مسلمانوں کے بنیادی عقائد
متعدی امراض اور اِسلام
سوال
۔ کیا جذام والے سے اسلام نے رشتہ ختم کردیا ہے؟ اگر نہیں تو اس کے مریض سے جینے کا حق کیوں چھینا جاتا ہے؟ اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ: ’’اس سے شیر کی طرح بھاگو اور اس کو لمبے بانس سے کھانا دو‘‘؟
جواب
۔ جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس سے لوگوں کو اَذیت ہوتی ہو، اگر لوگوں کو اس سے الگ رہنے کا مشورہ دیا جائے تو یہ تقاضائے عقل ہے، باقی بیماری کی وجہ سے اس کا رشتہ اسلام سے ختم نہیں ہوگا، اس بیماری پر اس کو اَجر ملے گا۔ اسلام تو مرض کے متعدی ہونے کا قائل نہیں، لیکن اگر جذامی سے اختلاط کے بعد خدانخواستہ کسی کو یہ مرض لاحق ہوگیا تو ضعیف الاعتقاد لوگوں کا عقیدہ بگڑے گا اور وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ مرض اس کو جذامی سے لگا ہے، اس فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ: اس سے شیر کی طرح بھاگو، ۔۔۔ باقی لمبے بانس سے کھانا دینے کا مسئلہ مجھے معلوم نہیں اور نہ کہیں یہ پڑھا ہے۔۔۔۔ الغرض جذام والے کی تحقیر مقصود نہیں بلکہ لوگوں کو اِیذائے جسمانی اور خرابیٔ عقیدہ سے بچانا مقصود ہے۔(۱) اگر کوئی شخص قوی الایمان اور قوی المزاج ہو وہ اگر جذامی کے ساتھ کھا،پی لے، تب بھی کوئی گناہ نہیں، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھایا ہے۔(۲)
(۱) وعنہ (أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا عدوی ولَا طیرۃ ۔۔۔ وفر من المجذوم کما تفر من الأسد۔ (وفی حاشیتہٖ) وانما أراد بذٰلک نفی ما اعتقدوا من ان العلل المعدّیۃ مؤثرۃ لَا محالۃ، فأعلمھم ان لیس کذٰلک، بل ھو متعلق بالمشیۃ، إن شاء کان، وإن لم یشأ، لم یکن ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۱، باب الفال والطیرۃ، الفصل الأوّل)۔
(۲) عن جابر: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أخذ بید مجزوم فأدخلہ معہ فی القصعۃ ۔۔۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴، باب ما جاء فی الأکل معذ المجوم)۔