خود اِداریہ لکھ لیا کریں‘‘ یہ امانت حضرت شہیدv کے حوالہ فرمادی تھی، حضرت نے اسے نہ صرف نبھایا بلکہ نبھانے کا حق ادا فرمایا۔پیشِ نظر کتاب میں شامل اکابر علمائے اُمّت اور شخصیات کے بارے میں تأثرات دراصل حضرت لدھیانوی قدس سرہٗ کے قلم سے نکلے ہوئے بصائر و عبر ہیں جنہیں کتابی شکل میں مرتّب کرکے شائع کیا گیا۔۱۸:… شخصیات وتأثرات (جلد دوم):یہ جلد چار صد صفحات پر مشتمل ہے، جس میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنv، اور ان کی تصنیفات کے علاوہ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویv، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ v، شیخ بن بازv، مولانا محمد منظور نعمانی v، مولانا محمد عبد اللہ درخواستیv، حضرت جی مولانا اِنعام الحسن v، مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی v، مفتی ولی حسن ٹونکی v، مولانا عبد الرشید نعمانیv، مولانا قاضی زاہد الحسینیv، مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدv، مولانا محمد اَیوب جان بنوریv اور مولانا احمد رضا بجنوری v جیسے (۴۴) اکابر، علماء، صلحاء ا ور شخصیات کا تذکرہ ہے۔۱۹:… اطیب النغم فی مدح سیّد العرب و العجمJ:حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی صا حب v کی دیگر علمی خدمات کے علاوہ آپ کے قصیدہ ’’اطیب النغم‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی جو اُنہوں نے ’’قصیدہ بائیہ‘‘ حضرت سواد بن قارب q اور ’’قصیدہ ہمزیہ‘‘ حضرت حسّان بن ثابت q کے تتبع میں تحریرفرمایا، ا ور پھر فارسی میں اس کی تشریح بھی فرمائی۔ فارسی میں ہونے کی وجہ سے عوام اس کے اِستفادے سے محروم تھے، اس لئے حضرت اقدس v نے حضرت شاہ صاحبv کے ان قصیدوں اور ان کی فارسی شرح کا تر جمہ وتشریح فرمائی، نیز حضرت حسّان بن ثابت q اور حضرت سواد بن قارب q کا قصیدہ بھی شامل کرکے اس کا بھی تر جمہ فرماکر اُردو میں ایک بہترین ذخیرہ پیش کیا۔۲۰:… رجم کی شرعی حیثیت:مرشد العلماء حضرت لدھیانوی شہیدv نے ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں ان بے دِین عنا صر اور منکرِ حدیث ججوں کا تعا قب کرتے ہوئے قرآن وحدیث کے حوالے سے نہایت زور دار اَنداز سے یہ ثابت کیا کہ رجم شرعی حد ہے۔ پیشِ نظر کتاب میں حضرت v کے اس سلسلے کے تمام مضامین کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔۲۱:… حسنِ یوسف:پیشِ نظر کتاب آپ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے، جن میں نفاذِ شریعت، شعائرِ اِسلام کا تحفظ اور دِینی مدارس و مساجد کے عنوان پر لکھے گئے تمام مضامین کو یکجا کیا گیا ہے، پانچ سو صفحات کی یہ کتاب حکام، عدلیہ اور اِنتظامیہ کے لئے تازیانۂ عبرت اور اُمّتِ مسلمہ کے لئے بہترین راہنما ہے، (اب یہ کتاب ’’اربابِ اقتدار سے کھری کھری باتیں‘‘ میں ضم کردی گئی ہے)۔۲۲:… خاتم النّبیینJ:عقیدۂ ختمِ نبوّت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کا باغی اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دُشمن ہے۔ مرزا قادیانی نے اُمّتِ مسلمہ کو گمراہ کرنے اور ان کو دامنِ رحمت J سے کاٹ کر اپنے پیچھے لگانے کے لئے دعویٔ نبوّت کیا تو اِمام العصر حضرت مولانا سیّد انور شاہ کشمیریv تڑپ کر رہ گئے۔ انہوںنے آخری دنوں میں بسترِ مرگ پر ’’خاتم النّبیین‘‘ فارسی زبان میں لکھی، ان کی خواہش تھی کہ اسے اپنے خاص مصارف سے طبع کراکر کشمیر اور ان ممالک میں تقسیم کریں جن میں فارسی زبان مروّج ہے، مگر چونکہ ہمارے ملک کی زبان اُردو ہے، فارسی کا ذوق عوام میں کیا، علماء میںبھی قریب قریب ناپید ہے، اس لئے اس کے ترجمے کی ضرورت تقریباً نصف صدی سے محسوس کی جارہی تھی، مگر یہ مشکل وکٹھن کام ہر ایک کے بس کا نہیں تھا۔ حضرت بنوری قدس سرہٗ نے حضرت حکیم العصر قدس سرہٗ کو اس کا حکم فرمایا تو آپ نے اس کی ذمہ داری قبول فرمالی اور ترجمہ کرنا شروع کردیا، اور بلا شبہ آپ نے تر جمے کا حق ادا فرمادیا۔ فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے یہ کتاب کسی صا عقۂ آسمانی سے کم نہیں۔۲۳:… عصرِ حاضر حدیثِ نبوی کے آئینے میں:قربِ قیامت میں لوگوں کی دِینی، دُنیاوی، مالی اور اَخلاقی حالت کیا ہوگی ؟ اس کے بارے میں آنحضرت J نے ایک ایک چیز کی نشاندہی فرمائی ہے، اس وقت لوگوں کی کیا رَوِش ہوگی ؟ کیسے کیسے فتنے رُونما ہوں گے؟ بے حیائی اور بے دِینی کا کیا عالم ہوگا ؟ عورتوں اور مال کے فتنوں سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟ یہ تمام تفصیلات احادیثِ مبارکہ سے اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں، گویا یہ احادیثِ مبارکہ کا آئینۂ صافی ہے جس میں ہر آدمی اپنے اور دور ِحاضر کے حالات ومعاملات کا بغور جائزہ لے سکتا ہے۔۲۴:… عہدِ نبوّت کے ماہ وسال:شیخ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی قدس سرہٗ، شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی نوّر اللہ مرقدہٗ کے معاصر اور ان کے ہم پلہ عظیم بزرگ تھے، انہوں نے آنحضرت J کی نبوّت کے سال سے لے کر آپ J کے وصال تک ۲۳ سالہ دورِ نبوّت قبل اَز ہجرت اور بعد اَز ہجرت کے تمام حالات و واقعات کو سن وار عربی میں مرتّب فرمایا، اور اس کا نام رکھا ’’بذل القوّۃ فی حوادث سنی النبوۃ‘‘۔حضرت شہیدv نے آنحضرت J کے سن وسال کے حالات وحوادث کے تذکرے کو سعادت سمجھتے ہوئے اس کا نہایت شستہ اور سلیس ترجمہ فرمایا ہے، اور اس کا نام رکھا : ’’عہدِ نبوّت کے ماہ وسال‘‘ یہ کتاب بلا مبالغہ ہر وقت سینے سے لگا ئے رکھنے کے قابل ہے۔ یہ حسین دستاویز ۳۸۸ صفحات پر مشتمل ہے۔۲۵:… دور حاضر کے تجدّد پسندوں کے اَفکار:پیشِ نظر کتاب میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدv نے ان ہی حضرات کا تعاقب فرمایا ہے جو اُصولِ دِین کے بارے میں اِفراط و تفریط کے مرتکب ہوئے، ان میںسے بعض اَفراد تو واقعی مخلص ہوںگے، لیکن بعض تو خالص بددِین اور اِسلام دُشمن تھے۔۲۶:… دعوت وتبلیغ کے چھ بنیادی اُصول:حضرت جی مولانا محمد یوسف دہلوی قدس سرہٗ نے تبلیغ کے چھ بنیادی اُصول کے بارے میں محنت ولگن سے احادیثِ مبارکہ جمع فرمائیں، مگر وہ مسوّدہ گوشۂ گمنامی میں چلا گیا۔ حضرت جیv کے پوتے مولانا سعد صاحب کو حضرت جیv کی ذاتی کتابوں میں سے وہ مسوّدہ دستیاب ہوا، اور حضرت شہیدِ اسلامv سے اس کے ترجمے کی فرمائش کی گئی۔ چنانچہ حضرت شہیدv نے اس کتاب میں درج نا مکمل احادیث کی تکمیل فرمائی، ہر حدیث کا حوالہ دیا، جہاں متعدّد اَحادیث کے متن خلط ملط تھے، ان کو الگ الگ کیا، قدیم مراجع کو جدید مراجع کے ساتھ ملاکر، جدید کتابوں کے حوالے دئیے، جہاں ضرورت تھی وہاں اِضافے فرمائے، جن کتبِ احادیث میں حدیث کے نمبرات تھے، ان احادیث کے حدیث نمبر لکھوائے، یوں یہ ایک لاجواب تحقیقی دستاویز تیار ہو گئی۔۲۷:… ذریعۃ الوصول اِلیٰ جناب الرسول J:شیخ مخدوم مولانا محمد ہاشم سندھیv کا دُرود و سلام کے بارے میں فارسی میں رسالہ ہے، جسے حضرت شہیدِ اسلامv نے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ حضرت مصنّف v نے اس رسالے میں دُرود شریف کے وہ الفاظ جمع کئے ہیں جو آنحضرت J سے، صحابہ i سے، تابعینw سے اور دیگر اکابر w سے منقول ہیں۔۲۸:… قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہا جر مدنیv:حضرت شیخ الحدیثv کے محبوب خلیفہ حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب کی فرمائش پر آپv برطانیہ تشریف لے گئے اور اپنے شیخ حضرت مولانا محمد زکریا کاندہلویv کی حیات وسوانح مرتّب فرمائی۔ کتاب کیا ہے، حضرت شیخ کی سوانح پر ایک لاجواب انسائیکلوپیڈیا ہے، کتاب کی تعریف کرنا ’’مادحِ خور شید، مداح خود است‘‘ کا مصداق ہے۔۲۹:… حجۃالوداع وعمرات النبی J:حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی vنے آنحضرت J کے حجۃالوداع اور آپ J کے عمروں کے بارے میں ایک کتاب مستطاب تالیف فرمائی، کتاب چونکہ عربی میںتھی، اس لئے اُردو دَان طبقہ اس کے نفحات سے مستفید نہیں ہوسکتا تھا، اس ضرورت کے پیشِ نظر حضرت شہیدv نے اس کو اُردو کے نہایت حسین وجمیل قالب میں ڈھالا۔تین سو پینتیس ( ۳۳۵) صفحات کے اس حسین گلدستے میں حجۃالوداع کی تفصیلات کے علاوہ عمرۂ حدیبیہ، عمرۃ القضاء، عمرۂ جعرانہ اور دُوسرے بیشتر متفرق اُمور کا بسط وتفصیل سے بیان ہے۔(’’بینات‘‘ شہیدِ اسلام نمبر، از ص :۲۵۲تا۲۸۶، باضافات واِختصارات)
۳۰:… اسلام کا قانونِ زکوٰۃ وعشر۔۳۱:… معاشرتی بگاڑکاسدِّباب۔۳۲:… مقالات وشذرات۔۳۳:… اَربابِ اِقتدارسے کھری کھری باتیں(تین جلدیں)۔۳۴:… علّامہ تورپشتی کی کتاب ’’المعتمد فی المعتقد‘‘ کا اُردو میں آسان اور دِلنشین ترجمہ جو زیرِ طبع ہے۔۳۵:… معارفِ نبوی (چار جلدیں، احادیثِ مبارکہ کا آسان، دِلچسپ اورعام فہم ترجمہ وتشریح)۔صاحب ِ طرزادیب:حضرت شہیدِ اسلام v کے قلم میں بلاکی روانی تھی، طوفان کی تیزی تھی اورتلوارکی کاٹ تھی، انہوں نے جس موضوع پربھی قلم اُٹھایا، لکھنے کاحق اداکردیا، وہ نہایت انوکھے اور اچھوتے اندازمیں لکھتے اوردلائل وبراہین کے انبار لگادیتے، فریقِ مخالف کوچاروں شانے چِت کرکے فتح وکامرانی کا جھنڈا لہرادیتے۔لیکن آپ کے قلم میں غضب کی گرفت بھی تھی، چنانچہ آپ کے قلم میں جہاں اعدائے اسلام، دِین بیزاروں اور باطل پرستوں کے لئے فولادکی سی سختی اور ضرب ید اللّٰہی کا اثر تھا، وہاں احباب و اکابرکے حق میں وہ ابریشم سے زیادہ نرم وگدازتھا، شایداقبال نے ایسے ہی مواقع کے لئے کہاتھا:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمناس عنوان کے تحت شہیدِ اسلامv کے اِقتباسات بے تحاشا پیش کئے جاسکتے ہیں، لیکن طوالت کے خوف سے ہم صرف یہاں تین شہ پارے ہی پیش کریں گے۔مقالہ نگاری کی دُنیا میں ان کے سب سے پہلے مضمون کو لیجئے، مولانا عبدالماجد دریاآبادی جو علم ومعرفت اور فہم و دانش کے ایک دریا ہیں، ان کی کس غضب سے گرفت فرمارہے ہیں:
’’مولوی عبدالماجد صاحب دریاآبادی پاک وہند کی ایک ممتاز شخصیت ہیں، اور اپنے گوناگوں اوصاف کی وجہ سے مشہورہیں۔ لیکن ’’طائفۂ ملعونہ قادیانیہ‘‘ اوراس کے سربراہ مرزا آنجہانی کے حق میں مدّت سے ان کی رائے بے جا حمایت کی حد تک نرم ہے۔ اس باب میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی v کی حکمت، مولانارشید احمد گنگوہی v کا تفقُّہ، مولاناخلیل احمدصاحب سہارنپوری v کا علم وفضل، مفتی کفایت اللہ صاحب v کا اِخلاص، حافظ العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری v کا تبحرِعلمی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی v کی تواضع، اورحکیم الاُمّت حضرت مولانااشرف علی تھانوی v کی معاملہ فہمی، ان کے لئے قطعاًبے سودہیں۔ وہ ان تمام حضرات کواپنے وقت کامقتدا اور اکابر ضرور تسلیم کریں گے، لیکن جہاں تک ان حضرات کی تحقیق، اِستدلال یا اِستنباط کاتعلق ہے، مولاناموصوف جب تک اس کو خود اپنی تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ نہیں لیں گے، ہرگزتسلیم نہ کریں گے۔ اب اسے ان کی بلندنظری کہئے یاکمزوری! ان کا اصل مرض جو اُن کے تمام کمالات پر غالب آگیا ہے، یہی ہے کہ ان کے نزدیک تقلید کا لفظ بے معنی ہے، ان کے ملاحظہ سے بیسیوں نصوص گزار دیجئے، پچاسوں اقوال پیش کردیجئے، لیکن ان کے ماننے کے لئے ان کا اپنا ’’شرحِ صدر‘‘ ضروری ہے۔ کسی مسئلے میں ان سے ایک دفعہ اِنکار ہوجائے تو آئندہ ’’شرحِ صدر‘ ‘کی توقع بے کارہوگی۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۵۰۱)
اب ذرا السیدالامام العلامۃ البنوری نوّراللہ مرقدہٗ کی وفات پر ان کا تعزیتی شذرہ ملاحظہ ہو:
’’آج کا دِن پاکستان کی علمی اور دِینی تاریخ میں ایک المناک سانحہ اور جاں گداز المیے کی حیثیت سے یادگاررہے گا، آج اِقلیمِ علم کاتاجدار، مسندِ ولایت کاصدر نشیں، گلشنِ دِین کاحامی، حریمِ نبوّت کا پاسبان، ولی اللّٰہی سلسلے کا امین، قاسمی علوم کا رازداں، انوری معارف و حقائق کا وارث، علم ومعرفت کا بحرِذخار، اسرارِ شریعت کا نکتہ رَس، شجرِسیادت کاگل سرسبد، زکریا کا لختِ جگر، شیخ آدم بنوری v کی آنکھ کا تارا، حسینی خانوادے کاچشم وچراغ، دودمانِ نبوّت کا چاند اور سیادت وقیادت کا آفتاب دُنیا کے اُفق سے غائب ہوگیا، ہمارے شیخ السید الامام محمد یوسف البنوری الحسینی رحلت فرماگئے، إنّا للہ وإنّا إلیه راجعون۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص۳۲۴)
امام الادب العربی حضرت مولانا ابوالحسن علی الحسنی الندوی v کی وفات پرحضرت شہیدِ اسلام v کا ادبی شہ پارہ، جو اُن کی کتب اور کارناموں پر مشتمل صنعتِ تلمیح کا بہترین نمونہ ہے:
’’حضرت مولانا ابوالحسن ندوی v نے مشرق ومغرب اور عرب وعجم میں مسلسل اسلام کی دعوت کا صور پھونکا ہے، وہ ہمیں کبھی امریکا ولندن پہنچ کر’’مغرب سے صاف صاف باتیں‘‘ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کبھی قاہرہ میں ’’اسمعی یا مصر!‘‘کی اَذان دیتے ہیں، اورکبھی ’’اسمعوھا منی صریحۃ ایھا العرب!‘‘کے ذریعے عرب کے نمائندوں کوجھنجوڑتے ہیں، کبھی ’’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘‘ پہنچ کر عالمِ اسلام کے رہنماؤں کو بیدار کرتے ہیں، کبھی انہیں ’’انسانی دُنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر‘‘ کی کہانی سناتے ہیں، کبھی ان کے سامنے ’’دعوت وعزیمت کی تاریخ‘‘ کھول کر رکھتے ہیں، کبھی ’’اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش‘‘ کے ہولناک پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہیں اورکبھی انہیں آج کے باطل نظریاتی قافلوں سے ہٹ کر ’’کاروانِ مدینہ‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں، الغرض مولانا کی دعوت شرق وغرب، عرب وعجم اور افریقہ وایشیا کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔‘‘ (شہیدِ اسلا م نمبر، ص:۳۲۶)موصوف کی قلمی روانی پر مولانا محمد ازہر کا آنے والا اِقتباس شاہد عیاں ہیـ:’’ایک مرتبہ مولانا مرحوم نے ایک ہی نشست میں فل اسکیپ کے اَسّی صفحات قلم برداشتہ تحریر فرمائے، ایک صاحب نے مولانامرحوم کی علمی اِستعداد ومقام کا اِمتحان لینے کے لئے ایک مسئلے پرپانچ سوالات تحریرکئے، جواباً مولانانے ہر سوال کے جواب میں سو صفحات لکھے اور یوں پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک علمی خزینہ منظرِ عام پر آگیا۔‘‘(شہیدِ اسلام نمبر، ص:۲۴۰)
جرح وتعدیل:جناب مودودی صاحب پر جرح کر تے ہوئے ان کے مقام ومنصب کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ مودودی صاحب کے کمالات واوصاف میں سب سے نمایاں وصف ان کی تحریری قابلیت سمجھی جاتی ہے، مولانا مرحوم، مودودی صاحب کے اس وصف کے متعلق لکھتے ہیں:’’مولانا مودودی صاحب کی تمام ذاتی خوبیوں اور صلا حیتوں کا کھلے دِل سے اِعتراف کر تے ہوئے مجھے موصوف سے بہت سی باتوں میں اختلاف ہے …… اوّل مولانا کے قلم کی کاٹ اور شوخی ان کی سب سے بڑی خوبی سمجھی جا تی ہے، مگر اس نا کارہ کے نزدیک ان کی سب سے بڑی خامی شاید یہی ہے۔ ان کا قلم مؤمن وکافر دونوں کے خلاف یکساں کاٹ کر تا ہے …… جب وہ تہذیبِ جدید اور اِلحاد وزَندقہ کے خلاف قلم اُٹھا تے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا شیخ الحدیث گفتگو کر رہا ہے، اور دُوسرے ہی لمحے جب وہ اہلِ حق کے خلاف خامہ فرسائی کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مولانا نے مسٹر پر ویز یا غلام احمد قادیانی کا قلم چھین لیا ہے۔‘‘(اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم، ص: ۱۰۸، ج:۱)
دارالعلوم دیوبند پر تجدید واِحیائے دِین کے حوالے سے کتنا حسین تبصرہ فرمارہے ہیں:’’دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کو کیا دیا؟ اس پر بہت سے حضرات بہت کچھ لکھیں گے، مجھے صرف اس قدر کہنا ہے کہ تجدید واِحیائے دِین کی جو تحریک گیارہویں صدی سے ہندوستان کو منتقل ہو ئی تھی اور اپنے اپنے دور میں مجدّد الف ثانی v، محدّث دہلوی v اور شہیدِ بالاکوٹ v جس امانت کے حامل تھے، دارالعلوم اس وراثت وامانت کا حامل تھا، لوگ ’’مدرسہ عربی دیوبند‘‘ کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، کو ئی اسے علومِ اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے، کو ئی جہادِ حریت کی تربیت گاہ اسے قرار دیتا ہے، کوئی اسے دعوت وعزیمت اور سلوک وتصوّف کا مرکز سمجھتا ہے، لیکن میں حضرت حاجی صاحب v (حاجی اِمدادُاللہ صاحب) کے لفظوں میں اسے بقائے اِسلام اور تحفظِ دِین کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔دُوسرے لفظوں میں آپ چا ہیں تو کہہ سکتے ہیں، مجدّدینِ اُمّت کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا دارالعلوم دیوبند اپنے دور کے لئے مجدّدینِ اُمّت کی تر بیت گا ہ تھی، یہیں سے مجدّدِ اسلام حکیم الاُمّت تھا نوی v نکلے، اسی سے دعوت وتبلیغ کی تجدید کی تحریک اُبھری، جس کی شا خیں چار دانگِ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں، یہیں سے تحریکِ حریت کے داعی تیار ہوئے، یہیں سے فِرَقِ باطلہ کا توڑ کیا گیا، یہیں سے محدّثین، مفسرین، فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی، مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہ شخصیتیں تیار کیں، بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید واِحیاء کے لئے عظیم الشان اِداروں کو جنم دیا۔ اس لئے دارالعلوم کو اگر تجدید اور اِحیائے دِین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو شاید یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہوگا۔‘‘ (ماہنامہ ’’الرشید‘‘ دارالعلوم نمبر ۶۶۷)
رفاہی خدمات:ان کے والد ماجد اور داداجان سے لے کر ان کے برادر بزرگوار جناب عبدالستار صاحب تک ہر ایک اپنے اپنے دور میں غریبوں، مسکینوں، بے کسوں، بیواؤں اوریتیموں کے ماویٰ وملجا رہے ہیں، اپنے گھر میں، اپنی اولاد کے لئے کچھ ہے یا نہیں، مگر ان بے سہارا لوگوں کے لئے ان کے دونوں ہاتھ ہر وقت فیاض وسیال ہوتے تھے، والد گرامی کی وفات پر خاندان کو تسلّی دینے کے بجائے خود خاندان والے ان بے چاروںکی تعزیت کرتے جو ان کے وصال پر دھا ڑے مار مار کر روتے رہے کہ تنگی اور مشکل اوقات میں اب ہم کس سے رُجوع کریں گے۔محترم طلحہ طاہر صا حب نواسۂ حضرت اقدس نے مجھے بتا یا کہ ایک بار ایک صاحب نے حضرت اقدس v کا دروازہ کھٹکھٹا یا، حضرت خود ہی باہر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ خیرات مانگنے والا ہے، آپ اندر تشریف لائے اور پانچ روپے لے کر ان کو پکڑاتے ہو ئے فر مانے لگیـ:دو روپے اس میں سے واپس کر دو! اس نے واپس کر دیئے۔ تھو ڑی ہی دیر بعد ایک اور صاحب نے دروازہ کھٹکھٹایا، آ پ تشریف لے گئے، دیکھا کہ کو ئی سوالی ہے، آپ نے اسے اندر بلایا، بٹھایا، کھانا کھلایا اور اس کی ضرورت کے مطابق اس کی مدد کی، گھر والوں نے پوچھا کہ پہلے والے سے تو آپ نے پانچ میں سے بھی دو روپے واپس کر نے کو فرمایا اور دُوسرے کو اتنی خطیر رقم عطا کی، فرمایا :’’پہلے کا پیشہ ہی مانگنا تھا، دو تین سے اس کا کام چل جا ئے گا، دُوسرا بھکاری نہیں ہے، وہ صرف میرے ہی پاس آئے تھے، یہاں پہنچتے پہنچتے معلوم نہیں کتنی بار ان کی پیشانی عرق آلود ہوئی ہوگی، اس لئے اسے زیا دہ دیئے۔‘‘ یہ خیرات میں بھی فرقِ مراتب اور حیثیت شناسی کا حسین نمونہ اور مثال ہے۔جمعہ، عیدین، رمضان، اور بالخصوص اَیامِ اِعتکاف میں ان کی مسجد ٹھاٹھیںمارتی، آپ فرائض سے فارغ ہو کر گیٹ پر جو چا لیس پچاس مختلف مدارس کے سفیر چندہ جمع کر نے والے بیٹھے ہوتے، ان کے پاس آکر کھڑے ہوجاتے، اور نمازیوںکو تر غیب دیتے رہتے کہ بھا ئی! ان کی مدد فرمائیں۔ بعض اوقات کسی کے پاس چندہ کم ہوجاتا تو ان ہی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے کہ ارے بھائی! ان کی چادرمیں تو نہ ہو نے کے برابر ہے، انہیں دےدو! کیا عجب تواضع، انکساری، ہمدردی، اور مکارمِ اخلاق کی جیتی جا گتی مثال ہے۔
عشقِ رسول اور دفاعِ ختمِ نبوّۃ:اس حوالے سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، ایک تو اس لئے کہ ان کی خدمات ومواقف کا یہ باب بہت طویل ہے، دوم اس لئے کہ یہ اظہرمن الشمس فی رابعۃ النہار ہے، اتنا کہناکا فی ہو گا کہ اس بارے میں ان کا نام ہی کا فی ہے، وہ اس میدان میں ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ کا مصداق تھے۔
قیادت، سیادت اور سیاست:وہ جس محفل یا کارواں میں ہوتے آ قا، قائد، اور میرِ کا رواں ہی ہو تے، لیکن اپنے آپ کو ہمیشہ تواضع اور عجز واِنکساری میں چھپائے رکھتے، گو یا وہ فرماتے:
ہم سا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا
گم ہو وہ نگیں جس پر کھدے نام ہماراپھر بھی اہلِ حق واہلِ سنّت کی ہر جمعیت کے ماتھے کے جھومر ہوتے، بڑوں کی اطاعت وخدمت کا جس حسن و عمدگی سے انہیں سلیقہ تھا، اس سے کہیں زیا دہ چھو ٹوں کی سر پر ستی وحوصلہ افزائی کا ڈھنگ۔ وہ جانتے تھے، علمائے دیوبند سے منسلک تمام تنظیموں اورعالم عر بی کے تمام حق پر ستوں، اہلِ اِعتدال و وسطیت کے وہ حامی، معاون اور مدافع تھے، چنانچہ آخرکاران سب کے زُعماء بشمول قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صا حب دامت بر کا تہم ان کے خلفاء و مستر شدین ٹھہرے۔ عہدوں ومناصب اور جاہ ومراتب سے وہ متنفر تھے، ایک عام صف شکن سپاہی کی طرح کام کرنے کا ان کا مزاج تھا، لیکن ’’من تواضع للّٰہ رفعہ اللہ‘‘ کے قانونِ فطرت کے مطابق باری تعالیٰ نے انہیں وہ رفعتِ شا ن نصیب فرمائی کہ وہی سب کے سر خیل بنے۔
ادب وعربیت:سابعہ کے سال مشکوٰۃ کی شرح ’’التقریر النجیح‘‘ دورۂ حدیث کے سال پہلی پوزیشن اور بعد میں دسیوں عر بی مشکل ترین کتب کے اُردو تراجم وحوالے، ان کے رُسوخ فی العلم جس کا تعلق ہی عر بی زبان وادب سے ہے، پر دال ہیں۔ حر مین شریفین کے علماء سے تفصیلی فی البدیہہ عر بی زبان میں انتہائی پیچیدہ موضوعات پر مکالمے اور مباحثے ان کی عبقریت فی الأدب العربی کی روشن مثالیں ہیں۔ حرمین شریفین میں علوی مالکی اور ان کے متوسلین کے بریلویت واِبتداع کی طرف میلان کی وجہ سے سخت مخالف اور ناقد تھے، بقیہ تمام شیوخ، اَئمہ دِین اور سعودی حکمرانوں کی جوار بیت اللہ، خدمتِ ضیوف الرحمٰن اور خدمتِ حرمین کی وجہ سے بے اِنتہا معترف اور قدرداں تھے، انہوں نے جن کتابوں کے تراجم لکھے ہیں، ان میں بعض عبارتیں ایسی ہیں کہ بڑے بڑے ماہرینِ عر بیت وہاں تر جمے کی تعبیر کے لئے حیران و پریشان ہوتے اور حضرت اقدس نے جس ’’سہل ممتنع‘‘ اندازمیں انہیں پیش کیا، یہ انہی کاطرّۂ امتیازتھا۔
دعوت وتبلیغ اور اِشاعتِ دِین:ان کی پوری حیاتِ مبارکہ اس عنوان سے تعبیرہے، ویسے تو انہوںنے جن جن گوشہ ہائے دِین میں کام کیا ہے، ایسا لگتاہے کہ انہوںنے گویا اپنی پوری زندگی اسی پر تج دی ہے، لیکن ایسا نہیںہے، بلکہ دِین کے ہر شعبے میں اپنا بھرپور اور توانا حصہ ڈالنے کی کو شش نے انہیں جامعیت کے مقام پر فائز فرمایا ہے، البتہ ’’دعوت وتبلیغ اور اِشاعتِ دِین‘‘ کا کام ان کی تمام جدوجہد اور مساعی کا کریم ہے، اسی مقصدِ اعلیٰ کے لئے انہوں نے دامے، درمے، سخنے، اپنا تن، من، جان، وقت، مال، اولاد، اور تلامذہ ومتوسلین کو وار دیا ہے۔ حضرت مولانا محمد اِلیاس v کے کام اور مشن سے انہیں عشق اور والہانہ لگاؤتھا، مستر شدین و مریدین اور عامۃ المسلمین کو اس کی طرف اپنے مواعظ وبیانات اور خاص مجالس میں متوجہ فرماتے، تبلیغی اِجتما عات، جوڑوں اور شب ہائے جمعہ میں بنفسِ نفیس شرکت فرماتے، فلاح مسجد میں اگر کوئی جماعت آتی تو خادمانہ اور مشفقانہ انداز میں ان کی خدمت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے، دعوت کے کام پر اِعتراض کرنے والوں کو دندان شکن جواب دیتے، مشائخ تبلیغ کے ہر فیصلے کو اِستحسان کی نظر سے دیکھتے، شروع شروع میں جب مستورات کی جماعتیں نکلیں، کئی اطراف سے جماعت والوں پر تنقید کی تیراَندازی کی گئی، حضرت شہید v نے اس کا بھی لسانی و قلمی ایسا دفاع کیا کہ ان معترضین کی زبانیں گنگ ہوگئیں۔
قرآن مجید سے عشق:
مولانا نعیم امجد سلیمی صاحب کہتے ہیں: ’’خانقاہ زکریا عارفیہ یو سفیہ (ڈالمیا کراچی) کی افتتاحی تقریب میںدور ان وعظ فر مایا:
’’میں بڑی عمر میں اپنے بیٹے کا قرآن مجید سنتے سنتے حافظ ہوا ہوں، اور الحمد للہ! کئی بار تراویح میں بھی سنایا ہے، اور اس وقت میری اولاد میں بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں اکثر حافظ ہیں۔ حاضرینِ مجمع سے فر ما یا کہ میری ایک بات مانو! وہ یہ کہ اپنے بچّوں میں سے ایک بچّے کو ضرور حافظ بنالو، تاکہ تمہا ری نجا ت کا ذریعہ ہو جائے۔‘‘درسِ قرآن کا اَنداز:صلاح الدین ثانی لکھتے ہیں:’’مولانا محمد یو سف لد ھیانوی v نے جہاں عوام کی اصلاح کے لئے صحافتی زندگی سے وابستگی اختیارکی، وہیں اِمامت وخطابت کے سا تھ درسِ قرآ ن کا سلسلہ بھی جاری رکھا، مولانا اپنی مسجد میں تقریباً ۲۲ سا ل سے درسِ قرآن دے رہے تھے، مولانا کے بعض معتقدین اس درسِ قرآن کو آڈیو کیسٹ پر ریکار ڈکر تے رہے، اس ریکارڈ کا کچھ حصہ دفتر ختمِ نبوّت میں مولانا سعید جلال پوری صاحب کے پاس محفوظ ہے، اور کچھ حصہ ایک معتقد کے پاس محفوظ ہے، یہ مکمّل درسِ قرآن تین سو سے زائد آڈیو کیسٹ میں محفوظ ہے، اسی آڈیو سے مولاناکے بیان کر دہ ’’چھ اُصولِ تفسیر‘‘ کی روشنی میں اس درسِ قرآن کا تجز یہ پیشِ خد مت ہے۔درسِ قرآن میں تفسیر سے پہلے تر جمہ قرآن پیش کیا جا تا ہے، اس لئے پہلے تر جمے کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہوں۔ درسِ قرآن میں مولانا کا اُصول یہ تھا کہ پہلے چند آیات کی تجوید کے سا تھ تلاوت فرماتے، پھر سلیس اور بامحاورہ تر جمہ قرآن پیش کر تے۔ مولانا کے ترجمہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی خاص متر جم کا ترجمہ پیشِ نظر نہیں ہوتا، بلکہ یہ مولانا کا اپنا تر جمہ ہوتا ہے۔ مولانا کے تر جمے میں دُوسری بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ تر جمہ کرتے ہوئے الفاظ کے مترادف معانی بھی بیان کرتے ہیں۔ تر جمے کے بعد آیات کے ایک ایک حصے کی تفسیر بیان کرتے ہوئے دوبارہ تر جمہ سرسری انداز میں کرتے ہیں، لیکن لغات القرآن کی طرف سا معین کو مکرّر متوجہ کر تے ہیں اور مادّہ کی وضاحت کے سا تھ مترادف معانی بھی بیان کر تے ہیں۔مولانا درسِ قرآن دیتے ہوئے نہ مشکل علمی مباحث کو چھیڑتے ہیں، اور نہ ہی ان کے درس میں غیرضروری طوالت ہوتی ہے، بلکہ اِعتدال پایاجاتاہے۔ جو خصوصیات سامنے آئی ہیںان میں سے چند یہ ہیں:1. درسِ قرآن میں آسمانی مذاہب اور آسمانی کتب کے سا تھ تقابلی مطالعہ نظر آتا ہے۔2: پیش آنے والے اِعتراضات کے جوابات دیتے ہیں : مثلاً ﴿وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ﴾(المائدہ:۴۶) پر اِعتراض کیاگیا ہے کہ قرآن خود توراۃ کی تصدیق کر تا ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ توراۃ کے اَحکامات کی اِطاعت کریں ؟ مولانا نے اس موقع پر اِیجابی اور سلبی انداز میں بہت عمدہ جوابات دیتے ہوئے فر مایا ہے کہ مصدقہ توراۃ، زَبور، اِنجیل وہ تھی جو اس وقت نازل ہو ئی تھی، جبکہ موجودہ توراۃ تو تحریف شدہ ہے، دُوسرے یہ کہ تصدیق کرنے کا مطلب اِطاعت کو لازم نہیں کرتا۔3: ایک خصوصیت ان کا تمثیلی انداز ہے مثلاً﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا۰ۭ﴾(المائدۃ:۴۸) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے شریعتوں کی منسوخی اور ناسخ و منسوخ پر عمدہ بحث کرتے ہو ئے فرماتے ہیں : یہ تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے ایک طبیبِ حاذق مریض کی حالت کے پیشِ نظر ایک دوا تجویز کرتا ہے، جب اس دوا کا اثر نمایاں ہوجاتاہے، تو دُوسری دوا دیتاہے، کبھی طبیب مریض کی حالت بدلنے پر دَوا تبدیل کر تاہے، انسان کا مزاج ہے وہ جس چیز کا عادی ہو جاتاہے اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا، مولانا عہدِ حاضر کی مثال دیتے ہیں جیسے آباءواجداد کی رُسومات ہیں، لوگ انہیںچھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔4: کتبِ سماوی سے بھی اِستشہاد پیش کر تے ہیں، تمام آسمانی کتب میں آپ J کی آمد اور قرآن کے نزول کا ذِکر موجود ہے۔5: عہدِ حاضر کے فکری اِنحرافات کا بھی رَدّ فرماتے ہیں مثلاً ﴿وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاءَہُمْ﴾ (المائدۃ:۴۸) کی تفسیر میں ’’ھویٰ وھدیٰ‘‘ کا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :آج اِجتہاد نام ہے خواہشِ نفس کے مطابق شریعت کو ڈھالنے کا۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۴۶۱)
فتنوں کا تعا قب:
یوںتو حضرت شہید v نے ہر میدان میں قائد انہ کر دار اَدا فرمایا، مگر دورِ حاضر کے فتنوںکے تعاقب اور مسلکِ اِعتدال کی نشاندہی میں انہوںنے جس طرح سے بے نظیر خدمات سر انجام دی ہیں، وہ ان ہی کا حصہ تھا۔ ذیل میں اس صدی کے جن فتنوںکے تعاقب اور مسلکِ اِعتدال سے اِنحراف کر نے والوں کے خلاف حضرت شہید v نے قلمی جہاد کیا ہے، ان کی فہر ست پیش خد مت ہے:
رافضیت، غیرمقلدیت، بریلویت، مودودیت، اِنکارِ حدیث، دِین دارانجمن، فتنۂ گوہرشاہی، آغاخانیت، فرقہ مہدویہ، ذکری فرقہ، فتنۂ محمد شیخ، فتنۂ ڈاکٹر مسعود عثمانی، فتنۂ بہائیت، فتنۂ خارجیت، فتنۂ علوی مالکی، فتنۂ جماعت المسلمین، فتنۂ تنظیم اسلامی۔
مناظرہ ومباحثہ:
حضرت v کی تحریر کی جا معیت کا اندازہ آپ اس جواب سے لگا سکتے ہیں جو انہوں نے ــ ــ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے محرک کے جواب میں لکھا تھا، میرے خیال میں پیشِ نظر تحریر کا یہ حصہ سائل کے پورے خط کا جواب ہے، اور پوری اُمّت کے لئے اس میں اِصلاحی پہلو بھی ہے، چنا نچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:’’بحث ومباحثہ سے انسان کی قوّتِ عمل مفلوج ہو جا تی ہے، اس میں عام طور سے سمجھنے سمجھانے کا جذبہ مغلوب ہو جا تا ہے، اپنی اپنی بات منوانے کا جذبہ غالب آجا تا ہے، خصوصاً جبکہ آدمی علومِ شرعیہ سے پورے طور پر واقف نہ ہو، وہ حدودِ شرعیہ کی رعا یت کرنے سے قاصر رہتا ہے، بسااوقات ایسا ہو گا کہ ایک چیز غلط اور ناحق ہو گی، مگر اسے حق ثابت کر نے کی کوشش کرے گا، بسااوقات اس بحث ومباحثے میںوہ اللہ کے مقبول بندوں کی عیب جو ئی کرے گا، اور ان پر زبانِ طعن دراز کرکے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرے گا، یہ ساری چیزیں مل کر اسے نہ صرف جذبۂ عمل سے محروم کریںگی، بلکہ اس کی ذہنی ساخت میںقبولِ حق کی اِستعداد کم سے کم ہو جائے گی، اس لئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ صاحبان میں سے جس کو جس عا لمِ دین پر اِعتماد ہے اور وہ جس عالمِ دِین کے بارے میں دیانت داری سے یہ سمجھتا ہے کہ یہ خداترس، محقق، عالمِ دِین ہے اور محض رضا ئے الٰہی کی خاطر خداتعالیٰ کا پیغام اور آنحضرت J کے اِرشادات لوگوں تک پہنچاتا ہے، اس کے اِرشادات کے مطابق عمل کرتے ہوئے کام میں لگا رہے، اور ان بحث ومبا حثہ میں وقت ضائع کر نے کے بجا ئے ذِکر و تسبیح، دُرود شریف، تلاوتِ قرآن مجید اور دیگر خیر کے کاموں سے اپنے اوقات کو معمور رکھے۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۴۰۲)میں سمجھتا ہوں کہ اگر حضرت شہیدv ’’اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم‘‘ نہ بھی لکھتے تو اُمّت کی راہنمائی اور اِختلاف واِنشقاق سے بچنے کے لئے یہی ایک اِقتباس کافی و وافی تھا۔تبحرِ علمی کا اِعتراف:محدّث العصر حضرت مولانا سیّد محمد یو سف بنوری v جن کی علمیت کے اہلِ عجم ہی نہیں عرب بھی قائل تھے، وہ اس نابغۂ روزگار شخصیت کے علوم ومعارف اور تبحرِ علمی کا اِعتراف کرتے ہوئے اُردو ترجمہ ’’خاتم النّبیین‘ ‘کے، مقدمہ میں انہیں مندر جہ ذیل الفاظ میں خراجِ تحسین پیش فر ماتے ہیں:’’حضرت مولانا انور شاہ کشمیری v کا دِل ودِماغ جس طرح علوم سے بھرا ہوا تھا، ظاہر ہے کہ قلم سے اسی انداز کے علوم وحقائق نکلیںگے۔ ہر شخص نہ اس کی تہ تک پہنچ سکتا تھا اور نہ یہ علوم اس کے قبضے میں آسکتے تھے، اس کے لئے حسبِ ذیل اُمور کی ضرورت تھی…….۔‘‘یہاں حضرت بنوری v نے دس صفات کا تذکرہ کیا ہے:’’الحمدللہ! کہ یہ سعادت میرے ہم نام اور میرے ہم کام، میرے مخلص رفیقِ کار مولانا محمد یوسف صاحب لد ھیانوی کے حصے میں آئی جو اس عشرۃ کاملہ سے متصف تھے، باکمال تھے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ اس تر جمے وتشریح کے فرض سے نہایت کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۴۴۳)
صحافتی خدمات:حضرت مفتی محمدجمیل خان شہید v کیا کہتے ہیں، ذرا دیکھئے:’’مئی ۱۹۷۸ء میں ادارہ ’’جنگ‘‘ کے مالک میرشکیل الرحمٰن، مولانا مفتی احمد الرحمٰن، مولانا مفتی ولی حسن ٹو نکی سے درخواست کرتے ہیں کہ میں ’’جنگ‘‘ میں اسلامی صفحہ شروع کر نا چاہتا ہوں۔ حضرت کو اس کی اِدارت کے لئے اجازت دے دیجئے۔ حضرت شہید v اخبارات کو ایک فضول، لایعنی چیز اور جھوٹ کا پلند ا قراردیتے ہو ئے انکار فر ماتے ہیں مگر اِمامِ اہلِ سنّت مولانا مفتی احمدالر حمٰن مستقبل پر نگاہ کئے ہو ئے ہیں اور ذرائع ابلاغ کی اہمیت کا احساس کر تے ہو ئے حضرت شہید v سے فر ماتے ہیں: ’’آپ نے اس کام کو سنبھالنا ہے!‘‘ حضرت شہید v مفتی احمدالرحمٰن کے اِصرار پر گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور راضی بر ضائے اکابر کے تحت اس منصب کو ایک معاون کی شرط کے ساتھ قبول کرتے ہیں (اور مولانا مفتی احمدالرحمٰن کی شفقت کہ معا ونت کے لئے راقم الحروف کا انتخاب فر ماتے ہیں)۔ شہیدِ اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی v اخبار ی صنعت میں جدّت فر ماتے ہیں اور مضامین کے سا تھ دِینی رہنمائی کے لئے ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے عنوان سے ایک کالم کا آغاز فرماتے ہیں۔ یہ کالم آپ کی دِینی خد مات کو عالمی وسعت دینے کا تیسرا مرحلہ ہے۔ کالم کا آغاز ہو تا ہے تو اَطرافِ عالم سے دِینی رہنمائی حاصل کر نے والوں کے خطوط کا تانتا بندھ جاتاہے، اور یہ سلسلہ اتنی مقبولیت حاصل کر تاہے کہ روزانہ سیکڑوں خطوط موصول ہو نا شروع ہو جا تے ہیں۔ اور حضرت شہید v نے بلا مبالغہ لاکھوں خطوط کے جواب ان چند سالوں میں مر حمت فرمائے۔ اخبار ’’جنگ‘‘ میں آپ کے کالم کی اِشاعت کے بعد پوری دُنیا سے جو مسائل آنا شروع ہو ئے، ان میں بعض ایسے مسا ئل بھی تھے جن پر آپ نے تحقیقا تی جواب تحریر فرمائے، جو خود ایک کتاب کی حیثیت رکھتے تھے، اسی سلسلے میں آپ کو ایک خط دُبئی کے بعض نوجوان دوستوں کی طر ف سے ملا، جس میں مسلکی اِختلافات کو بنیاد بناکر ایک دُوسرے سے لڑائی جھگڑے کا سبب قراردے کر اس کے بارے میں واضح جواب مانگا گیاتھا۔ حضرت شہیدv نے اس کے جواب میں تمام مسا لک کے بارے میں ایک تفصیلی تصنیف ’’اِختلافِ اُمّت اور صراطِ مستقیم‘‘ تحریر فرمائی جس میں مسلکِ حق مسلکِ دیو بند کو ترجیح دے کر مسئلے کو اس انداز میں بیان کر کے حق واضح کیا کہ بڑے بڑے علمائے کرام نے آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ لاکھوں افراد کے ذہنوںکے شکوک وشبہات دُور ہوئے۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۷۵۵)جذبۂ جہاد:مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید v سفرنامہ افغانستان کی رُوئیداد میں رقم طراز ہیں:’’۹؍ مئی کو بعد نمازِ ظہر ملاقات کا اِہتمام کیاگیا ہے، بعد نمازِ ظہر حضرت شہیدv کا قافلہ امیرالمؤمنین مُلّا عمر سے ملاقات کے لئے پہنچا تو سادہ سے گھر میں قرونِ اُولیٰ کے حکمرانوں کی سادگی کا منظر پیش کر تے ہو ئے امیرالمؤمنین نے گھر کے دروازے پر حضر ت شہیدv اور دیگر علمائے کرام کا اِستقبال کیا، ایک طرف حضرت شہید v تشریف فرماہو ئے، جبکہ دُوسری طرف قاری سعیدالرحمٰن اور حضرت شہید v کے پہلو میں ڈاکٹر عبدالرزّاق سکندر تشریف فر ما تھے، جبکہ اراکینِ وفدحلقے کی شکل میں چاروں طرف بیٹھ گئے۔ اب وہ تاریخی ملاقات شروع ہو ئی جس کا اُمّتِ مسلمہ کو سالوں سے اِنتظار تھا۔ امیرالمؤمنین مُلّا عمر نے حضرت شہید v اور آپ کے رُفقاء کی افغانستان میں آمد کو اِسلام کی سربلندی اور افغان مسلمانوں کی کامیابی کے لئے نیک شگون قرار دیتے ہو ئے حضرت شہید v کا خصوصی طور پر شکر یہ ادا کیا۔ جناب قاری سعیدالرحمٰن صاحب نے وفد کی نمائندگی کر تے ہوئے امیرالمؤمنین اور طالبان کی اسلامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ حضرت شہید v اپنی خصوصی محبّت بھری مسکراہٹ کے سا تھ امیرالمؤمنین کی طرف متوجہ تھے، ایک طویل ملاقات کے بعد حضرت شہید v نے اجا زت چاہی۔ امیرالمؤمنین نے بادل نخواستہ اجازت دی ……. سفرِ افغانستان سے واپسی ۱۵؍ مئی کو ہو ئی۔ کراچی میں بھی آپ پر یہ رُوحانی کیفیت طاری تھی، ایسا محسوس ہو تا تھا کہ آپ اس دُنیا سے اپنا رِشتہ توڑچکے ہیں، طالبان کی فکرمندی آپ پر بہت زیادہ غالب تھی، کراچی میں بھی آپ نے اپنی شہادت کا تذکرہ اور دُعا کا سلسلہ جا ری رکھا تاآنکہ ۱۸ ؍مئی بروز جمعرات کی صبح ظالموں نے آپ کو شہیدکر کے حیاتِ جاد وانی کے منصب پر فائزکر دیا۔‘‘(شہیدِ اسلام نمبر، ص:۷۹۹)
محبوبِ خلائق:’’حضرت قدس سرہٗ علم کا خزانہ تھے، عمل کا نمونہ تھے، عاقل وفہیم تھے، ذکی ولبیب تھے، عابد وزاہد تھے، متقی وپر ہیز گار تھے، جری و بہا در تھے، نڈرو حق گو تھے، فیاض اور سخی تھے۔ انہیں جو کچھ ملا تھا مو ہبت خداوندی سے ملا تھا اور ان کے تنہاوجود میں اس قدر فوق العادت اوصاف و کمالات قدرت نے جمع کر دئیے تھے کہ ایک بڑی جماعت پر تقسیم کر دیئے جا ئیں تو محا سن سے مالامال ہو جائے۔حضرت شیخ v کو حق تعالیٰ نے عبدیت کا بلند ترین مقام عطا فر ما یا تھا، او ر صحیح بخاری شریف کی حدیث : ’’ثم یو ضع لہ القبول فی الأرض‘‘ کے مطا بق ان کی یہ محبوبیت عطیۂ آسمانی تھا۔ وہ جس محفل میںہوتے، خواہ یہ بادشاہوں کی ہو تی یادرویشوں کی، طلبہ کی یا دانشوروں کی، عر بوںکی یا عجمیوںکی، احباب کی یا اغیار کی، وہ سب پر بھا ری نظر آتے۔انہیں بڑے قدآور بادشاہوں اور سر بر اہانِ مملکت سے لے کر ادنیٰ ادنیٰ لو گوں اور چھوٹے چھوٹے بچّوں تک سے باتیںکر تے دیکھا، مگر ان کی صورت و شوکت، ان کی زیبائی ورعنائی، ان کے حسن وجمال، ان کے جاہ و جلال، ان کے حلم و وقار کا رنگ ہر جگہ یکساں نظر آیا۔ ان کی محبوبیت ہر جگہ نمایاں جھلکتی نظر آئی۔ انہیں اپنے اللہ پر بڑا اِعتماد تھا، بڑا ناز تھا۔ یقین و توکّل ایسا تھا گویا وہ لوحِ محفوظ سے ابھی ابھی پر وانہ لے کر آئے ہیں۔ انہیں اسباب ووسا ئل کی پر وا نہیں تھی، وہ جو کچھ کر تے تھے خدا کے لئے اور خدا کے بھروسے پر کرتے تھے۔حضرت قدس سرہٗ کا یہ فقرہ آج بھی بہت سے لوگوںکے کانوںمیں گونج رہاہوگا کہ ’’زمین وآسمان کے خزانے اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں، اگر ہم اِخلاص کے سا تھ اس کے دِین کا کام کریں تو اس کے خزانوں میں کیا کمی ہے ؟ َ‘‘(شہیدِ اسلام نمبر، ص:۷۲۶)مسندِ رُشد وہدایت کے شہ نشین:’’سلوک کی منا زل طے کرانے میں آپ کا انداز مشفقانہ تھا، سختی نہیں فرماتے تھے، بلکہ ترغیب کا زیادہ استعمال فرماتے، بیعت کرتے ہی مریدین میں سنّت کارنگ غالب آنے لگتا، آپ باجماعت نماز اور تکبیرِ تحریمہ کا وعدہ لازمی طور پر لیتے اور باجماعت نماز سے غفلت اور تکبیرِ تحریمہ کے تارک کو سخت تنبیہ فرماتے، شفقت کے انداز میں آپ کسی بے داڑھی والے کے چہرے پر ہاتھ پھیر لیتے تو حضرت کی کرامت یا ہاتھ کی برکت کا ایسااثر ہوتا کہ وہ چہرہ کچھ دن بعد داڑھی سے مزین ہو جاتا۔ مفتی خالد محمود نائب مدیر اقرأ روضۃ الاطفال کے مطابق اقرأ روضۃ الاطفا ل ٹرسٹ لاہور کے ایک اجلاس میںحضرت شہید شریک ہوئے تو ایک یا دو فرد داڑھی والے تھے، مگر جب کچھ عرصہ بعد دوبارہ اجلاس ہوا تو ایک دو کے علاوہ باقی تمام ٹرسٹی داڑھی کی نعمت سے مزین ہو چکے تھے۔ باجماعت نماز کا اہتمام اور تلاوت کلام پاک اور مختصر تسبیحات کے ذریعے آپ اِصلاح فرماتے۔ عام طور پر معمولات میں صبح وشام ایک تسبیح تیسرا کلمہ، دُرود شریف، اِستغفار اور ایک پارہ تلاوت کلام پاک، حفاظ کے لئے تین پارے، مناجاتِ مقبول کی ایک منزل اور حضرت مخدوم ہاشم کی مرتّب کردہ دُرود شریف کی کتاب ذریعۃ الوصول الیٰ جناب الرسول J کی ایک منزل پڑھنے کی تلقین فرماتے۔ حالات سے اِطلاع کی صورت میں مزید وظائف بتاتے، عام طور پر مختصر ذِکر کرنے کا حکم دیتے جو آٹھ تسبیحات پر مشتمل ہوتا۔ تین سو مرتبہ لا الٰہ الا اللہ اور پانچ مرتبہ اسمِ ذات، اس سے زیادہ کام کرنے والوں کو دوازدہ تسبیح کی بھی تلقین فرماتے۔ ہر مرید کے حسبِ حال وظائف اور معمولات بھی تجویز فرماتے۔ ہر جمعرات کی مجلس میں اِصلاحی بیان فرماتے، جمعۃالمبارک کا بیان بھی اِصلاحی عنوانات پر مشتمل ہوتا، بیس سال میں لاکھوں افراد نے آپ سے اِصلاح حاصل کی۔ زندگی کے آخری دور پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود آپ نے گلگت کی دُشوار گزار وادیوں میں سفر کیا، اور اِصلاحی مجالس کے ذریعے ہزاروں افراد نے ایک ہفتے میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرکے بیعت کی اور اپنی زندگی کا رُخ تبدیل کیا۔ لندن، افریقہ اور دیگر ممالک میں آپ کے مریدین کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ تصوّف وطریقت میں آپ کا انداز بہت زیادہ سہل تھا، اس لئے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ رہی اور اسی طرح آپ پر حسنِ ظن بہت زیادہ غالب ہوگیاتھا، خاص کر عمر کے آخری حصے میں شفقت ومحبّت کے غلبے اور دِین کی اِشاعت کا جذبہ آپ پر بہت زیادہ غالب آگیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالرزّاق اسکندر اور مولانا فضل الرحمٰن کو خلافت دیتے ہوئے فرمایا : ’’آپ دونوں حضرات جس منصب پر فائز ہیں یعنی جمعیت علماء اسلام کی امارت اور جامعہ بنوری ٹاؤن کا اہتمام، یہ اتنا عظیم منصب ہے کہ اس پر ہمیشہ ہمارے اکابر علماء نے صاحبِ نسبت افراد کا تقرر کیا ہے۔ میرے دِل میں آیا کہ آپ حضرات کو جب اللہ تعالیٰ نے یہ منصب علمائے کرام کے ذریعے دلوایا تو آپ صاحبِ نسبت ہوں، اس لئے میں آپ کو اپنے سلسلے کی خلافت دیتا ہوں۔‘‘ مولانا اعظم طارق نے جیل سے خط کے ذریعے بیعت کی اور منازلِ سلوک طے کرنے کے لئے خطوط تحریر فرمائے، جیل میں آپ نے محسوس کیا کہ اب نفس تصوّف کی طرف متوجہ ہو گیا ہے تو خلافت سے سرفراز فرمایا۔ گلگت میں ایک جگہ تقریرکرتے ہوئے فرمایا : ’’حضرت مجدّد الف ثانی v نے جب حضرت آدم بنوری v کو خلافت عطا فرمائی تو اپنے احباب کو فرمایا : ہم نے پنچھی کے پر کاٹ دیئے ہیں، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمٰن، مولانا اعظم طارق، مفتی نظام الدین شامزی، مولانا طارق جمیل کو نسبت کے ذریعے قابو کرلیا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے کام لے گا۔بلامبالغہ حضرت تھا نوی، حضرت مد نی، حضرت شیخ الحد یث …نوّر اللہ مر قدہم… کے بعد مسندِ رُشد و ہدایت سے اتنا زیادہ اِصلاح کا کام حضرت شہید v کی خانقاہ میں ہی نظر آتاہے۔ خداکر ے اکا بر ین کا یہ سلسلہ جاری رہے۔
حضرت شہید v کے درج ذیل خلفائے کر ام ہیں:
۱:… حضرت مولانا فضل الر حمن مد ظلہ (امیر جمعیت علماء اسلام)
۳:… حضرت مولانامفتی نظام الد ین شامزی (کراچی)
۵:… حضرت مولانامحمد اعظم طا رق (صدر سپا ہ صحابہ)
۷:… حضرت مولانامفتی منیر احمد اخون(امریکہ)
۹:… حضرت مولانا محمد حسین، حسین پوی مد ظلہ (ملتان)
۱۱:… حضرت مولانامحمد سلیم دھورات مد ظلہ (بر طانیہ)
۱۳:… حضرت مولانا قاری محمد طاہر رحیمی مد ظلہ (مد ینہ منورہ)
۱۵:… حضرت مولانا قاری محمد صدیق رحیمی مد ظلہ (ملتان)
۱۷:… حضرت مولانا محمد سلیما ن ہو شیار پو ری (مر حوم)
۱۹:… حضرت حافظ فیروز الد ین صاحب مد ظلہ(کراچی)
۲۱:… حضرت مولانا قاری نثار احمد مد ظلہ (جامع مسجد گلگت)
۲۳:… حضرت مولانامفتی اسلم مد ظلہ (بر طانیہ)
۲۵:… حضرت مولانامفتی فضل الحق مد ظلہ(بنگلہ دیش)
۲۷:… حضرت مولانا نعیم امجد سلیمی صا حب مد ظلہ (کراچی)
۲۹:… حضرت مولاناابو الا شرف احمد صا حب مد ظلہ (ٹھٹھہ)
۳۱:… حضرت مولانا محمد ایو ب الر حمن انوری صاحب مد ظلہ
۳۳:… حضرت مولانا غلام مصطفی صا حب مد ظلہ (کراچی)
۳۵:… حضرت مولانا ابر ہیم ہا شمی امر یکی مد ظلہ (ویسٹ انڈیز)
۳۷:… حضرت مولاناخواجہ متین الدین مد ظلہ، ٹور نٹو (کینیڈا)
۳۹:… حضرت مولانا احسا ن اللہ ہزاروی (کراچی)
۴۱:… حضرت مولاناطارق جمیل مد ظلہ (تبلیغی مر کز رائیونڈ)
۴۳:… حضرت مولانامحمد انور فاروقی مر حوم (کراچی)
۴۵:… حضرت مولاناقاری عبد الر شید مد ظلہ (حیدرآباد)
۴۷:… شیخ القرآن حضرت مولانا محمد افضل خان مد ظلہ(شانگلہ)
۲:… حضرت مولاناعزیر الرحمن جالندھری مد ظلہ (ملتان)
۴:… حضرت مولاناڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر (کراچی)۶:… حضرت مولانااحمد میاں حما دی (ٹنڈوآدم)
۸:… حضرت مولانامسعود اظہر مد ظلہ (امیر جیش محمد)
۱۰:… حضرت مولانامنظور احمد الحسینی (لندن)
۱۲:… حضرت مولانا اسماعیل صاحب مد ظلہ (بر طانیہ)
۱۴:… حضرت مولاناقا ری محمد یٰسین یو سفی مد ظلہ (کراچی)
۱۶:… حضرت مولانا قاری محمد عبد اللہ رحیمی (مرحوم)
۱۸:… حضرت مولانارب نواز صاحب (حید آباد)
۲۰:… حضرت مولانا قاری عطاء اللہ صا حب مد ظلہ (ملتان)
۲۲:… حضرت مولانا حافظ عبد القیوم نعمانی مد ظلہ (کراچی)
۲۴:… حضرت مولانا سعید احمد جلا ل پوری مد ظلہ (کراچی)
۲۶:… حضرت مولانا حا فظ عبد اللطیف مد ظلہ (اورکزئی ایجنسی)
۲۸:… حضرت مولانا ڈاکٹر وسیم احمد صا حب مد ظلہ (کراچی)
۳۰:… حضرت قاضی قائم الدین مد ظلہ (ٹھٹھہ)
۳۲:… حضرت مولاناعبید اللہ صا حب مد ظلہ (کا مرہ)
۳۴:… حضرت مولانا عبد القیوم سند ھی مد ظلہ (مکہ مکرمہ)
۳۶:… حضرت مولانا مفتی نعیم میمن مد ظلہ (حید ر آباد)
۳۸:… حضرت مولانااقبال اللہ مدظلہ (کراچی)
۴۰:… مفتی محمد جمیل خا ن (کراچی)
۴۲:… حضرت مولانااللہ وسایا مد ظلہ (ملتان)
۴۴:… حضرت مولاناالشیخ عبد السمیع فقیر مد ظلہ (کراچی)
۴۶:… حضرت مولانا امیر عبد اللہ مدظلہ (افغانستان)
۴۸:… حضرت مولاناقاری محمد طیب نقشبندی مد ظلہ
۴۹:… حضرت مولانا سیّد اطہر عظیم مدظلہ (مجاز صحبت )، (کراچی)’’آپ ماہ مبارک کے آخری عشرے میں اِعتکاف کا خصو صی اِہتمام فرماتے، اور گویا پورے سال میں دس دن کے لئے آپ ایک خصو صی خانقاہ کے طرز پر متوسلین کی تر بیت فرماتے۔ کراچی کے علاوہ مختلف علاقوں سے آپ کے مریدین سینکڑوں کی تعداد میں اِعتکاف کے لئے پہنچتے۔ اس میں بھی حضرت کی شرائط بہت سخت ہو تیں کہ کسی بغیر داڑھی والے شخص کو اِعتکا ف کی اجازت نہیں دی جاتی، کم عمر نوجوانوںکو اِعتکاف میںبیٹھنے نہیں دیاجاتا، اس پورے دس دن کے دوران حضرت خصوصی طور پر اس کا اِہتمام فر ماتے کہ زیادہ تر لوگ خاموش رہ کر اللہ تعالیٰ سے لو لگائیں اور ایک دُوسرے سے تعلقات پیدا کر نے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رُجوع رکھیں۔ تہجد سے رات گئے تک کے معمو لات میں ایک لمحے کی فرصت نہیں دی جاتی۔ رات تین بجے تہجد کی نماز اداکی جاتی، خصوصی طور پر اِہتمام کر کے معتکفین کو جگایا جاتا۔ سحری ساڑھے چار بجے آخری وقت میں کرائی جاتی، اس کے بعد فجر کی نماز کے بعد یٰسین شریف کا ختم کیا جاتا، اور کچھ دیر وظائف اور اِشراق کی ادائیگی کے بعد معتکفین آرام کر تے اور حضرت بھی آرام فرماتے، دس بجے تمام معتکفین کو جگادیا جاتا، تمام ساتھی تبلیغی احباب کی نگرانی میں سورتوں کی اصلاح اور دُعائیں وغیرہ یاد کر تے، بعد نمازِ ظہر ختمِ خواجگان ہو تا اور مجلسِ ذِکر منعقد ہو تی۔ اس کے بعد اِنفرادی اعمال اور تلاوتِ کلام پاک میں احباب مشغول ہو جاتے، بعد نمازِ عصر حدیث شریف کا درس ہو تا، اس کے بعد اِفطاری اور وقتِ اِفطار کی اِنفرادی دُعا کی تیاری میں ساتھی مشغول ہوجاتے، زیادہ تر اَحباب دُعائیں یا تلاوت میں مصروف رہتے۔ اِفطار کے بعد کھا نا اور وضو کے بعد عشاء کی نماز اور تراویح ادا کی جاتی ہے۔ تراویح کے بعد دُرود شریف کی چہل حد یث پڑھی جاتیں اور ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ سے تعلیم ہو تی، کچھ دیر معتکفین آرام کر تے یا اِنفرادی تقاضے پو رے کر تے۔ طاق راتوں کو تراویح کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد حضرت شہید v ایک گھنٹہ اِصلاحی بیان فر ماتے اور پھر طویل دُعافرماتے۔ تراویح کے بعد یا اِصلاحی بیان کے بعد حضرت شہید v ابتدا میں قاری محمدعبداللہ صا حب v صا حبزادہ حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی vسے تین تین پارے قرآن مجید نفلوں میں سنتے، ان کے انتقال کے بعدقاری محمد عثمان اور صاحبزادہ مولوی محمد یحییٰ لد ھیانوی سے قرآن مجید سنتے رہے۔اس طرح چو بیس گھنٹے میں بمشکل تین چار گھنٹہ آرام فر ماتے، اس اِعتکاف میں آخر ی سا ل سات سو کے قریب، ستائیس رمضا ن کے بعد ڈیڑھ ہزار کے قریب متو سلین شریکِ اِعتکاف ہوئے تھے، طاق راتوں کے بیان میں مسجد کے اطراف کی تمام سڑکوں اور میدان کی طرف سامعین کا ایک ازدحام ہو تا تھا۔ چالیس اور پچاس ہزار سے زائد افراد شرکت کر تے، حضرت اگرچہ بآوازِ بلند دُعا نہیں فر ما تے تھے، لیکن آپ کی آہ وزاری کی وجہ سے پو ری مسجد دُعا کے دوران آہوں اور سسکیوں کے سا تھ آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر کے اپنے خدا تعالیٰ کو راضی کر تی نظر آتی۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۷۸۲)
اِتحادِ اُمّت کی فکر:’’اکابر علمائے حق نے کبھی دِین کے چھو ٹے اور بڑے کام میں تعرض نہیں کیا بلکہ سرپرستی ہی فرمائی، اور یہی شان حضرت v کی بھی تھی۔ حضرت v کو اِتحادِ اُمّت کی بڑی فکر تھی اور علمائے اُمّت کے اِتحاد کو اس کا نکتۂ آغاز سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ختمِ نبوّت کے مشن سے خصوصی قلبی لگاؤ کے باوجود علمائے حق کے ہر نمایاں کام میں اپنا بھرپور اور مؤثّر حصہ ڈالا۔ تبلیغی جماعت کی بھرپور تائیدونصرت فرمائی اور حضرت مولانا طارق جمیل صاحب مد ظلہ کو خلافت سے سر فراز فرمایا۔ سپاہ صحابہ کی مظلومیت کے دور میں کارکنوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھا اور حضرت مولانا اعظم طارق مد ظلہ کو جیل میں خلافت عطا فرماکر بزبانِ حال اعلان فرمایا کہ آپ کی شفقتیں، محبتیںاور دُعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور اگر بالفرض ان کے طریقۂ کار میں کوئی خامی ہے تو اس کی اِصلاح کی صورت بھی اِختیار کر لی گئی ہے۔عملی سیاست سے تو آپ ہمیشہ کنارہ کش رہے، لیکن نظر یاتی طور پر جمعیت علماء اسلام سے خاص تعلق تھا اور اسی تعلقِ خا طر کا اِظہار تھا کہ آپ نے حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کو خلافت عطا فر مائی، اور اس طرح جمعیت علماء اسلام کی سرپرستی بھی فرمائی۔آپ تمام عمر قلمی ولسانی جہاد میں مصروف رہے، مگر عمرِ عزیز کے آخری حصے میںعملی جہاد کے میدان میں بھی اُترے، مجاہدین کو شفقتوں سے اور دُعاؤں سے نوازا، حضرت مولانا مسعود اظہر صاحب مد ظلہ کو خلافت سے نوازا۔ آپ نے مختلف جہادی تنظیموں کو متحد کر نے کے لئے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ حضرت اِتحادِ اُمّت کے لئے کس طرح بے چین رہتے تھے اور آپ نے کس طرح علماء کو ایک لڑی میں پرو رکھا تھا، آپ کی جامعیت، اثراَندازی اور مرکزیت سے منافقین ومشرکین خوف محسوس کر نے لگے تھے اور شاید حضر ت v کی شہادت بھی ان کے اس خوف کا نتیجہ ہو۔‘‘(شہیدِ اسلام نمبرص:۳۹۲)
تزکیۂ نفس وتر بیتِ باطن کا انداز:حضرت مولانامحمد نعیم میمن لکھتے ہیں:’’۱۴۱۳ھ میں میری ہمشیرہ کی شادی ہوئی، اس مو قع پر راقم نے ہمشیرہ کے لئے خصوصی نصیحت کی درخواست کی تو فر مایا:’’السلام علیکم! اِعتکاف میں تفصیلی خط لکھنے کا مو قع نہیں، بس اتنا لکھتاہوں کہ:۱:… فرائضِ شرعیہ کی پابندی کرو، اس میں کو تاہی نہ ہونے پائے۔۲:… جس گھر میں جارہی ہو، اس کو اپنا گھر سمجھو، شوہر سے اور اس کے متعلقین سے ہمیشہ اِحترام سے پیش آؤ۔۳:… دو عادتوں سے ہمیشہ بچو، ایک تکبّر، دُوسرے زبان کی تیزی، یہ دونوں مہلک ہیں اور خانگی زندگی کو بر باد کردیتی ہیں۔۴:… اگر کسی کی جانب سے ظلم و زیادتی ہو تو اس کو رضائے الٰہی کے لئے بر داشت کرو، اِن شاءاللہ! اس کا انجام بہت ہی اچھا ہوگا۔۵:… بہشتی زیور کا ہمیشہ مطالعہ کرو اور ان ہدایات کو حرزِجان بناؤ، قرآنِ کریم کی تلاوت اور مناجاتِ مقبول کی ایک منزل اور تسبیحات کو اپنے اُوپر لازم کرلو، سوائے عذر کے ان چیزوں میں ناغہ نہ ہو، حق تعالیٰ شانہ‘ ہمیشہ حفظ وامان میں رکھیں۔ والسلام۔‘‘(شہیدِاسلام نمبر، ص:۳۳۱)دیکھئے یہ خط کس قدر اِختصار وجامعیت کا مر قع ہے۔ذاتی صفات و کمالات:’’۱:… آپ ہر نماز میں اَذان سے قبل ورنہ اَذان کے فوراً بعد مسجد میں تشریف لے آتے اور محراب میں مصلےٰ پر تلا وتِ کلام میں مصروف رہتے، یہ آپ کا عام معمول تھا، آپ کا یہ معمول مبارک اَئمہ مساجد اور تکبیرِ اُولیٰ کی پابندی کر نے کے خواہش مند حضرات کے لئے بہترین لا ئحۂ عمل ہے۔۲:… آپ جمعہ کے دن کی نماز کے لئے ۱۲ بجے سے پہلے مسجد میں آجاتے، اور ۱۲ بجے بیان شروع فر ما دیتے، تقریباً ایک بجے تک بیان ہو تا، اس کے بعد سوالات کے جواب دیئے جا تے، سو اایک بجے پہلی اَذان ہو تی، دس منٹ سنتوں کی ادا ئیگی کا وقفہ، پھر دُو سری اَذان وخطبہ اور نماز ہو تی، اس میں جمعہ کے دن مسلمانوں کو پہلی اَذان سے بھی پہلے مسجد بلانے کا حضراتِ علماء کے لئے آسا ن نسخہ اور جمعہ کی جلد ادا ئیگی کا سبق ہے۔۳:… آپ دِین کاکام کر نے والے ہر اِنسا ن کو گلے لگا تے، اس سے خوش ہو تے، اور اس کو اپنا سمجھتے، اس کی سر پر ستی کر تے، اس میں اہلِ دِین اور علماء کے لئے بہتریں لائحۂ عمل اور وسعتِ قلبی کا بہترین سبق ہے۔۴:… نکا ح پڑھانے کے لئے دولہا کے شر عی لباس، وضع قطع، صورت وسیرت کو دیکھ کر نکاح پڑھاتے، ورنہ اِنکار فر ما دیتے۔ اس میں نکاح خواں حضرات کے لئے سبق ہے کہ شریعت کی پاسداری کیسے کی جاتی ہے؟۵:… مہرِ فاطمی سے کم یا زیا دہ پر نکا ح نہ پڑھا تے، یعنی مہرِ فاطمی پر اِصرار فر ماکر اُمّت کو مہرِ فا طمی کی سنّت پر لاتے۔۶:… ہر مسلمان ومعتقد کو بڑے پیارے انداز میں داڑھی پر آمادہ کرتے۔۷:… انگریزی محاورات اور جملوں سے سخت نفرت کا اِظہار فرماتے تھے۔۸:… اپنے کام سے اتنی لگن وشغف کہ ’’جنگ‘‘ اخبا ر میں ’’آپ کے مسا ئل اور اُن کا حل‘‘ کے لئے شہا دت باسعادت کے بعد تک کے کئی سا ل آگے کا کام کرگئے۔۹:… شفقت واُلفت اور محبّت ایسی فرماتے کہ آپ کی شفقت دیکھ کر ماں، باپ اور اُستاذ کی محبّت بھول جا تی۔۱۰:… سفر و حضر میں تہجد کے وقت صلوٰۃ التسبیح کا اِہتمام واِلتزام فرماتے۔۱۱:… فضول مجلس آرائی سے مکمّل اِجتناب فرماتے۔۱۲:… آپ کی مجلس میں بولنے سے زیادہ خاموش رہ کر آپ کے چہرے کو دیکھنے میں ایک عجیب حظ اور سر ور ملتا تھا۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۴۳۷)
شہادت اور سفرِ آخرت:۱۸؍مئی ۲۰۰۰ء کو صبح کے وقت گھر سے دفتر ختمِ نبوّت جاتے ہوئے سفاک قاتلوں نے آپ کو ڈرائیور سمیت فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا، جبکہ آپ کے صاحبزادے مولانا محمدیحییٰ لدھیانوی شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید v لکھتے ہیں:’’حضرت vکی شہادت کی خبر سنتے ہی پورا کراچی بلکہ پو را پاکستان غم واندوہ میں ڈُوب گیا، اور آناً فاناً بازار بند ہوگئے، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، اندرون و بیر ون ملک سے لوگ دیوانہ وار اپنے محبوب قائد اور مشفق ومر بی شیخ کے آخری دیدار اور ان کے جنازے میں شرکت کے لئے آنا شروع ہو گئے، دیکھتے ہی دیکھتے مسجد فلاح اور اس کے آس پاس کا علاقہ لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے بھرگیا۔ ہر شخص اشک بار تھا اور ہر دِل رنجیدہ تھا، اپنے بھی غم واندوہ کی تصویر تھے اور پرائے بھی اس سے متأثر تھے۔ صبح گیا رہ بجے ہی سے حضرات v کے جسدِ خاکی کو حضرت vکے قائم کر دہ دارالعلوم زکریا الخیریہ میں رکھ دیا گیا۔ عشاء تک عشاق نے لائن لگاکر اپنے اس محبوب قائد کے رُخِ زیبا کی زیارت کی۔ حسبِ پر وگرام عشاء کی نماز کے بعد اس بے تاج بادشاہ اور دِلوں پر حکمرانی کر نے والے شہید اور اُمّتِ مسلمہ کے عظیم محسن و مربی کے جسدِ خاکی کو ایک کھلے ٹرک میں رکھ کر جلوس کی شکل میں بنوری ٹاؤن لایا گیا۔ جنازے کے سا تھ چلنے والے جلوس میں بلامبالٖغہ ہزاروں کاریں، بسیں اور لاکھوں موٹر سائیکلیں تھیں، اخباری رپوٹ کے مطابق سات لاکھ پر وانوں پر مشتمل دس میل لمبا یہ جلوس عائشہ منزل، کر یم آباد، لالو کھیت اور تین ہٹی کے راستے سے ہو تاہوا تقریباً ایک گھنٹہ میں بنوری ٹاؤن پہنچا، یہاں پہنچ کر منظر اور بھی حیران کن تھا کہ مسجد ومدرسہ اور ان کی چھتوں، دُکانوں، مکانوں، سڑکوں اور گلیوں میں بنائی گئی صفوں کے علاوہ مسجد کی مغربی جانب بلامبالغہ لاکھوں کا مجمع تھا جو اپنے محبو ب کے جسدِ خاکی کو ایک بار کندھا دینے کے لئے بے تاب تھے۔ ان میں سے ہزار وں افراد ایسے تھے جوآخری دیدار سے باریاب نہیں ہو سکے تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں زیارت کرائی جا ئے، دُوسری جانب اندیشہ تھا کہ اگر یہ سلسلہ شروع کر دیا گیا تو نہ صرف یہ کہ جنازہ اور تد فین میں تأخیر ہو جا ئے گی، بلکہ اس کے لئے ایک رات کیا، کئی راتیں بھی نا کا فی ہوں گی۔ مسجد کے گیٹ تک جنا زہ لانے کے لئے جس قدر مشقّت اُٹھا نا پڑی وہ ایک طویل داستان ہے۔ بالآخر ٹرک گیٹ کے سا منے کھڑا کرکے حضرت شہید v کے جسدِ خاکی کو اُتارا گیا اور خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صا حب زید مجدہ نے نمازِ جنازہ پڑھا ئی اور پھر اسی طرح دوبارہ آپ کے جسدِ مبارک کو ٹرک پر رکھا گیا اور فوراً آخری قیام گاہ کی طرف جلوس جنازہ روانہ ہو گیا۔بہرحال عشاق کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جلوسِ جنازہ کی شکل میں تقریباً رات ساڑھے بارہ بجے مسجد خاتم النّبیین پہنچا، بے حد اِصرار پر وہاں موجود پر وانوں کو حضرت v کا آخری دیدار کرایا گیا، یوں بالآخر تقریباً رات ایک بجے علم وفضل کے اس تاجدار کو جامع مسجد خاتم النّبیین کے پہلو میں سپردِ خاک کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے عشاق کی نظروں سے او جھل کر دیاگیا۔‘‘ (شہیدِ اسلام نمبر، ص:۷۱۷)شیخ الادب مولانا اِعزاز علی صاحب v نے شاید ایسے ہی موقع پر کہا تھا:
ہلچل زمیں پہ مچ گئی افلاک ہل گئے
یا رَبّ کسی کی آہ تھی یا نفخِ صور تھا
(الشیخ) ولی خان المظفّر