تقدیر
کیا تقدیر پر اِیمان لانا ضروری ہے؟
سوال
۔ جن چیزوں پر اِیمان لائے بغیر بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا، ان میں تقدیر بھی شامل ہے۔ لیکن ہمیں یہ تو معلوم ہی نہیں کہ تقدیر میں کیا کیا ہوتا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تقدیر میں موت، رزق اور جس سے شادی ہونی ہوتی ہے وہ ہوتا ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ آخر جس تقدیر پر ہمارا اِیمان ہے، اس میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ اور کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے ہر چیز پہلے سے معین کردی ہے؟
جواب
۔ تقدیر پر اِیمان لانا فرض ہے۔ اور تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اور کائنات کی ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے، اور کائنات کی تخلیق سے پہلے ہر چیز کا علمِ الٰہی میں ایک اندازہ تھا، اسی کے مطابق تمام چیزیں وجود میں آتی ہیں، خواہ ان میں انسان کے اختیار و ارادہ کا دخل ہو یا نہ ہو، اور خواہ اسباب کے ذریعہ وجود میں آئیں یا بغیر ظاہری اسباب کے۔(۱)جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اسباب کے ماتحت رکھا ہے، ان کے جائز اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے، اور ناجائز اسباب سے پرہیز کرنا فرض ہے۔
(۱) قال فی شرح السُّنّۃ: الْإیمان بالقدر فرض لَازم وھو أن یعتقد ان اللہ تعالٰی خالق أعمال العباد خیرھا وشرّھا وکتبھا فی اللوح المحفوظ قبل ان خلقھم والکل بقضائہ وقدرہ وارادتہ ومشیتہ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲)۔ کتب اللہ مقادیر الخلائق ۔۔۔ ومعنی کتب اللہ أجری اللہ بالقلم علی اللوح المحفوظ بایجاد ما بینھما من التعلق، وأثبت فیہ مقادیر الخلق ما کان وما ھو کائن الی الأبد علٰی وفق ما تعلقت بہ ارادتہ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲ ، باب الْإیمان بالقدر)۔