February 24, 2026 12:56 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

کیا بغیر مشاہدے کے یقین معتبر نہیں؟

سوال

۔’’وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ۔۔۔ الٰی ۔۔۔ٱلۡمُوقِنِينَ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر مشاہدے کے یقین معتبر نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُولواالعزم پیغمبروں میں سے ہیں، ان پر صحیفے بھی نازل ہوئے ۔۔۔صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ۔۔۔ اور بہت سے عجائبات قدرت انہوں نے دیکھے، ہر وقت ان کا اللہ تعالیٰ سے قلبی رابطہ تھا، ان کو مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ کی سیر بھی کرائی گئی، اس کے باوجود ان کا قلب مطمئن نہیں ہوتا اور’’كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ ‘‘ کا سوال کرتے ہیں، تو پھر ایک عام سالک جو اللہ کے راستے پر چل رہا ہے اور اپنی لذات کی قربانی دے کر اپنی جان کھپا رہا ہے اور عالم قدس سے بشکل صوت و صورت اس پر کوئی فیضان نہیں ہو رہا پھر بھی اس کی طاعت میں کوئی کمی نہیں آتی، ایسی صورت میں وہ زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس کو ملکوت سے کچھ مشاہدہ کرادیا جائے، تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو اور استقامت نصیب ہو۔ انبیاء تو ویسے بھی ہر وقت ملکوت کی سیر کرتے رہتے ہیں۔

جواب

۔ یقین کے درجات مختلف ہیں: یقین کا ایک درجہ عین الیقین کا ہے جو آنکھ سے دیکھنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور ایک حق الیقین کا ہے جو تجربہ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح عامہ مؤمنین، اَبرار و صدیقین، انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے درجات میں بھی تفاوت ہے۔ ایمان کا درجہ تو عامہ مؤمنین کو بھی حاصل ہے اور اَبرار و صدیقین کو ان کے درجات کے مطابق یقین کی دولت سے نوازا جاتا ہے اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے مراتب کے مطابق ان کو درجات یقین عطا کئے جاتے ہیں، پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوال’’كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ ‘‘میں اس درجہ یقین اور اطمینان، جو بلا رُؤیت ہو، سوال سے پہلے بھی حاصل تھا۔ سالکین اور اولیاء اللہ کو بھی مشاہدات کی دولت سے نوازا جاتا ہے اور بغیر مشاہدات کے بھی ان کو یقین و اطمینان ’’ایمان بالغیب‘‘ کے طور پر حاصل ہوتا ہے، لیکن ان کے ایمان اور اطمینان کو انبیائے کرام علیہم السلام کے ایمان و اطمینان سے کوئی نسبت نہیں اور وہ ان کے اطمینان اور یقین کا تحمل بھی نہیں کرسکتے، ورنہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔(۱)

(۱) وعلم الیقین بما اعطاہ الدلیل من ادراک الشیٔ علٰی ما ھو علیہ، وعین الیقین بما اعطاہ المشاھدۃ والکشف وجعل وراء ذٰلک حق الیقین۔ (روح المعانی ج:۲۹/۳۰ ص:۲۲۵)۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔