مسلمانوں کے بنیادی عقائد
توفیق کی دُعا مانگنے کی حقیقت
سوال
۔ توفیق کی تشریح فرمادیجئے! دُعاؤں میں اکثر خدا سے دُعا کی جاتی ہے کہ اے اللہ! فلاں کام کرنے کی توفیق دے۔ مثال کے طور پر ایک شخص یہ دُعا کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے نماز پڑھنے کی توفیق دے، مگر وہ صرف دُعا ہی پر اکتفا کرتا ہے اور دُوسروں سے یہ کہتا ہے کہ: ’’جب توفیق ہوگی تب سے میں نماز شروع کروں گا‘‘ اس سلسلے میں وضاحت فرمادیجئے، تاکہ ہمارے بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا توفیق کا پردہ اُتر جائے۔
جواب
۔ توفیق کے معنی ہیں: کسی کارِخیر کے اسباب من جانب اللہ مہیا ہوجانا،(۱)جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تندرستی عطا فرما رکھی ہے اور نماز پڑھنے سے کوئی مانع اس کے لئے موجود نہیں، اس کے باوجود وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ صرف توفیق کی دُعا کرتا ہے، وہ درحقیقت سچے دِل سے دُعا نہیں کرتا، بلکہ نعوذ باللہ! دُعا کا مذاق اُڑاتا ہے، ورنہ اگر وہ واقعی اِخلاص سے دُعا کرتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ نماز سے محروم رہتا۔
(۱) قولہ: التوفیق، ھو توجیہ الأسباب نحو المطلوب الخیر۔ (کشاف اصطلاح الفنون ج:۲ ص:۱۵۰۱)۔ التوفیق: جعل اللہ فعل عبادہ موافقًا بما یحبّہ ویرضاہ۔ (التعریفات للجرجانی ص:۵۲)۔