تقدیر
جب ڈاکو بننا، ڈاکٹر بننا، چور بننا مقدّر ہے تو آدمی کا کیا قصور ہے؟
سوال
۔ ایک مریض اگر بیمار ہے اور اس کی موت لکھی ہوتی ہے تو وہ مرجاتا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اس کی زندگی کی دُعا کرتے ہیں تو وہ کس طرح قبول ہوگی؟ کیونکہ اس کی موت تو اس کے وقت پر آنی ہے، تو دُعا سے کیا اس کی موت میں دیر ہوسکتی ہے؟ اسی طرح ہر چیز اللہ ہی کے حکم میں جکڑی ہوئی ہے تو پھر اِنسان خطاوار کس طرح ہوا؟ کیونکہ اس نے تو وہی کیا جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوا تھا اور جو اللہ کو منظور تھا۔ یا اِنسان کا ذہن آزاد ہے یا اگر ایک انسان دُوسرے انسان کو گولی ماردیتا ہے تو وہ کس طرح قصوروار ہے؟ کیونکہ مقتول کی تو موت اسی طرح لکھی تھی اور اس کے ہاتھوں قتل ہونا لکھا تھا۔ تو کیا قاتل کا دِماغ اللہ نے آزاد کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ کرسکتا ہے؟ اور اگر نہیں کرسکتا تو وہ کس طرح خطاکار ہے؟اسی طرح ایک عیسائی امریکا میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے سامنے چاروں طرف عیسائی ماحول ہوتا ہے، تو وہ کس طرح مسلمان ہوسکتا ہے جبکہ اس کے سامنے حق کی کوئی راہ ہی نہیں تو وہ کس طرح گناہگار ہوگا؟ اسی طرح کسی آدمی کے اُوپر مشکل لکھی ہوئی ہے تو وہ دُعا سے کس طرح ٹل سکتی ہے؟ یا کہ دُعا سے تقدیر بدل سکتی ہے اور مقدّر کا لکھا ٹل سکتا ہے؟ اسی طرح کہتے ہیں کہ انسان اپنی بُرائی کا خود ذمہ دار ہے، تو وہ کس طرح ذمہ دار ہے؟ کیونکہ اس نے وہی کیا جو اس کے مقدّر میں لکھا تھا۔ اسی طرح کوئی ڈاکٹر بنتا ہے، کوئی ڈاکو، کوئی لٹیرا، کوئی چور، کوئی دہشت گرد، تو اس کا تو کوئی قصور نہیں، کیونکہ یہی کچھ بننا اس کے مقدّر میں لکھا تھا۔
جواب
۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، آپ نے جو سوال لکھے ہیں، ان کے بارے میں مختصراً لکھتا ہوں۔
۱:۔ مریض کے لئے ہم دُعا بھی کرتے ہیں، اور دوا بھی۔ دوا اور علاج معالجے کے بارے میں کبھی کسی کے ذہن میں تقدیر کا مسئلہ نہیں آتا، یہ کیوں؟ بیمار شفایاب ہوجائے گا یا نہیں؟ اس کے بارے میں تقدیرِ اِلٰہی کیا ہے؟ اس کا ہمیں علم نہیں۔ اس لئے ہم دوا بھی کرتے ہیں اور دُعا بھی، تقدیر میں صحت ہوگی تو دوا اور دُعا مؤثر ہوگی، ورنہ نہیں۔(۱)
۲:۔ بلاشبہ ہر چیز تقدیرِ اِلٰہی کے مطابق ہوتی ہے، لیکن جو کام ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرتے ہیں، ان میں انسان کو مجبورِ محض نہیں سمجھتے، چنانچہ اگر کوئی طالبِ علم خوب محنت کرکے اچھے نمبروں میں کامیاب ہو، ہم اسے اِنعام اور شاباش دیتے ہیں، اور بدمحنت طالبِ علم فیل ہوجائے تو اسے ملامت کرتے ہیں، کیونکہ اِس کا محنت کرنا، اور اُس کا بدمحنتی سے کام لینا دونوں اختیاری ہیں، حالانکہ پاس اور فیل ہونا بھی تقدیر کے ماتحت تھا۔(۲)
۳:۔ ایک انسان دُوسرے کو قتل کردیتا ہے، یہاں ہم قاتل کو عدالت میں گھسیٹتے ہیں، کیونکہ اس نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایک شخص آپ کو گالی دیتا ہے، آپ اس کو کبھی تقدیر کے حوالے سے معذور نہیں جانتے، کیونکہ یہ اس کا اختیاری فعل ہے۔
۴:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل کی روشنی عطا فرمائی ہے، جس کے ذریعے وہ صحیح اور غلط میں امتیاز کرتا ہے، اس لئے جو عاقل و بالغ ہونے کے باوجود غلط دِین اختیار کئے ہوئے ہے، آپ اس کو معذور قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ اس کا فرض تھا کہ وہ عقل کی روشنی میں صحیح اور غلط مذہب میں فرق کرتا، اپنے غلط ماحول کے باوجود آدمی عقل سے کام لے تو دِینِ حق کو تلاش کرسکتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال سب کے سامنے ہے۔(۳)
۵:۔ جو مقدّر ہے، وہ تو ہوکر رہے گا۔ مگر ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہمارے لئے کیا مقدّر ہے؟ اس لئے ہمیں حکم ہے کہ تم ظاہر حال کے مطابق جائز اسباب اختیار کرو، دُعا بھی من جملہ اسباب کے ایک سبب ہے۔(۴)
۶:۔ کوئی ڈاکٹر بنے یا ڈاکو، سب کچھ تقدیر کے مطابق ہے، لیکن ڈاکٹر اور ڈاکو دونوں اپنے اختیار سے بنتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے، اسی اختیار پر وہ ثواب یا عذاب کا مستحق ہے۔(۵) گو ساری چیزیں تقدیر کے ماتحت ہیں، مگر تقدیر کا ہمیں علم نہیں۔ اس سے زیادہ اس مسئلے میں کھود کرید کرنا جائز بھی نہیں اور مفید بھی نہیں۔(۶)
(۱) ان الدّعاء یردّ البلاء اذا کان علٰی وفق القضاء، والحاصل انّ القضاء المعلّق یتغیّر بخلاف المبرم۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۹)۔
(۲) وھی أی أفعال العباد کلھا أی جمیعھا من خیرھا وشرھا وان کانت مکاسبھم بمشیتہ أی بإرادتہ وعلمہ وقضائہ وقدرہ أی علٰی وفق حکمہ وطبق قدر تقدیرہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۷)۔
(۳) ان العقل آلۃ للمعرفۃ، والموجب ھو اللہ تعالٰی فی الحقیقۃ، ووجوب الْإیمان بالعقل مروی عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۶۸)۔
(۴) واعلم ان القدر لَا یزاحم سببیۃ الأسباب لمسبباتھا لأنہ إنما تعلق بالسلسلۃ المترتبۃ جملۃ مرۃ واحدۃ وھو قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الرقٰی والدواء والتقاۃ ھل ترد شیئًا من قدر اللہ؟ قال: ھی من قدر اللہ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۶۷ طبع إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ)۔ أیضًا عن أبی خزامۃ عن أبیہ قال: قلت: یا رسول اللہ! أرأیت رقًی نسترقیھا ودواء نتداویٰ بہ وتقاۃ نتقیھا ھل ترد من قدر اللہ شیئًا؟ قال: ھی من قدر اللہ۔ رواہ أحمد والترمذی وابن ماجۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲)۔
(۵) فللعباد أفعال إختیاریۃ یثابون بھا إن کانت طاعۃ، ویعاقبون علیھا إن کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)، فقال أھل السُّنَّۃ للخلق أفعال بھا صاروا مطیعین وعصاۃ ۔۔۔إلخ۔ (المسامرۃ شرح المسایرۃ ص:۹۷)۔
(۶) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمرّ وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت إلیکم؟ إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر، عزمت علیکم، عزمت علیکم، أن لَا تنازعوا فیہ۔ رواہ الترمذی روی ابن ماجۃ (مشکوٰۃ ص:۲۲)۔