تقدیر
نظر لگنے کی کیا حیثیت ہے؟
سوال
۔ ہمارے معاشرے میں یا یوں کہئے کہ ہمارے بڑے بوڑھے ’’نظر ہونے یا نظر لگنے‘‘ کے بہت قائل ہیں، خاص طور سے چھوٹے بچوں کے لئے بہت کہا جاتا ہے (اگر وہ دُودھ نہ پیئے یا کچھ طبیعت خراب ہو، وغیرہ) کہ: ’’بچے کو نظر لگ گئی ہے‘‘ پھر باقاعدہ نظر اُتاری جاتی ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کردیں کہ اسلامی معاشرے میں اس کی توجیہ کیا ہے؟
جواب
۔ نظر لگنا برحق ہے، اور اس کا اُتارنا جائز ہے، بشرطیکہ اُتارنے کا طریقہ خلافِ شریعت نہ ہو۔(۱)
(۱) عن یحیٰی بن أبی کثیر قال: حدثنی حیۃ بن حابس التمیمی حدثنی أبی أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا شیء فی الھام، والعینُ حق۔ وعن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لو کان شیء سابق القدر لسبقتہ العین ۔۔۔ الخ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲۶، أبواب الطب، طبع قدیمی)۔