تقدیر
جب مرنے کے اسباب مقرّر ہیں تو پھر مارنے والے کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟
سوال
۔ کیا ہر بشر کی موت کا دن مقرّر ہے؟ اس میں تقدیر کا کہاں تک دخل ہے؟ سوال واضح کرنے کے لئے جب آدمی مرجاتا ہے تو سب کہتے ہیں کہ جو لکھا تھا وہ تو ہونا ہی تھا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی سڑک پر جارہا تھا، اس کو ایک کار والے آدمی نے ٹکر ماردی اور وہ مرگیا، اب بتائیں کہ اگر اس مرنے والے کی موت کار والے کے ہاتھ سے لکھی تھی تو اس میں کار والے کا کیا قصور ہے؟ اور وہ گناہگار کیسے ہوا؟ جو لکھا تھا وہ تو ہونا ہی تھا، اسے کون روک سکتا ہے؟
جواب
۔ موت کا وقت مقرّر ہے، اور جو حادثے سے موت ہو تو اس کی اسی طرح لکھی تھی، لیکن کار والے پر گرفت اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے کی جاتی ہے۔(۱)
(۱) ان المقتول میّت بأجلہ ووقتہ المقدر بموتہ فقد قال اللہ تعالٰی: فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٤ ۔۔۔ ان وجود العقاب والضمان علی القاتل تعبدی لِارتکابہ المنھی عنہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۲، ۱۵۳)۔