مسلمانوں کے بنیادی عقائد
کشف کی حقیقت، غیر نبی کا کشف شرعی حجت نہیں
سوال
۔ کشف کسے کہتے ہیں؟ اگر ایک شخص کشف بتائے اور کرامات دِکھائے تو کیا ہم اس پر یقین کرلیں؟ اور یہ جو جادُو کرتے ہیں، یہ لوگ کس طرح یہ حرام کرتے ہیں؟ وضاحت فرمائیے۔ اس کے علاوہ غیب کی خبریں بھی بتاتے ہیں اور اکثر صحیح بھی ہوجاتی ہیں۔ اولیاء اللہ کو تو خدا کی طرف سے ہی ان باتوں کا اِلہام ہوتا ہے، کیا انہیں بھی نعوذ باللہ! خدا بتاتا ہے؟ وضاحت کردیجئے۔ لوگ اولیاؤں کے مزاروں پر جاکر ان سے مدد طلب کرتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے؟ پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ: ’’وہ زندہ ہیں، اس لئے حاجت طلب کرتے ہیں‘‘ اور اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ: ’’حدیثوں سے ثابت ہے کہ اولیاء اللہ قبروں میں زندہ ہیں اور ہماری حاجت سنتے ہیں اور پوری کرتے ہیں‘‘ اور کئی بار ان کے کام پورے بھی ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا عقیدہ مضبوط ہوجاتا ہے، کیا ایسے فعل کرنا شرک ہے؟ وضاحت مفصل طریقے سے کیجئے۔
جواب
۔ بعض اوقات آدمی پر کسی چیز کی حقیقت کھول دی جاتی ہے اور پردے اُٹھادئیے جاتے ہیں، اس کو ’’کشف‘‘ کہتے ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا کشف و اِلہام تو یقینی ہے، دُوسروں کا یقینی نہیں۔ اس لئے غیرنبی کا کشف و اِلہام شرعی حجت نہیں۔(۱) اپنے کشف و کرامت کی ڈینگیں مارنا دُکان دار قسم کے لوگوں کا کام ہے، ایسے لوگوں کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔جادُو کس طرح کرتے ہیں؟ یہ تو مجھے معلوم نہیں! مگر یہ حرام ہے۔(۲)کسی کا غیب کی خبریں بتانا اور اس پر یقین کرنا گناہ ہے، ان کو شیاطین بتاتے ہیں، ان میں سے اَٹکل پچو باتیں بعض اوقات پوری بھی ہوجاتی ہیں۔(۳)جس طرح اولیاء اللہ کو رحمن کی طرف سے اِلہام ہوتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کو شیطان کی طرف سے اِلہام ہوتا ہے۔(۴) اولیاء اللہ کو مدد کے لئے پکارنا شرک ہے،(۵) اگر وہ قبروں میں زندہ ہیں تو ان کی زندگی ہمارے جہان کی نہیں۔(۶)
(۱) والْإلھام ۔۔۔ لیس من أسباب المعرفۃ بصحۃ الشیء عند أھل الحق۔ (شرح عقائد ص:۲۲ طبع خیر کثیر)۔ فصل فی الوحی وھو ظاھر وباطن، أما الظاھر فثلاثۃ ۔۔۔ والثالث: ما تبدی لقلبہ بلا شبھۃ بإلھام اللہ تعالٰی بأن أراہ اللہ تعالٰی بنورہ من عندہ کما قال اللہ تعالٰی: لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُۚ ، وکل ذٰلک حجۃ مطلقًا بخلاف الْإلھام للأولیاء فإنہ لَا یکون حجۃ علٰی غیرہ۔ (التوضیح والتلویح ج:۲ ص:۴۹۱ طبع میر محمد کتب خانہ)۔ ومجال خطا درکشف بسیار است فلا اعتداد بہ مع کونہ مخالفا لاجماع المسلمین۔ (مکتوبات دفتر اوّل، حصہ چہارم، مکتوب:۲۶۶)۔
(۲) والسحر ھو علم یستفاد منہ حصول ملکۃ نفسانیۃ یقتدر بھا علٰی أفعال غریبۃ لأسباب خفیۃ، اھـ۔ وفی حاشیۃ الْإیضاح لبیری زادہ: قال الشمنی: تعلّمہ وتعلیمہ حرام۔ (شامی ج:۱ ص:۴۴، مقدمۃ، مطلب فی التنجیم والرمل)۔
(۳) ’’من أتٰی عرَّافًا أو کاھنًا أو ساحرًا فسألہ فصدق بما یقول فقد کفر بما اُنزل علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ الکاھن ھو الذی یخبر عن بعض المضمرات فیصیب بعضھا ویخطیٔ أکثرھا، ویزعم أن الجِنَّ تخبرہ بذٰلک ۔۔۔ الخ۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۲ ص:۱۰۹ طبع بیروت)۔
(۴) وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡالأنعام ١٢١
(۵) ومثل ھٰذا کثیر فی القرآن ینھٰی ان یدعی غیر اللہ لَا من الملائکۃ ولَا الأنبیاء ولَا غیرھم فان ھٰذا شرک أو ذریعۃ الشرک ۔۔۔الخ۔‘‘ (التوسل والوسیلہ لِابن تیمیہؒ ص:۳۳)۔
(۶) وعلم ان أھل الحق اتفقوا علٰی ان اللہ تعالٰی یخلق فی المیّت نوع حیٰوۃ فی القبر قدر ما یتألم أو یتلذّذ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۲۲، أیضًا: المہند ص:۱۳، ۱۴، وتسکین الصدور ص:۲۵۸)۔