تقدیر
انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور؟
سوال
۔ میں نے پڑھا ہے کہ صوفیائے کرام کا ایک فلسفہ ہے: ’’فلسفہ جبر و قدر‘‘ جس کے مطابق انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ وہی ہوتا ہے جو کاتبِ تقدیر لکھ چکا ہوتا ہے، انسان کے اپنے بس میں کچھ نہیں ہوتا:ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیااس کے مطابق انسان آزاد ہوگیا کہ وہ غلط کام کرتا ہے اور یہ سمجھ لے کہ جو کر رہا ہے، وہ لکھا جاچکا ہے، اس کو کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کسی کام کا کرنا اور کسی سے بچنا اس کے بس میں نہیں۔ اور وہ آزمائش جن سے انسان بندھا ہوا ہے، اس سے آزاد ہوجائے۔
جواب
۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، یہ صوفیاء کا مسلک و عقیدہ نہیں، بلکہ اہلِ اسلام کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ انسان ایک حد تک بااختیار ہے اور ایک حد تک مجبور، لہٰذا نہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرح مختارِ مطلق ہے اور نہ اِینٹ پتھر کی طرح مجبورِ محض۔(۱)حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ: انسان مختار ہے یا مجبور؟ فرمایا: ایک پاؤں اُٹھاؤ! اس نے اُٹھایا، فرمایا: دُوسرا بھی اُٹھاؤ! اس نے کہا: حضرت! ایک پاؤں اُٹھا سکتا ہوں، بیک وقت دونوں تو نہیں اُٹھاسکتا۔ فرمایا: بس تم اتنے مختار ہو اور اتنے مجبور۔(۲)بعض لوگوں نے دیکھا کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد افعال کرتا ہے، انہوں نے اس کو قادرِ مطلق سمجھ لیا۔(۳) ایک دُوسری جماعت نے دیکھا کہ انسان بار بار اپنے ارادے و عزم پر شکست کھاتا ہے، انہوں نے سمجھا کہ انسان مجبورِ محض ہے۔(۴) مگر اہلِ سنت کے اکابر نے قرآن و سنت کی روشنی پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو فی الجملہ اختیار بھی دیا گیا اور ایک حد تک اس کو پابند بھی کیا گیا ہے۔ لہٰذا نہ یہ قادرِ مطلق ہے اور نہ مجبورِ محض۔ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے، لہٰذا اس پر وہ مکلف بھی ہے اور مدح و ستائش اور عذاب و ثواب کا مستحق بھی۔(۵)
(۱) ومجمل الأمر أنّ القدر وھو ما یقع من العبد المقدر فی الأزل من خیرہ وشرہ وحلوہ ومرہ کائن عنہ سبحانہ وتعالٰی بخلقہٖ وارادتہ ما شاء کان وما لَا فلا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح العقائد ص:۷۵ تا۸۱ طبع خیر کثیر)۔
(۲) علم الکلام ص:۸۰ لمولَانا اِدریس کاندھلویؒ طبع مکتبہ عثمانیہ لَاہور۔
(۳) زعمت المعتزلۃ ان العبد خالق لأفعالہ۔ (شرح العقائد ص:۷۵)۔
(۴) زعمت الجبریۃ أنہ لَا فعل للعبد أصـلًا۔ (شرح العقائد ص:۸۱)۔
(۵) واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔ الخ۔ (شرح العقائد ص:۷۵،۸۱)۔