February 24, 2026 12:48 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

تقدیر

تقدیر و تدبیر میں کیا فرق ہے؟

سوال

۔ جناب سے گزارش ہے کہ میرے اور میرے دوست کے درمیان اسلامی نوعیت کا ایک سوال مسئلہ بنا ہوا ہے، اگر ہم لوگ اس مسئلے پر خود ہی بحث کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ غلط بھی نکال سکتے ہیں، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرکے ہم سب لوگوں کو مطمئن کریں۔یہ حقیقت ہے کہ تقدیریں اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں، لیکن جب کوئی شخص کسی کام کو کئی بار کرنے کے باوجود ناکام رہتا ہے تو اسے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ: ’’میاں! تمہاری تقدیر خراب ہے، اس میں تمہارا کیا قصور؟‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں، جب تک کہ اس کی تقدیر میں اس کام کا کرنا لکھا نہ گیا ہو، لیکن جب کوئی شخص اپنی تدبیر اور کوشش کے بل بوتے پر کام کرتا ہے تو خدا کی بنائی ہوئی تقدیر آڑے آتی ہے۔

جواب

۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم تقدیر کے مسئلے پر بحث کر رہے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہمیں بحث میں اُلجھے ہوئے دیکھ کر بہت غصّے ہوئے، یہاں تک کہ چہرۂ انور ایسا سرخ ہوگیا، گویا رُخسارِ مبارک میں اَنار نچوڑ دیا گیا ہو، اور بہت ہی تیز لہجے میں فرمایا:’’کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا میں یہی چیز دے کر بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے لوگ اسی وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے اس مسئلے میں جھگڑا کیا، میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس میں ہرگز نہ جھگڑنا۔‘‘(۱)(ترمذی، مشکوٰۃ ص:۲۲)حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ’’جو شخص تقدیر کے مسئلے میں ذرا بھی بحث کرے گا، قیامت کے دن اس کے بارے میں اس سے باز پُرس ہوگی۔ اور جس شخص نے اس مسئلے میں گفتگو نہ کی، اس سے سوال نہیں ہوگا۔‘‘(۲)(ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ ص:۲۳)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:’’کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک ان چار باتوں پر ایمان نہ لائے: ۱:۔ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۲:۔ اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے۔ ۳:۔ موت اور موت کے بعد والی زندگی پر اِیمان لائے۔ ۴:۔ اور تقدیر پر اِیمان لائے۔‘‘(۳)(ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ ص:۲۲)ان ارشاداتِ نبوی سے چند چیزیں معلوم ہوئیں:
۱:۔ تقدیر حق ہے اور اس پر اِیمان لانا فرض ہے۔
۲:۔ تقدیر کا مسئلہ نازک ہے، اس میں بحث و گفتگو منع ہے اور اس پر قیامت کے دن باز پُرس کا اندیشہ ہے۔
۳:۔ تدبیر، تقدیر کے خلاف نہیں، بلکہ تقدیر ہی کا ایک حصہ ہے۔

(۱) عن أبی ھریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ونحن نتنازع فی القدر، فغضب حتّی احمر وجہہ حتّٰی کأنما فُقیء فی وجنتیہ حب الرمان، فقال: أبھٰذا أمرتم، أم بھٰذا أرسلت الیکم؟ انما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھٰذا الأمر، عزمت علیکم، عزمت علیکم، أن لَا تنازعوا فیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر)۔
(۲) عن عائشہ قالت: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من تکلم فی شیء من القدر سئل منہ یوم القیامۃ، ومن لم یتکلم فیہ لم یسئل عنہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۳، باب الْإیمان بالقدر)۔
(۳) عن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یؤمن عبد حتّٰی یؤمن بأربع: یشھد أن لَا إلٰہ إلّا اللہ وانِّی رسول اللہ بعثنی بالحق، ویؤمن بالموت، والبعث بعد الموت، ویؤمن بالقدر۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲، باب الْإیمان بالقدر)۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔