مسلمانوں کے بنیادی عقائد
نجات کے لئے ایمان شرط ہے
سوال
۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر میں دوزخ سے ہر اس آدمی کو نکال لے گا، جس کے دل میں رائی کے برابر اِیمان ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی موحد کو مشرک کے ساتھ رکھوں، تو کیا آج کل کے عیسائی اور یہودیوں کو بھی دوزخ سے نکال دے گا؟ کیونکہ وہ بھی اللہ کو مانتے ہیں، لیکن ہمارے رسول کو نہیں مانتے، اور حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت عزیرؑ کو خدا کا بیٹا تصوّر کرتے ہیں، تو کیا عیسائی اور یہودی ’’رائی برابر ایمان والوں‘‘ میں ہوں گے یا نہیں؟
جواب
۔ دائمی نجات کے لئے ایمان شرط ہے، کیونکہ کفر اور شرک کا گناہ کبھی معاف نہیں ہوگا(۱) اور اِیمان کے صحیح ہونے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ اس کے تمام رسولوں کا ماننا بھی ضروری ہے۔(۲) اور جو لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا آخری نبی نہیں مانتے، وہ خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے رسول اور خاتم النبییّن ہونے کی شہادت دی ہے،(۳) پس جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت اور ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کو جھٹلاتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بات کو جھوٹی کہے وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا نہیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو قبول کرنا شرطِ نجات ہے، غیرمسلم کی نجات نہیں ہوگی۔(۴)
(۱) إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا ٤٨ النساء ٤٨
(۲) ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ البقرة ٢٨٥ (لَا نفرّق) بل نؤمن بالکلّ بین أحد من رسلہ أحد فی معنی الجمیع۔ (تفسیر نسفی ج:۱ ص:۲۳۳، طبع دار ابن کثیر بیروت)۔
(۳) قال اللہ تعالٰی: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ الأحزاب٤٠۔
(۴) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قـال: قـال رسـول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’والَّذی نفس محمدٍ بیدہٖ! لَا یسمع بی أحد من ھٰذہ الاُمَّۃ یھودی ولَا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی أُرسلتُ بہٖ اِلّا کان من أصحاب النّار۔‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۶، مشکوٰۃ ص:۱۲)۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من أحد یسمع بی من ھٰذہ الاُمّۃ ولَا یھودی ولَا نصرانی ولَا یؤمن بی إلّا دخل النار، فجعلت أقول أین تصدیقھا فی کتاب اللہ؟ حتّٰی وجدت ھٰذہ الآیۃ: وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥۚ، قال: الأحزاب الملل کلھا۔ (مستدرک حاکم، کتاب التفسیر ج:۲ ص:۳۴۲)۔