تقدیر
قاتل کو سزا کیوں جبکہ قتل اس کا نوشتۂ تقدیر تھا
سوال
۔ ایک شخص نے ہم سے یہ سوال کیا ہے کہ ایک آدمی کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اس کے ہاتھوں فلاں شخص قتل ہوجائے گا، تو پھر اللہ پاک کیوں اس کو سزا دے گا؟ جبکہ اس کی تقدیر میں یہی لکھا تھا، اس کے بغیر کوئی چارہ ہو ہی نہیں سکتا، جبکہ ہمارا تقدیر پر ایمان ہے کہ جو تقدیر میں ہے وہی ہوگا تو پھر اللہ پاک نے سزا کیوں مقرّر کی ہوئی ہے؟
جواب
۔ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ فلاں شخص اپنے ارادہ و اختیار سے فلاں کو قتل کرکے سزا کا مستحق ہوگا، چونکہ اس نے اپنے ارادہ و اختیار کو غلط استعمال کیا، اس لئے سزا کا مستحق ہوا۔(۱)
(۱) والمقتول میّت بأجلہ أی: الوقت المقدر لموتہ ۔۔۔ ان وجوب العقاب والضمان علی القاتل تعبدی، لِارتکابہ المنھی وکسبہ الفعل الذی یخلق اللہ تعالٰی عقبیہ الموت بطریق جری العادۃ، فإن القتل فعل القاتل کسبًا۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶ طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔