مسلمانوں کے بنیادی عقائد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کا وسیلہ
سوال
۔ دُعا کے وقت اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء اللہ کا واسطہ دینا جائز ہے؟ بحوالہ حدیث جواب سے نوازیں۔
جواب
۔ صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۳ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دُعا منقول ہے:’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ۔‘‘(۱)ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے، اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباس) کے ذریعے توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔‘‘اس حدیث سے ’’توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’توسل باولیاء اللہ‘‘ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے اسے بطورِ شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، اس مسئلے کی کچھ تفصیل میں اپنے مقالے ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں لکھ چکا ہوں، ملاحظہ فرمالیا جائے۔(۲)
(۱) صحیح البخاری، أبواب الْإستسقاء، باب سؤال الناس الْإمام الْإستسقاء إذا قحطوا۔
(۱) اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۶۳ تا ۷۶ (طبع مکتبہ لدھیانوی کراچی)۔