تقدیر
انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، کیا وہ سب کچھ پہلے لکھا ہوتا ہے؟
سوال
۔ انسان کی زندگی میں جو کچھ ہوتا ہے، کیا وہ پہلے سے لکھا ہوتا ہے؟ یا انسان کے اعمال کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتا ہے؟
جواب
۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اس میں زیادہ کھود کرید تو جائز نہیں، بس اتنا ایمان ہے کہ دُنیا میں جو کچھ اب تک ہوا یا ہورہا ہے، یا آئندہ ہوگا، ان ساری چیزوں کا اللہ تعالیٰ کو دُنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی علم تھا۔ دُنیا کی کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے، نہ قدرت سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس علم کے مطابق کائنات کی ہر چیز اور ہر اِنسان کا ایک چارٹر لکھ دیا ہے، دُنیا کا سارا نظام اسی خدائی نوشتے کے مطابق چل رہا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہیں اور اس پر اِیمان لانا واجب ہے، جو شخص اس کا منکر ہو، وہ مسلمان نہیں۔(۱)یہ بھی ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِرادہ و اختیار اور عقل و تمیز کی دولت بخشی ہے،(۲) اور یہ طے کردیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق اور اپنے ارادہ و اختیار سے فلاں فلاں کام کرے گا۔(۳)یہ بھی ایمان ہے کہ انسان کے اچھے یا بُرے اعمال کا نتیجہ اسے ثواب یا عذاب کی شکل میں آخرت میں ملے گا، اور کچھ نہ کچھ دُنیا میں بھی مل جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں قرآنِ کریم اور حدیث شریف میں(۴) بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، ان پر اِیمان رکھنا چاہئے۔ اس سے زیادہ اس مسئلے پر غور نہیں کرنا چاہئے۔ اس میں بحث و مباحثے سے منع کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔(۵)
(۱) خلق اللہ تعالٰی الأشیاء ۔۔۔ وکان اللہ عالمًا فی الأزل بالأشیاء قبل کونھا ۔۔۔ ومن زعم أن التقدیر الخیر والشر من عند غیراللہ کان کافرًا باللہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۷، ۴۸)۔
(۲) وھدایۃ اللہ تتنوع أنواعًا لَا یحصیھا ۔۔۔ الأوّل افاضۃ القویٰ التی بھا یتمکن المرء من الْإھتداء الٰی مصالحۃ کالقوۃ العقلیۃ والحواس الباطنۃ والمشاعر الظاھر ۔۔۔الخ۔ (تفسیر بیضاوی ص:۹) أن العقل آلۃ للمعرفۃ ۔۔۔ ووجوب الْإیمان بالعقل مروی عن أبی حنیفۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۶۸)۔
(۳) واللہ تعالٰی خالقھا أی موجد أفعال العباد وفق ما أراد لقولہ تعالٰی: ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ ۔۔۔ وفعل العبد شیء۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۰)۔ فللعباد أفعال اختیاریۃ ۔۔۔الخ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔
(۴) وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩ وَأَنَّ سَعۡيَهُۥ سَوۡفَ يُرَىٰ ٤٠ ثُمَّ يُجۡزَىٰهُ ٱلۡجَزَآءَ ٱلۡأَوۡفَىٰ ٤١ النجم ٣٩-٤١، لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ البقرة ٢٨٦، ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۚ لَا ظُلۡمَ ٱلۡيَوۡمَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٧ غافر ١٧، وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا يَخَافُ ظُلۡمٗا وَلَا هَضۡمٗا ١١٢ طه ١١٢، وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ (الشوري ٣٠)، وعن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ لَا یظلم مؤمنًا حسنۃ یعطٰی بھا فی الدنیا ویجزی بھا فی الآخرۃ، وأما الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا ﷲ فی الدنیا حتّٰی اذا افضٰی الی الآخرۃ لم یکن لہ حسنۃ یجزی بھا۔ رواہ مسلم (مشکوٰۃ ص:۴۳۹ کتاب الرقاق)، عن أبی موسی الأشعری ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یصیب عبدًا نکبۃ فما فوقھا أو دونھا إلّا بذنب، وما یعفو اللہ تعالٰی عنہ أکثر، وقرأ: وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۳۶، باب عیادۃ المریض)۔
(۵) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمر وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت إلیکم؟ إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر، عزمت علیکم، عزمت علیکم، أن لَا تنازعوا فیہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۲ باب الْإیمان بالقدر)۔