مسلمانوں کے بنیادی عقائد
بحقِ فلاں دُعا کرنے کا شرعی حکم
سوال
۔ بحقِ فلاں اور بحرمتِ فلاں دُعا کرنا کیسا ہے؟ کیا قرآن و سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟
جواب
۔ بحقِ فلاں اور بحرمتِ فلاں کے ساتھ دُعا کرنا بھی توسل ہی کی ایک صورت ہے، اس لئے ان الفاظ سے دُعا کرنا جائز اور حضرات مشائخ کا معمول ہے۔ ’’حصن حصین‘‘ اور ’’الحزب الاعظم‘‘ ماثورہ دعاؤں کے مجموعے ہیں، ان میں بعض روایات میں ’’بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ عَلَيْكَ، فَاِنَّ لِلسَّائِلِ عَلَيْكَ حَقًّا ‘‘ وغیرہ الفاظ منقول ہیں، جن سے اس کے جواز و استحسان پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ہماری فقہی کتابوں میں اس کو مکروہ لکھا ہے، اس کی توجیہ بھی میں ’’اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں کرچکا ہوں۔(۱)
(۱) تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب حصہ اوّل ص:۶۳ تا ۷۶۔