مسلمانوں کے بنیادی عقائد
صراطِ مستقیم کی کیا حقیقت ہے؟
سوال
۔ آج کل مسلک کو بہت اہمیت دی جارہی ہے، مسلک کی حقیقت کیا ہے؟ کیا خدا اور رسول کا بھی کوئی مسلک ہے؟ مسجد کے دروازے پر اکثر مختلف مسلک لکھے ہوتے ہیں، کیا یہ لکھنا جائز ہے؟ کیونکہ مساجد خدا کے گھر ہیں، اور خدا کے گھر پر خدا کا مسلک ہی لکھنا چاہئے۔ کیا کسی ایک مسلک کو اِختیار کرنا ضروری ہے یا اُمتِ محمدیہ یا مسلمان کہلانا کافی ہے؟ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کا مسلک کیا تھا؟ اور کیا وہی مسلک تمام اُمتی اِختیار نہیں کرسکتے؟
جواب
۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دِین پیش کیا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تو اس پر قائم رہے، بعد میں کچھ لوگوں نے کچھ نئی باتیں عقائد و اعمال میں نکالنی شروع کردیں، اور بہت سے حضرات صحیح دِین پر، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے چلا آتا تھا، قائم نہ رہے، اس سے فرقہ بندیوں کا آغاز ہوا۔ پس اس شناخت کے لئے کہ کون کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے؟ اور کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ الگ الگ لیبل تجویز کئے گئے، اب اگر یہ شناختی نام نہ ہو تو حق و باطل کے درمیان امتیاز کیسے کیا جائے۔۔۔؟پس دِین تو وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چلا آتا ہے، اور جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قائم تھے، اور جس کی تشریح اُمت کے مُسلَّمہ اَئمۂ دِین اور سلف صالحین نے کی ہے، اس کے لئے تو کسی نام اور عنوان کی ضرورت نہیں، لیکن باطل فرقوں کے درمیان امتیاز کے لئے نام اور عنوان کی ضرورت ہے، اور اگر تمام فرقے نئی نئی باتوں کو چھوڑ کر اس اصل دِین پر آجائیں تو شناختی ناموں کی بھی ضرورت نہ رہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے، کیونکہ: ’’وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ !‘‘ ۔۔۔اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے ۔۔۔اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ اپنے کو حق پر اور دُوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے، پس ایک عام آدمی کس طرح امتیاز کرے کہ فلاں حق پر ہے اور فلاں باطل پر؟ اس شبہ کا حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کا معیار مقرّر کردیا ہے اور وہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ۔ پس جو لوگ اس معیار پر قائم ہیں وہ حق پر ہیں، اور جن لوگوں نے اس معیار کو چھوڑ کر نئے نئے طریقے اور نئے نئے نظریات ایجاد کرلئے ہیں وہ حق سے منحرف ہیں۔(۱)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبا خط کھینچا اور اس کے دائیں بائیں کچھ خطوط کھینچے، جن کی شکل یہ تھی:||ـــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ـــــــــــــــ|ــــــــ||پھر فرمایا کہ: ’’یہ لمبا خط تو اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جو سیدھا جارہا ہے، اور یہ دائیں بائیں کے خطوط وہ پگڈنڈیاں ہیں جو اس میں سے نکل کر الگ ہوگئی ہیں، ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان کھڑا لوگوں کو بلا رہا ہے۔‘‘ پس جو شخص اس راستے پر چلا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ، اَئمۂ دِین اور بزرگانِ دِین چلے، وہ ہدایت کے راستے پر ہے، اور جس نے اس راہ کو چھوڑ کر کوئی راستہ اپنالیا وہ راہِ راست سے ہٹا ہوا ہے۔(۲) اس مسئلے کی مزید تفصیل میری کتاب ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں دیکھ لی جائے۔(۳)
(۱) عن عبداللہ بن عمرو ۔۔۔ وانّ بنی اسرائیل تفرّقت علٰی ثنتین وسبعین ملّۃ وتفترق أُمَّتی علٰی ثلٰث وسبعین ملّۃ کلّھم فی النّار، اِلّا ملّۃ واحدۃ! قالوا: من ھی یا رسول اللہ! قال: ما أنا علیہ وأصحابی۔ (مشکوٰۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)۔
(۲) عن عبداللہ بن مسعود ۔۔۔ قال: خطَّ لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطًّا ثم قال: ھٰذا سبیل اللہ، ثم خطَّ خطوطًا عن یمینہ وعن شمالہ وقال: ھٰذہ سبل علٰی کل سبیل منھا شیطان یدعو الیہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۰، باب الْإعتصام)۔
(۳) اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۱۷ تا ۲۰۔