مسلمانوں کے بنیادی عقائد
زَبور، توراۃ، اِنجیل کا مطالعہ
سوال
۔ میں عرصہ دراز سے ایک مسئلے میں اُلجھا ہوا ہوں اور وہ یہ کہ کیا اس نیت سے زَبور، تورات یا اِنجیل کا مطالعہ کرنا دُرست ہے کہ اس سے اسلام کی حقانیت معلوم ہوجائے۔ یا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ دُوسرے مذاہب اور اسلام میں کیا فرق ہے؟ ان کے پڑھنے سے یہ مقصود ہو کہ قرآن کسی قوم یا معاشرے کی کس طرح اور کن اُصولوں پر تشکیل کرنے کا حکم دیتا ہے اور دُوسری مقدس کتابیں کسی معاشرے کو تشکیل دینے میں کیا اُصول دیتی ہیں اور دونوں کے کیا فوائد ہیں؟میرے ایک دوست نے کہا کہ: ’’دیکھو بھائی! جب تک ہم زَبور، اِنجیل اور تورات وغیرہ کا مطالعہ نہیں کریں گے، ہم کس طرح یہ ثابت کرسکیں گے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے اور دُوسرے مذاہب میں فلاں فلاں کوتاہیاں ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے اسلام کا کچھ مطالعہ رکھتے ہوں، پھر ان کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ واقعی ان کتابوں میں رَدّ و بدل ہوچکا ہے۔‘‘ اگر میرے دوست کی بات صحیح مان لی جائے تو پھر وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب شاید تورات پڑھ رہے تھے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غصّے سے لال ہوگیا کا واقعہ کس طرف جائے گا؟میں نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ تورات وغیرہ کا مطالعہ صرف علمائے کرام کو جائز ہے، کیونکہ ان کا اسلام کے بارے میں کافی مطالعہ ہوتا ہے، مگر آج کل کے علمائے کرام تو فرقہ پرستی کے اندھیرے گڑھے میں گرچکے ہیں، خدا سے دُعا ہے کہ تمام مسلمان علماء فرقہ پرستی سے باہر نکلیں اور آپس میں اتحاد و یگانگت پیدا کریں۔
جواب
۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ آپ نے ذکر کیا ہے، مشکوٰۃ ص:۳۰ پر مسند احمد اور شعب الایمان بیہقی کے حوالے سے، اور ص:۳۲ پر دارمی کے حوالے سے مذکور ہے۔ مجمع الزوائد (ج:۱ ص:۱۷۳) میں اس واقعے کی متعدّد روایات موجود ہیں:’’عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ اَتَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: اِنَّا نَسْمَعُ اَحَادِيْثَ مِنْ يَهُوْدَ تُعْجِبُنَا اَفَتَرٰی اَنْ نَكْتُبَ بَعْضَهَا، فَقَالَ: اَمُتَهَوِّكُوْنَ اَنْتُمْ كَمَا تَهَوَّكَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، وَلَوْ كَانَ مُوْسٰی حَيًّا مَا وَسِعَهُ اِلَّا اتِّبَاعِي رَوَاهُ اَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْاِيْمَانِ ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۰)
۲:۔ اس حدیث کے پیشِ نظر مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت (جو کامل و مکمل ہے) کے بعد یہود و نصاریٰ کی کتابوں کے مطالعے اور ان سے استفادے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب اور ناراضی کی موجب ہے۔
۳:۔ خط کے شروع میں ان کتابوں کے مطالعے کے جو مقاصد بیان کئے گئے ہیں، وہ معتدبہ نہیں، اور پھر ہر شخص اس کا اہل بھی نہیں، چونکہ مسائل کی علمی استعداد کے بارے میں ہمیں علم نہیں، اس لئے اس کو ان مقاصد کے لئے ان کتابوں کے مطالعے کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا۔
۴:۔ اہلِ کتاب کو جواب و الزام کا جو مقصد ’’دوست‘‘ نے بیان کیا، وہ اپنی جگہ صحیح ہے، لیکن یہ عوام کا کام نہیں، بلکہ اہلِ علم میں سے بھی صرف ان حضرات کا کام ہے جو فنِ مباحثہ و مناظرہ میں ماہر ہوں، دُوسرے لوگوں کو یہ چاہئے کہ ایسے موقع پر ایسے اہلِ علم سے رُجوع کریں۔
۵:۔ مولوی صاحب نے جو بات کہی وہ صحیح ہے، لیکن اس موقع پر فرقہ پرستی کا قصہ چھیڑنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عیسائیت کے موضوع پر ایسے ماہرین اہلِ علم موجود ہیں جو اس کام کو خوش اُسلوبی سے کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے فرضِ کفایہ بجا لارہے ہیں۔
۶:۔ جو اہلِ علم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ ان سے استفادے کے لئے نہیں کرتے، اس لئے حدیثِ مذکور کا اِطلاق ان پر نہیں ہوتا۔
۷:۔ پی ایچ ڈی کرنے والے حضرات بھی اگر اسلام کے اُصول و فروع سے بخوبی واقف ہوں اور ان کا مقصد کتبِ سابقہ سے استفادہ نہ ہو تو ان کا بھی وہی حکم ہے جو جواب نمبر۶ میں لکھا گیا ہے۔ان نکات میں آپ کے تمام خدشات کا جواب آگیا۔
۸:۔ آخر میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ اس موضوع پر بصیرت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ اصل کتاب عربی میں ہے اس کا اُردو ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے دارالعلوم کراچی کی طرف سے تین جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔