مسلمانوں کے بنیادی عقائد
غوث، قطب، اَبدال کی شرعی حیثیت
سوال
۔ اسلامی لٹریچر میں غوث، قطب، اَبدال کے الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں، کیا اولیاء کے یہ مراتب احادیث کی رُو سے مقرّر ہیں؟ اگر نہیں، تو کس نے مقرّر کئے ہیں اور ان الفاظ کی حیثیت کیا ہے؟
جواب
۔ یہ اصطلاحات بزرگانِ دِین کے کلام سے منتقل ہوئی ہیں، حدیث میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔(۱) چونکہ یہ اصطلاحات عوام کے موضوع کی چیز نہیں، نہ ان اصطلاحات پر کسی عقیدے و عمل کا مدار ہے، اس لئے ان کی تشریح کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔
(۱) الباب الثانی فیما ورد فیھم من الآثار النبویۃ الدالۃ علٰی وجودھم وفضلھم ۔۔۔ فمنھا ما روی عن الْإمام علی کرّم اللہ وجھہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تسبوا أھل الشام فإن فیھم الأبدال، رواہ الطبرانی وغیرہ۔ وفی روایۃ عنہ مرفوعًا کما فی رسالۃ اجابۃ الغوث ببیان حال النقباء والنجیاء والأبدال والأوتاد والغوث۔ (ملحق رسائل ابن عابدین ج:۲ ص:۲۷۰)۔