مسلمانوں کے بنیادی عقائد
شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا
سوال
۔’’وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ‘‘اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ’’آپ کی رائے صحیح ہے۔‘‘ کیا سلف نے بھی اس رائے کے بارے میں کچھ کہا ہے، کیونکہ میں نے پڑھا ہے کہ جس نے قرآن پاک کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا، اس نے۔۔۔۔۔۔ اس لئے جب کسی بزرگ سے اس رائے کی تصدیق ہوجائے گی تو پھر یہ اپنی رائے نہ رہے گی اور اس وعید کے دائرے سے باہر ہوجائیں گے۔
جواب
۔ صحیح بایں معنی ہے کہ شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا ہے، اگرچہ اسباب، اسباب ہیں، ارباب نہیں۔ رزق تو سب کا اللہ نے اپنے ذمہ رکھا ہے، لیکن ہماری نظر چونکہ اسباب سے بالاتر نہیں جاتی، اس لئے ہمیں رزق بذریعہ اسباب طلب کرنے کا حکم فرمایا ہے، اور رزق کو بظاہر مشروط بہ اسباب رکھا ہے، ورنہ اس کی مشیت کے بغیر نہ اسباب، اسباب ہیں اور نہ روزی کا حصول اسباب کا مرہونِ منّت ہے۔(۱)
(۱) وما من حیوان یدب علی الأرض إلّا علی اللہ تعالٰی غذاؤہ ومعاشہ ۔۔۔ لما وعدہ سبحانہ وھو جل شأنہ لَا یخل بما وعد ۔۔۔ وحمل العباد علی التوکل فیہ ولَا یمنع المتوکل مباشرۃ الأسباب مع العلم بأنہ سبحانہ المسبب لھا۔ (رُوح المعانی ج:۱۲ ص:۲)۔