تقدیر
کیا دُعا سے تقدیر کی تبدیلی ہوتی ہے؟
سوال
۔ آپ نے تقدیر اور اختیار کے بارے میں جواب اچھا دیا، اگر وہ سمجھ گیا۔ ان صاحب کی طرح بہت سے لوگوں کو وہم ہے کہ دُعا کا کوئی اثر نہیں ہے، اور ایسے سوال و جواب سے بہت سے لوگوں کا عقیدہ ختم ہوجاتا ہے، نماز اور نیکی کا کام چھوڑ کر تقدیر پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک بات لکھنا چاہتی ہوں، قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے کہ میں نے ہر اِنسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرّر کیا ہے، اس دن انسان کو مرنا ہے، ہاں! اگر میں چاہوں تو زندگی بخش دیتا ہوں، یعنی انسان کی عمر بڑھادیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہر سوال کا جواب دیا ہے، اللہ دُعا سے تقدیر بدل سکتا ہے، اس لئے دُعا کو اتنی اہمیت دی ہے، خدا سب کچھ کرسکتا ہے۔ اللہ کی ایک بات کے ہزار مطلب ہیں، اگر کوئی سمجھے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔ میرا تو اِیمان ہے کہ اللہ دُعا سے تقدیر بدل دیتا ہے، اللہ رحیم ہے۔
جواب
۔ آپ کا مضمون بڑی حد تک صحیح ہے۔ دُعا کے معنی ہیں: اللہ تعالیٰ سے مانگنا، اس کی بارگاہ میں گڑگڑانا اور اِلتجائیں کرنا۔ بندے کو بحیثیت بندہ ہونے کے اس وظیفۂ عبدیت سے غافل نہیں ہونا چاہئے، خصوصاً جبکہ اس رحیم و کریم آقا کی جانب سے قبولیت کا وعدہ بھی ہے۔(۱)
(۱) وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ غافر ٦٠۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦ البقرة ١٨٦۔