مسلمانوں کے بنیادی عقائد
عقیدہ صحیح ہو اور عمل نہ ہو
سوال
۔ عید الفطر کے دن نماز عید کے موقع پر مقامی مولوی صاحب نے کچھ الفاظ کہے کہ کسی کے علم کو مت دیکھو، اس کے عمل کو مت دیکھو، عقیدہ درست ہو نا چاہئے۔ عقیدہ درست ہے تو عمل کے بغیر بھی جنت میں جائے گا۔ تو کیا ان کا کہنا درست ہے کہ عقیدہ درست ہونا چاہئے، علم پر عمل کی کوئی ضرورت نہیں؟
جواب
۔ مولوی صاحب کی یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر عقیدہ صحیح ہو اور عمل میں کوتاہی ہو تو کسی نہ کسی وقت نجات ہوجائے گی،(۱) اور اگر عقیدہ خراب ہو اور اس میں کفر و شرک کی ملاوٹ ہو تو بخشش نہیں ہوگی،(۲) لیکن علم اور عمل کو غیر ضروری کہنا خود عقیدے کی خرابی ہے اور یہ قطعاً غلط ہے،اس سے مولوی صاحب کو توبہ کرنی چاہئے۔(۳)
(۱) وأما من کانت لہ معصیۃ کبیرۃ ومات من غیر توبۃ فھو فی مشیۃ اللہ تعالٰی فإن شاء عفا عنہ وأدخلہ الجنۃ أولًا وجعلہ کالقسم الأوّل وإن شاء عذبہ بالقدر الذی یرید سبحانہ ثم یدخلہ الجنۃ فلا یخلد فی النار من مات أحد علی التوحید ولو عمل من المعاصی ما عمل۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۱ ص:۴۱ طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۲) قال تعالٰی: إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ المائدة ٧٢۔ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ النساء ١١٦۔
(۳) ’’باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ وھو لَا یشعر‘‘ ھٰذا الباب معقود للرد علی المرجئۃ خاصۃ ۔۔۔ لأنھم أخروا الأعمال عن الْإیمان ۔۔۔ وقالوا لَا یضر مع الْإیمان ذنب أصلًا ۔۔۔ وقد ذم اللہ من أمر بالمعروف ونھٰی عن المنکر وقصر فی العمل فقال: كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٣ ، فخشی أن یکون مکذبا أی مشابھًا للمکذبین۔ (فتح الباری، کتاب الْإیمان ج:۱ ص:۱۱۰)۔