تقدیر
کیا محنت کئے بغیر بھی قسمت اچھی ہوسکتی ہے؟
سوال
۔ میرا دوست کہتا ہے کہ آدمی کی قسمت اچھی ہو تو بغیر محنت کے بھی اچھا کمالیتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ کمائی اس کے نصیب میں تھی اور اس کی قسمت اچھی تھی۔ میرا کہنا ہے کہ آدمی محنت کرے اور قسمت ساتھ دے، صرف محنت کئے بغیر قسمت اچھی نہیں ہوسکتی۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ ایک آدمی مزدور پورا دن محنت کرتا ہے اور دُوسرا آدمی ایک گھنٹے میں اتنے پیسے کمالیتا ہے، براہِ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں کہ دونوں میں سے کس کا نقطئہ نظر ٹھیک ہے؟
جواب
(۱) قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا التوبة ٥١، إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ ٤٩ القمر ٤٩ وعن ابن مسعود قال: حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الصادق المصدوق أن خلق أحدکم یجمع فی بطن أُمّہ أربعین یومًا ۔۔۔ ثم یبعث اللہ الیہ مَلَکًا بأربع کلمات، فیکتب عملہ وأجلہ ورزقہ وشقی أو سعید ۔۔۔الخ۔ (ورزقہ) یعنی أنہ قلیل أو کثیر، وغیرھما مما ینتفع بہ حلالًا کان أو حرامًا، مأکولًا أو غیرہ فیعین لہ وینقش فیہ بعد أن کانت مکتوبۃ فی اللوح المحفوظ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۲۶ باب الْإیمان بالقدر، طبع بمبئی)۔
(۲) (قولہ) وأصل القدر سر اللہ تعالٰی فی خلقہ لم یطلع علٰی ذٰلک مَلَک مقرَّب ولَا نبیٌّ مرسَل ۔۔۔ أصل القدر: سر اللہ فی خلقہ وھو کونہ أوجد وأفنٰی، وأفقر وأغنٰی وأمات وأحیا وأضلّ وأھدیٰ قال علیٌّ کرّم اللہ وجہہ ورضی عنہ: القدر: سر اللہ فلا تکشفہ ۔۔۔الخ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۷۶، ۲۷۷)۔
(۳) وعن عبداللہ بن مسعود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یکسب عبد مال حرام ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۲ باب الکسب)۔