مسلمانوں کے بنیادی عقائد
اکابرِ دیوبند کا مسلک
سوال
۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ایسے شخص کے بارے میں جو ایک مسجد کا اِمام ہے اور درسِ قرآنِ کریم بھی دیتا ہے، مسجد علمائے دیوبند کے منتسبین کی تھی اور اس اِمام صاحب کو بھی ایک دیوبندی ہونے کی حیثیت سے رکھا گیا تھا، مگر ان کے خیالات یہ ہیں:۱:۔ سورۂ یوسف کے درس میں حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے نکاح کی بحث میں زلیخا کے متعلق کہا کہ: وہ زانیہ، بدکارہ اور کافرہ تھی۔ بعض شرکائے درس نے جب عرض کیا کہ فلاں فلاں تفسیر میں لکھا ہے کہ نکاح ہوا تھا، مثلاً: معارف القرآن میں۔ تو فرمانے لگے کہ: جنہوں نے لکھا ہے وہ بھی بے ایمان لعنتی ہیں!۲:۔ تبلیغی جماعت کی سخت مخالفت کرتا ہے، جماعت کو مسجد میں ٹھہرنے نہیں دیتا ہے اور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے متعلق کہا کہ وہ مشرک مرگیا اور گالی دے کر کہا کہ: اس نے تبلیغی نصاب میں گند اور شرک بھردیا ہے۔ تبلیغی نصاب کی توہین کرتے ہوئے اس کو ’’کتابڑی‘‘، ’’شتابڑی‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔۳:۔ بعض اکابرین علمائے دیوبند مثلاً: حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے بارے میں کہا کہ یہ حضرات مشرک تھے اور حالتِ شرک ہی میں مرے ہیں۔۴:۔ وسیلہ بالذوات الفاضلہ (مثلاً: انبیائے کرام علیہم السلام اور صلحائے اُمت) کو شرک اور کفر کہتا ہے اور جو کوئی کسی بزرگ کے وسیلہ سے دعا مانگے اس کو مشرک کہتا ہے۔۵:۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ برزخی فی القبور کا انکار کرتا ہے اور قائلینِ حیات علمائے دیوبند کو مشرک کہتا ہے۔۶:۔ سماعِ موتیٰ کے قائلین کو بھی مشرک کہتا ہے۔۷:۔ اپنی رائے کے متعلق کہتا ہے کہ: وہ آخری اور حتمی ہے، میں کسی اور عالم حتیٰ کہ اپنے اساتذہ تک کو بھی نہیں مانتا ہوں۔اب اہلِ محلہ اِشتعال میں ہیں کہ ایسے آدمی کو ہم اِمام نہیں رکھیں گے، اب اس سلسلے میں آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:۱:۔ کیا ایسا آدمی اہلِ سنت والجماعت میں سے ہے؟۲:۔ کیا ایسا آدمی دیوبندی کہلائے گا؟۳:۔ کیا ایسے آدمی کو مستقل اِمام رکھنا اور اس کے پیچھے نمازیں ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟۴:۔ آیا وہ آدمی عامی کفر کے حکم کا مستحق ہوگا اور اس کی بیوی مطلقہ ہوگی؟
جواب
۔ سوال میں جن صاحب کے نظریات درج کئے گئے ہیں، اگر وہ واقعی ان نظریات کا حامل ہے تو یہ اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے، کیونکہ کسی مسلمان کو (خصوصاً کسی مسلّم الثبوت عالم اور بزرگ کو) بے ایمان، لعنتی اور مشرک جیسے الفاظ کے ساتھ یاد کرنا، عقیدۂ اہلِ سنت کے خلاف ہے۔(۱) وسیلہ بالوجہ المشروع کے اہلِ سنت قائل ہیں،(۲)اسی طرح اہلِ سنت والجماعت حضراتِ انبیاے کرامؑ کی حیات فی القبور کو مانتے ہیں،(۳) اور سماعِ موتیٰ صحابہؓ کے دور سے مختلف فیہ چلا آرہا ہے، اس لئے سماعِ موتیٰ کے قائلین کو مشرک کہنا، گویا ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ صحابہؓ کو مشرک قرار دینا ہے،(۴) نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الزَّيْغِ وَالضَّلَالِ !الغرض اس شخص کے نظریات روافض و خوارج کا سرقہ ہیں، اس لئے اہلِ سنت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔
۲:۔ حضراتِ اکابرِ دیوبند بھی اہلِ سنت ہی کا ایک مکتبِ فکر ہے، جو کتاب و سنت پر عامل، حنفیّت کا شارح، سنت کا داعی، بدعت کا ماحی، ناموسِ صحابہؓ کا علم بردار، حضراتِ اولیاء اللہ کا کفش بردار ہے، لہٰذا جو شخص اہلِ سنت سے منحرف ہو، وہ دیوبندی نہیں ہوسکتا، اکابرِ دیوبند کے نظریات زیرِ بحث مسائل میں وہ ہیں جو ’’اَلْمُہَنَّدُ عَلَی الْمُفَنَّدِ‘‘ میں ہمارے شیخ المشائخ حضرتِ اقدس مولانا الحاج الحافظ الحجۃ الثقۃ الامین السیدی خلیل احمد سہارنپوری ثم مہاجر مدنی قدس سرہٗ نے قلم بند فرمائے ہیں، اور اس پر ہمارے تمام اکابر کے دستخط اور تصدیقات ہیں، جو شخص اس رسالے کے مندرجات سے متفق نہیں، وہ دیوبندی نہیں۔ ہمارے اکابرِ دیوبند واقعتا اس شعر کا مصداق تھے:در کف جامِ شریعت در کف سندانِ عشقہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن!
۳:۔ چونکہ یہ شخص طائفہ منصورہ اہلِ سنت سے منحرف ہے، اس لئے اس کی اِقتداء میں نماز جائز نہیں،(۵) اور یہ اس لائق نہیں کہ اس کو اِمام بنایا جائے، اہلِ محلہ کا فرض ہے کہ اس کو اِمامت کے منصب سے معزول کردیں۔
۴:۔ تکفیر کے مسئلے میں یہ ناکارہ احتیاط کرتا ہے، اس لئے اس شخص کو توبہ واِنابت کا اور اہلِ حق سے وابستگی کا مشورہ دیتا ہے، اس شخص کا اصل مرض خودرائی ہے، جس کی طرف سوال کے جزو نمبر:۷ میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:’’اپنی رائے کے متعلق کہتے ہیں کہ: وہ آخری اور حتمی ہے، میں کسی اور عالم کو حتیٰ کہ اپنے اساتذہ تک کو نہیں مانتا۔‘‘یہی خودرائی اکثر اہلِ علم کے ضلال و اِنحراف کا سبب بنتی ہے، خوارج و روافض سے لے کر دورِ حاضر کے کجرو لوگوں کو اسی خودرائی نے ورطۂ حیرت میں ڈالا ہے، اس لئے جو شخص صراطِ مستقیم پر چلنے اور راہِ ہدایت پر مرنے کا متمنی ہو، اس کو لازم ہے کہ اپنی رائے پر اعتماد کرنے کے بجائے اکابر کے علم و تقویٰ پر اعتماد کرے کہ یہ حضرات علم و معرفت، فہم و بصیرت، صلاح و تقویٰ اور اتباعِ شریعت میں ہم سے بدرجہا فائق تھے، واﷲ اعلم!فقال عمر: یا رسول اللہ! کیف تکلم أجسادًا لَا أرواح فیھا؟ قال: ما أنتم بأسمع لما أقول منھم غیر أنھم لَا یستطیعون أن یردوا علیّ شیئًا ۔۔۔ اعلم رحمک اللہ أن عائشۃ رضی اللہ عنھا قد أنکرت ھٰذا المعنی واستدلت بقولہ تعالٰی: فإنک لَا تسمع الموتٰی۔ وقولہ: وما أنت بمسمع من فی القبور۔ ولَا تعارض بینھما لأنہ جائز أن یکونوا یسمعون فی وقت مّا أو فی حال مّا فإنّ تخصیص العموم ممکن وصحیح إذا وجد المخصّص۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ، علامہ قرطبیؒ ص:۱۶۴ طبع بیروت)۔
(۱) عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’سِبابُ المسلم فسوقٌ وقتالُہ کُفْرٌ‘‘۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۹۳)۔
(۲) ان التوسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم جاءز فی کل حال، قبل خلقہ وبعد خلقہ فی مدۃ حیاتہ فی الدنیا وبعد موتہ فی مدۃ البرزخ وبعد البعث فی عرصات القیامۃ والجنّۃ۔ (شفاء السقام ص:۱۲۰)
(۳) ۔۔۔ فمحصل الجواب أن الأنبیاء أحیاء فی قبورھم فیمکن لھم سماع ۔۔۔ الخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۲ ص:۲۰۹)۔
(۴) جواب: یہ مسئلہ عہدِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مختلف فیہا ہے، اس کا فیصلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ دیکھئے فتاویٰ رشیدیہ ص:۱۰۸، (طبع ادارۂ اسلامیات لاہور)،
(۵) ویکرہ تقدیم المبتدع أیضًا لأنہ فاسق من حیث الْإعتقاد وھو أشد من الفسق من حیث العمل ۔۔۔ والمراد بالمبتدع من یعتقد شیئًا علٰی خلاف ما یعتقدہ أھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔ (حلبی کبیر ص:۵۱۴، فصل فی الْإمامۃ، طبع سھیل اکیڈمی)۔ أیضًا: ویکرہ ۔۔۔ إمامۃ مبتدع أی صاحب بدعۃ وھی إعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لَا بمعاندۃ بل بنوع شبھۃ۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۵۵۹، ۵۶۰)۔ أیضًا: أن من أظھر بدعۃ وفجورًا لَا یرتب إمامًا للمسلمین فإنہ یستحق التعزیر حتّٰی یتوب فإن أمکن ھجرہ حتّٰی یتوب کان حسنًا ۔۔۔ إذا کان ترک الصلاۃ خلفہ یفوت المأموم الجمعۃ والجماعۃ فھنا لَا یترک الصلاۃ خلفہ إلّا مبتدع مخالف للصحابۃ رضی اللہ عنھم۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۲۳ طبع مکتبہ سلفیہ لَاہور)۔