مسلمانوں کے بنیادی عقائد
’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘کی تشریح
سوال
۔’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘حدیث کے متعلق محدثین کا کیا فیصلہ ہے؟ کیونکہ ہمارے ایک اُستاد نے اس بنا پر اس کو موضوع یا بالفاظِ دیگر دُرست قرار نہیں دیا کہ یہ دُوسری احادیث سے متعارض ہے۔ مثلاً: نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَأَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا ۔۔۔۔ الخ‘‘نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ:’’اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ‘‘تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم غریبی کو کفر قرار دیتے ہیں۔ ایک اور مولوی صاحب سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ: حدیث کو خواہ مخواہ دُرست قرار نہ دینا ٹھیک نہیں۔ اُن کے مطابق دونوں قسم کی احادیث میں یہ تطبیق ہونی چاہئے کہ کبھی کبھار غریبی کی وجہ سے انسان کفریہ طرزِ عمل کا ارتکاب کرگزرتا ہے، مثلاً: یوں کہتا ہے کہ: ’’اللہ نے بس غربت کے لئے مجھے ہی چنا تھا‘‘ وغیرہ وغیرہ کے الفاظ، یعنی غریبی کفر نہیں، احادیث کی رُو سے غریبی تو محمود ہی ہے، مذموم نہیں، جیسا کہ اُوپر مذکور ہے۔ آپ صرف اتنا فرمائیے کہ مولوی صاحب نے احادیث کا تعارض جو دُور کیا ہے وہ دُرست ہے یا نہیں؟
جواب
۔ ’’موسوعۃ الحدیث النبوی‘‘ جلد:۶ صفحہ:۸ میں’’کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا‘‘کے لئے مندرجہ ذیل حوالے دئیے گئے ہیں: کنز العمال حدیث نمبر: ۱۶۶۸۲، اتحاف السادۃ المتقین ج:۸ ص: ۱۵۰، تاریخ اصفہان ج:۱ ص:۲۹۰، درمنثور ج:۶ ص:۴۲، الضعفاء للعقیلی ج:۴ ص:۲۰۶، مشکوٰۃ حدیث نمبر:۵۰۵۱، المغنی عن حمل الْاسفار للعراقی ج:۳ ص:۱۸۴ و ۲۲۹، حلیۃالأولیاء ج:۳ ص:۵۳، ج:۸ ص:۲۵۳، تذکرۃ الموضوعات للمفتیص:۱۷۴، الدرر المنتثرۃ فی الاحادیث المشتھرۃ، للسیوطی ص: ۱۲۴، العلل المتناہیۃ لِابن الجوزی ج:۳ ص: ۳۲۰۔ اگرچہ یہ حدیث کمزور ہے لیکن ان حوالوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع نہیں۔اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بعض اوقات آدمی فقر کی وجہ سے کفر کا اِرتکاب کرلیتا ہے، جیسا کہ آج کل غریبوں کی غربت وافلاس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی اور عیسائی مرتد بنالیتے ہیں، بہرحال مولوی صاحب نے جو تطبیق دی ہے کسی حد تک دُرست ہے۔