تقدیر
خودکشی کو حرام کیوں قرار دیا گیا جبکہ اس کی موت اسی طرح لکھی تھی؟
سوال
۔ جب کسی کی موت خودکشی سے واقع ہونی ہے تو خودکشی کو حرام کیوں قرار دیا گیا، جبکہ اس کی موت ہی اس طرح لکھی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں اور تفصیل کے ساتھ جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
جواب
۔ موت تو اسی طرح لکھی تھی،(۱) مگر اس نے اپنے اختیار سے خودکشی کی، اس لئے اس کے فعل کو حرام قرار دیا گیا۔(۲) اور عقیدۂ تقدیر رکھنے کے باوجود آدمی کو دُوسرے کے بُرے افعالِ اختیاریہ پر غصہ آتا ہے، مثلاً: کوئی شخص کسی کو ماں بہن کی گالی دے تو اس پر ضرور غصہ آئے گا، حالانکہ یہ عقیدہ ہے کہ حکمِ الٰہی کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا!
(۱) حوالہ بالا(ان المقتول۔۔الخ)
(۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تردّٰی من جبل فقتل نفسہ فھو فی نار جھنم یتردّٰی فیھا خالدًا مخلّدًا فیھا أبدًا، ومن تحسّٰی سمّا فقتل نفسہ فسمہ فی یدہ یتحسّاہ فی نار جھنم خالدًا مخلّدًا فیھا أبدًا۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۹۹ کتاب القصاص)۔