February 24, 2026 4:57 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

اللہ تعالیٰ کیلئے واحد وجمع کے صیغے کے اِطلاق کی حکمت؟

سوال

۔ اللہ پاک نے اپنے کلام میں اپنے لئے کبھی تو ’’أَنَا ‘‘ واحد کا صیغہ استعمال کیا ہے، جیسے: ’’إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ‘‘ اور کہیں ’’نَحْنُ‘‘ جمع کا صیغہ ہے، جیسے: ’’إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ‘‘ وغیرہ، اس تفریق کی کیا وجہ ہے؟

جواب

۔ اصل تو صیغۂ واحد ہے، لیکن کبھی اِظہارِ عظمت کے لئے صیغۂ جمع استعمال کیا جاتا ہے،’’إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ‘‘میں توحید ہے، اور توحید کے لئے واحد کا صیغہ موزوں تر ہے، اور’’إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ‘‘میں اس عظیم الشان کتاب کی تنزیل اور وعدۂ حفاظت کا ذکر ہے، اور یہ دونوں مُنَزِّل اور محافظ کی عظمتِ قدرت کو مقتضی ہیں، اس لئے یہاں جمع کے صیغوں کا لانا بلیغ تر ہوا، وَاللہُ اَعْلَمُ بِاَسْرَارِهِ !(۱)

(۱) ’’(فاما قولہ: إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ) فھٰذہ الصیغۃ واِن کانت للجمع اِلّا أن ھٰذا من کلام الملوک عند اِظھار التعظیم فان الواحد منھم اذا فعل فعلًا أو قال قولًا، قال: اِنا فعلنا کذا وقلنا کذا، فکذا ھٰھنا۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۱۹ ص:۱۶۰، سورۃ الحجر)۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔