مسلمانوں کے بنیادی عقائد
بزرگوں کے طفیل دُعا مانگنا
سوال
۔ میں قرآن کے ذریعے سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ واحد اللہ سے دُعا طلب کرنی چاہئے یا اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دُعا مانگنا جائز ہے؟ اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے وسیلے سے بھی دُعا مانگ سکتا ہوں یا نہیں؟ اور پھر جتنے بزرگ گزرے ہیں، جیسے داتادربار اور خواجہ غریب نواز، اور بھی بہت ہیں، ان کے وسیلے سے دُعا مانگنا غلط ہے یا صحیح؟ میں اس طرح دُعا مانگتا ہوں: ’’اے اللہ! تو میرے گناہ کو معاف کردے اپنے حبیب کے صدقے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گزرے ہیں ان کے صدقے، اور بزرگانِ دِین کے صدقے میرے گناہ معاف کردے‘‘ یہ دُعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟ غلط ہے یا صحیح؟
جواب
۔ دُعا تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے طفیل دُعا کرنا صحیح ہے۔ جس طرح آپ نے دُعا لکھی ہے، یہ دُرست ہے۔(۱)
(۱) ومن أدب الدعاء: تقدیم الثناء علی اللہ، والتوسل بنبی اللہ لیستجاب۔ (حجۃ اللہ البالغہ ج:۲ ص:۶، مطبوعہ مصر)۔