February 24, 2026 8:11 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

فیض الباری اور رافضی پروپیگنڈا

سوال

۔ ازراہ کرم یہ بتائیں کہ حدیث کی مشہور کتاب بخاری شریف کی علمائے دیوبند نے اب تک کتنی شروح لکھی ہیں؟ اور ان میں سب سے مستند اور بہتر شرح کون سی ہے جسے اعتماد کے ساتھ پیش کیا جاسکے۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ محمد انور شاہ کشمیری صاحبؒ نے کوئی شرح لکھی ہے، کیا وہ اپنے صحیح اور مستند متن کے ساتھ مطبوعہ صورت میں مل سکتی ہے؟ اور کیا اس مطبوعہ شرح بخاری کو اعتماد و یقین کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے؟۔ ایک شخص جو خود کو عالم دین کہلاتا ہو، اور خود کو اہل سنت و جماعت ثابت کرتا ہو، وہ قرآن شریف میں تحریفِ لفظی کا قائل ہو، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ یہی سنا گیا ہے کہ قرآن شریف میں کسی طرح کوئی تحریف ممکن نہیں کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے، امید ہے کہ تحقیقی اور قطعی جواب سے نوازیں گے۔۔ آپ کی خدمت میں ایک سوال قرآن مجید میں تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں شرعی حکم کے جاننے کے لئے پیش کیا تھا۔ آپ نے جواب کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ: ’’میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی‘‘ اس جملے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ آپ سے مزید اطمینان کروں تاکہ تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں مجھے یقین رہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ اس لئے آپ کی خدمت میں اس عالم دین کے اصل الفاظ پیش کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں:’’میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ قرآن میں محققانہ طور پر (معنوی ہی نہیں) تحریفِ لفظی بھی ہے، یا تو لوگوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا کسی مغالطے کی وجہ سے کی ہے۔‘‘ان الفاظ میں وہ یہی فرما رہے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریفِ لفظی ہے، جبکہ ہم نے یہی سنا ہے کہ قرآن کریم اپنے نزول سے آج تک ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے۔ قرآن میں سامنے سے یا پیچھے سے باطل راہ نہیں پاسکتا اور قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے، اور یہی سنا ہے کہ قرآن میں کسی طرح تحریف کا قائل کوئی مسلمان نہیں، اگر کوئی مسلمان کہلانے والا ایسا کہے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے۔ اب تک شیعہ فرقہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں، لیکن ایک اہل سنت و جماعت کہلانے والے عالم نے تحقیقی طور پر ایسا کیا ہے، اس لئے مجھے بہت تشویش ہوئی کہ قرآن کی ہر طرح حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، اس کے باوجود قرآن میں تحریف مانی جارہی ہے، اس لئے میں نے حقیقت جاننے کے لئے آپ سے رہنمائی چاہی ہے۔ یہ بھی بتائیے کہ ماضی میں بھی کبھی کوئی سنی عالم قرآن میں تحریفِ معنوی یا تحریفِ لفظی کا قائل رہا ہے؟ امید ہے کہ آپ قطعی شرعی احکام سے آگاہ فرمائیں گے، شکریہ!

جواب

۔ صحیح بخاری کی کوئی مستقل شرح تو اس وقت ذہن میں نہیں، جو اکابرِ دیوبند میں سے کسی نے لکھی ہو، البتہ اکابر مشائخ دیوبند کے درسی افادات ان کے تلامذہ نے اپنی عبارت میں قلم بند کرکے شائع کئے، ان میں ’’لامع الدراری‘‘ حضرت گنگوہیؒ کی تقریر ہے، جو ان کے تلمیذ حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندہلویؒ نے جمع کی تھی، اور وہ ہمارے شیخ حضرت مولانا محمد زکریاؒ ابن مولانا محمد یحییٰ کے حواشی کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح امام العصر حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے درسی افادات ان کے تلمیذ حضرت مولانا سیّد بدرعالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ’’فیض الباری‘‘ کے نام سے شائع کئے، حضرت شاہ صاحبؒ اردو میں تقریر فرماتے تھے، مولانا سیّد بدرعالمؒ نے ان کو عربی میں منتقل کرکے قلم بند کیا، ۔۔۔اسی طرح حضرت گنگوہیؒ کی مندرجہ بالا تقریر کو بھی حضرت مولانا محمد یحییٰ ؒنے عربی میں قلم بند کیا تھا۔۔۔۔اس کے بعد سے ہر سال دورۂ حدیث کے طلبہ اپنے اکابر کی تقریریں قلم بند کرتے ہیں، ان میں سے بعض شائع بھی ہوچکی ہیں۔ جن میں شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا فخر الدین (نوّر اللہ مراقدہم) کی تقریریں زیادہ معروف ہیں اور یہ سب اردو میں ہیں۔
۔ اہلِ سنت میں کوئی شخص قرآن کریم میں تحریفِ لفظی کا قائل نہیں، بلکہ اہل سنت کے نزدیک ایسا شخص اسلام سے خارج ہے۔ اس مسئلہ کو میری کتاب ’’شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم‘‘ میں دیکھ لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
۔ میں پہلے خط میں عرض کرچکا ہوں کہ اہل سنت میں کوئی شخص تحریف فی القرآن کا قائل نہیں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ: ’’آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی‘‘ میرا یہ خیال صحیح نکلا، چنانچہ آپ نے جو عبارت ان صاحب سے منسوب کی ہے، وہ ان کی عبارت نہیں۔ بلکہ غلط فہمی سے آپ نے منسوب کردی ہے۔اس کی شرح یہ ہے کہ فیض الباری (ج:۳ ص:۳۹۵) میں حضرت ابن عباسؓ کے قول کی ۔۔۔جو صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۶۹ میں منقول ہے۔۔۔ کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ۔۔۔مسلمانوں کو۔۔۔ بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کے نوشتہ کو بدل ڈالا، اور کتاب میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی پیدا کردی ہے۔‘‘ اس کی شرح میں حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:’’جاننا چاہئے کہ تحریف (فی الکتب السابقہ) میں تین مذہب ہیں۔ ۱:ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریف ہر طرح کی ہوئی ہے، لفظی بھی اور معنوی بھی۔ ابن حزمؒ اسی کی طرف مائل ہیں۔ ۲:ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ تحریف قلیل ہے، شاید حافظ ابن تیمیہؒ کا رجحان اسی طرف ہے۔ ۳:اور ایک جماعت تحریفِ لفظی کی سرے سے منکر ہے، پس تحریف ان کے نزدیک سب کی سب معنوی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس (مؤخر الذکر) مذہب پر لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) قرآن بھی محرف ہو، کیونکہ تحریفِ معنوی اس میں بھی کچھ کم نہیں کی گئی(وَاللَّازِمُ بَاطِلٌ فَالْمَلْزُوْمُ مِثْلُهُ)۔ اور جو چیز میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں (یعنی کتبِ سماویہ میں) تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر کی یا غلطی کی وجہ سے؟ پس اللہ تعالیٰ ہی اس کو بہتر جانتے ہیں۔‘‘یہ حضرت شاہ صاحبؒ کی پوری عبارت کا ترجمہ ہے، اب دو باتوں پر غور فرمائیے:اوّل:۔ یہ کہ حضرت ابن عباسؓ کے ارشاد میں اہل کتاب کا اپنی کتاب میں تحریف کردینا مذکور تھا، حضرت شاہ صاحبؒ نے اس سلسلے میں تین مذہب نقل کئے۔ ایک یہ کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریف بکثرت ہے۔ دوم یہ کہ تحریف ہے تو سہی مگر کم ہے۔ سوم یہ کہ تحریفِ لفظی سرے سے نہیں، صرف تحریفِ معنوی ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ ان تین اقوال کو نقل کرکے اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرماتے ہیں کہ: اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی موجود ہے، اب رہا یہ کہ یہ تحریف انہوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا غلطی کی وجہ سے صادر ہوئی ہے؟ اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ الغرض گفتگو تمام تر اس میں ہے کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو قلیل ہے یا کثیر؟ اسی کے بارے میں تین مذاہب ذکر فرمائے ہیں اور اسی تحریف فی الکتاب کے بارے میں اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرمایا ہے، قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کا دور و نزدیک کہیں تذکرہ ہی نہیں کہ اس کے بارے میں حضرت شاہ صاحبؒ یہ فرمائیں کہ: ’’جو چیز کہ میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ کہ اس میں تحریفِ لفظی موجود ہے۔‘‘دوم:۔ شاہ صاحبؒ نے تیسرا قول یہ نقل کیا تھا کہ کتبِ سابقہ میں صرف تحریفِ معنوی ہوئی ہے، تحریفِ لفظی نہیں ہوئی، حضرت شاہ صاحبؒ اس کو غلط قرار دیتے ہوئے ان قائلینِ تحریف کو الزام دیتے ہیں کہ اگر صرف تحریفِ معنوی کی وجہ سے ان کتب کو محرف قرار دیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کریم کو بھی محرف کہا جائے -نعوذ باللہ- کیونکہ اس میں بھی لوگوں نے تحریفِ معنوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس سے دو باتیں صاف طور پر واضح ہوتی ہیں، ایک یہ کہ قرآن کریم کی تحریفِ معنوی کے ساتھ اس مذہب والوں کو الزام دینا، اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تحریفِ لفظی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ اگر حضرت شاہ صاحبؒ -نعوذ باﷲ- قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کے قائل ہوتے تو صرف تیسرے مذہب والوں کو الزام نہ دیتے، بلکہ پہلے اور دوسرے قول والوں پر بھی یہی الزام عائد کرتے۔یہ میں نے صرف اس عبارت کی تشریح کی ہے جس سے آپ کو حضرت شاہ صاحبؒ کی بات سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، ورنہ قرآن کریم کا تحریفِ لفظی سے پاک ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی منکر نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی کتاب مشکلات القرآن کا مقدمہ ملاحظہ فرمالیا جائے۔حسنِ اتفاق کہ اسی طرح کا ایک سوال امام اہل سنت حضرت مولانا ابو زاہد محمد سرفراز خان صفدر زید مجدہم سے بھی کیا گیا، انہوں نے فیض الباری کی اس عبارت کی وضاحت فرمائی ہے، جس سے شیعہ تحریفِ قرآن پر استدلال کرتے ہوئے اسے مناظروں میں پیش کرتے ہیں۔ شیعہ یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ فیض الباری میں ہے کہ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری اور مولانا بدرعالم میرٹھی قدس اللہ اسرارہما بھی تحریف کے قائل تھے۔حضرت مولانا محمد سرفراز خان دامت برکاتہم العالیہ نے اس پروپیگنڈا کا جواب اور غلط فہمی کی وضاحت اپنے ایک مسترشد جناب مولانا عبدالحفیظ صاحب کے نام ایک مکتوب میں فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اسے عام کیا جائے۔ جس پر موصوف نے اس کی فوٹواسٹیٹ بھیج کر ہم پر احسان فرمایا ہے۔ چونکہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہٗ کے مکتوبِ سامی میں درج فیض الباری کی عربی عبارتوں کا اردو ترجمہ نہ تھا، اس لئے افادۂ عام کی غرض سے اس کا اردو ترجمہ کردیا گیا۔ذیل میں حضرت مولانا ابو زاہد سرفراز خان صفدر کی وضاحت انہیں کے الفاظ میں پیش کی جاتی ہے:’’عزیز القدر جناب حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب دام مجدہم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاجِ گرامی!عزیز القدر! فیض الباری ج:۳ ص:۳۹۵ میں ہے:’’وَاعْلَمْ! أَنَّ فِي التَّحْرِيْفِ ثَلَاثَةَ مَذَاهِبَ، ذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلٰى أَنَّ التَّحْرِيْفَ فِي الْكُتُبِ السَّمَاوِيَّةِ قَدْ وَقَعَ بِكُلِّ نَحْوٍ فِي اللَّفْظِ وَالْمَعْنٰى جَمِيْعًا، وَهُوَ الَّذِيْ مَالَ إِلَيْهِ ابْنُ حَزْمٍ، وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلٰى أَنَّ التَّحْرِيْفَ قَلِيْلٌ، وَلَعَلَّ الْحَافِظَ ابْنَ تَيْمِيَّةَ جَنَحَ إِلَيْهِ، وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلٰى إِنْكَارِ التَّحْرِيْفِ اللَّفْظِيِّ رَأْسًا فَالتَّحْرِيْفُ عِنْدَهُمْ كُلُّهُ مَعْنَوِيٌّ، قُلْتُ: يَلْزَمُ عَلٰى هٰذَا الْمَذْهَبِ أَنْ يَكُوْنَ الْقُرْآنُ أَيْضًا مُحَرَّفًا، فَإِنَّ التَّحْرِيْفَ الْمَعْنَوِيَّ غَيْرُ قَلِيْلٍ فِيْهِ أَيْضًا، وَالَّذِيْ تَحَقَّقَ عِنْدِيْ: أَنَّ التَّحْرِيْفَ فِيْهِ لَفْظِيٌّ أَيْضًا، إِمَّا أَنَّهُ عَنْ عَمْدٍ مِنْهُمْ أَوْ لِمُغَالَطَةٍ، فَاللّٰهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ بِهِ‘‘ترجمہ:۔ ’’معلوم ہونا چاہئے کہ تحریف کے بارے میں تین مذہب ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریفِ لفظی اور معنوی دونوں ہوئی ہیں، ابن حزمؒ اسی کے قائل ہیں۔ دوسری جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ کتبِ سماویہ میں تھوڑی سی تحریف ہوئی ہے، غالباً ابن تیمیہؒ کا جھکاؤ اسی طرف ہے۔ تیسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ تحریفِ لفظی تو نہیں ہوئی البتہ تحریفِ معنوی ہوئی ہے۔ اس جماعت کے نظریہ کے مطابق لازم آئے گا کہ قرآن مجید بھی تحریف سے خالی نہیں، کیونکہ اس میں بھی تحریفِ معنوی کچھ کم نہیں کی گئی۔ لیکن میرے نزدیک محقق بات یہ ہے کہ اس میں تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے، یا تو انہوں نے عمداً ایسا کیا ہے، یا پھر مغالطہ کی بنا پر ایسا ہوا ہے، واﷲ اعلم!‘‘عزیز القدر! اس عبارت میں ’’فیھا‘‘ کی جگہ ’’فیہ‘‘ لکھا گیا ہے، اصل عبارت یوں ہے:’’اِنَّ التَّحْرِيْفَ فِيْهَا (اَيْ الْكُتُبَ السَّمَاوِيَّةَ كَالتَّوْرٰاةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَغَيْرِهِمَا) لَفْظِيٌّ اَيْضًا۔‘‘ترجمہ:۔ ’’فیھا‘‘ کی ضمیر کا مرجع کتبِ سماویہ ہیں، یعنی کتبِ سماویہ تورات، زبور و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوئی ہے نہ کہ قرآن میں۔ مگر فیہ کی ضمیر مفرد مذکر کی وجہ سے یہ مغالطہ ہوا کہ شاید قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔‘‘اس کی دلیل فیض الباری ج:۴ ص:۵۳۷ کی یہ عبارت ہے:’’وَاعْلَمْ اَنَّ اَقْوَالَ الْعُلَمَاءِ فِيْ وُقُوْعِ التَّحْرِيْفِ وَدَلَائِلِهِمْ كُلَّهَا قَدْ قُضِيَ عَنْهُ الْوَطَرُ الْمُحَشّٰی فَرَاجِعْهُ ۔‘‘بخاری شریف کے پچیس پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے لکھا ہے، فالج کے حملے کے بعد بقیہ پانچ پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کیا ہے۔ سوانح قاسمی از مولانا محمد یعقوب صاحبؒ اور اس مقام پر حاشیہ میں محشی یعنی حاشیہ لکھنے والے حضرت نانوتویؒ نے حاجت پوری کردی ہے اور مقام کا حق ادا کردیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: بخاری ج:۲ ص:۱۱۲۷ کا حاشیہ نمبر:۱)۔فیض الباری ہی میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرتؒ نے لکھا ہے:’’وَالَّذِيْ يَنْبَغِيْ فِيْهِ النَّظَرُ هٰهُنَا اَنَّهُ كَيْفَ سَاغَ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنْكَارُ التَّحْرِيْفِ اللَّفْظِيِّ، مَعَ اَنَّ شَاهِدَ الْوُجُوْدِ يُخَالِفُهُ، كَيْفَ! وَقَدْ نَعٰی عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْتُبُوْنَ بِاَيْدِيْهِمْ، ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللہِ، وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللہِ، وَهَلْ هٰذَا اِلَّا تَحْرِيْفٌ لَفْظِيٌّ۔ وَلَعَلَّ مَرَادَهُ اَنَّهُمْ مَا كَانُوْا يُحَرِّفُوْنَهَا قَصْدًا، وَلٰكِنْ سَلَفُهُمْ كَانُوْا يَكْتُبُوْنَ مَرَادَهَا كَمَا فَهِمُوْهُ ثُمَّ كَانَ خَلَفُهُمْ يُدْخِلُوْنَهُ فِيْ نَفْسِ التَّوْرٰاةِ، فَكَانَ التَّفْسِيْرُ يَخْتَلِطُ بِالتَّوْرٰاةِ مِنْ هٰذَا الطَّرِيْقِ۔ اِنْتَهٰی ۔‘‘ (ج:۴ ص:۵۳۷)ترجمہ:۔ ’’یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے تحریفِ لفظی کے نہ ہونے کا قول کس بنا پر کیا ہے؟ حالانکہ شواہد اس کے خلاف ہیں۔ پھر تحریفِ لفظی نہ ہونے کا قول کیونکر ممکن ہے، جبکہ قرآن مجید نے ان کے اس فعل قبیح کو ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ: ’’یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے!‘‘ اور یہی تو تحریف ہے۔ غالباً تحریفِ لفظی نہ ہونے سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قصداً ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے اسلاف اپنی کتابوں میں اپنی سمجھ کے مطابق ایک مفہوم لکھ دیتے، لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس (تشریحی نوٹ) کو تورات کے متن میں شامل کرلیا، جس کی وجہ سے اصل اور شرح میں التباس ہوگیا اور یوں تحریفِ لفظی ہوگئی۔‘‘اس ساری عبارت سے واضح ہوا کہ تحریفِ لفظی توراۃ وغیرہ کتابوں میں ہوئی ہے نہ کہ قرآن کریم میں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تشریح بھی حضرت نے کردی کہ سلف اپنی یاد کے لئے کتابوں میں تفسیری الفاظ لکھتے تھے، خلف نے ان کو بھی متن میں شامل کردیا۔اس تحریر کو غور سے پڑھیں اور اس کی کاپیاں بناکر اپنی طرف سے علماء میں تقسیم کریں، بڑی دین کی خدمت ہوگی۔ اہل خانہ کو درجہ بدرجہ سلام اور دعائیں عرض کریں اور مقبول دعاؤں میں نہ بھولیں، یہ خاطی بھی داعی ہے۔ والسلامابوالزاہد محمد سرفراز۔ از گکھڑ۔‘‘

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔