February 24, 2026 9:48 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

توکل اور صبر کی حقیقت

سوال

۔ توکل اور صبر کیا ہے؟ ان سوالات کے پوچھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ میں ایک یونیورسٹی (جامعہ کراچی) کا طالب علم ہوں، اللہ کے فضل و کرم سے میرے ہر امتحان میں اچھے نمبر آئے، لیکن اس دفعہ جب میں نے امتحان دینے کی تیاری کی تو ہر دفعہ کی طرح اس مرتبہ بھی بہت محنت کی، میری خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بنوں، محض اس لئے کہ آج کل یہ دستور قائم ہوچکا اور یہ خیال لوگوں کے ذہن میں زہر کی طرح رَچ بس گیا ہے کہ جو لڑکا دِین داری کی طرف مائل ہوتا ہے، اسے ’’مولوی‘‘ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے، اور یہ کہا جاتا ہے کہ: ’’یہ اب کچھ نہیں کرسکتا‘‘ لہٰذا میں اپنی انتہائی محنت کرکے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ دِین داری کبھی بھی پڑھائی میں دخل اندازی نہیں کرتی، بلکہ ایک لڑکا اگر چاہے تو وہ محنت کرکے دونوں میں سرخرو ہوسکتا ہے۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس عزم کے بعد میری قسمت میرا ساتھ نہیں دیتی۔ میں نے اپنی ہر طرح کوشش کرلی، صرف نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھتا تھا، باقی سارا وقت پڑھتا تھا، لیکن جب پیپر آیا تو دُوسرے سوالوں میں ذہن ایسا اُلجھا کہ ایک پیپر میں آئے ہوئے سوال وقت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر آنا پڑا۔ دُوسرا پیپر جب ہاتھ میں آیا ، وہ تمام سوالات جس کی میں اچھی طرح تیاری کرکے گیا تھا، نہیں آئے، اور جن سوالات کو میں سرسری طور پر پڑھ کر گیا تھا، وہی آئے، ایسا لگتا تھا جیسا میں ان سوالات کو کرتے وقت اندھا ہوگیا تھا کہ وہ گھر میں نظر ہی نہیں آئے۔اس واقعے نے مجھے بہت زیادہ رنجیدہ کردیا، میرے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے، میں نے کتنی محنت کی تھی، صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر جاتا، دُعا بھی بہت کی تھی، مگر زندگی بھر میں میرا کبھی ایسا امتحان نہیں ہوا جیسا اس دفعہ ہوا، اور یہ امتحان میرے لئے بہت اہم تھا۔

جواب

۔ ہر کام میں اعتدال ہونا چاہئے، پڑھائی میں اپنی ہمت کے مطابق محنت کرنی چاہئے، ہمت سے زیادہ نہیں۔ روزانہ کے کاموں کا نظام الاوقات بنایا جائے۔ توکل کے معنی: اللہ تعالیٰ پر اعتماد کے ہیں،(۱)یعنی آدمی اپنی ہمت کے مطابق کام کرکے نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے اور پھر مالک کی طرف سے جو معاملہ ہو اس پر راضی رہے۔ اگر آدمی یہ چاہے کہ معاملات میری مرضی کے مطابق ظاہر ہوں، تو یہ توکل نہیں، بلکہ انانیت ہے۔

(۱) التوکل: ھو الْإعتماد علی اللہ وعدم الْإلتفات الٰی ما عداہ، قال السید: ھو الثقۃ بما عند اللہ والیأس عما فی أیدی الناس۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۱، طبع صدف پبلشرز، کراچی)۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔