February 24, 2026 3:05 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

رضا بالقضا سے کیا مراد ہے؟ اور کیا یہ سچا مؤمن ہونے کی علامت ہے؟

سوال

۔ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: حق تعالیٰ جب کسی بندے کو محبوب بناتا ہے تو اس کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے، پس اگر وہ صابر بنا رہتا ہے تو اس کو منتخب کرتاہے، اور اگر اس کی قضا پر راضی ہوتا ہے تو اس کو برگزیدہ کرلیتا ہے۔ مصیبت پر صابر بنا رہتا ہے، پھر قضا پر راضی رہنے سے کیا مراد ہے؟۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہؓ سے پوچھا: ’’تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مؤمنین مسلمین ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: مصیبت پر صبر کرتے ہیں اور راحت پر شکر کرتے ہیں اور قضا پر راضی رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بخدا! تم سچے مؤمن ہو۔‘‘ سوال ہے کہ اس حدیث مبارک میں ۱:۔ مصیبت پر صبر سے کیا مراد ہے؟ ۲:۔ راحت پر شکر سے کیا مراد ہے؟ ۳:۔ اور ’’قضا پر راضی رہتے ہیں‘‘ سے کیا مراد ہے؟

جواب

۔ یہ کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے فیصلے سے دِل میں تنگی محسوس نہ کرے، زبان سے شکوہ و شکایت نہ کرے، بلکہ یوں سمجھے کہ مالک نے جو کیا، ٹھیک کیا۔(۱) طبعی تکلیف اس کے منافی نہیں۔ اسی طرح اس مصیبت کو دُور کرنے کے لئے جائز اَسباب کو اِختیار کرنا اور اس کے اِزالے کی دُعائیں کرنا، رضا بالقضا کے خلاف نہیں،(۲) واﷲ اعلم!
۔ نمبر:۱ اور نمبر۳ اُوپر لکھ دیا، راحت و نعمت پر شکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نعمت کو محض حق تعالیٰ شانہ‘ کے لطف و احسان کا ثمرہ جانے، اپنا ذاتی ہنر اور کمال نہ سمجھے، زبان سے ’’الحمد ﷲ‘‘ کہے اور شکر بجا لائے، اور اس نعمت کو حق تعالیٰ شانہ‘ کی معصیت میں خرچ نہ کرے، اس نعمت پر اِترائے نہیں، واﷲ اعلم!

(۱) قال الطیبی رحمہ اللہ أی الرضا بقضاء اللہ وھو ترک السخط علامۃ سعادتہ وإنما جعلہ علامۃ سعادۃ العبد لأمرین: أحدھما یتفرغ للعبادۃ، لأنہ إذا لم یرض بالقضاء یکون مھومًا أبدًا مشغول القلب بحدوث الحوادث ویقول کان کذا ولم لَا یکون کذا، والثانی لئلا یتعرض لغضب ﷲ تعالٰی بسخطہ وسخط لعبد أن یذکر غیر ما قضی اللہ لہ وقال انہ أصلح وأولٰی فیما لَا یستیقن فسادہ وصلاحہ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ، باب التوکل والصبر ج:۵ ص:۹۳)۔
(۲) وقد ذکرنا أن التمسک بالأسباب جریًا علٰی سنۃ اللہ تعالٰی لَا یناقض التوکل ۔۔۔ فھو أیضًا لَا یناقض الرضا۔ (إحیاء علوم الدین ج:۴ ص:۳۵۴، بیان أن الدعاء غیر مناقض للرضا، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔