مسلمانوں کے بنیادی عقائد
لوحِ محفوظ پر جس کے لئے گناہ لکھا جاچکا ہے، اُسے سزا کیوں ملے گی؟
سوال
۔ میں اور میرے جتنے نوجوان دوست ہیں اس مسئلے پر کچھ ذہنی اور دِلی طور پر پریشان اور غیرمطمئن ہیں کہ جیسا کہ ہر مسلمان کا بنیادی ایمانی عقیدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور جو کچھ لوحِ محفوظ پر اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوکر رہے گا، تو اللہ پاک نے جہنم اور جنت کو جزا و سزا کے لئے کیوں بنایا ہے؟ کیونکہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر نہ ہی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرسکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی چھوٹے سے چھوٹا گناہ کرسکتے ہیں، کرنے والی سب کچھ اللہ کی ذات ہے، تو اگر ہم گناہ کرتے ہیں تو وہ بھی اللہ کے حکم سے کرتے ہیں، تو ہمیں کیوں سزا دی جائے گی جبکہ ہماری قسمت میں اللہ نے لوحِ محفوظ میں گناہ لکھا ہے، تو ہم اس پر مجبور ہیں کہ ہم گناہ کرتے، کیونکہ گناہ بھی اللہ کے حکم سے ہوگا۔
جواب
۔ یہ تو صحیح ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے اِرادہ و مشیت سے ہو رہا ہے، اور یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہمارے کچھ افعال تو ایسے ہیں کہ ہم اپنے اِرادہ و اِختیار سے کرتے ہیں، اور کچھ چیزیں ہمارے اِرادہ و اِختیار کے بغیر سرزد ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کے اچھے افعال پر تمام عقلاء تعریف کرتے ہیں، اور بُرے افعال پر مذمت و بُرائی کرتے ہیں، گویا تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ نے اچھے بُرے کا ایک طرح کا اِختیار دیا ہے، اور اس کے اِختیار میں افعال اگر اچھے ہوں تو اِنعام کا مستحق ہے، اور اگر بُرے ہوں تو مذمت اور سزا کا مستحق ہے۔مثلاً: ایک شخص مخلوق کی خدمت کرتا ہے، اس کو ہر شخص اچھا کہتا ہے، اور ایک شخص چوری کرتا ہے، ڈاکا ڈالتا ہے، بدکاری کرتا ہے، اس کو ہر شخص بُرا کہتا ہے اور اسے سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ کبھی کسی چور کا یہ عذر نہیں سنا جاتا کہ: ’’جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت و اِرادے سے ہوتا ہے، میں نے جو چوری کی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے کی ہے، اس لئے میں کسی سزا کا مستحق نہیں‘‘ معلوم ہوا کہ تقدیر کا عقیدہ برحق ہے، مگر اِختیار میں اور اَفعال میں آدمی تقدیر کا حوالہ دے کر بَری نہیں ہوسکتا، ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے اپنے اِختیار و اِرادے سے یہ کام (مثلاً قتل) کیا ہے، لہٰذا یہ سزائے موت کا مستحق ہے، یہی صورتِ حال آخرت کے عذاب و ثواب کی ہے۔(۱)
(۱) وللعباد أفعال اِختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔ والحسن منھا برضاء اللہ تعالٰی والقبیح منھا لیس برضائہ۔ (شرح عقائد ص:۸۱ تا ۸۵)۔ والمعاصی کلھا أی صغیرھا وکبیرھا بعلمہ وقضائہ وتقدیرہ ومشیّتہ إذ لو لم یردھا لما وقعت لَا بمحبّتہ أی لقولہ تعالٰی: فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ ، وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ولَا برضائہ أی لقولہ تعالٰی: وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ ، ولأن الکفر یوجب المقت الذی ھو أشدّ الغضب وھو ینافی رضی الرَّبّ المتعلق بالْإیمان وحسن الأدب ولَا بأمرہ أی لقولہ تعالٰی: إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ ، وقولہ تعالٰی: إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ ، فالنّھی ضدّ الأمر فلا یتصوّر أن یکون الکفر بالأمر وھٰذا القول ھو المعروف عن السلف۔ (شرح فقہ أکبر ص:۶۴)۔ وجمیع أفعال العباد من الحرکۃ والسکون أیْ علٰی أیّ وجہ یکون من الکفر والْإیمان والطّاعۃ والعصیان کسبھم علی الحقیقۃ أی لَا علٰی طریق المجاز فی النّسبۃ ولَا علٰی سبیل الْإکراہ والغلبۃ بل إختیارھم فی فعلھم بحسب إختلاف ھوائھم ومیل أنفسھم فلھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت۔ (شرح فقہ أکبر ص:۵۹)۔