تقدیر
انسان کے حالات کا سبب اس کے اعمال ہیں
سوال
۔ ایک انسان جس کو اپنی قسمت سے ہر موقع پر شکست ہو یعنی کوئی آدمی مفلس ونادار بھی ہو، غربت کی مار پڑی ہو، علم کا شوق ہو، لیکن علم اس کے نصیب میں نہ ہو، خوشی کم ہو، غم زیادہ، بیماریاں اس کا سایہ بن گئی ہوں، ماں باپ، بہن بھائی کی موجودگی میں محبت سے محروم ہو، رشتے دار بھی ملنا پسند نہ کرتے ہوں، محنت زیادہ کرے، پھل برائے نام ملے، ایسا انسان یہ کہنے پر مجبور ہو کہ یا اللہ! جیسا میں بدنصیب ہوں، ایسا تو کسی کو نہ بنا۔ اس کے یہ الفاظ اس کے حق میں کیسے ہیں؟ اگر وہ اپنی تقدیر پر صبر کرتا ہو اور صبر نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب
۔ انسان کو جو ناگوار حالات پیش آتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اِنسان کی شامتِ اعمال کی وجہ سے آتے ہیں،(۱) ان میں اللہ تعالیٰ سے شکایت ظاہر ہے کہ بے جا ہے، آدمی کو اپنے اعمال کی دُرستی کرنی چاہئے۔ اور جو اُمور غیراختیاری طور پر پیش آتے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی تو ذاتی غرض ہوتی نہیں، بلکہ بندے ہی کی مصلحت ہوتی ہے، ان میں یہ سوچ کر صبر کرنا چاہئے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کو میری ہی کوئی بہتری اور بھلائی منظور ہے، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں، ان کو بھی سوچنا چاہئے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی كُلِّ حَالٍ ‘‘ کہنا چاہئے۔(۲)
(۱) وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ الشوري ٣٠۔ وعن أبی موسی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یصیب عبدًا نکبۃ فما فوقھا أو دونھا إلّا بذنب، وما یعفو اللہ تعالٰی عنہ أکثر، وقرأ: وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص: ۱۳۶، باب عیادۃ المریض)۔
(۲) عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا أخذ مضجعہ من اللیل قال: الحمد ﷲ الذی کفانی وآوانی ۔۔۔ فاجزل، الحمد ﷲ علٰی کل حال ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۱۲، باب الدعوات فی الأوقات، ابوداوٗد ج:۲ ص:۳۳۳ کتاب الأدب، باب ما یقال عند النوم)۔