مسلمانوں کے بنیادی عقائد
کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا کیسا ہے؟
سوال
۔ قرآن شریف میں صاف صاف آیا ہے کہ جو کچھ مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن پھر بھی یہ وسیلہ بنانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
جواب
۔ وسیلہ کی پوری تفصیل اور اس کی صورتیں میری کتاب ’’اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم‘‘ حصہ اول میں ملاحظہ فرمالیں۔(۱)بزرگوں کو مخاطب کرکے ان سے مانگنا تو شرک ہے، مگر خدا سے مانگنا اور یہ کہنا کہ: ’’یا اللہ! بطفیل اپنے نیک اور مقبول بندوں کے میری فلاں مراد پوری کردیجئے‘‘، یہ شرک نہیں۔صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۷ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دعا منقول ہے:’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ۔‘‘ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے۔ اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباسؓ) کے ذریعہ توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔‘‘اس حدیث سے توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور توسل باولیاء اللہ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے، اسے بطور شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔
(۱) دیکھئے: اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۶۳ تا ۷۶۔