تقدیر
مسئلۂ تقدیر کی مزید وضاحت
سوال
۔ آپ نے اپنے جنگ کے کالم میں ایک خاتون کے سوال ’’تقدیرِ الٰہی کیا ہے؟‘‘ کا جواب تحریر فرمایا۔ آپ کے جواب نے ذہن میں پڑی ہوئی گرہ کو پھر سے اُجاگر کردیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ہر چیز تقدیرِ الٰہی کے تابع ہے، انسان کی زندگی سے متعلق تمام باتیں پہلے سے لکھ دی جاتی ہیں۔کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، یہ بات بالکل عیاں ہے، ذہن میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ انسان کی زندگی کے تمام معاملات پہلے سے معین اور مقرّر کردئیے گئے ہیں، مثلاً: رزق، شادی وغیرہ کے معاملات۔پھر انسان کی زندگی میں کرنے کے لئے رہ ہی کیا جاتا ہے! یہ ضرور ہے کہ انسان کے ہزاروں سال کے مشاہدے میں یہ ضرور آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ معاملات پہلے سے طے فرمادیتے ہیں، مثلاً: زندگی و موت، شادی جیسے معاملات (حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ تعجب نہیں جو پروردگارِ عالم جوشِ رحمت میں ان معاملات میں بھی ردّ و بدل فرمادیتے ہوں) لیکن اگر تمام معاملات میں یہی صورتِ حال ہے تو انسان خفیف ترین کوشش بھی آخر کس لئے کرے؟آپ نے زندگی کے تمام معاملات کے لئے جو جواب تحریر فرمایا ہے بلکہ آپ نے فیصلہ کن انداز میں تحریر فرمایا ہے، اس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ انسان کی ساری کوششیں لاحاصل ہیں، اس کی تمام کوششوں کا نتیجہ وہی نکلنا ہے جو اس کی کوشش شروع کرنے سے پہلے لکھا جاچکا ہے، پھر وہ کسی بھی کام کے لئے سعی و کوشش کیوں کرے؟ جبکہ اسے معلوم ہے کہ اس کی ہر ہر سعی کا نتیجہ محض صفر کی شکل میں آنا ہے، نہیں! مولانا صاحب نہیں۔۔۔! پروردگار اتنے کھٹور نہیں ہوسکتے، یہ محض شاعری نہیں:نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں!میں آپ کی توجہ ارشادِ باری تعالیٰ کے ان الفاظ کی طرف بھی مبذول کرانا چاہوں گی، جس کا ترجمہ ہے کہ:’’ہر شخص کو اتنا ہی ملے گا جتنی اس نے کوشش کی۔‘‘اب محترم یوسف صاحب! یہ دلیل نہ دیجئے گا کہ انسان کی کوشش کا فیصلہ بھی پہلے کیا جاچکا ہے، یعنی یہ کہ وہ کوشش کتنی کرے گا، یہ دلیل بحث برائے بحث ہوگی، کیونکہ اس کا مطلب وہی ہوجائے گا کہ ہر بات کا فیصلہ پہلے سے کیا جاچکا ہے، جبکہ مندرجہ بالا آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالا جاسکتا۔خدشہ ہے کہ لاکھوں افراد جو یہ کالم پڑھتے ہیں، آپ کے جواب سے زندگی کی ساری دلچسپیاں کھوچکے ہوں گے یا فکر میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔دُعا کا فلسفہ:آپ کے جواب سے مذہبِ اسلام میں دُعا کا جو فلسفہ اور تصوّر ہے، اور جو اِسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، کی نفی ہوتی ہے، جب آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کی زندگی کے سارے معاملات پہلے فیصل اور طے کردیتے ہیں، انسان کچھ بھی کرے، ہونا وہی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے، اب اللہ کا کوئی بندہ اپنی کسی مشکل یا مصیبت سے نجات کے لئے پروردگارِ عالم سے اِلتجا اور دُعا کرتا ہے تو آپ کے جواب کے موجب وہ گویا دیوار سے سر پھوڑتا ہے، کیونکہ اس کی زندگی میں ہونا تو وہی ہے جو پہلے سے اس کی تقدیر میں لکھا جاچکا ہے، پھر بھلا دُعا کے لئے کیا جگہ باقی رہ جاتی ہے، پھر اس کا مطلب کیا ہے؟:’’اللہ تعالیٰ دُعا سننے والے ہیں!‘‘اور خالق کائنات کے یہ پُرشفقت الفاظ کہ: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘ کیا معنی رکھتے ہیں؟یہ بھی یاد رکھئے Rigidity اور رحمت یکجا نہیں ہوسکتے، آپ نے اپنے جواب میں جو کچھ فرمایا ہے، اس کے مطابق تو اِنسان کو ہمدردی سے پُر ان الفاظ کے برخلاف بالکل مایوس ہوجانا چاہئے، کیونکہ بقول آپ کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی دُعائیں، اس کی اِلتجائیں اور اس کی ساری زندگی کی کوششیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔تیسری بات جو آپ کے جواب کی تردید کرتی ہے وہ اقوامِ عالم کی تاریخ ہے، آج امریکا اور پورا یورپ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے، کم از کم مادّی ترقی کے لحاظ سے (ویسے اخلاقی لحاظ سے بھی وہ مسلمانوں سے کہیں بہتر ہیں)، ان کی یہ ترقی صرف اور صرف ان کی اَنتھک محنتوں اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اب اگر آپ یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں پہلے سے ایسا لکھ دیا ہے تو آپ کو وہ تمام باتیں تسلیم کرنا ہوں گی۔ اوّل یہ کہ: اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تقدیر میں جن کو ہم کافر اور گمراہ قوم کہتے ہیں، کامیابیاں اور آسائشیں لکھی ہیں اور یہ کہ ان کی کوششوں کا ان کو اَجر دیتے ہیں۔ دوئم یہ کہ: انہوں نے اپنے پیروؤں اور نام لیوا قوموں کی تقدیر میں ناکامیاں اور ذِلت لکھی ہے، اور ان کی کوششوں کو محض ضائع کرنا لکھا ہے، اور یہ کہ آج دُنیا بھر میں جو مسلمان ذِلت اور رُسوائی اُٹھارہے ہیں اور کیڑوں مکوڑوں کی طرح مر رہے ہیں، تو ان سب تباہ کاریوں میں وہ بالکل بے قصور اور بری الذمہ ہیں، کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض تقدیر کا لکھا ہے۔محترم یوسف صاحب! یہ قوم پہلے ہی اپنی نااہلی اور Corruption میں انتہا کو پہنچ چکی ہے، اب اسے اور بے عملی کا Tranqulizer نہ دیجئے، یہ پہلے ہی خوابِ خرگوش میں بے خود ہے، اسے یہ بتائیے کہ:ستارہ کیا تری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خاک زبوں
عطا ہو، رومی ہو، رازی کہ غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے بے آہ سحرگاہی!
جواب
۔ آپ کے تینوں سوالوں کا جواب میری تحریر میں موجود تھا، مگر جناب نے غور نہیں فرمایا، بہرحال آپ کی رعایت کے لئے چند اُمور دوبارہ لکھتا ہوں۔اوّل:۔ تقدیر کا عقیدہ قرآن مجید(۱) اور احادیثِ شریفہ میں مذکور ہے،(۲) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام اہلِ حق کا متفق علیہ عقیدہ ہے،(۳) اس لئے اس عقیدے سے انکار کرنا یا اس کا مذاق اُڑانا اپنے دِین و اِیمان کا مذاق اُڑانا ہے۔دوم:۔ آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ کو آئندہ ہونے والے تمام واقعات کا علم تھا، اس علم کو اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ پر لکھ دیا، دُنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے اسی علم اور اسی نوشتے کے مطابق ہو رہا ہے، اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ بتائیے کہ اس عقیدے کے کس حصے سے آپ کو اِختلاف ہے؟ کیا آپ کا ایمان نہیں کہ ہر چیز جو وجود میں آنے والی ہے، اللہ تعالیٰ کو اَزل ہی سے اس کا علم تھا؟ اگر آپ کو اس سے انکار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خدا کو بے علم یا بے علم کو خدا مانتی ہیں؟ اور یہ کفر ہے! اور اگر آپ کہتی ہیں کہ خدا کو علم تو تھا مگر ضروری نہیں جس طرح اس کو علم تھا اسی طرح چیزیں وقوع میں بھی آئیں، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا کا علم غلط نکلا۔مثال کے طور پر میرے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے حالات، افعال، اقوال، حرکات، سکنات وغیرہ وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کو معلوم تھیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو اللہ تعالیٰ کا – نعوذ باﷲ- بے علم ہونا لازم آتا ہے، اور اگر معلوم تھیں تو کیا علمِ اِلٰہی کے خلاف ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آپ کہیں کہ اس کے خلاف ہوسکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے علم کا غلط ہونا لازم آیا -نعوذ باﷲ- اور اگر اس کے خلاف نہیں ہوسکتا تو یہی عقیدۂ تقدیر ہے۔ معلوم ہوا کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر اِیمان رکھتا ہو، اس کا عقیدۂ تقدیر پر اِیمان لانا لازم ہے، ورنہ اس کا دعویٔ اِیمان صرف باطل ہے۔سوم:۔ آپ نے یہ دیکھ لیا کہ: ’’ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اس نے کوشش کی‘‘ لیکن آپ نے یہ کیوں نہیں دیکھا کہ جس قرآن کا حوالہ آپ دے رہی ہیں، اسی قرآن میں یہ بھی تو لکھا ہے:ﵟ إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ ٤٩ … وَكُلُّ صَغِيرٖ وَكَبِيرٖ مُّسۡتَطَرٌ ٥٣ ﵞ(القمر ٤٩ و ٥٣)ترجمہ:۔ ’’ہم نے ہر چیز کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا ہے ۔۔۔۔۔ اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔‘‘یہی قدر جس کو قرآن ذکر کر رہا ہے ’’تقدیر‘‘ کہلاتی ہے، اور ہر چیز کے پہلے سے لکھے ہوئے ہونے کا قرآن اعلان کر رہا ہے، اب بتائیے کہ یہ تقدیر کا عقیدہ میرا اپنا تراشا ہوا ہے یا قرآنِ کریم ہی نے اس کو بیان فرمایا ہے؟چہارم:۔ رہا اِنسان کے مجبور ہونے کا سوال! اس کا جواب میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ آدمی فلاں کام کو اِختیار و اِرادہ سے کرکے جزا و سزا کا مستحق ہوگا، پس تقدیر سے انسان کے اختیار و اِرادہ کی نفی نہیں ہوتی، اور اِنسان کا اِختیار تقدیر کے مقابل نہیں، بلکہ تقدیر کے ماتحت ہے۔(۴) لیکن اگر یہ بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ تقدیر کے ماننے پر تو اِنسان کا بقول آپ کے مجبور ہونا لازم آتا ہے، اور تقدیر کی نفی کی صورت میں اس کا قادرِ مطلق اور خالق ہونا لازم آتا ہے، آپ کے خیال میں انسان کو قادرِ مطلق اور اپنی تقدیر کا خود خالق ماننا کیا اس کو خدائی کے منصب پر بٹھانا نہیں؟پنجم:۔ آپ کا یہ سمجھنا کہ اگر تقدیر برحق ہے تو اِنسان کی کوشش لاحاصل ہے، یہ اس لئے غلط ہے کہ انسان کو اِرادہ و اِختیار کی دولت دے کر محنت و سعی کا حکم دیا گیا ہے، اور تقدیر (علمِ اِلٰہی) میں یہ کہلایا گیا کہ فلاں شخص اتنی محنت کرے گا اور اس پر یہ نتیجہ مرتب ہوگا۔ جب محنت و کوشش بھی تقدیر پر لکھی ہوتی ہے اور اس پر مرتب ہونے والا نتیجہ بھی نوشتۂ تقدیر ہے تو محنت لاحاصل کیسے ہوئی؟ اور ’’نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘ تو میرے عقیدے کی تفسیر ہے، تقدیر میں لکھا ہوا ہے کہ فلاں مردِ مؤمن کی نگاہ سے فلاں کام ہوجائے گا، یہ بدلی ہوئی تقدیر بھی اصل تقدیر کے ماتحت ہے، اس سے باہر نہیں۔۔۔!ششم:۔ آپ نے تقدیر کا مسئلہ سمجھا ہی نہیں، اس لئے دُعا کو تقدیر کے خلاف سمجھ لیا، حالانکہ دُعا بھی اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور تقدیر میں تمام اسباب بھی تحریر شدہ ہیں، پس تقدیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ فلاں بندہ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے گا تو اس کا فلاں کام ہوجائے گا۔(۵)ہفتم:۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تقدیر کا عقیدہ نہ تو اَسباب کے اختیار کرنے سے روکتا ہے نہ مایوسی پیدا کرتا ہے، بلکہ اس کے برعکس زیادہ سے زیادہ محنت کی دعوت دیتا ہے، اور مایوسیوں کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ عقیدۂ تقدیر سے جاہل ہیں، وہ بسااوقات حالات سے تنگ آکر خودکشی جیسی حماقت کرلیتے ہیں، لیکن آپ نے ایک پکے سچے مؤمن کو، جو اللہ تعالیٰ پر پورا اِیمان اور بھروسہ رکھتا ہو، کبھی خودکشی کرتے نہیں دیکھا ہوگا۔ عقیدۂ تقدیر پر اِیمان رکھنے والے جتنی دُعائیں اور اِلتجائیں اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں، دُوسرے لوگ نہیں کرتے اور عقیدۂ تقدیر پر اِیمان رکھنے والے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ دُوسروں کو نصیب نہیں۔ خود میری مثال آپ کے سامنے ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اپنے ضعف و کمزوری کے باوجود تین آدمیوں کے برابر کام کرتا ہوں، اس لئے آپ کا نظریہ معروضی طور پر غلط ہے۔ہشتم:۔ آپ اَقوامِ مغرب کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی احساسِ کمتری کا شکار ہیں، ان کی مادّی ترقی سے مرعوب ہوکر آپ نے ان کو مسلمانوں کے مقابلے میں اخلاقی برتری کی بھی سند عطا کردی۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ انہیں کون سی اخلاقی برتری حاصل ہے؟ کیا ان ممالک میں زنا اور شراب نوشی کی شرح اسلامی ممالک کی نسبت کم ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ نیویارک میں چند گھنٹوں کے لئے بجلی کی رو چلی گئی تھی تو وہاں چوری، ڈاکا زنی اور بدمعاشی کا کیسا بازار گرم ہوا تھا؟ کیا ان کی یہی اخلاقی برتری ہے، جس کے قصیدے آپ پڑھ رہی ہیں۔۔۔؟ اور پھر آپ ان کا مقابلہ آج کے مسلمانوں سے کر رہی ہیں ’’جن کو دیکھ کے شرمائیں یہود!‘‘ کیا ان مسلمانوں کی بدعملی عقیدۂ تقدیر کی وجہ سے ہے؟ بلکہ عقیدۂ تقدیر اور دیگر صحیح عقائد کے دِل میں نہ رہنے کی وجہ سے ہے! اور اَقوامِ مغرب کی مادّی ترقی اوّل تو میری نظر میں اس لائق ہی نہیں کہ اس کی طرف اِلتفات کیا جائے، ان قوموں کو جو مادّی ترقی حاصل ہے، کیا ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی حاصل تھی؟ فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعے پر غور کیجئے! یہ مادّیت فرعون کے پاس تھی یا موسیٰ علیہ السلام کے پاس؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مقابلے میں نمرود کو دیکھئے! جو مادّی ساز و سامان اور کرّ و فرّ نمرود کو حاصل تھا، کیا ابراہیم علیہ السلام کو بھی حاصل تھا؟ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر قیصر و کسریٰ کو لیجئے! کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ مادّی ساز و سامان حاصل تھا جو قیصر و کسریٰ کو میسر تھا۔۔۔؟ اگر بقول آپ کے اہلِ مغرب مسلمانوں سے محض مادّی ترقی کی بنا پر فائق ہیں تو ذرا ’’اَقوامِ عالم کی تاریخ‘‘ پر نظر ڈال کر دیکھئے! کیا دُنیا کی آسائشیں انبیائے کرام علیہم السلام کے مقابلے میں گمراہ اور بے خدا قوموں کو حاصل نہیں رہیں۔۔۔؟جہاں تک محنت و سعی کا تعلق ہے، میں اُوپر بتاچکا ہوں کہ یہ تقدیر کے منافی نہیں، اگر بقول آپ کے کافروں کو کامیابیاں اور آسائشیں حاصل ہیں، تو یہ ان کی محنت کے صلے میں نوشتۂ تقدیر ہے، اور اگر بقول آپ کے مسلمان ذِلت و رُسوائی اُٹھارہے ہیں تو یہ ان کی بدعملی کے نتیجے میں نوشتۂ تقدیر ہے۔نہم:۔ آپ کا یہ خیال سراسر غلط ہے کہ عقیدۂ تقدیر نااہلی، مایوسی اور بے عملی سکھاتا ہے، کوئی مؤمن جو تقدیرِ الٰہی پر صحیح عقیدہ رکھتا ہو، وہ کبھی نااہل، مایوس اور بے عمل نہیں ہوسکتا، اس نااہلی و بے عملی کا سبب اپنے دِین سے انحراف ہے، نہ کہ عقیدۂ تقدیر۔۔۔!دہم:۔ آخر میں گزارش کروں گا کہ عقیدۂ تقدیر کا انکار کرکے قرآنِ کریم اور حدیث شریف کے فرمودات کی نفی نہ کی جائے، عقیدۂ تقدیر برحق ہے! اگر ہم اسے مانیں تب بھی برحق ہے، اور اگر انکار کردیں تب بھی برحق ہے، اس کا صحیح اور برحق ہونا ہمارے ماننے یا نہ ماننے پر موقوف نہیں، اور جب تک اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کی نفی نہ کی جائے، عقیدۂ تقدیر کی نفی ممکن نہیں، آپ کو اِختیار ہے کہ عقیدۂ تقدیر پر اِیمان لاکر اللہ تعالیٰ کے علمِ محیط اور قدرتِ کاملہ کو مان لیں، یا عقیدۂ تقدیر کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت سے بھی دستبردار ہوجائیں۔ مشکل یہ ہے کہ آپ نے دِین کے بنیادی عقائد کو باقاعدہ سیکھا نہیں، اس لئے ذہن اُلجھا ہوا ہے، اگر آپ دِین کو سمجھنا چاہتی ہیں تو اپنی ادھوری معلومات پر اکتفا نہ کریں، بلکہ دِین کی کتابوں کو صحیح طور پر پڑھیں، میرا خیال ہے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ بھی آپ کی نظر سے نہیں گزری، آپ اس کا مطالعہ کریں اور پھر کوئی اِشکال ہو تو اس کو رفع کرنے کے لئے حاضر ہوں!
(۱) قال تعالٰی: إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ القمر ٤٩۔
(۲) عن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع ۔۔۔ ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰہ ج:۱ ص:۲۲ باب الْإیمان بالقدر، طبع قدیمی، ترمذی ج:۲ ص:۳۶ ابواب القدر، طبع سعید)۔
(۳) واعلم: أن مذھب أھل الحق اثبات القدر، ومعناہ: ان اللہ تبارک وتعالٰی قدر الأشیاء فی القدم وعلم سبحانہ أنھا ستقع فی أوقات معلومۃ عندہ سبحانہ وتعالٰی وعلٰی صفات مخصوصۃ فھی تقع علٰی حسب ما قدرھا سبحانہ وتعالٰی۔ (شرح مسلم للنووی ج:۱ ص:۲۷ کتاب الْإیمان)۔ قلت: وقد تظاھرت الأدلّۃ القطعیۃ من الکتاب والسُّنَّۃ واجماع الصحابۃ علٰی اثبات التقدیر ۔۔۔الخ۔ (تحریرات الحدیث مولَانا حسین علی ص:۴۹۲، طبع جامعہ عربیہ احسن العلوم)۔ أیضًا عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کتب اللہ مقادیر الخلائق قبل أن یخلق السماوات والأرض بخمسین الف سنۃ۔‘‘ ومعنی کتب اللہ أجری اللہ القلم علی اللوح المحفوظ بایجاد ما بینھما من التعلق وأثبت فیہ مقادیر الخلق ما کان وما ھو کائن الی الأبد علٰی وفق ما تعلقت بہ ارادتہ أوّلًا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲ باب الْإیمان بالقدر)۔
(۴) وللعباد أفعال اختیاریۃ، یثابون بھا ان کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ، لَا کما زعمت الجبریۃ ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقائد ص:۸۱، طبع خیر کثیر)۔
(۵) واعلم: ان القدر لَا یزاحم سببیۃ الأسباب لمسبباتھا، لأنہ انما یتعلق بالسلسلۃ المترتبۃ جملۃ مرۃ واحدۃ، وھو قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الرقٰی والدواء والتقاۃ ھل ترد شیئًا من قدر اللہ؟ قال: ھی من قدر اللہ ۔۔۔الخ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۶۷، باب إیمان بالقدر، طبع إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ، دمشق)۔