میں نے جناب مودودی صاحب کے بپھرے ہوئے دریائے تنقید سے یہ چند قطرے پیش کئے ہیں، اور یہ سب کچھ انہوں نے بزعم خود، خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد لکھا ہے، میں ان کے ایک ایک فقرے پر بحث کرنا نہیں چاہتا، تم خود سوچو کہ ان تنقیدات کے بعد اسلام کا کیا نقشہ ذہن میں آتا ہے؟ البتہ جی چاہتا ہے کہ تمہاری سہولت کے لئے چند اصولی باتیں پیش کروں۔ ۱:۔جناب مودودی صاحب کا ارشاد ہے کہ: ’’رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے۔‘‘ اس کے آثار و نتائج پر غور کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ ’’تنقید‘‘ کسے کہتے ہیں؟ تم جانتے ہو کہ یہ عربی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کو جانچنا، پرکھنا اور کھوٹا کھرا معلوم کرنا۔ اور اردو محاورے میں یہ لفظ نکتہ چینی، خردہ گیری اور اظہارِ نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی جانچنے، پرکھنے کے بعد جب کوئی چیز عیب دار ثابت ہوتی ہے، تو اس کے کمزور پہلوؤں کے اظہار کا نام ’’تنقید‘‘ ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں پر ’’تنقید‘‘ کی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کے کمزور پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس پر نکتہ چینی کی اور اس کے عیوب و نقائص بیان کئے۔