مسلمانوں کے بنیادی عقائد
کلامِ اِلٰہی میں درج مخلوق کا کلام نفسی ہوگا؟
سوال
۔ آپ نے فرمایا ’’جب غیراللہ کے اقوال اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں نقل کئے ہیں تو وہ بھی کلام الٰہی کا حصہ بن گئے۔‘‘ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اقوال کلام الٰہی کا حصہ بن گئے تب بھی یہ کلام نفسی تو نہ ہوئے، کیونکہ کلام نفسی تو قدیم ہے اور یہ قول کسی زمانے میں کسی انسان سے ادا ہوئے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دُہرادیا، تو یہ اقوال تو مخلوق ہوئے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن سارا غیرمخلوق ہے۔
جواب
۔ مخلوق کے کلام کا کلامِ الٰہی میں آنا بظاہر محلِ اِشکال ہے، لیکن اس پر نظر کی جائے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ماضی ومستقبل یکساں ہیں تو یہ اِشکال نہیں رہتا، یعنی مخلوق پیدا ہوئی، اس سے کوئی کلام صادر ہوا، اللہ تعالیٰ نے بعد اَز صدور اس کو نقل فرمایا تو واقعی اِشکال ہوگا، لیکن مخلوق پیدا ہونے اور اس سے کلام صادر ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا، اور اس علمِ قدیم کو کلامِ قدیم میں نقل فرمادیا۔(۱)
(۱) والقراٰن کلام اللہ تعالٰی فھو قدیم ۔۔۔ وقد کان اللہ تعالٰی متکلمًا ای فی الأزل ولم یکن کلم موسیٰ ای والحال أنہ لم یکن کلم موسیٰ بل ولَا خُلِقَ أصل موسیٰ وعیسیٰ وقد کان اللہ تعالٰی خالقا فی الأزل ولم یخلق الخلق۔ (شرح فقہ الاکبر ص:۳۵