تقدیر
جب ہر کام کے خالق اللہ تعالیٰ ہیں تو پھر شیطان کا کیا دخل ہے؟
سوال
۔ جب بھی انسان کوئی بُرا کرتا ہے یا اللہ کے اَحکام کی تحقیر و عدولی کرتا ہے، تو اِبلیس کو کوستے ہیں، ہماری مقدس کتاب قرآن شریف میں بھی اِبلیس کو کھلا دُشمن قرار دیا گیا ہے، بلکہ حدیث کی رُو سے اس کو اِنسان کا بھیڑیا کہا گیا ہے، لیکن جب کوئی انسان اچھا کام کرتا ہے، اسے اللہ کی توفیق قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے متعلق متفکر ہوئے تو یہ کہا کہ: کان میں ہی کلمہ پڑھ لیا جائے، تو اس پر حضور کے چچا نے کلمہ نہیں پڑھا۔ اس پر وحی نازل ہوئی کہ اور جس کو چاہے اللہ ہی ہدایت دیتے ہیں، آپ کا کام تو صرف پہنچادینا ہے۔ قرآن شریف میں اور بھی کئی بار نظر سے گزرا کہ جس کو چاہتے ہیں وہ ہدایت دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ فرمائیں کہ انسان کو گمراہ اللہ کرتے ہیں تو شیطان کو کیوں کھلا دُشمن قرار دیا گیا اور اسے کیوں کوستے ہیں؟
جواب
۔ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت خالق کی حیثیت سے ہے، اور شیطان اس کا سبب اور ذریعہ بنتا ہے۔(۱)
(۱) واللہ تعالٰی یضل من یشاء ویھدی من یشاء بمعنٰی: خلق الضلالۃ والْإھتداء، لأنہ الخالق وحدہ ۔۔۔ نعم قد تضاف الھدایۃ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مجازًا بطریق التسبیب کما یسند الی القرآن، وقد یسند الْإضلال الی الشیطان مجازًا کما یسند الی الأصنام۔۔۔الخ۔ (شرح العقائد ص:۹۵، ۹۶، طبع خیر کثیر)۔