February 24, 2026 11:13 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

تقدیر

تقدیر کیا ہے؟

سوال

۔ میرے ذہن میں تقدیر یا قسمت کے متعلق بات اس وقت آئی جب ہمارے نویں یا دسویں کے استاد نے کلاس میں یہ ذکر چھیڑا، انہوں نے کہا کہ ہر اِنسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔ اگر خدا ہماری تقدیر بناتا تو پھر جنت و دوزخ چہ معنی دارد؟ مطلب یہ کہ ہم جو برے کام کرتے ہیں، اگر وہ خدا نے ہماری قسمت میں لکھ دئیے ہیں تو ہمارا ان سے بچنا محال ہے، پھر دوزخ اور جنت کا معاملہ کیوں اور کیسے؟ میرے خیال میں تو اِنسان خود اپنی تقدیر بناتا ہے۔میں نے اپنے ایک قریبی دوست سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے بتایا کہ: خدا نے بعض اہم فیصلے انسان کی قسمت میں لکھ دئیے ہیں، باقی چھوٹے چھوٹے فیصلے انسان خود کرتا ہے، اہم فیصلوں سے مراد بندہ بڑا ہوکر کیا کرے گا؟ کہاں کہاں پانی پیئے گا وغیرہ، لیکن انسان اپنی صلاحیت اور قوّتِ فیصلہ کی بنیاد پر ان فیصلوں کو تبدیل بھی کرسکتا ہے۔آپ نے کچھ احادیث وغیرہ کے حوالے دئیے ہیں، آپ نے اس کے ساتھ کوئی وضاحت نہیں دی، صرف یہ کہہ دینا کہ: ’’قسمت کے متعلق بات نہ کریں۔‘‘ میری رائے میں تو کوئی بھی اس بات سے مطمئن نہیں ہوگا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات کہی ہے تو انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ: ’’سابقہ قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ تقدیر کے مسئلے پر اُلجھے تھے۔‘‘ اب ذرا آپ اس بات کی وضاحت کردیں تو شاید دِل کی تشفی ہوجائے۔

جواب

۔ جانِ برادر۔ السلام علیکم! اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، اچھی بُری چیز صرف اللہ تعالیٰ کے ارادہ، قدرت، مشیت اور علم سے وجود میں آئی ہے،(۱) بس میں اتنی بات جانتا ہوں کہ ایمان بالقدر کے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتا،(۲) اس کے آگے یہ کیوں، وہ کیوں؟ اس سے میں معذور ہوں۔تقدیر اللہ تعالیٰ کی صفت ہے،(۳) اس کو انسانی عقل کے ترازو سے تولنا ایسا ہے کہ کوئی عقل مند سونا تولنے کے کانٹے سے ’’ہمالیہ‘‘ کا وزن کرنا شروع کردے، عمریں گزر جائیں گی، مگر یہ مدعا عنقا رہے گا۔ہمیں کرنے کے کام کرنے چاہئیں، تقدیر کا معما نہ کسی سے حل ہوا، نہ ہوگا، بس سیدھا سا ایمان رکھئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اور ہر چیز اس کی تخلیق سے وجود میں آئی ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار و ارادہ عطا کیا ہے مگر یہ اختیار مطلق نہیں۔(۴) حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے کسی نے دریافت کیا کہ انسان مختار ہے یا مجبور؟ فرمایا: ایک پاؤں اُٹھاؤ! اس نے اُٹھالیا، فرمایا: دُوسرا بھی اُٹھاؤ! بولا: حضور! جب تک پہلا قدم زمین پر نہ رکھوں دُوسرا نہیں اُٹھاسکتا۔ فرمایا: بس انسان اتنا مختار ہے، اور اتنا مجبور!(۵) بہرحال میں اس مسئلے میں زیادہ قیل و قال سے معذور ہوں اور اس کو بربادیٔ ایمان کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔

(۱) ولَا یکون فی الدنیا ولَا فی الآخرۃ شیء أی: موجود حادث فی الأحوال جمیعھا الَّا بمشیتہ ای مقرونًا بارادتہ وعلمہ وقضائہ، أی: حکمہ وامرہ وقدرہ، ای: بتقدیرہ ۔۔۔الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔
(۲) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع ۔۔۔ ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۳) والقدرۃ وھی صفۃ ازلیۃ تؤثر فی المقدورات عند تعلقھا بھا۔ (شرح عقائد ص:۱۱۳ طبع ایچ ایم سعید)۔
(۴) ومجمل الأمر أن القدر: وھو ما یقع من العبد المقدر فی الأزل من خیرہ وشرہ ۔۔۔ کائن عنہ سبحانہ وتعالٰی بخلقہ وارادتہ ماشاء کان وما لَا فلا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔
(۵) علم الکلام ص:۸۰ از حضرت مولانا محمد اِدریس کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ، طبع مکتبہ عثمانیہ بیت الحمد لاہور۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔